أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلاَ يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ " . اللَّفْظُ لإِسْحَاقَ .
It was narrated that Qatadah said:"I heard Anas (narrate) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Be moderate in prostration and do not rest your forearms along the ground like a dog
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدے میں اپنی ہیئت درمیانی رکھو ۱؎ اور تم میں سے کوئی اپنے دونوں ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ پھیلائے – یہ الفاظ اسحاق بن راہویہ کے ہیں۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، مَوْلَى عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ، يُوسُفَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ، صَلَّى إِمَامَهُمْ فَقَامَ فِي الصَّلاَةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَسَبَّحَ النَّاسُ فَتَمَّ عَلَى قِيَامِهِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ أَنْ أَتَمَّ الصَّلاَةَ ثُمَّ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ صَلاَتِهِ فَلْيَسْجُدْ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ " .
It was narrated from Muhammad bin Yusuf, the freed slave of Uthman, from his father Yusuf, that:Mu'awiyah prayed in front of them, and he stood up during the prayer when he should have sat. The people said tasbih, but he remained standing, then he prostrated twice while he was sitting, after he completed the prayer. Then he sat on the Minbar and said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever forgets something in his prayer, let him prostrate twice like this
یوسف سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے آگے نماز پڑھی ( یعنی ان کی امامت کی ) تو وہ نماز میں کھڑے ہو گئے، حالانکہ انہیں بیٹھنا چاہیئے تھا، تو لوگوں نے سبحان اللہ کہا، پر وہ کھڑے ہی رہے، اور نماز پوری کر لی، پھر بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر منبر پر بیٹھے، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو اپنی نماز میں سے کوئی چیز بھول جائے تو وہ ان دونوں سجدوں کی طرح سجدے کر لے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُلاَزِمِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ زَارَنَا أَبِي طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَأَمْسَى بِنَا وَقَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدٍ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ حَتَّى بَقِيَ الْوِتْرُ ثُمَّ قَدَّمَ رَجُلاً فَقَالَ لَهُ أَوْتِرْ بِهِمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ " .
It was narrated that Qais bin Talq said:"My father, Talq bin 'Ali visited me one day in Ramadan and stayed with us until the evening. He led us in praying Qiyam that night and prayed witr with us. Then he went down to a masjid and led his companions in prayer until only witr was left. Then he told a man to go forward and said to him: 'Lead them in praying witr, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: There should not be two witrs in one night
قیس بن طلق کہتے ہیں ہمارے والد طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ایک دن ہماری زیارت کی اور ہمارے ساتھ انہوں نے رات گزاری، ہمارے ساتھ اس رات نماز تہجد ادا کی، اور وتر بھی پڑھی، پھر وہ ایک مسجد میں گئے، اور اس مسجد والوں کو انہوں نے نماز پڑھائی یہاں تک کہ وتر باقی رہ گئی، تو انہوں نے ایک شخص کو آگے بڑھایا، اور اس سے کہا: انہیں وتر پڑھاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ایک رات میں دو وتر نہیں ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ قَوْلُهُمْ فِي ثَوْبَيْنِ وَبُرْدٍ مِنْ حِبَرَةٍ فَقَالَتْ قَدْ أُتِيَ بِالْبُرْدِ وَلَكِنَّهُمْ رَدُّوهُ وَلَمْ يُكَفِّنُوهُ فِيهِ .
Hisham narrated from his father, from 'Aishah that:the Messenger of Allah was shrouded in three white Yemeni garments of cotton, among which was no shirt and no turban. It was mentioned to 'Aishah that they said: "He was buried in two garments and a Burd made of Hibrah." She said: "A Burd was brought, but they sent it back and did not shroud him in it
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی سوتی کپڑوں میں کفنایا گیا جس میں نہ تو قمیص تھی، اور نہ عمامہ ( پگڑی ) ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو کپڑوں اور ایک یمنی چادر کے متعلق لوگوں کی گفتگو کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا، اور آپ کو اس میں نہیں کفنایا تھا۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا " . يَعْنِي مُعْتَرِضًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَبَسَطَ بِيَدَيْهِ يَمِينًا وَشِمَالاً مَادًّا يَدَيْهِ .
