أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ، - وَهُوَ كُرَيْبٌ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا فَرَأَيْتُهُ قَامَ لِحَاجَتِهِ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَنَامَ ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ تَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَاجْعَلْ أَمَامِي نُورًا وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا " . ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلاَلٌ فَأَيْقَظَهُ لِلصَّلاَةِ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"I stayed overnight with my maternal aunt Maimunah bin Al-Harith, and the Messenger of Allah (ﷺ) stayed overnight with her. I saw him get up to relieve himself and he went to the waterskin and undid its string, then he performed wudu and that was moderate (in the amount of water used). Then he went to his bed and slept. Then he got up again and went to the waterskin and undid its string, and performed wudu again, like the first time. Then he stood and prayed, and when he prostrated he said: 'Allahummaj'al fi qalbi nuran waj'al fi sami' nuran waj'al fi basri nuran, waj'al min tahti nuran waj'al min fawqi nuran, wa 'an yamii nuran wa 'an yasari nuran waj'al amami nuran, waj'al khalfi nuran wa a'zimli nura (O Allah, place light in my heart, and place light in my hearing, and place light in my seeing, and place light beneath me, and place light above me, and light on my right, and light on my left, and place light behind me, and make the light greater for me.') Then he slept until he started to snore, then Bilal came and woke him up for the prayer
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس رات کو ان ہی کے پاس رہے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی حاجت کے لیے اٹھے، مشک کے پاس آئے، اور اس کا بندھن کھولا، پھر وضو کیا جو دو وضوؤں کے درمیان تھا، ( یعنی شرعی وضو نہیں تھا ) ، پھر آپ اپنے بستر پہ آئے، اور سو گئے، پھر دوسری بار اٹھے، مشک کے پاس آئے، اور اس کا بندھن کھولا، پھر وضو کیا یہ ( شرعی ) وضو تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، آپ اپنے سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے: «اللہم اجعل في قلبي نورا واجعل في سمعي نورا واجعل في بصري نورا واجعل من تحتي نورا واجعل من فوقي نورا وعن يميني نورا وعن يساري نورا واجعل أمامي نورا واجعل خلفي نورا وأعظم لي نورا» اے اللہ! میرے دل کو منور کر دے، میرے کانوں کو نور ( روشنی ) سے بھر دے، میری آنکھوں کو روشن کر دے، میرے نیچے نور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے دائیں نور کر دے، میرے بائیں نور کر دے، میرے آگے نور کر دے، میرے پیچھے نور کر دے، اور میرے لیے نور کو عظیم کر دے ، پھر آپ سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر بلال رضی اللہ عنہ آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے جگایا۱؎۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، عَنِ الْمُعَافَى، عَنْ عِصَامِ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ مَالِكٍ، - وَهُوَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى فِي الصَّلاَةِ وَيُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ .
It was narrated from Malik bin Numair Al-Khuza'I that his father said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) putting his right hand on his right thigh when praying and pointing with his finger
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَمُحَمَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا ثُمَّ، ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .
It was narrated from Ibn Umar that:The Prophet (ﷺ) said: "Witr is one rak'ah at the end of the night
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنْ تَكُ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ " .
It was narrated from Abu Hurairah, who attributed it to the Prophet:"Hasten with the Janazah, for if it was righteous then your are taking it toward something good, and if it was otherwise, then it is an evil of which you are relieving yourselves
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازے کو تیز لے چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف ( جلد ) لے جاؤ گے، اور اگر اس کے علاوہ ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم ( جلد ) اپنی گردنوں سے اتار پھینکو گے“۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لاَ أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلاَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَلاَ صَامَ شَهْرًا كَامِلاً قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ .
It was narrated that Aishah said:"I do not know that the Messenger of Allah recited the whole Quran in one night, or prayed Qiyam until morning, or ever fasted an entire month except Ramadan
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک ہی رات میں سارا قرآن پڑھا ہو، یا پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَالْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ " . قَالُوا وَكَيْفَ قَالَ " كَانَ لِرَجُلٍ دِرْهَمَانِ تَصَدَّقَ بِأَحَدِهِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُرْضِ مَالِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"A Dirham surpassed a hundred thousand Dirhams." They said: "How?" He said: "A man had two Dirhams and gave one in charity, and another man went part of his wealth and took out a hundred thousand Dirhams and gave them in charity
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ گیا“، لوگوں نے ( حیرت سے ) پوچھا: یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دو درہم تھے، ان دو میں سے اس نے ایک صدقہ کر دیا، اور دوسرا شخص اپنی دولت ( کے انبار کے ) ایک گوشے کی طرف گیا اور اس ( ڈھیر ) میں سے ایک لاکھ درہم لیا، اور اسے صدقہ کر دیا“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمُحْرِمِ " إِذَا اشْتَكَى رَأْسَهُ وَعَيْنَيْهِ أَنْ يُضَمِّدَهُمَا بِصَبِرٍ " .
