أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " . يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to say when bowing and prostrating: 'Subhanaka Allahumma, Rabbana wa bihamdik. Allahumma-ghfirli (Glory be to You O Allah, Our Lord, and praise. O Allah, forgive me," following the command of the Quran)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں «سبحانك اللہم ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي» اے اللہ ہمارے رب! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کہہ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر فر مار ہے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ مَرَّ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَدْعُو بِأَصَابِعِي فَقَالَ " أَحِّدْ أَحِّدْ " . وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ .
It was narrated from Sa`d who said:"The Messenger of Allah (ﷺ) passed by me when I was supplicating with my fingers and he said: 'Make it one, make it one' and pointed with his forefinger
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، اور میں ( تشہد میں ) اپنی انگلیوں ۱؎ سے ( اشارہ کرتے ہوئے ) دعا کر رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ایک سے ( اشارہ ) کرو ایک سے ، اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ بِوَاحِدَةٍ تُوتِرُ لَكَ مَا قَدْ صَلَّيْتَ " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Prayer at night is two by two, then when you want to finish, pray one rak'h which will make the total number that you prayed odd
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب تم ختم کرنے کا ارادہ کرو تو ایک رکعت اور پڑھ لو، یہ جو تم نے پڑھی ہے سب کو ( طاق ) کر دے گی ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، شَهِدْتُ جَنَازَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَخَرَجَ زِيَادٌ يَمْشِي بَيْنَ يَدَىِ السَّرِيرِ فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَوَالِيهِمْ يَسْتَقْبِلُونَ السَّرِيرَ وَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ وَيَقُولُونَ رُوَيْدًا رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ . فَكَانُوا يَدِبُّونَ دَبِيبًا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ الْمِرْبَدِ لَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ عَلَى بَغْلَةٍ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ وَأَهْوَى إِلَيْهِمْ بِالسَّوْطِ وَقَالَ خَلُّوا فَوَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَ أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنَّا لَنَكَادُ نَرْمُلُ بِهَا رَمْلاً . فَانْبَسَطَ الْقَوْمُ .
Uyaynah bin 'Abdur-Rahman bin Jawsh said:"My father told me: I witnessed the funeral of 'Abdur-Rahamn bin Samurah. Ziyad came out, walking in front of the bier, and some men from the family of 'Abdur-Rahman and their freed slaves came out, facing the bier and walking backward, saying: 'Slow down, slow down, may Allah bless you.' And they were walking slowly. Then when they were partway to Al-Mrbad, Abu Bakrah joined us on his mule. When he saw what they were doing, he rushed to them on his mule, brandishing his whip, and said: 'Move on, for by the One Who honored the face of Abu Al-Qasim, I remember when we were with the Messenger of Allah, we were walking fast, so the people speeded up
عبدالرحمٰن بن جوشن کہتے ہیں میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں موجود تھا، زیاد نکلے تو وہ چارپائی کے آگے چل رہے تھے، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے کچھ لوگ اور ان کے غلام چارپائی کو سامنے کر کے اپنی ایڑیوں کے بل چلنے لگے، وہ کہہ رہے تھے: آہستہ چلو، آہستہ چلو، اللہ تمہیں برکت دے، تو وہ لوگ رینگنے کے انداز میں چلنے لگے، یہاں تک کہ جب ہم مربد کے راستے میں تھے تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک خچر پر ( سوار ) ملے، جب انہوں نے انہیں ( ایسا ) کرتے دیکھا، تو اپنے خچر پر ( سوار ) ان کے پاس گئے اور کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا، اور کہا: قسم! اس ذات کی جس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت بخشی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے، تو لوگ ( یہ سن کر ) خوش ہوئے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ الضُّحَى قَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ . قُلْتُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ قَالَتْ لاَ مَا عَلِمْتُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلاَّ رَمَضَانَ وَلاَ أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ .
It was narrated that 'Abdullah bin Shaqiq said:"I said to Aishah: 'Did the Messenger of Allah offer Duha prayer? She said: "No, unless he was returning from a journey, I Did the Messenger of Allah fast an entire month?' She said: 'No, I do not remember him fasting any month in full apart from Ramadan, and he did not break his fast for a whole month, rather he would fast some of (each month) until he passed away
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے ( لوٹ کر ) آتے، ( پھر ) میں نے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پورے ماہ روزے رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کبھی پورے ماہ کے روزے رکھے ہوں، اور اور نہ ایسا ہی ہوتا کہ آپ پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ہوں، کچھ نہ کچھ روزے ضرور رکھتے یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ فَمَا يَجِدُ أَحَدُنَا شَيْئًا يَتَصَدَّقُ بِهِ حَتَّى يَنْطَلِقَ إِلَى السُّوقِ فَيَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَجِيءَ بِالْمُدِّ فَيُعْطِيَهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي لأَعْرِفُ الْيَوْمَ رَجُلاً لَهُ مِائَةُ أَلْفٍ مَا كَانَ لَهُ يَوْمَئِذٍ دِرْهَمٌ .
It was narrated that Abu Mas'ud said:"The Messenger of Allah used to tell us to give in charity, and one of us could not find anything to give until he went to the market place and hired himself out to carry loads for people. Then he would bring a Mudd and give it to the Messenger of Allah. I know a man who has a hundred thousand now, but on that day he had (only) one Dirham
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرماتے تھے، اور ہم میں بعض ایسے ہوتے تھے جن کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ وہ بازار جاتا اور اپنی پیٹھ پر بوجھ ڈھوتا، اور ایک مد لے کر آتا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتا۔ میں آج ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جس کے پاس ایک لاکھ درہم ہے، اور اس وقت اس کے پاس ایک درہم بھی نہ تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَأَقْعَصَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ خَارِجًا رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that:a man fell from his mount and it trampled him. The Messenger of Allah said: "Wash him with water and lotus leaves, and he should be shrouded in two clothes, leaving his head and face bare, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah."(sahih)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی سواری سے گر پڑا تو سواری نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دو، اور اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ کھلا رکھا جائے کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ابْغُونِي الضَّعِيفَ فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ " .
It was narrated from Jubair bin Nufair Al-Hadrami that he heard Abu Ad-Darda' say:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Bring me the weak, for you only receive provision and Divine support by virtue of your weak ones
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے لیے کمزور کو ڈھونڈو، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزوروں کی دعاؤں کی وجہ سے روزی ملتی ہے، اور تمہاری مدد کی جاتی ہے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah forbade being married to a woman and her paternal aunt or maternal aunt at the same time
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ عورت کو اس کی پھوپھی، یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کیا جائے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"The child is the bed's and for the fornicator is the stone
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکا فراش والے ( یعنی شوہر ) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر ہے ( یعنی اسے مار لگے گی یا پتھروں سے رجم کر دیا جائے گا ) “۔
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever swears an oath and says: "If Allah wills, then he has made an exception
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بات کی قسم کھائے، پھر وہ ان شاءاللہ کہے تو اس نے استثناء کر لیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ نَاسًا، ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ، فَحَرَّقَهُمْ عَلِيٌّ بِالنَّارِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ، أُحَرِّقْهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ أَحَدًا " . وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " .
It was narrated from 'Ikrimah:"Some people apostatized after accepting Islam, and 'Ali burned them with fire. Ibn 'Abbas said: 'If it had been me, I would not have burned them; the Messenger of Allah [SAW] said: 'No one should be punished with the punishment of Allah.' If it had been me, I would have killed them; the Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever changes his religion, kill him
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، - وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ - عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ قَتْلِ الْجَرَادِ، فَقَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ .
It was narrated that Abuy ya fur said:"I asked 'Abdullah bin Abu Awfa about killing locusts and he said: I went on six campaigns with the Messenger of Allah hand we ate locusts
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلاَّ لأَصْحَابِ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ .
Rafi bin Khadij and Sahl Bi Abi Hathamah narrated that the Messenger of Allah forbade Muzabanah, which means selling fresh dates still on the tree for dried dates, except in cases of 'Araya, for which he gave permission. (Sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَطَأُ شِبْهُ الْعَمْدِ - يَعْنِي بِالْعَصَا وَالسَّوْطِ - مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلاَدُهَا " .
It was narrated from Al- Qasim bin Rabi'ah that the Messenger jof Allah said:"The accident that resembles on purpose, meaning (killing) with a stick or a whip, (for which the Diyah is) one hundred camels, of which forty should be (pregnant she-camels), with their young in their wombs
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلاَ كَثَرٍ " .
