أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، - هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السِّتْرَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ قَدْ بَلَّغْتُ - ثَلاَثَ مَرَّاتٍ - إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبْدُ أَوْ تُرَى لَهُ أَلاَ وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا رَبَّكُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَإِنَّهُ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) drew aside the curtain when he had a cloth wrapped around his head during his final illness, and said: 'O Allah, I have conveyed (the Message)' three times. 'There is nothing left of the features of Prophethood except a good dream that a person sees or is seen by others for him. But I have been forbidden to recite the Qur'an when bowing and prostrating, so when you bow, then glorify your Lord and when you prostrate, then strive hard in supplication, for it is more deserving of a response
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی پردہ ہٹایا، آپ کا سر مبارک کپڑے سے بندھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اے اللہ! میں نے پہنچا دیا ( پھر فرمایا: ) نبوت کی خوش خبریوں میں سے سوائے سچے خواب کے جسے بندہ خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ گئی ہے، سنو! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، تو جب تم رکوع کرو تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور جب سجدہ کرو تو دعا میں کوشش کرو کیونکہ یہ حالت اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے ۔
أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلاَ يُحَرِّكُهَا . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَزَادَ عَمْرٌو قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو كَذَلِكَ وَيَتَحَامَلُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى .
It was narrated from Abdullah bin Az-Zubair:That the Prophet (ﷺ) used to point with his finger when he supplicated, but he did not move it. Ibn Jurayj said: "And 'Amr added: 'Amir bin 'Abdullah bin Az-Zubair told me that his father saw the Prophet (ﷺ) supplicating like that, putting his weight on his left arm, leaning on his left leg
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، اور اسے ہلاتے نہیں تھے ۱؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو نے ( اس میں ) اضافہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عامر بن عبداللہ بن زبیر نے مجھے خبر دی، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی طرح دعا کرتے، اور آپ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے بائیں پاؤں کو تھامے رہتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .
It was narrated fom Ibn Umar that:The Prophet (ﷺ) said: "Witr is one rak'ah at the end of the night
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ يَا وَيْلَهَا إِلَى أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَىْءٍ إِلاَّ الإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَهَا الإِنْسَانُ لَصَعِقَ " .
Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah said: 'When the Janazah (prepared body) is placed (on the bier) and the men lift it onto their shoulders, if it was a righteous person it says: Take me quickly, take me quickly. And if it was not a righteous person it says: Woe to me! Where are you taking me! And everything hears its voice except man, and if man heard it he would faint
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جنازہ ( چارپائی پر ) رکھا جاتا ہے ( اور ) لوگ اسے اپنے کندھوں پہ اٹھاتے ہیں، تو اگر وہ نیکوکار ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو، اور اگر برا ہوتا ہے تو کہتا ہے: ہائے اس کی ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو، اس کی آواز ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے، اگر انسان اسے سن لے تو بیہوش ہو جائے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَعْبَانَ .
It was narrated that Aishah said:"The Prophet used to fast Shaban
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزہ رکھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ " إِيمَانٌ لاَ شَكَّ فِيهِ وَجِهَادٌ لاَ غُلُولَ فِيهِ وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ " . قِيلَ فَأَىُّ الصَّلاَةِ أَفْضَلُ قَالَ " طُولُ الْقُنُوتِ " . قِيلَ فَأَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ " جَهْدُ الْمُقِلِّ " . قِيلَ فَأَىُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ " مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . قِيلَ فَأَىُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ " مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ " . قِيلَ فَأَىُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ قَالَ " مَنْ أُهْرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ " .
It was narrated from 'Abudullah bin Hubshi Al-Khath 'ami that the Prophet was asked:"Which deed is best?" He said: "Faith in which there is no doubt, Jihad in which there is no stealing of the spoils of war, and Hjijatun Mabrurah."[1] It was said: "Which prayer is best? He said:"That in which there is ling Qunut (standing)." It was said: "Which charity is best?" He said: "The poor's night." It was said: "Which Hijrah (emigration) is best?" He said: "One who shuns (Hahara) that which Allah has forbidden." It was said: "One who strives against the idolaters with his life and his wealth. "It was said: "Which death is best?" He said: "One who sheds his blood while his horse's feet are cut with swords
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے کام افضل ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا ایمان جس میں شبہ نہ ہو، جہاد جس میں خیانت نہ ہو، اور حج مبرور“، پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”لمبے قیام والی نماز“، پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ صدقہ جو کم مال والا اپنی محنت کی کمائی سے دے“، پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایسی ہجرت جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے“، پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے، آپ نے فرمایا: ”اس شخص کا جہاد جو مشرکین سے اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرے“، پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس میں آدمی کا خون بہا دیا گیا ہو، اور اس کا گھوڑا ہلاک کر دیا گیا ہو“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعِرَّانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا كَمَا تَرَى فَقَالَ " انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجَّتِكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ " .
It was narrated f rom Safwan bin Ya'la that his father saide:"A man came to the Messenger of Allah when he was in Al-Jirranah wearing a Jubnah, and having applied Khauq to his beard and head. He said: 'O Messenger of Allah! I have entered Ihram for 'Umrah and I am as you see.' He said: 'Take off the Jubbah and wash off the perfume, and whatever you would do for Hajj, do it for 'Umrah
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اپنی داڑھی اور سر کو ( زعفران سے ) پیلا کیے ہوئے تھا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے اور میں جس طرح ہوں آپ مجھے دیکھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبہ اتار دو اور زردی اپنے سے دھو ڈالو، اور جو حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو“۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ، - رَجُلٌ مِنَ الْمُحَرَّرِينَ - عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ عَرَضَتْ لَهُمْ صَخْرَةٌ حَالَتْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْحَفْرِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ نَاحِيَةَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ " { تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ } " . فَنَدَرَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَائِمٌ يَنْظُرُ فَبَرَقَ مَعَ ضَرْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرْقَةٌ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِيَةَ وَقَالَ " { تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ } " . فَنَدَرَ الثُّلُثُ الآخَرُ فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ فَرَآهَا سَلْمَانُ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَةَ وَقَالَ " { تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ } " . فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْبَاقِي وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ رِدَاءَهُ وَجَلَسَ . قَالَ سَلْمَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُكَ حِينَ ضَرَبْتَ مَا تَضْرِبُ ضَرْبَةً إِلاَّ كَانَتْ مَعَهَا بَرْقَةٌ . قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا سَلْمَانُ رَأَيْتَ ذَلِكَ " . فَقَالَ إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنِّي حِينَ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الأُولَى رُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ كِسْرَى وَمَا حَوْلَهَا وَمَدَائِنُ كَثِيرَةٌ حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَىَّ " . قَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَهَا عَلَيْنَا وَيُغَنِّمَنَا دِيَارَهُمْ وَيُخَرِّبَ بِأَيْدِينَا بِلاَدَهُمْ . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ " ثُمَّ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الثَّانِيَةَ فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ قَيْصَرَ وَمَا حَوْلَهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَىَّ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَهَا عَلَيْنَا وَيُغَنِّمَنَا دِيَارَهُمْ وَيُخَرِّبَ بِأَيْدِينَا بِلاَدَهُمْ . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ " ثُمَّ ضَرَبْتُ الثَّالِثَةَ فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ الْحَبَشَةِ . وَمَا حَوْلَهَا مِنَ الْقُرَى حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَىَّ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ " دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ " .
It was narrated from Abu Sukainah, a man from among the Muharririn,[1] that a man among the Companions of the the Prophet (ﷺ) said:"When the Prophet (ﷺ) commanded them to dig the trench (Al-Khandaq), there was a rock in their way preventing them from digging. The Messenger of Allah (ﷺ) stood, picked up a pickaxe, put his Rida' (upper garment) at the edge of the ditch and said: 'And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower.' [1] One-third of the rock broke off while Salman Al-Farisi was standing there watching, and there was a flash of light when the Messenger of Allah (ﷺ)struck (the rock). Then he struck it again and said: 'And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. Nonce can change His Words. Ans He is the All-Hearer, the All-Knower' And another third of the rock broke off and there was another flash of light, which Salman saw. Then he struck (the rock) a third time and said: 'And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower.' The last third fell, and the Messenger of Allah (ﷺ) came out, picked up his Rida' and sat down. Salman said: 'O Messenger of Allah, Each time you struck the rock there was a flash of light.' The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'O Salman, did you see that?' He said: 'Yes, by the One Who sent you with the truth, O Messenger of Allah.' He said: 'When I struck the first blow, the cities of Kisra and their environs were shown to me, and many other cities, and I saw them with my own eyes.' Those of his Companions who were present said: 'O Messenger of Allah, pray to Allah to grant us victory and to give us their land as spoils of war, and to destroy their lands at our hands.' So the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for that. (Then he said:) 'Then I struck the second blow and the cities of Caesar and their environs were shown to me, and I saw them with my own eyes.' They said: 'O Messenger of Allah, pray to Allah to grant us victory and to give us their lands as spoils of war, and to destroy their lands at our hands.' So the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for that. (Then he said:) 'Then I struck the third blow and the cities of Ethiopia were shown to me, and the villages around them, and I saw them with my own eyes.' But the Messenger of Allah (ﷺ) said at that point: 'Leave the Ethiopians alone so long as they leave you alone, and leave the Turks alone so long as they leave you alone.'" [1] An-An'am 6:
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خندق کھودنے کا حکم دیا تو ایک چٹان نمودار ہوئی جو ان کی کھدائی میں رکاوٹ بن گئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، کدال پکڑی اپنی چادر خندق کے ایک کنارے رکھی، اور آیت «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر کدال چلائی تو ایک تہائی پتھر ٹوٹ کر گر گیا، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کدال چلائی، ایک چمک پیدا ہوئی پھر آپ نے آیت: «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر دوبارہ کدال چلائی تو دوسرا تہائی حصہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا پھر دوبارہ چمک پیدا ہوئی، سلمان نے پھر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے آیت: «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر تیسری ضرب لگائی تو باقی تیسرا تہائی حصہ بھی الگ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے نکل آئے، اپنی چادر لی اور تشریف فرما ہوئے، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب آپ نے ضرب لگائی تو میں نے آپ کو دیکھا، جب بھی آپ نے ضرب لگائی آپ کی ضرب کے ساتھ ایک چمک پیدا ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: سلمان! تم نے یہ دیکھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول جی ہاں! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ( میں نے ایسا ہی دیکھا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے ( پردے اٹھا کر ) فارس کے شہر اور اس کے اطراف کے دیہات اور دوسرے بہت سے شہر دکھائے گئے میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے خود دیکھا“، اس وقت آپ کے جو صحابہ وہاں موجود تھے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر ہمیں فتح نصیب فرمائے اور ان کا ملک ہمیں بطور غنیمت عطا کرے، اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں ویران و برباد کرے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرما دی، پھر جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو پردے اٹھا کر مجھے قیصر کے شہر اور اس کے اطراف ( کے قصبات و دیہات ) دکھائے گئے ( کہ یہ سب تمہیں ملنے والے ہیں ) میں نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں کہ ان ممالک کو فتح کرنے میں وہ ہماری مدد فرمائے اور وہ علاقے ہمیں غنیمت میں ملیں اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی دعا فرمائی، پھر جب میں نے تیسری ضرب لگائی، تو مجھے ملک حبشہ کے شہر اور گاؤں دکھائے گئے، میں نے فی الحقیقت انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس موقع پر آپ نے یوں فرمایا: ”حبشہ کو چھوڑ دو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں اور ترک کو چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں چھوڑے رہیں“ ( لیکن اگر وہ تم سے ٹکرائیں تو تم بھی ان سے ٹکراؤ اور انہیں شکست دو ) ۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي قَالَ " فَأَصْنَعُ مَاذَا " . قَالَتْ تَزَوَّجُهَا . قَالَ " فَإِنَّ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكِ " . قَالَتْ نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ يَشْرَكُنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي . قَالَ " إِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِي " . قَالَتْ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ " بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " وَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لاَبْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ " .
It was narrated from Umm Habibah that she said:"O Messenger of Allah, what do you think of my sister?" He said: "What for?" She said: "For marriage." He said: "Would you like that?" She said: "Yes; I do not have you all to myself, and I would like to share this goodness with my sister." He said: "She is not permissible for me (to marry)." She said: "But I heard that you want to marry Durrah, the daughter of Umm Salamah." He said: "The daughter of Umm Salamah?" She said: "Yes." He said: "By Allah, even if she were not my stepdaughter she would not be permissible for me (to marry), because she is the daughter of my brother through breast-feeding. Do not offer your daughters and sisters to me in marriage
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن میں کچھ رغبت ( دلچسپی ) ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( اگر دلچسپی ہو ) تو میں کیا کروں؟“ انہوں نے کہا: آپ اس سے شادی کر لیں، آپ نے کہا: یہ اس لیے کہہ رہی ہو کہ تمہیں یہ زیادہ پسند ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی تنہا بیوی نہیں ہوں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ خیر میں جو میری ساجھی دار بنے وہ میری اپنی سگی بہن ہو، آپ نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے“، انہوں نے کہا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ سے شادی کرنے والے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ( تم ) ام سلمہ کی بیٹی سے ( کہہ رہی ہو ) ؟“ انہوں نے کہا: ہاں ( میں انہی کا نام لے رہی ہوں ) ، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! اگر وہ میری ربیبہ میری گود کی پروردہ نہ ہوتی تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی ( وہ تو دو حیثیتوں سے میرے لیے حرام ہے ایک تو اس کی حیثیت میری بیٹی کی ہے اور دوسرے ) وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ( یعنی میری بھتیجی ہے ) ، تو ( آئندہ ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو میرے اوپر ( شادی کے لیے ) پیش نہ کرنا“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، - حِمْصِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وُلِدَ لِي غُلاَمٌ أَسْوَدُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ " . قَالَ مَا أَدْرِي قَالَ " فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَمَا أَلْوَانُهَا " . قَالَ حُمْرٌ . قَالَ " فَهَلْ فِيهَا جَمَلٌ أَوْرَقُ " . قَالَ فِيهَا إِبِلٌ وُرْقٌ . قَالَ " فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ " . قَالَ مَا أَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ . قَالَ " وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ " . فَمِنْ أَجْلِهِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذَا لاَ يَجُوزُ لِرَجُلٍ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْ وَلَدٍ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ إِلاَّ أَنْ يَزْعُمَ أَنَّهُ رَأَى فَاحِشَةً .
It was narrated that Abu Hurairah said:"While we were with the Prophet, a man stood up and said: 'O Messenger of Allah, a black boy has been born to me.' The Messenger of Allah said: 'How did that happen?' He said: 'I do not know.' He said: 'Do you have camels?' He said: 'Yes.' He said: 'What color are they?' He said: 'Red.' He said: 'Are there any gray camels among them?' He said: 'There are some gray camels among them.' He said: 'Where do they come from?' He said: 'I do not know, O Allah's Messenger! Perhaps it is hereditary.' He said: 'Perhaps this is also hereditary.' Because of this, the Messenger of Allah decreed the following: 'It is not allowed for a man, to disown a child who was born on his bed, unless he claimed that he had seen an immoral act (Fahishah)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میرے یہاں ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہاں سے آیا یہ اس کا کالا رنگ؟“، اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“، اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا کوئی ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے؟“، اس نے کہا: ان میں خاکی رنگ کے بھی اونٹ ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ خاکی رنگ کہاں سے آیا؟“، اس نے کہا: میں نہیں جانتا، اللہ کے رسول! ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کشید کیا ہو ( یعنی یہ نسلی کشش کا نتیجہ ہو اور نسل میں کوئی کالے رنگ کا ہو ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ بھی ہو سکتا ہے کسی رگ کی کشش کے نتیجہ میں کالے رنگ کا پیدا ہوا ہو“۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دے جب تک کہ وہ اس کا دعویٰ نہ کرے کہ اس نے اسے بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقَالَ " مَا هَذَا " . قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ . قَالَ " إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ مُرْهُ فَلْيَرْكَبْ " .
