أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّهَاوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَلاَ أُصَلِّي لَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فَقُلْنَا بَلَى . فَقَامَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ وَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَهَكَذَا كَانَ يُصَلِّي بِنَا .
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said:"Shall I not show you how I saw the Messenger of Allah (ﷺ) pray?" We said: "Yes." So he stood up and when he bowed, he placed his palms on his knees and put his fingers behind his knees, and held his arms out from his sides, until every part of him settled. Then he raised his head and stood up until every part of him settled. Then he prostrated and held his arms out from his sides, until every part of him settled. Then he sat up until every part of him settled. Then he prostrated again until every part of him settled. Then he did four rak'ahs like that. Then he said: "This is how I saw the Messenger of Allah (ﷺ) pray, and this is how he used to lead us in prayer
ابوعبداللہ سالم بن البرد سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہارے سامنے ایسی نماز نہ پڑھوں جیسی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا ہے؟ تو ہم نے کہا: کیوں نہیں! ضرور پڑھیئے، تو وہ کھڑے ہوئے، جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ، اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں کے نیچے رکھا، اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور کھڑے ہو گئے، پھر سجدہ کیا اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک ان کی ہر چیز اپنی جگہ جم گئی، پھر وہ بیٹھے یہاں تک کہ جسم کا ہر عضو اپنی جگہ پر آ گیا، پھر انہوں نے سجدہ کیا یہاں تک کہ جسم کا ہر ہر عضو اپنی جگہ پر آ گیا، چاروں رکعتیں اسی طرح ادا کیں، پھر انہوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور آپ ہمیں اسی طرح پڑھاتے بھی تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَسْجِدَ قُبَاءَ لِيُصَلِّيَ فِيهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ قَالَ كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ .
It was narrated that Zaid bin Aslam said:"Ibn 'Umar said: The Prophet (ﷺ) entered the Masjid of Quba' to pray there, then some men came in and greeted him with Salam. I asked Suhaib, who was with him: 'What did the Messenger of Allah (ﷺ) do when he was greeted?' He said: 'He used to gesture with his hand
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوئے، تو لوگ ان کے پاس سلام کرنے کے لیے آئے، میں نے صہیب صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( وہ آپ کے ساتھ تھے ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سلام کیا جاتا تھا تو آپ کیسے جواب دیتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، - وَهُوَ ابْنُ عَائِذٍ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ فُرِضَتْ صَلاَةُ الْحَضَرِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعًا وَصَلاَةُ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَصَلاَةُ الْخَوْفِ رَكْعَةً .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The prayer of the resident was enjoined on the tongue of your Prophet (ﷺ), four (rak'ahs), and the prayer of the traveler is two rak'ahs, and the prayer of fear is one rak'ah
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ حضر ( اقامت ) کی نماز تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر چار رکعتیں فرض ہوئیں، اور سفر کی نماز دو رکعت، اور خوف کی نماز ایک رکعت ۱؎۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ . وَعَنْ عَطَاءٍ مِثْلُ ذَلِكَ .
It was narrated from Tawus from Ibn Abbas, that :The Messenger of Allah (ﷺ) prayed when the sun was eclipsed, bowing eight times and prostrating four times
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن لگنے پر آٹھ رکوع، اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی اور عطاء نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہم سے اسی کے مثل روایت کی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو تَقِيٍّ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الاِسْتِسْقَاءِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ الرِّدَاءَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ .
It was narrated from 'Abbad bin Tamim, from his paternal uncle, that:He saw the Messenger of Allah (ﷺ), when he prayed for rain, turn to face the Qiblah, turning his cloak around and raising his hands
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو استسقاء میں دیکھا کہ آپ قبلہ رخ ہوئے، آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور ( دعا مانگنے کے لیے ) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلاَةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وُجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لأَنْفُسَهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وُجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلاَتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ .
It was narrated from Salih bin Khawwat from one who had prayed the fear prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of Dhat Ar-Riqa' that:One group had formed a row behind him and another group faced the enemy. He led those who were with him in praying one rak'ah, then he remained standing and they completed the prayer by themselves. Then they moved away and formed a row facing the enemy, and the other group came and he led them in praying the rak'ah that was left for him, then he remained sitting while they completed the prayer by themselves, then he said the taslim with them
صالح بن خوات اس شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع کے دن خوف کی نماز پڑھی ( وہ بیان کرتے ہیں ) کہ ایک گروہ نے آپ کے ساتھ صف بنائی، اور دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل رہا، آپ نے ان لوگوں کو جو آپ کے ساتھ تھے ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ کھڑے رہے، اور ان لوگوں نے خود سے دوسری رکعت پوری کی، پھر وہ لوگ لوٹ کر آئے، اور دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے، اور دوسرا گروہ آیا تو آپ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی جو آپ کی نماز سے باقی رہ گئی تھی، پھر آپ بیٹھے رہے، اور ان لوگوں نے اپنی دوسری رکعت خود سے پوری کی، پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - رضى الله عنهما - كَانُوا يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ .
It was narrated from Ibn 'Umar that:The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, 'Umar, may Allah (SWT) be pleased with them, used to offer the 'Eid prayer before the Khutbah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ يَقُولُ قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَيْلَةَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الأَوَّلِ ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لاَ نُدْرِكَ الْفَلاَحَ وَكَانُوا يُسَمُّونَهُ السُّحُورَ .
Nu'aim bin Ziyad Abu Talhah said:"I heard An-Nu'man bin Bashir on the minbar in Hims saying: "We prayed Qiyam with the Messenger of Allah (ﷺ) during Ramadan on the night of the twenty-third until one-third of the night had passed, then we prayed Qiyam with him on the night of the twenty-fifth until one-half of the night had passed, then we prayed Qiyam with him on the night of the twenty-seventh until we thought that we would miss Al-Falah- that is what they used to call suhur
نعیم بن زیاد ابوطلحہ کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بشیر رضی اللہ عنہم کو حمص میں منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں تیئسویں رات کو تہائی رات تک قیام کیا، پھر پچسویں رات کو آدھی رات تک قیام کیا، پھر ستائیسویں رات کو ہم نے آپ کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ ہم فلاح نہیں پا سکیں گے، وہ لوگ سحری کو فلاح کا نام دیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ، ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " .
It was narrated that Abu Saeed said:"The Messenger of Allah said: 'Prompt your dying ones to say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا إله إلا اللہ» کی تلقین کرو ۱؎۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ " .
It Was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:'When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are fettered
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ لأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالاً كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ . قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah died, and Abu Bakr became the Khalifah after him, and some of the 'Arabs reverted to disbelief. 'umar said to Abu Bakr: 'How can you fight the people when the Messenger of allah said: "I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship but Allah). Whoever says La ilaha illah, his wealth and his life safe from me, unless he deserves a legal punishment justly, and his reckoning will be with Allah?"' Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: 'I will fight anyone who separates prayer and Zakah; Zakah is the compulsory right to be taken from wealth. By Allah, if they withhold from me a rope that they used to give to the Messenger of Allah, I will fight them for wiholding it.' 'Umar, may Allah be pleased with him, said: 'By Allah, it was as if I saw that Allah has opened the heart of Abu Bakr for fighting, and I knew that I was the truth
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، اور عربوں میں سے جنہیں کافر مرتد ہونا تھا کافر ہو گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ یہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیں، تو جس نے لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیا، اس نے مجھ سے اپنے مال اور اپنی جان کو سوائے اسلام کے حق ۱؎ کے مجھے سے محفوظ کر لیا۔ اور اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے“ ۲؎ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا ( یعنی نماز تو پڑھے اور زکاۃ دینے سے منع کرے ) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی، اگر یہ اونٹ باندھنے کی رسی بھی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے مجھ سے روکیں گے، تو میں ان سے ان کے روکنے پر لڑوں گا، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! زیادہ دیر نہیں ہوئی مگر مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے سلسلے میں شرح صدر عطا کر دیا ہے، اور میں نے جان لیا کہ یہ ( یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے ) حق ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ، - وَهُوَ ابْنُ عِيَاضٍ - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever performs pilgrimage to this House, and does not Yarfuth (utter any obscenity or commit sin), will go back as (on the day) his nother bore him.'''