It was narrated that Rafi bin Khadij said:"I heard the Messenger of Allah say: 'The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees
أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ بَلَغَنِي عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الصَّلاَةَ فَلاَ تَمَسَّ طِيبًا " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ .
It was narrated that Zainab Ath-Thaqafiyyah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'If one of you wants to attend the prayer, let her not touch perfume
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ سَيِّدَ الاِسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَىَّ فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ فَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ مُوقِنًا بِهَا فَمَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي مُوقِنًا بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . خَالَفَهُ الْوَلِيدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ .
It was narrated from Shaddad bin Aws that :The Prophet [SAW] said: "The best of prayers for forgiveness is for a person to say: 'Allahumma, anta rabbi, la ilaha illa anta, khalaqtani wa ana 'abduka, wa ana 'ala 'ahdika wa wa'dika mastata'tu, a'udhu bika min sharri ma sana'tu, abuw'u laka bidhanbi, wa abuw'u laka bini'matika 'alayya faghfirli, fa innahu la yaghfirudh-dhunuba illa anta (O Allah, You are my Lord, there is no god but You. You have created me and I am Your slave and I am keeping my promise and covenant to You as much as I can. I seek refuge with You from the evil of what I do. I acknowledge Your blessing and I acknowledge my sin, so forgive me, for there is none who can forgive sin except You.)' If he says this in the morning, believing in it firmly, and dies on that day before evening comes, he will enter Paradise, and if he says it in the evening, believing firmly in it, and dies before morning comes, he will enter Paradise." Al-Walid bin Tha'labah contradicted him
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ .
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:The Messenger of Allah [SAW] forbade drinking from green pitchers, gourds and vessels carved from wood
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ قَارَوَنْدَا، قَالَ سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ صَلاَةِ، أَبِيهِ فِي السَّفَرِ وَسَأَلْنَاهُ هَلْ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ شَىْءٍ مِنْ صَلاَتِهِ فِي سَفَرِهِ فَذَكَرَ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ كَانَتْ تَحْتَهُ فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي زَرَّاعَةٍ لَهُ أَنِّي فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الآخِرَةِ . فَرَكِبَ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ إِلَيْهَا حَتَّى إِذَا حَانَتْ صَلاَةُ الظُّهْرِ قَالَ لَهُ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاَةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ . فَلَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ نَزَلَ فَقَالَ أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ . فَصَلَّى ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ لَهُ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاَةَ . فَقَالَ كَفِعْلِكَ فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ . ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا اشْتَبَكَتِ النُّجُومُ نَزَلَ ثُمَّ قَالَ لِلْمُؤَذِّنِ أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ . فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الأَمْرُ الَّذِي يَخَافُ فَوْتَهُ فَلْيُصَلِّ هَذِهِ الصَّلاَةَ " .
Kathir bin Qarawanda said:"I asked Salim bin 'Abdullah about how his father prayed when traveling. We asked him: 'Did he combine any of his prayers when traveling?' He said that Safiyyah bint Abi 'Ubaid was married to him, and she wrote to him, when he was at some farmland of his, saying: 'This is the last of my days in this world, and the first day of the Hereafter." [1] He rode quickly to go to her, and when the time for Zuhr came, the Mu'adhdhin said to him: "The prayer, O Abu 'Abdur-Rahman!" But he paid no attention to him until it was between the time for the two prayers, then he stopped and said: "Say the Iqamah and when I say the Taslim, say the Iqamah." Then he rode on again, and when the sun set the Mu'adhdhin said to him; "The prayer!" He said: "Do as you did for Zuhr and 'Asr." When the stars had appeared, he stopped and said to the Mu'adhdhin: "Say the Iqamah and when I say the Taslim, say the Iqamah." He prayed, then when he had finished he turned to us and said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If any one of you has an urgent need that he fears he may miss, let him pray like this.'" [1] Meaning that she was dying
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سفر میں ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ) کی نماز کے بارے میں پوچھا، نیز ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سفر کے دوران کسی نماز کو جمع کرتے تھے؟ تو انہوں نے ذکر کیا کہ صفیہ بنت ابی عبید ( جو ان کے عقد میں تھیں ) نے انہیں لکھا، اور وہ اپنے ایک کھیت میں تھے کہ میرا دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن ہے ( یعنی قریب المرگ ہوں آپ تشریف لائیے ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم سوار ہوئے، اور ان تک پہنچنے کے لیے انہوں نے بڑی تیزی دکھائی یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت ہوا تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئیے، لیکن انہوں نے اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کی یہاں تک کہ جب دونوں نمازوں کا درمیانی وقت ہو گیا، تو سواری سے اترے اور بولے: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو ( پھر ) تکبیر کہو، ۲؎ چنانچہ انہوں نے نماز پڑھی، پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا تو ان سے مؤذن نے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، انہوں نے کہا: جیسے ظہر اور عصر میں کیا گیا ویسے ہی کرو، پھر چل پڑے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے، تو سواری سے اترے، پھر مؤذن سے کہا: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو پھر تکبیر کہو، تو انہوں نے نماز پڑھی، پھر پلٹے اور ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کسی کو ایسا معاملہ پیش آ جائے جس کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ اسی طرح ( جمع کر کے ) نماز پڑھے ۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ زِيَادٍ الأَعْلَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلاَ تَعُدْ " .