It was narrated from Abn bin 'Uthman that his father said:'the messenger of Allah said concerning a Muhrim whose head or yes hurt: 'Let him smudge them with aloes, (sahih):
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے بارے میں فرمایا: ”جب اس کے سر میں درد ہو یا آنکھیں دکھیں تو ایلوا کا لیپ کر لے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ قَوْمًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطَرَّقَةِ يَلْبَسُونَ الشَّعَرَ وَيَمْشُونَ فِي الشَّعَرِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The Hour will not begin until the Muslims fight the Turks, a people with faces like hammered shields who wear clothes made of hair and shoes made of hair
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں گے جن کے چہرے تہہ بتہہ ڈھالوں کی طرح گول مٹول ہوں گے، بالوں کے لباس پہنیں گے ۱؎ اور بالوں میں چلیں گے“ ۲؎۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَلاَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: '(A man should not be married to) a woman and her paternal aunt nor to a woman and her maternal aunt at the same time
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( نکاح میں ) عورت اور اس کی پھوپھی کو نہ جمع کیا جائے گا، اور نہ ہی عورت اور اس کی خالہ کو اکٹھا کیا جائے گا ۱؎“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ شُعَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلاَعَنَةِ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ رَجُلاً لَيْسَ مِنْهُمْ فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَىْءٍ وَلاَ يُدْخِلُهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ احْتَجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that he heard the Messenger of Allah say when the Verse of Mula'anah (Li'an) was revealed:"Any woman who falsely attributes a man to people to whom he does not belong, has no share from Allah, and Allah will not admit her to His Paradise. Any man who denies his son while looking at him (knowing that he is indeed his son), Allah, the Mighty and Sublime, will cast him away, and disgrace him before the first and the last on the Day of Resurrection
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت کسی قوم ( خاندان و قبیلے ) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم ( خاندان و قبیلے ) کا نہ ہو ( یعنی زنا و بدکاری کرے ) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور ( ایسے ہی ) جو شخص اپنے بیٹے کا ( کسی بھی سبب سے ) انکار کر دے اور دیکھ رہا ( اور سمجھ بوجھ رہا ) ہو ( کہ وہ بیٹا اسی کا ہے ) تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کر لے گا ۱؎ اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اگلے و پچھلے سبھی لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَيْخٍ يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ فَقَالَ " مَا بَالُ هَذَا " . قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ . قَالَ " إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ مُرْهُ فَلْيَرْكَبْ " . فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ .
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah passed by an old man who was being supported between two men and said: 'What is the matter with him?' They said: 'He vowed to walk.' He said: 'Allah has no need for him to torture himself. Tell him to ride.'" So he was told to ride
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے بوڑھے شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے عرض کیا: اس نے ( کعبہ ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اس کے اس طرح اپنی جان کو تکلیف پہنچانے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اسے حکم دو کہ سوار ہو کر چلے، چنانچہ انہوں نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِثَلاَثٍ أَنْ يَزْنِيَ بَعْدَ مَا أُحْصِنَ أَوْ يَقْتُلَ إِنْسَانًا فَيُقْتَلُ أَوْ يَكْفُرَ بَعْدَ إِسْلاَمِهِ فَيُقْتَلُ " .
It was narrated that 'Uthman bin 'Affan said:"I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'It is not permissible to shed the blood of a Muslim except in three cases: A man who commits adultery after having married; or one who kills another person, who is to be killed; or who reverts to Kufr after having accepted Islam, who is to be killed
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّ طَبِيبًا، ذَكَرَ ضِفْدَعًا فِي دَوَاءٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَتْلِهِ .
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin 'Uthman that:a physician made mention of the use of frogs in a remedy in the presence of the Messenger of Allah and the Messengher of Allah forbade killing them. (sahih)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ .
It was narrated from Au Hurairah that the prophet granted a concession allowing estimation for 'Ararya sales, so long as they were five Wasq or less then that
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ قَالَ " أَلاَ وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلاَدُهَا " .
It was narrated from Ya'qub bin Aws that:a man from among the Companions of the Prophet narrated to him that the Prophet entered Makkah during the Year of the Conquest, and said: 'Indeed, accidental killing on purpose, is killing with a whip or stick, for which forty (she-camels) with their young in their wombs
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلاَ كَثَرٍ " .
It was narrated that Rafi bin Khadij said:"I heard the Messenger of Allah say: 'The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهَا أَنْ لاَ تَمَسَّ الطِّيبَ إِذَا خَرَجَتْ إِلَى الْعِشَاءِ الآخِرَةِ .
It was narrated from Zainab Ath-Thaqafiyyah, the wife of 'Abdullah, that:The Messenger of Allah [SAW] told her not to touch perfume if she wanted to go out to 'Isha' the later
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سِنَانٍ الْمُزَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ، صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي صَلاَتِهِ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا الصَّوَابُ .