(sahih)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس گھر ( یعنی خانہ کعبہ ) کا حج کیا، نہ بیہودہ بکا ۱؎ اور نہ ہی کوئی گناہ کیا، تو وہ اس طرح ( پاک و صاف ہو کر ) ۲؎ لوٹے گا جس طرح وہ اس وقت تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَذَكَرَ، آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا جَمَعَ أَبُو بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ فَقَالَ عُمَرُ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا . قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"When Abu Bakr mobilized to fight them, 'Umar said: 'O Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy or worship except Allah). Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah?'" Abu Bakr, may Allah be pleased with me him, said: 'By Allah, I will surely fight those who separate prayer and Zakah, for Zakah is what is due on wealth. By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah (ﷺ) I will fight them for withholding it.' ('Umar said) 'By Allah, when I realized that Allah, the Most High, had opened the chest of Abu Bakr to fighting them, then I knew that it was the truth
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( لوگوں کو ) ان ( منکرین زکاۃ و مرتدین دین ) سے جنگ کے لیے اکٹھا کیا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں: ”مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں، اور جب انہوں نے یہ کلمہ کہہ لیا تو اپنے خون اور اپنے مال کو مجھ سے بچا لیا۔ مگر اس کے حق کے بدلے ( جان و مال پر جو حقوق لگا دیئے گئے ہیں اگر ان کی پاسداری نہ کرے گا تو سزا کا حقدار ہو گا۔ مثلاً قصاص و حدود ضمانت وغیرہ میں ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ ( دونوں فریضوں ) میں فرق کرے گا۔ اور قسم اللہ کی اگر انہوں نے مجھے بکری کا ایک چھوٹا بچہ بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی میں نے اچھی طرح جان لیا کہ ان ( منحرفین ) سے جنگ کے معاملہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پورے طور پر شرح صدر حاصل ہے۔ ( تبھی وہ اتنے مستحکم اور فیصلہ کن انداز میں بات کر رہے ہیں ) اور مجھے یقین آ گیا کہ وہ حق پر ہیں۔
Narrated by Ata
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ .
Narrated 'Ata':It was narrated that 'Ata' said: "Aishah said: 'The Messenger of Allah did not die until women had been made lawful to him
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے عورتیں آپ کے لیے حلال تھیں۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ " .
It was narrated that 'Aishah said:"The Prophet (ﷺ) used to say: 'Allahummaghsil khatayaya bi-ma'ith-thalj wal-barad was naqqi qalbi min al-khataya kama naqayta ath-thawb al-abyad min ad-danas (O Allah, wash away my sins with the water of snow and hail, and cleanse my heart of snow and hail, and cleanse my heart of sin as a white garment is cleansed of filth)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے: «اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں سے دھو دے، اور میرے دل کو گناہوں سے اسی طرح صاف کر دے جس طرح تو سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى طَلْحَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife while she was menstruating. He mentioned that to the Prophet and he said:"Tell him to take her back, then divorce her while she is pure (not menstruating) or pregnant
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے، پھر جب وہ ( حیض سے ) پاک ہو جائے یا حاملہ ہو جائے تب اس کو طلاق دے“ ( اگر دینا چاہے ) ۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah said:"Omens are in houses, women and horses
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست گھر میں، عورت میں اور گھوڑے میں ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَةَ جَحْشٍ، كَانَتْ تُسْتَحَاضُ سَبْعَ سِنِينَ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ " . فَأَمَرَهَا أَنْ تَتْرُكَ الصَّلاَةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا وَحِيضَتِهَا وَتَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ .
It was narrated from 'Aishah that Umm Habibah bint Jahsh used to suffer from Istihadah for seven years. She asked the Prophet (ﷺ) and he said:"That is not menstruation, rather it is a vein. Tell her not to pray for the period of time that her period used to last, then let her perform Ghusl and pray." She used to perform Ghusl for every prayer
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جحش کی بیٹی ( ام حبیبہ ) کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، یہ تو ایک رگ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے حیض کے دنوں کے برابر نماز ترک کر دیں، اور غسل کریں اور نماز پڑھیں، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھی ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ } قَالَ أَبُو طَلْحَةَ إِنَّ رَبَّنَا لَيَسْأَلُنَا عَنْ أَمْوَالِنَا فَأُشْهِدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي لِلَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ فِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ " .
It was narrated that Anas said:"When this Verse was revealed -'By no means shall you attain Al Birr (piety, righteousness--here it means Allah's reward, i.e. Paradise), unless you spend (in Allah's cause) of that which you love'- Abu Talha said: 'Our Lord will ask us about our wealth. I adjure you, O Messenger of Allah! I am giving my land to Allah.' The Messenger of Allah said: 'Make it for your relatives, Hassan bin Thabit and Ubayy bin Ka'b
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «لن تنالوا الر حتى تنفقوا مما تحبون» ”تم «بِر» ( بھلائی ) کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تم اس میں سے خرچ نہ کرو جسے تم پسند کرتے ہو“ ( آل عمران: ۹۲ ) نازل ہوئی تو ابوطلحہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ہم سے ہمارے اچھے مال میں سے مانگتا ہے، تو اللہ کے رسول! میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین اللہ کی راہ میں وقف کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقف کو اپنے قرابت داروں: حسان بن ثابت اور ابی بن کعب کے لیے کر دو“ ( کہ وہ لوگ اس زمین کو اپنے تصرف میں لائیں اور فائدہ اٹھائیں ) ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَىْءٌ يُوصَى فِيهِ فَيَبِيتُ ثَلاَثَ لَيَالٍ إِلاَّ وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ ".
It was narrated from Salim bin 'Abdullah, from his father, that the Messenger of Allah said:"It is not right for a Muslim who has anything concerning which a will should be made, to abide for more than three nights without having a written will with him
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں وصیت کرنی ضروری ہو پھر بھی وہ تین راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کے پاس اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ، أَنَّ أَبَاهُ، أَتَى بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُشْهِدُ عَلَى نُحْلٍ نَحَلَهُ إِيَّاهُ . فَقَالَ " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ مَا نَحَلْتَهُ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَلاَ أَشْهَدُ عَلَى شَىْءٍ أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً " . قَالَ بَلَى . قَالَ " فَلاَ إِذًا " .
It was narrated from An-Nu'man that his father brought him to the Prophet to bear witness to a present that he gave to him. He said:"Have you given all your children a present like that which you have given to him?" He said: "No." He said: "I will not bear witness to anything. Will it not please you if they were all to treat you with equal respect?" He said: "Of course." He said: "Then no (I will not do it)
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس ارادہ سے آئے کہ انہوں نے انہیں خاص طور پر عطیہ دیا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا دیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سبھی لڑکوں کو ویسا ہی دیا ہے جیسا تم نے اسے دیا ہے؟“، انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ( اس طرح کی ) کسی چیز پر گواہ نہیں بنتا۔ کیا یہ بات تمہیں اچھی نہیں لگتی کہ وہ سب تمہارے ساتھ اچھے سلوک میں یکساں اور برابر ہوں“، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: ”تب تو یہ نہیں ہو سکتا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet said:"The one who takes back his gift is like the one who goes back to his vomit
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ ( کر کے واپس ) لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَنْظَلَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَحِلُّ الرُّقْبَى فَمَنْ أُرْقِبَ رُقْبَى فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ " .
Hanzalah narrated that he heard Tawus say:"The Messenger of Allah said: 'Ruqba is not permissible. Whoever is given something on the basis of Ruqba, it is part of his estate
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رقبیٰ کرنا جائز نہیں، لیکن جس کسی کو رقبیٰ میں کوئی چیز دی گئی تو ( وہ چیز اسی کی ہو گی اور ) اس میں میراث نافذ ہو گی“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَهُمْ فَقَالَ " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
Malik bin Dinar narrated from 'Ata', from Jabir that the Messenger of Allah addressed them one day and said:"'Umra is permissible
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلاَ بِأُمَّهَاتِكُمْ وَلاَ بِالأَنْدَادِ وَلاَ تَحْلِفُوا إِلاَّ بِاللَّهِ وَلاَ تَحْلِفُوا إِلاَّ وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Do not swear by your fathers, nor by your mothers nor by the idols. Swear only by Allah, and do not swear unless you are sincere
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ماں باپ، دادا، دادی اور شریکوں ۱؎ کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھاؤ اور تم قسم نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تم سچے ہو ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، { عَنْ مُرَّةَ، } عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
It was narrated from Abu Musa that the Prophet said:"The superiority of 'Aishah to other women is like the superiority of Tharid to other kinds of food
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی تمام کھانوں پر“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . خَالَفَهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ .
Abu Hurairah narrated that :The Messenger of Allah [SAW] said: "I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah, and whoever says it, his life and his wealth are safe from me, except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْجَنَابَةِ أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ .
It was narrated that 'Abdullah bin Abi Qais said:"I asked 'Aishah: 'How did the Messenger of Allah (ﷺ) sleep while he was Junub? Did he perform Ghusl before sleeping or sleep before performing Ghusl?' She said: 'He did both. Sometimes he would perform Ghusl then sleep, and sometimes he would perform Wudu' then sleep
عبداللہ بن ابوقیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حالت جنابت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے سوتے تھے؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل سے پہلے سوتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کرتے تھے، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی ( صرف ) وضو کر کے سو جاتے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُوسَى - قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، - هُوَ الْفَزَارِيُّ - عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ، أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ صَدَقَتِهِ وَمِمَّا تَرَكَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ " .
It was narrated from 'Aishah that:Fatimah sent word to Abu Bakr asking for her inheritance from the Prophet, from his charity and what was left of the Khumus of Khaibar. Abu Bakar said: "The Messenger of Allah said: 'We are not inherited from
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ جَرِيرٌ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَأَنْ أَنْصَحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ .
Jarir said:"I pledged to the Prophet to hear and obey and to be sincere toward every Muslim
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - عَنْ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ غُلاَمٍ رَهِينٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى " .
It was narrated from Qatadah, from Al-Hasan, from Samurh bin Jundab that the Messenger of Allah said:"Every boy is in pledge for his 'Aqiqah, so slaughter (the animal) for him on the seventh day, and shave his head, and a name
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، وَأَحْسَبُنِي، قَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، - رَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي فَوْقَ ثَلاَثٍ كَيْمَا تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْخَيْرِ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا وَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ " اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَىِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا " . فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نُفَرِّعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَرَعٌ تَغْذُوهُ غَنَمُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ " .
It was narrated from Nubaishah, a man of Hudhail, that the Prophet said:"I used to forbid you to store the meat of the sacrifices for more than three days so that there would be enough for everyone. But now Allah, the mighty and sublime, has bestowed plenty upon us, so eat some, give some in charity and store some, For these days are the days of eating, drinking and remembering Allah." A man said: "O Messenger of Allah, we used to sacrifice the 'Atirah during the Jahiliyyah in Rajab; what do you command us to do?" He said: "Sacrifice to Allah, the Mighty and Sublime, whatever month it is, do good for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and feed (the poor)." He said: "O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Fara' during the Jahiliyyah; what do you command us to do?" He said: "For every flock of grazing animals, feed the firstborn as you feed the rest of your flock, until it reaches an age where it could be used to carry loads, then sacrifice it, and give its meat in charity to the wayfarer, for that is good
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ ذَلِكَ .
It was narrated from 'Adiyy bin Hatim:A similar report was narrated from 'Adiyy bin Hatim
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ عَنْ أَبِي الضَّحَّاكِ، عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ مَوْلَى بَنِي شَيْبَانَ قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ حَدِّثْنِي عَمَّا، نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَضَاحِي . قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ فَقَالَ " أَرْبَعٌ لاَ يَجُزْنَ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لاَ تُنْقِي " . قُلْتُ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي الْقَرْنِ نَقْصٌ وَأَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ . قَالَ مَا كَرِهْتَهُ فَدَعْهُ وَلاَ تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ .
It was narrated that Abu Ad-Dahhak 'Ubaid bin Fairuz, the freed slave of Banu Shaiban, said:"IU said to Al-Bara bin Azib: 'Tell me of the sacrificial animals that the Messenger of Allah disliked or forbade, He said: The Messenger of Allah stood up, and my hands are shorter than his, and he said: "There are four that will not do as sacrifices: the animals that clearly has one bad eye: the sick animals that is obviously sick; the lame animal with an obvious limp; and the animal that is so emaciated that it is as if three is no marrow in its bones."' I said: "I dislike that the animals should have some fault in its horns or teeth' He said;'what you dislike, forget about it and do not make it for bidden to anyone
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا " .
It was narrated that Hakim bin Hizam said:"The Messenger of Allah said: 'The two parties to a transaction have the choice so long as they have not separated. If they are honest and open, their transaction will be blessed, but if they tell lies and conceal anything, the blessing of their transaction will be lost
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Salah was enjoined on the lips of the Prophet (ﷺ), four Rak'ahs while resident, and two while traveling, and one Rak'ah during times of fear
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نماز بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضر میں چار رکعت، سفر میں دو رکعت، اور خوف میں ایک رکعت فرض کی گئی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُمَا أَتَيَا خَيْبَرَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ فَتَفَرَّقَا لِحَوَائِجِهِمَا فَأَتَى مُحَيِّصَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلاً فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَحُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ - وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ سِنًّا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَبِّرِ الْكُبْرَ " . فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَحْلِفُونَ بِخَمْسِينَ يَمِينًا مِنْكُمْ فَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ قَالَ " تُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ .
It was narrated from Sahi bin Abi Hathmah that:'Abdullah bin SAahi and Nubayysah bin Mas'ud bin Zaid went o Khaibar, and at that time there was peace treaty. They went their separate ways to about their business, then Muhayysah came upon 'Abdullah in Sahl lying dead in a pool of blood. He buried him, then he came to AL-Madinah. 'Abdur-Rahman bin Sahi. Huwayysah, and Muhayysah came to the Messenger of Allah, and 'Abdur-Rehman started to speak, but he was the youngest of them, so the Messenger of Allah said: "Let the elders speak first." So he fell silent and they (the other two) spoke. The Messenger of Allah said: "Will you swear fifty oaths, then you will receive compensation or be entitled to retaliate?" They said: "O Messenger of Allah, how can we swear an oath when we did not witness, and did not see (what happened)?" He said: "The n can the Jews swear fifty oaths declaring their innocence?" They said: "O Messenger of Allah, how can we accept the oath of a disbelieving people?" So the Messenger of Allah paid the blood money himself
أَخْبَرَنَا هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ رَجُلاً، سَرَقَ بُرْدَةً لَهُ فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْهُ . فَقَالَ " أَبَا وَهْبٍ أَفَلاَ كَانَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ " . فَقَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated from Safwan bin Umayyah, that:a man stole a Burdah of his, so he brought him before the Messenger of Allah, who ordered that his hand be cut off. He said: "O Messenger of Allah, I will let him have it." He said: "Abu Wahb! Why didn't you do that before you brought him to us?" And the Messenger of Allah had (the man's) hand cut off
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسَمَ قَسْمًا فَأَعْطَى نَاسًا وَمَنَعَ آخَرِينَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَ فُلاَنًا وَمَنَعْتَ فُلاَنًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ . قَالَ " لاَ تَقُلْ مُؤْمِنٌ وَقُلْ مُسْلِمٌ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ { قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا } .
It was narrated from Sa'd that :The Messenger of Allah [SAW] distributed (some spoils of war) and gave to some people but withheld from others. I said: "O Messenger of Allah, you gave to so-and-so and so-and-so, and you withheld from so-and-so, who is a beliver." He said: "Do not say 'a believer,' say 'a Muslim.'" Ibn Shihab (one of the narrators) said: The Bedouins say: "We believe
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ جَاءَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ " . فَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ وَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ رَأَى الظِّلَّ مِثْلَهُ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ شَفَقُ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَهُ الْغَدَ فَصَلَّى بِهِ الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَ قَلِيلاً ثُمَّ صَلَّى بِهِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَهُ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَيْهِ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِوَقْتٍ وَاحِدٍ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ " الصَّلاَةُ مَا بَيْنَ صَلاَتِكَ أَمْسِ وَصَلاَتِكَ الْيَوْمَ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: This is 'Jibril, peace be upon you, he came to teach you your religion. He prayed Subh when the dawn appeared, and he prayed Zuhr when the sun had (passed its zenith), and he prayed 'Asr when he saw that the shadow of a thing was equal to its height, then he prayed Maghrib when the sub had set and it is permissible for the fasting person to eat. Then he prayed 'Isha' when the twilight had disappeared. Then he came to him the following day and prayed Subh when it had got a little lighter, then he prayed Zuhr when the shadow of a thing was equal to its height, then he prayed 'Asr when the shadow of a thing was equal to twice its height, then he prayed Maghrib at the same time as before, then he prayed 'Isha' when a short period of the night had passed. Then he said: 'The prayer is between the times when you prayed yesterday and the times when you prayed today
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے ہیں، تو انہوں نے نماز فجر اس وقت پڑھائی جب فجر طلوع ہوئی، اور ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب انہوں نے سایہ کو اپنے مثل دیکھ لیا، پھر مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور روزے دار کے لیے افطار جائز ہو گیا، پھر عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق یعنی رات کی سرخی ختم ہو گئی، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن آئے، اور آپ کو فجر اس وقت پڑھائی جب تھوڑی روشنی ہو گئی، پھر ظہر اس وقت پڑھائی جب سایہ ایک مثل ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب سایہ دو مثل ہو گیا، پھر مغرب ( دونوں دن ) ایک ہی وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور روزے دار کے لیے افطار جائز ہو گیا، پھر عشاء اس وقت پڑھائی جب رات کا ایک حصہ گزر گیا، پھر کہا: نمازوں کا وقت یہی ہے تمہارے آج کی اور کل کی نمازوں کے بیچ میں ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى صَبِيًّا حَلَقَ بَعْضَ رَأْسِهِ وَتَرَكَ بَعْضَ فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ " احْلِقُوهُ كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that :The Prophet [SAW] saw a boy, part of whose head had been shaven and part had been left. He forbade that and said: "Shave all of it, or leave all of it
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ {عَنْ أَبِيهِ،} عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، هَانِئٍ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَهُ وَهُمْ يَكْنُونَ هَانِئًا أَبَا الْحَكَمِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ ". فَقَالَ إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَىْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ فَرَضِيَ كِلاَ الْفَرِيقَيْنِ. قَالَ " مَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا فَمَا لَكَ مِنَ الْوُلْدِ ". قَالَ لِي شُرَيْحٌ وَعَبْدُ اللَّهِ وَمُسْلِمٌ. قَالَ " فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ ". قَالَ شُرَيْحٌ. قَالَ " فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ ". فَدَعَا لَهُ وَلِوَلَدِهِ.
It was narrated from Shuraih bin Hani' from his father, that:When he came to the Messenger of Allah [SAW] and he heard them calling Hani' by the nickname of Abu Al-Hakam, the Messenger of Allah [SAW] called him and said to him: "Allah is Al-Hakam (the Judge) and judgment is His. Why are you known as Abu Al-Hakam?" He said: "If my people differ concerning something, they come to me, and I pass judgment among them, and both sides accept it." He said: "How good this is. Do you have any children?" He said: "I have Shuraih, and 'Abdullah, and Muslim." He said: "Who is the eldest of them?" He said: "Shuraih." He said: "Then you are Abu Shuraih," and he supplicated for him and his son
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ الْحَارِثِ، - وَهُوَ الْعَلاَءُ - عَنِ الْقَاسِمِ، مَوْلَى مُعَاوِيَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عُقْبَةُ أَلاَ أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا " . فَعَلَّمَنِي { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } وَ { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ } فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلاَةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الصَّلاَةِ الْتَفَتَ إِلَىَّ فَقَالَ " يَا عُقْبَةُ كَيْفَ رَأَيْتَ " .
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said:"I was leading the Messenger of Allah [SAW] (on his mount) on a journey, and the Messenger of Allah [SAW] said: 'O 'Uqbah, shall I not teach you the best two Surahs that can be recited?' And he taught me: 'Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak.' And 'Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind...' He thought that I did not seem too overjoyed with them, so when he stopped to pray Subh, he recited them when he led the people in the Subh prayer. When the Messenger of Allah [SAW] finished praying, he turned to me and said: 'O 'Uqbah, what do you think?
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ وَالزَّهْوُ.