Abu Bakrah narrated that he entered the Masjid when the when the Prophet (ﷺ) was bowing, so he bowed outside the row. The Prophet said:"May Allah increase you in keenness, but do not do this again
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ آپ کی حرص میں اضافہ فرمائے، پھر ایسا نہ کرنا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي شَيْبَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَلِيٌّ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، قَالَ دَعَانِي أَبِي عَلِيٌّ بِوَضُوءٍ فَقَرَّبْتُهُ لَهُ فَبَدَأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي وَضُوئِهِ ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلاَثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاَثًا ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلاَثًا ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ ثُمَّ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ نَاوِلْنِي فَنَاوَلْتُهُ الإِنَاءَ الَّذِي فِيهِ فَضْلُ وَضُوئِهِ فَشَرِبَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ قَائِمًا فَعَجِبْتُ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ لاَ تَعْجَبْ فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَاكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ مِثْلَ مَا رَأَيْتَنِي صَنَعْتُ يَقُولُ لِوُضُوئِهِ هَذَا وَشُرْبِ فَضْلِ وَضُوئِهِ قَائِمًا .
Al-Husain bin 'Ali said:"My father 'Ali called me to bring (water for) Wudu', so I brought it to him, and he started by washing his hands three times, before putting them into the water. Then he rinsed his mouth three times and sniffed water into his nose and blew it out three times. Then he washed his face three times, then his right hand up to the elbow three times, then his left likewise. Then he wiped his head once then he washed his right foot up to the ankle three times, then the left likewise. Then he stood up and said: 'Pass me the vessel.' So I passed the vessel containing the remaining water for his Wudu' to him, and he drank from it standing up. I was surprised and when he noticed that he said: 'Do not be surprised, for I saw your father the Prophet (ﷺ) doing,' referring to his Wudu' and drinking the leftover water while standing
حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے وضو کا پانی مانگا، تو میں نے اسے ( وضو کے پانی کو ) انہیں لا کر دیا، آپ نے وضو کرنا شروع کیا، تو اپنی ہتھیلیوں کو اس سے پہلے کہ انہیں اپنے وضو کے پانی میں داخل کریں تین بار دھویا، پھر تین بار کلی کی اور تین بار ( پانی لے کر ) ناک جھاڑی، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھویا، پھر بایاں ہاتھ ( بھی ) اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، پھر دونوں ٹخنوں تک اپنا دایاں پیر تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پیر ( دھویا ) ، پھر آپ اٹھ کر کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: مجھے ( برتن ) دو، چنانچہ میں نے وہ برتن بڑھا دیا جس میں ان کے وضو کا بچا ہوا پانی تھا، تو آپ نے وضو کا باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پیا، تو مجھے تعجب ہوا، جب آپ نے میری طرف دیکھا تو بولے: تعجب نہ کرو، میں نے تمہارے نانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا، وہ اپنے اس وضو کے اور اس سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہو کر پینے کے متعلق کہہ رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ فِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَاهَا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"In every prayer there is recitation. What the Messenger of Allah (ﷺ) made us hear (by reciting out loud) we make you hear, and what he hid from us (by reciting silently) we hide from you
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہر نماز میں قرآت ہے، تو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم تم سے چھپا رہے ہیں ۱؎۔