أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِ ظَهْرِي فِي رُكُوعِكُمْ وَسُجُودِكُمْ " .
It was narrated from Anas that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Bow and prostrate properly, for by Allah (SWT) I can see you from behind my back when you bow and prostrate
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرو، اللہ کی قسم! میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تمہیں رکوع اور سجدہ کی حالت میں دیکھتا ہوں ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ، بِالْحَصَى فِي الصَّلاَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي وَقَالَ اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ . قُلْتُ وَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ قَالَ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلاَةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ وَقَبَضَ - يَعْنِي أَصَابِعَهُ كُلَّهَا - وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى .
It was narrated that 'Ali bin Abdur-Rahman said:"Ibn Umar saw me playing with the pebbles while praying. When he finished (praying), he told me not to do that and said: 'Do what the Messenger of Allah (ﷺ) used to do.' I said: 'What did he used to do?' He said: 'When he sat during the prayer, he placed his right hand on his thigh and clenched all his fingers, and pointed with the finger that is next to the thumb, and he put his left hand on his left thigh
علی بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے دیکھا تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے مجھے منع کیا، اور کہا: اس طرح کیا کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کرتے تھے؟ کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنی دائیں ران پر رکھتے ۱؎، اور اپنی سبھی انگلیاں سمیٹے رکھتے، اور اپنی اس انگلی سے جو انگوٹھے کے قریب ہے اشارہ کرتے، اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران پر رکھتے ۲؎۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوتِرُ عَلَى الرَّاحِلَةِ .
It was narrated from Ibn Umar that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray witr on his mount
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر وتر پڑھ لیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنْ خَيْرِ طِيبِكُمُ الْمِسْكُ " .
It was narrated that Abu Sa'eed said:"The Messenger of Allah said: 'One of the best of your perfumes is musk
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بہترین خوشبوؤں میں سے مشک ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ الْهَادِ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَ حَتَّى يَدْخُلَ شَعْبَانُ وَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا يَصُومُ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلاَّ قَلِيلاً بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ .
It was narrated that Aishah said:"One of us (women) would miss some fasts in Ramadan and she would not be able to make it up until Shaban began, and the Messenger of Allah did not fast in any month as he fasted in Shaban; he used to fast all of it, except a little, he used to fast all of it
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں ہم ( ازواج مطہرات ) میں سے کوئی رمضان میں ( حیض کی وجہ سے ) روزہ نہیں رکھتی تو اس کی قضاء نہیں کر پاتی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے جتنا شعبان میں رکھتے تھے، آپ چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزے رکھتے، بلکہ ( بسا اوقات ) پورے ( ہی ) ماہ روزے رکھتے۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " قَالَ رَجُلٌ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى سَارِقٍ وَعَلَى غَنِيٍّ فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ تُقُبِّلَتْ أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ بِهِ مِنْ زِنَاهَا وَلَعَلَّ السَّارِقَ أَنْ يَسْتَعِفَّ بِهِ عَنْ سَرِقَتِهِ وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ أَنْ يَعْتَبِرَ فَيُنْفِقَ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:"A man said" 'I am going to give some charity.' So he went out with his charity and put it in the hand of a thief. The next morning they started talking about how charity had been given to a thief. Then he said: 'O Allah, to You be praise for the thief. I am going to give some charity.' So he went out with his charity and put it in the hand of a prostitute. The next morning they started talking about how charity had been given to a prostitute. He said: 'O Allah, to You be praise for the prostitute. I am going to give some charity. So he went out with his charity and put it in the hand of a rich man. The next morning they started talking about how charity had been given to a rich man. He said: 'O Allah, th You be praise for the prostitute, the thief and the rich man. 'Then the message came to him: As for your charity, it is accepted. As for the prostitute, perhaps it will keep her from committing Zina. As for the thief, perhaps it will stop him from stealing. And as for the rich man, perhaps he will learn a lesson, and will spend from that which Allah, the Mighty and Sublime, has given him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے کہا: میں ضرور صدقہ دوں گا، تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے، اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے چور کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی ۱؎، میں اور بھی صدقہ دوں گا چنانچہ ( دوسرے دن بھی ) وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے لے جا کر ایک زانیہ عورت کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ تو اس نے پھر کہا: اللہ تیرا شکر ہے زانیہ کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی، میں پھر صدقہ دوں گا، چنانچہ ( تیسرے دن ) پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا، اور ایک مالدار شخص کو تھما آیا، پھر صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک مالدار شخص کو صدقہ کیا گیا ہے، اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے، زانیہ، چور اور مالدار کو دے دینے پر بھی۔ تو خواب میں اس کے پاس آ کر کہا گیا: رہا تیرا صدقہ تو وہ قبول کر لیا گیا ہے، رہی زانیہ تو ( صدقہ پا کر ) شاید وہ زناکاری سے باز آ جائے اور رہا چور تو صدقہ پا کر شاید وہ اپنی چوری سے باز آ جائے، اور رہا مالدار آدمی ( تو صدقہ پا کر ) شاید وہ اس سے سبق سیکھے اور اللہ عزوجل نے اسے جو دولت دے رکھی ہے اس میں سے خرچ کرنے لگے“۔
أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ بَقِيَّةَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّزَعْفُرِ .
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah forbade perfuming oneself with saffron
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی ( حالت احرام میں ) زعفران لگائے۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سَيَّارٍ، ح قَالَ وَأَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ جَبْرِ بْنِ عَبِيدَةَ، - وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ جُبَيْرٍ، - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ الْهِنْدِ فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا أُنْفِقْ فِيهَا نَفْسِي وَمَالِي فَإِنْ أُقْتَلْ كُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ أَرْجِعْ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) promised us (a) battle expedition (in) India. If I live to see that, I will expend myself and my wealth in it. If I am killed, I will be one of the best of the martyrs, and if I come back, I will be Abu Hurairah Al-Muharrar." [1] [1] Al-Muharrar: The one freed (from the Fire)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( مسلمانوں ) سے ہندوستان پر لشکر کشی کا وعدہ فرمایا، یعنی پیش گوئی کی، تو اگر ہند پر لشکر کشی میری زندگی میں ہوئی تو میں جان و مال کے ساتھ اس میں شریک ہوں گا۔ اگر میں قتل کر دیا گیا تو بہترین شہداء میں سے ہوں گا، اور اگر زندہ واپس آ گیا تو میں ( جہنم سے ) نجات یافتہ ابوہریرہ کہلاؤں گا۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، - وَأُمُّهَا أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ . قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكِ " . فَقُلْتُ نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ يُشَارِكُنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أُخْتَكِ لاَ تَحِلُّ لِي " . فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ . فَقَالَ " بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ " . فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ " وَاللَّهِ لَوْلاَ أَنَّهَا رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لاَبْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ " .
Urwah narrated that Zainab bint Abi Salamah -whose mother was Umm Salamah, the wife of the Prophet- told him that Umm Habibah bint Abi Sufyan told her that she said:"O Messenger of Allah, marry my sister, the daughter of Abu Sufyan." She said: "The Messenger of Allah said: 'Would you like that?' I said: 'Yes; I do not have you all to myself and I would like to share this goodness with my sister.' The Prophet said: 'Your sister is not permissible for me (to marry).' I said: 'By Allah, O Messenger of Allah, we have been saying that you want to marry Durrah bint Abi Salamah.' He said: 'The daughter of Umm Salamah?' I said: 'Yes.' He said: 'By Allah, even if she were not my stepdaughter who is in my care, she would not be permissible for me (to marry), because she is the daughter of my brother through breast-feeding. Thuwaibah breastfed Abu Salamah and I. So do not offer your daughters or sisters to me in marriage
ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ میری بہن بنت ابی سفیان سے شادی کر لیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے پسند کر لو گی؟“ میں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ بھلائی اور اچھائی میں میری جو ساجھی دار بنے وہ میری بہن ہو۔ آپ نے فرمایا: ”تمہاری بہن ( تمہاری موجودگی میں ) میرے لیے حلال نہیں ہے“، میں نے کہا: اللہ کے رسول، قسم اللہ کی! ہم آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم ام سلمہ کی بیٹی کی بات کر رہی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی اور میری گود میں نہ پلی ہوتی تو بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، اس لیے کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ( اور رضاعت سے ہر وہ چیز حرام ہو جاتی ہے جو قرابت داری ( رحم ) سے حرام ہوتی ہے ) مجھے اور ابوسلمہ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ تو تم ( آئندہ ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو ( رشتہ کے لیے ) مجھ پر پیش نہ کرنا“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالأُمِّ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah conducted the procedure of Li'an between a man and his wife, and he separated them and attributed the child to his mother
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کا حکم دیا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور بچے کو ماں کی سپردگی میں دے دیا۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم " لاَ نَذْرَ لاِبْنِ آدَمَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَلاَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ فَرَوَاهُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ .
It was narrated that 'Imran bin Husain said:The Messenger of Allah said: "There is no vow for the son of Adam with regard to that which he does not possess, or to do an act of disobedience to Allah, the Mighty and Sublime." 'Ali bin Zaid contradicted him -for he reported it from Al-Hasan from 'Abdur-Rahman bin Samurah
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی ایسی چیزوں میں نذر نہیں، جن کا اسے اختیار نہیں اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں نذر ہے ۔ علی بن زید نے منصور کی مخالفت کی ہے اور اسے بسند حسن بصری عن عبدالرحمٰن بن سمرہ سے روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، { عَنْ إِسْرَائِيلَ، } عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ .
It was narrated that Jarir said:"Any slave who runs away to the land of Shirk, it becomes permissible to shed his blood
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَعَثَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ ثَلاَثُمِائَةٍ نَحْمِلُ زَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا فَفَنِيَ زَادُنَا حَتَّى كَانَ يَكُونُ لِلرَّجُلِ مِنَّا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ . فَقِيلَ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَأَيْنَ تَقَعُ التَّمْرَةُ مِنَ الرَّجُلِ قَالَ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا فَأَتَيْنَا الْبَحْرَ فَإِذَا بِحُوتٍ قَذَفَهُ الْبَحْرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا .
It was narrated that Jabir bin 'Abdulah saida:"The Prophet sent us, a group of three hundred, and we carried our provision on our mounts. Our supplies ran our until each man of us had one date per day." It was said to him: "O Abu'Abdullah , what good is one date for a man?" he said: "When we ran out of dates it became very difficult for us. Then we found a whale that had been cast ashore by the sea. And we ate from it for eight days
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِالتَّمْرِ وَالرُّطَبِ .
Kharijah bin Zaid bin Thabit narrated from his father that:the Messenger of Allah granted a concession regarding 'Araya sales regarding dried dates and fresh dates
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ " أَلاَ وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ فِيهَا أَرْبَعُونَ ثَنِيَّةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌ " .
It was narrated from 'Uqbah bin Aws, that:a man from among the Companions of the Prophet delivered a speech on the Day of the Conquest of Makkah and said: 'Indeed the accidental killing, which seems international, with a whip, a stick, or a rock, (the Diyah) is one hundred camels, of which forty should be pregnant she-camels between the ages of six and nine years old, all in the middle of their pregnancies
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ فَقَالَ " هِيَ وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِي شَىْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلاَّ فِيمَا آوَاهُ الْمُرَاحُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَالَ " هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِي شَىْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلاَّ فِيمَا آوَاهُ الْجَرِينُ فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ " .
It was narrated from 'Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather 'Abdullah bin 'Amr, that a man from Muzainah came to the Messenger of Allah and said:'O Messenger of Allah, what do you think about a sheep stolen from the pasture?" He said: "(The thief must pay) double and be punished. There is no cutting off of the hand for (stealing) livestock, except what which has been put in the pen, if its value is equal to that of a shield, in which case the (thief's) hand is to be cut off. If its value is not equal to that of a shield, then he should pay a penalty of twice its value and be flogged as a punishment." He said: "O Messenger of Allah! What do you think about fruit on the tree?" He said: "(The thief must pay) double and be punished. There is no cutting off of the hand for (stealing) fruit on the tree, except for that which has been stored properly if its value is equal to that of a shield, in which case the (thief's) hand is not equal to that of a shield, then he should pay a penalty of twice its value and be flogged as a punishment
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عِيسَى الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلاَ تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الآخِرَةَ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَلَى قَوْلِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَقَدْ خَالَفَهُ يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ رَوَاهُ عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'If a woman has perfumed herself with incense, let her not attend 'Isha' prayer
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :The Prophet [SAW] said: "Seek refuge with Allah from the punishment of Allah, seek refuge with Allah from the torment of the grave, seek refuge with Allah from the trials of life and death, and seek refuge with Allah from the tribulation of Al-Masihid-Dajjal
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ .
It was narrated from 'Ali - may Allah honor his face - that:The Prophet [SAW] forbade Ad-Dubba' (gourds) and Al-Muzaffat
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُفَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ قَامَ لِيَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ فَقُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ انْظُرْ إِلَى هَذَا أَىَّ صَلاَةٍ يُصَلِّي فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَرَآهُ فَقَالَ هَذِهِ صَلاَةٌ كُنَّا نُصَلِّيهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated from Yazid bin Abi Habib that Abu Al-Khair told him:"Abu Tamim Al-Jaishani stood up to pray two Rak'ahs before Maghrib, and I said to 'Uqbah bin 'Amir: 'Look at this man, what prayer is he praying?' He turned and looked at him, and said: 'This is a prayer that we used to pray at the time of the Messenger of Allah (ﷺ)
ابوالخیر کہتے ہیں کہ ابوتمیم جیشانی مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: انہیں دیکھئیے! یہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دیکھ کر بولے: یہ وہی نماز ہے جسے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پڑھا کرتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) aid: 'When the Iqamah for prayer is said, there is no prayer except the prescribed prayer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو سوائے فرض نماز کے اور کوئی نماز نہیں ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَوَضَّأْتَ فَاسْتَنْثِرْ وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ " .
It was narrated from Salamah bin Qais that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"When you perform Wudu', sniff water in your nose and blow it out, and when you use small stones (to remove filth), then make it off (numbered)
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وضو کرو تو ناک جھاڑو، اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلا استعمال کرو ۔
Narrated by from Abu Hurairah
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مِثْلَهُ .
Narrated from Abu Hurairah:(Another chain) from Abu Hurairah, with similar
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