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade Ad-Dubba', Al-Hantam, Al-Muzaffat, and An-Naqir, and (he forbade) mixing Al-Balh with Az-Zahuw
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَقَالَ " إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا " .
It was narrated that Malik bin Al-Huwairith said:"I came to the Prophet (S.A.W) with a cousin of mine" - on an another occasion he said: "with a companion of mine" - "and he said: 'When the two of you travel, call the Adhan and the Iqamah, and let the older of you lead the prayer
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ایک چچا زاد بھائی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( دوسری بار انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک ساتھی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دونوں سفر کرو تو دونوں اذان کہو ۱؎ اور دونوں اقامت کہو، اور جو تم دونوں میں بڑا ہو وہ امامت کرے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ قَوَائِمَ مِنْبَرِي هَذَا رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ " .
It was narrated from Umm Salamah that the Prophet (ﷺ) said:"The columns of this Minbar of mine will be in Paradise
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اس منبر کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ قَائِمًا يُصَلِّي فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلاَتَهُ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ " . قُلْتُ مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَحْمَرِ فَقَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " .
It was narrated that Abu Dharr said:The messenger of Allah(ﷺ) said: "When anyone of you stands to pray, then he is screened if he has in front of him something as high as the back of a camel saddle. If he does not have something as high as the back of a camel saddle in front of him, then his prayer is nullified by a woman, a donkey or a black dog." I (one of the narrators)said: "What is the difference between a black dog, a yellow one and a red one?" He said: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) just like you and he said:"The black dog is a shaitan
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو تو جب اس کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جیسی کوئی چیز ہو تو وہ اس کے لیے سترہ ہو جائے گی، اور اگر کجاوہ کی پچھلی لکڑی کی طرح کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا اس کی نماز باطل کر دے گا ۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: پیلے اور لال رنگ کے مقابلہ میں کالے ( کتے ) کی کیا خصوصیت ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جس طرح آپ نے مجھ سے پوچھا ہے میں نے بھی یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ آخِرُ صَلاَةٍ صَلاَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ الْقَوْمِ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ .
It was narrated that Anas said:"In the last prayer that the Messenger of Allah(ﷺ) prayed with the people, he prayed wrapped up in a single garment, behind Abu Bakr
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نماز وہ تھی جسے آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک کپڑے میں اس حال میں پڑھی تھی کہ اس کے دونوں کنارے بغل سے نکال کر آپ کندھے پر ڈالے ہوئے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَرَجَعَ فَصَلَّى كَمَا صَلَّى ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي . قَالَ " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) entered the Masjid, then a man entered and prayed, then he came and greeted the Messenger of Allah (ﷺ) with Salam. The Messenger of Allah (ﷺ) returned his greeting and said: Go back and pray, for you have not prayed." So he went back and prayed as he has prayed before, then he came to the Prophet (ﷺ) and greeted him with Salam, and the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "Wa alaika as-salam (and upon you be peace). Go back and pray for you have not prayed." He did that three times, then the man said: "By the One Who sent you with the truth, I cannot do any better than that; teach me." He said: "When you stand to pray, say the Takbir, then recite whatever is easy for you of Quran. Then bow until you have tranquility in your bowing, then stand up until you are standing straight. Then prostrate until you have tranquility in your prostration, then sit up until you have tranquility in your sitting. Then do that throughout your entire prayer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، اور ایک اور شخص داخل ہوا، اس نے آ کر نماز پڑھی، پھر وہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا، اور فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی تو وہ لوٹ گئے اور جا کر پھر سے نماز پڑھی جس طرح پہلی بار پڑھی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سلام کئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( پھر ) فرمایا: وعلیک السلام، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے، میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے ( نماز پڑھنا ) سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اللہ اکبر کہیں ۱؎ پھر قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں آپ کو اطمینان ہو جائے، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو ۲؎۔
أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ الاِخْتِتَانُ وَالاِسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَنَتْفُ الإِبْطِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The Fitrah are five: Circumcision, removing the pubes, trimming the mustache, clipping the nails, and plucking the armpit hairs
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: فطری ( پیدائشی ) سنتیں پانچ ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، مونچھ کترنا، ناخن تراشنا، اور بغل کے بال اکھیڑنا ۔