Samurah said:"The Messenger of Allah said; 'DO not be confused by the Adhan of Bilal, or by this whiteness, until dawn appears like this" - meaning horizontally. (One of the narrators) Abu Dawud said: "And he spread out his hands gesturing to the right and left
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کی اذان تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈالے، اور نہ یہ سفیدی یہاں تک کہ فجر کی روشنی اس طرح اور اس طرح“، یعنی چوڑائی میں پھوٹ پڑے۔ ابوداؤد ( طیالسی ) کہتے ہیں: ( شعبہ ) نے اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں بڑھا کر پھیلائے۔
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّاسُ يُخْرِجُونَ عَنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ، فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ سُلْتٍ أَوْ زَبِيبٍ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"At the time of the Messenger of Allah, the people used to give as Sadaqatul Fitr a Sa' of barely or dates or rye or raising
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ صدقہ فطر ایک صاع جَو یا کھجور یا سُلت ( بے چھلکے کا جو ) یا کشمش نکالتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ هَنَّادٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ ادَّهَنَ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُهُ حَتَّى أَرَى وَبِيصَهُ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ . تَابَعَهُ إِسْرَائِيلُ عَلَى هَذَا الْكَلاَمِ وَقَالَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ .
It was narrated that 'Aishah said:"When the Prophet and (in his narration) Hannad said: "The Messenger of Allah "wanted to enter Ihram, he would daub the best perfume that he could find, until I saw it glistening on his head and in his beard. (sahih)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے ( ہناد کی روایت میں ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھنے کا ارادہ کرتے ) تو اچھے سے اچھا عطر جو آپ کو میسر ہوتا لگاتے یہاں تک کہ میں اس کی چمک آپ کے سر اور داڑھی میں دیکھتی۔ امام نسائی کہتے ہیں: اس بات پر ابواسحاق کی اسرائیل نے متابعت کی ہے انہوں نے اسے «عن عبدالرحمٰن بن الأسود عن أبيه عن عائشة» “ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ كِلاَهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُقَاتِلُ فَيُسْتَشْهَدُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Allah laughs at two men, one of whom killed the other but they both entered Paradise. The first one fought in the cause of Allah and was killed, then Allah accepted the repentance of the one who killed him, and he fought and was martyred
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے۔ ( دونوں لڑتے ہیں ) ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے۔ لیکن دونوں جنت میں جاتے ہیں، ایک اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، تو وہ قتل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مارنے والے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے۔ پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور شہادت پا جاتا ہے“۔ ( اس طرح دونوں جنت کے مستحق ہو جاتے ہیں ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاَةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ قَالَ التَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ " أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . وَيَقْرَأُ ثَلاَثَ آيَاتٍ .
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah taught us the Tashahhud for Salah and the Tashahhud upon Al-Hajah. He said: 'The Tashahhud upon the occasion of marriage is: Alhamdu lillahi nasta'inahu wa nastaghfiruhu, wa na'udhu billahi min shururi anfusina, man yahdih Illahu fala mudilla lahu wa man yudlil Illahu fala hadiya lahu, wa ashhadu an la ilaha illallah, wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu (Praise be to Allah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge with Allah from the evil of our own souls. Whomsoever Allah guides will never be led astray, and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship but Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger).' Then he recited three Verses
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حاجت و ضرورت میں تشہد پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔ اور «تشہد فی الحاجۃ» یہ ہے کہ ہم ( پہلے ) پڑھیں: «أن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل اللہ فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ( اور پھر ) تین آیات پڑھے ( اور ایجاب و قبول کرائے ) ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ التَّلاَعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلاً ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً قَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلاَّ بِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعَرِ وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلاً كَثِيرَ اللَّحْمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ بَيِّنْ " . فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا فَلاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا . فَقَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الإِسْلاَمِ الشَّرَّ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"Mention of Li'an was made in the presence of the Messenger of Allah and 'Asim bin 'Adiyy said something about that, then he went away. A man from among his people came to him, complaining that he had found a man with his wife. 'Asim said: 'I was only put to this test because of what I said.' He took him to the Messenger of Allah and told him of the situation in which he found his wife. That man was pale and slim with straight hair, and the one whom he claimed to have found with his wife was dark and well-built. The Messenger of Allah said: 'O Allah, make it clear to me.' Then she gave birth to a child who resembled the one whom her husband said he had found with her. So the Messenger of Allah conducted the procedure of Li'an between them." A man in the gathering said to Ibn 'Abbas: "Was she the one of whom the Messenger of Allah said: 'If I were to have stoned anyone without evidence I would have stoned this one?'" Ibn 'Abbas said: "No, that was a woman who used to do mischief even after becoming Muslim
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کا ذکر آیا، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں کوئی بات کہی پھر وہ چلے گئے تو ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص شکایت لے کر آیا کہ اس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ پایا ہے، یہ بات سن کر عاصم رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اپنی بات کی وجہ سے اس آزمائش میں ڈال دیا گیا ۱؎ تو وہ اس آدمی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اس نے آپ کو اس آدمی کے متعلق خبر دی جس کے ساتھ اپنی بیوی کو ملوث پایا تھا۔ یہ آدمی ( یعنی شوہر ) زردی مائل، کم گوشت والا ( چھریرا بدن ) سیدھے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کو اپنی بیوی کے پاس پانے کا مجرم قرار دیا تھا وہ شخص گندمی رنگ، بھری پنڈلیوں والا، زیادہ گوشت والا ( موٹا بدن ) تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللہم بین» اے اللہ معاملہ کو واضح کر دے“، تو اس عورت نے اس شخص کے مشابہہ بچہ جنا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرنے کا حکم دیا۔ اس مجلس کے ایک آدمی نے جس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی کہا: ( ابن عباس! ) کیا یہ عورت وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کر دیتا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں، یہ عورت وہ عورت نہیں ہے۔ وہ عورت وہ تھی جو اسلام میں شر پھیلاتی تھی ۲؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ نَذْرَ فِي غَضَبٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ ضَعِيفٌ لاَ يَقُومُ بِمِثْلِهِ حُجَّةٌ . وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ .
It was narrated that 'Imran bin Husain said:"The Messenger of Allah said: 'There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: محمد بن زبیر ضعیف ہیں، ان جیسے سے حجت قائم نہیں ہوتی اور اس حدیث کے سلسلے میں ان کے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ .
It was narrated from Anas who said:"The Messenger of Allah [SAW] used to stress charity in his sermons, and prohibit mutilation
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - هُوَ ابْنُ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبَعْضِ أَثَايَا الرَّوْحَاءِ وَهُمْ حُرُمٌ إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ مَعْقُورٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعُوهُ فَيُوشِكُ صَاحِبُهُ أَنْ يَأْتِيَهُ " . فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ هُوَ الَّذِي عَقَرَ الْحِمَارَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنَكُمْ هَذَا الْحِمَارُ . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ يُقَسِّمُهُ بَيْنَ النَّاسِ .
It was narrated that 'Umair bin Salamah Ad-Damri said:"While we were traveling with the Prophet in part of Athaya Ar-Rawha and they were in Ihram, we saw a wounded onager, the Messenger of Allah said: "Leave it, for soon the one who wounded it will come,' then a man from Bahz came, and he was the one who had wounded the onager. He said: 'O Messenger of Allah, it is up to you what you do with this onager,' The Messenger of Allah ordered Abu Bakr to distribute it among the people
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ " .
It was narrated that Ibn 'Umar said; "I heard the Messenger of Allah say:'May Allah curse the one who disfigures and animal. (Sahih)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ " . فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلاَّ ذَلِكَ " .
it was narrated that Abu Sa' eed Al-Khudri said:"At the time of the Messenger of Allah, a ma suffered loss of some fruit that he had purchased, and his debts increased. The Messenger of Allah said: 'give him charity.' So the people gave him charity, but that was not enough to pay of his debts. The Messenger of Allah said: "Take what you find but you have no right to or than that
أَخْبَرَنَا { أَحْمَدُ بْنُ، } إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَائِذٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - هُوَ ابْنُ حَمْزَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ " . مُرْسَلٌ .
Abu Salamah narrated that the Messenger of Allah said:"If a person's relative is killed." In Mursal form. (Shah)
Narrated by from Ayyub bin Musa
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءٍ، مُرْسَلٌ .
Narrated from Ayyub bin Musa:(A similar report) was narrated from Ayyub bin Musa, from 'Ata, in Mursal form
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو، وَقَالَ، عَلَى إِثْرِهِ يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُتَخَلِّقٌ فَقَالَ لَهُ " هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ " . قُلْتُ لاَ . قَالَ " فَاغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لاَ تَعُدْ " .
It was narrated from Ya'la bin Murrah that:He passed by the Prophet [SAW] wearing Khaluq. He said to him: "Do you have a wife?" I said: "No." He said: "Wash it off, then wash it off, then do not put it on again
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَلْقَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ يَقُولُ " عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah [SAW] used to seek refuge with Allah from five things, saying: "Seek refuge with Allah from the torment of the grave, and from the torment of Hell, and from the trials of life and death, and from the evil of Al-Masihid-Dajjal
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَشَقَّ عَلَىَّ لَمَّا سَمِعْتُهُ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ شَىْءٍ فَجَعَلْتُ أُعَظِّمُهُ . قَالَ مَا هُوَ قُلْتُ سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ . فَقَالَ صَدَقَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قُلْتُ وَمَا الْجَرُّ قَالَ كُلُّ شَىْءٍ صُنِعَ مِنْ مَدَرٍ .