It was narrated from Sulaiman bin Sinan Al-Muzani that he heard Abu Hurairah say:"I heard Abu Al-Qasim [SAW] say, during his prayer: 'Allahumma, inni a'udhu bika min fitnatil-qabri, wa fitnatid-dajjali, wa min fitnatil-mahya wal-mamati, wa min harri jahannam (O Allah, I seek refuge with You from the trial of the grave, and from the tribulation of the Dajjal, and from the trials of life and death, and from the heat of Hell)
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ وَالْقَرْعِ .
It was narrated from Ibn 'Umar that :The Messenger of Allah [SAW] forbade Al-Muzaffat and squashes
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ .
It was narrated that Anas bin Malik said:"If the Messenger of Allah (ﷺ) was setting out on a journey before the sun passed its zenith, he would delay Zuhr until the time of 'Asr, then he would stop and combine the prayer. If the sun passed its zenith before he set out, he would pray Zuhr and then set off
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر کرتے تو عصر تک ظہر کو مؤخر کر دیتے، پھر سواری سے نیچے اترتے اور جمع بین الصلاتین کرتے یعنی دونوں صلاتوں کو ایک ساتھ پڑھتے ۱؎، اور اگر سفر کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، - رضى الله عنه - قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِنَا فَصَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ لَنَا خَلْفَهُ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا .
Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) came to our house and I prayed with an orphan of ours behind him, and Umm Sulaim prayed behind us
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے تنہا نماز پڑھی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه أَنَّهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ دَعَا بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهٍ ثَلاَثًا ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا وَأَخَذَ مِنَ الْمَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ - وَأَشَارَ شُعْبَةُ مَرَّةً مِنْ نَاصِيَتِهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ - ثُمَّ قَالَ - لاَ أَدْرِي أَرَدَّهُمَا أَمْ لاَ - وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهَذَا طُهُورُهُ . وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ لَيْسَ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ .
It was narrated from 'Abd Khair, that 'Ali (may Allah be pleased with him) was brought a chair, and he sat down on it, then he called for a vessel of water which he tilted onto his hand three times, then he rinsed his mouth and nose with one hand, three times, he washed his face three times, washed each forearm three times, and took some of the water and wiped his head. One one occasion (One of the narrators) Shu'bah, indicated (that he wiped) from his forelock to the back of his head, then said:"I do not know whether he brought his hands back or not. And he washed each foot three times, then he said: 'Whoever would like to see how the Messenger of Allah (ﷺ) purified himself, this is how he purified himself.'" Abu 'Abdur-Rahman said: "This is a mistake. What is correct is Khalid bin 'Alqamah, not Malik bin 'Urfutah
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک کرسی لائی گئی تو وہ اس پر بیٹھے، پھر آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا، اپنے دونوں ہاتھ پر تین بار پانی انڈیلا، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین دفعہ کلی کی اور ناک جھاڑی، اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر پانی لے کر اپنے سرکا مسح کیا، ( شعبہ – جو حدیث کے راوی ہیں – نے اپنی پیشانی سے اپنے سر کے آخر تک ایک بار مسح کر کے دکھایا، پھر کہا: میں نہیں جانتا کہ ان دونوں کو ( گدی سے پیشانی تک ) واپس لائے یا نہیں؟ ) اور اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا، پھر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنے کی خواہش ہو تو یہی آپ کا وضو ہے۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُلَيْمٍ، - وَهُوَ ابْنُ أَخْضَرَ - عَنِ التَّيْمِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلاَةَ الْعِشَاءِ - يَعْنِي الْعَتَمَةَ - فَقَرَأَ سُورَةَ { إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ } فَسَجَدَ فِيهَا فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذِهِ - يَعْنِي سَجْدَةً - مَا كُنَّا نَسْجُدُهَا . قَالَ سَجَدَ بِهَا أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا خَلْفَهُ فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَى أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that Abu Rafi' said:"I prayed Isha' prayer- meaning Al-'Atamah behind Abu Hurairah and he recited: 'When the heaven is split asunder' and prostrated during it. When he had finished praying, I said: 'O Abu Hurairah, (this is) a prostration that we are not used to.' He said: 'Abu Al-Qasim (ﷺ) did this prostration and I was (praying) behind him, and I will continue to do this prostration until I meet Abu Al-Qasim
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء یعنی عتمہ کی نماز پڑھی، تو انہوں نے سورۃ «إذا السماء انشقت» پڑھی، اور اس میں سجدہ کیا، تو میں نے کہا: ابوہریرہ! اسے تو ہم کبھی نہیں کرتے تھے، انہوں نے کہا: اسے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، اور میں آپ کے پیچھے تھا، میں یہ سجدہ برابر کرتا رہوں گا یہاں تک کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