It was narrated that Anas said:"The Prophet saw a man being supported by two others and said: 'What is this?' They said: 'He vowed to walk to the House of Allah.' He said: 'Allah has no need for this man to torture himself. Tell him to ride
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے، آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے گا، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنی جان کو تکلیف دینے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ سوار ہو کر جائے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَزْهَرِ، أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ أَوْ قَتَلَ عَمْدًا فَعَلَيْهِ الْقَوَدُ أَوِ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلاَمِهِ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that:'Uthman said: "I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'It is not permissible to shed the blood of a Muslim except in three cases: A man who commits adultery after having married; or one who kills intentionally, in which case he deserves retaliation; or one who apostatizes after having become Muslim, in which case he deserves to be killed
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ وَنَحْنُ ثَلاَثُمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ فَأَعْطَانَا قَبْضَةً قَبْضَةً فَلَمَّا أَنْ جُزْنَاهُ أَعْطَانَا تَمْرَةً تَمْرَةً حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنَمُصُّهَا كَمَا يَمُصُّ الصَّبِيُّ وَنَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ فَلَمَّا فَقَدْنَاهَا وَجَدْنَا فَقْدَهَا حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنَخْبِطُ الْخَبَطَ بِقِسِيِّنَا وَنَسَفُّهُ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى سُمِّينَا جَيْشَ الْخَبَطِ ثُمَّ أَجَزْنَا السَّاحِلَ فَإِذَا دَابَّةٌ مِثْلُ الْكَثِيبِ يُقَالُ لَهُ الْعَنْبَرُ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَيْتَةٌ لاَ تَأْكُلُوهُ . ثُمَّ قَالَ جَيْشُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنَحْنُ مُضْطَرُّونَ كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ . فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَجَعَلْنَا مِنْهُ وَشِيقَةً وَلَقَدْ جَلَسَ فِي مَوْضِعِ عَيْنِهِ ثَلاَثَةَ عَشَرَ رَجُلاً - قَالَ - فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَرَحَلَ بِهِ أَجْسَمَ بَعِيرٍ مِنْ أَبَاعِرِ الْقَوْمِ فَأَجَازَ تَحْتَهُ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا حَبَسَكُمْ " . قُلْنَا كُنَّا نَتَّبِعُ عِيرَاتِ قُرَيْشٍ وَذَكَرْنَا لَهُ مِنْ أَمْرِ الدَّابَّةِ فَقَالَ " ذَاكَ رِزْقٌ رَزَقَكُمُوهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَمَعَكُمْ مِنْهُ شَىْءٌ " . قَالَ قُلْنَا نَعَمْ .
(It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah sent us with Abu Ubaidah and we numbered over three hundred men. He supplied us with a sack of dates and gave them out by the handful. When he ran short, he gave us one date at a time, until we used to suck on it like an infant, and we would drink water with it. When we ran out of them it became very difficult for us. We used to hit the Khabat leaves with our bows to knock them down) and swallow them, then drink water with it. We became known as Jaish Al-Khabat (the Khabat army). Then, when we were about to turn inland, we saw a beast like a hill, caloled Al-'Anbar. Abu 'Ubaidah said: 'It is dead meat, do not eat it.' Then he said: 'The army of the Messenger of Allah in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and we are forced by necessity; eat in the name of Allah. 'So we arte from it and we made some if it into jerked meat. Thirteen men could sit in its eye-socket. Abu Ubaidah took one of its ribs and seated a man on the biggest camel that the people had, and they passed beneath it. When we came to the Messenger of Allah, he said: 'What kept you so long?' We said: The Quraish' and we told him about the beast. He said: 'That is provision that Allah granted to you. Do you have anything of it with you? "We said: ' Yes
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالرُّطَبِ وَبِالتَّمْرِ وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ .
It was narrated the Zaid bin Thabit sadi:"The Messenger of Allah granted a concession allowing 'Araya sales for fresh dates and for dried dates, but he did not allow anything other than that
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ قَالَ " أَلاَ وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلاَدُهَا " .
It was narrated from Ya'qub bin Aws that:a man from among the Companions of the Prophet told him, that when the Messenger of Allah came to Makkah, in the Year of the Conquest, he said: "Indeed, accidental killing on purpose, is killing with a whip or stick, for which forty (she-camels) with their young in their wombs
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلاَ كَثَرٍ " .
It was narrated that Rafi bin Khadij said:"I heard the Messenger of Allah say: 'The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيَّتُكُنَّ خَرَجَتْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلاَ تَقْرَبَنَّ طِيبًا " .
It was narrated from Zainab Ath-Thaqafiyyah that :The Prophet of Allah [SAW] said: "If any one of you goes out to the Masjid, let her not go near perfume
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ جَسْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ حَرِّ النَّارِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Allahumma, rabba jibra'ila, wa mika'ila wa rabba israfila, a'udhu bika min harrin-nari wa (min) 'adhabil-qabr (O Allah, Lord of Jibra'il and Mika'il and Lord of Israfil, I seek refuge in You from the heat of the Fire and (from) the torment of the grave
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِمَا .
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade soaking (fruits) in Ad-Dubba' (gourds) and Al-Muzaffat
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَابَاهْ، يُحَدِّثُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لاَ تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ " .
It was narrated from Jubair bin Mut'im that the Prophet (ﷺ) said:"O Banu 'Abd Manaf, do not prevent anyone from circumambulating this House and praying at any time he wants of night or day
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! تم کسی کو رات یا دن کسی بھی وقت اس گھر کا طواف کرنے، اور نماز پڑھنے سے نہ روکو ۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ فَرَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ قَالَ " يَا فُلاَنُ أَيُّهُمَا صَلاَتُكَ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ لِنَفْسِكَ " .
It was narrated that 'Abdullah bin Sarjis said:"A man came while the Messenger of Allah (ﷺ) was praying Subh, and he prayed two Rak'ahs then joined the prayer. When the Messenger of Allah (ﷺ) had finished praying he said: O so-and-so, which of them is your prayer - the one you prayed with us or the one you prayed on your own?
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں تھے، اس نے دو رکعت سنت پڑھی، پھر آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا: اے فلاں! ان دونوں میں سے تمہاری نماز کون سی تھی، جو تم نے ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟ یا جو خود سے پڑھی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ أَتَيْنَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - وَقَدْ صَلَّى فَدَعَا بِطَهُورٍ فَقُلْنَا مَا يَصْنَعُ بِهِ وَقَدْ صَلَّى مَا يُرِيدُ إِلاَّ لِيُعَلِّمَنَا فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ فَأَفْرَغَ مِنَ الإِنَاءِ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ بِهِ الْمَاءَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاَثًا وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلاَثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلاَثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهُوَ هَذَا .
It was narrated that 'Abd Khair said:"We came to 'Ali bin Abi Talib, may Allah be pleased with him, and he had prayed. He called for water and we said: 'What is he going to do with it when he has (already) prayed? He only wants to teach us.' A vessel of water and a basin were brought to him. He poured some water onto his hand and washed it three times, then he rinsed his mouth and nose three times from the hand with which he took the water. Then he washed his face three times, and he washed his right hand three times, and his left hand three times, and wiped his head once, then he washed his right foot three times and his left foot three times. Then he said: 'Whoever would like to learn how the Messenger of Allah (ﷺ) did Wudu', this is it
عبد خیر کہتے ہیں کہ ہم لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نماز پڑھ چکے تھے، مگر آپ نے وضو کا پانی طلب کیا، ہم لوگوں نے ( دل میں یا آپس میں ) کہا: وہ اسے کیا کریں گے؟ وہ تو نماز پڑھ چکے ہیں، ( ایسا کر کے ) وہ ہمیں صرف سکھانا چاہتے ہوں گے، چنانچہ ایک برتن جس میں پانی تھا، اور ایک طشت لایا گیا، آپ نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اسے تین مرتبہ دھویا، پھر جس ہتھیلی سے پانی لیتے تھے اسی سے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر چہرہ تین بار دھویا، اور دایاں ہاتھ تین بار دھویا پھر بایاں ہاتھ تین بار اور اپنے سرکا ایک بار مسح کیا، پھر دایاں پیر تین بار دھویا، اور بایاں پیر تین بار دھویا، پھر کہنے لگے: جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرے تو وہ یہی ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَجَدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي { إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ } وَ { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ }
It was narrated that Abu Hurairah said:"I prostrated with the Messenger of Allah (ﷺ) during; 'When the heaven is split asunder' and 'Read! In the Name of your Lord
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