It was narrated that Sa'eed bin Jubair said:"I was with Ibn 'Umar when he was asked about Nabidh made in an earthenware jar. He said: 'The Messenger of Allah [SAW] forbade it.' I got upset when I heard that, so I went to Ibn 'Abbas and said: 'Ibn 'Umar was asked about something, and I found it difficult.' He said: 'What was it?' I said: 'He was asked about Nabidh made in an earthenware jar.' He said: 'He spoke the truth; the Messenger of Allah [SAW] forbade it.' I said: 'What is an earthenware jar?' He said: 'Anything that is made of clay
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله تعالى عنها مَا دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ الْعَصْرِ إِلاَّ صَلاَّهُمَا .
It was narrated that Al-Aswad said:'Aishah said: "The Messenger of Allah (ﷺ) never entered upon me after 'Asr but he prayed them (the two Rak'ahs)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد میرے پاس جب بھی آتے تو دونوں رکعتوں کو پڑھتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ رَجُلٍ، حَتَّى رَدَّهُ إِلَى الْمُغِيرَةِ - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَلاَ أَحْفَظُ حَدِيثَ ذَا مِنْ حَدِيثِ ذَا - أَنَّ الْمُغِيرَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَقَرَعَ ظَهْرِي بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ فَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى كَذَا وَكَذَا مِنَ الأَرْضِ فَأَنَاخَ ثُمَّ انْطَلَقَ . قَالَ فَذَهَبَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ " أَمَعَكَ مَاءٌ " . وَمَعِي سَطِيحَةٌ لِي فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَذَكَرَ مِنْ نَاصِيَتِهِ شَيْئًا وَعِمَامَتِهِ شَيْئًا - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ لاَ أَحْفَظُ كَمَا أُرِيدُ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ - ثُمَّ قَالَ " حَاجَتَكَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَتْ لِي حَاجَةٌ فَجِئْنَا وَقَدْ أَمَّ النَّاسَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ فَذَهَبْتُ لأُوذِنَهُ فَنَهَانِي فَصَلَّيْنَا مَا أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا مَا سُبِقْنَا .
Al-Mughirah said:"We were with the Prophet (ﷺ) on a journey, and he tapped me on the back with a stick he had with him, then he turned off (route) and I turned off with him until he came to such and such an area. Then he made his camel stop and went away until he disappeared from me, then he came back and said: 'Do you have water with you?' I had a water skin with me, so I brought it out and poured it for him. He washed his hands and face and began to wash his arms, but he was wearing a Syrian Jubbah[1] that had narrow sleeves, so he brought his arms out from beneath the Jubbah and washed his hands and arms, and wiped his forelock a little and his turban a little." - Ibn 'Awn said: "I cannot remember it well - then he wiped over his Khuffs." Then he said: 'What do you need?' I said: 'O Messenger of Allah, I do not need anything.' Then we came and 'Abdur-Rahman bin 'Awf was leading the people in Salah, and he had led them in one Rak'ah of the Subh (Fajr) prayer. I wanted to tell him that the Prophet (ﷺ) had arrived but he did not let me, so we prayed what we had caught up with and made up what we had missed.'" [1] It is a type of cloak
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ نے میری پیٹھ پر ایک چھڑی لگائی ۱؎ اور آپ مڑے تو میں بھی آپ کے ساتھ مڑ گیا، یہاں تک کہ آپ ایک ایسی جگہ پر آئے جو ایسی ایسی تھی، اور اونٹ کو بٹھایا پھر آپ چلے، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو آپ چلتے رہے یہاں تک کہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے، پھر آپ ( واپس ) آئے، اور پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میرے پاس میری ایک چھاگل تھی، اسے لے کر میں آپ کے پاس آیا، اور آپ پر انڈیلا، تو آپ نے اپنے دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، چہرہ دھویا، اور دونوں بازو دھونے چلے، تو آپ ایک تنگ آستین کا شامی جبہ پہنے ہوئے ہوئے تھے ( آستین چڑھ نہ سکی ) تو اپنا ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالا، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے – مغیرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی پیشانی کے کچھ حصے اور عمامہ کے کچھ حصے کا ذکر کیا، ابن عون کہتے ہیں: میں جس طرح چاہتا تھا اس طرح مجھے یاد نہیں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: اب تو اپنی ضرورت پوری کر لے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے حاجت نہیں، تو ہم آئے دیکھا کہ عبدالرحمٰن بن عوف لوگوں کی امامت کر رہے تھے، اور وہ نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے، تو میں بڑھا کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر دے دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرما دیا، چنانچہ ہم نے جو نماز پائی اسے پڑھ لیا، اور جو حصہ فوت ہو گیا تھا اسے ( بعد میں ) پورا کیا۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ قَالَ " عَلَىَّ بِهِمَا " . فَأُتِيَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا " . قَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا . قَالَ " فَلاَ تَفْعَلاَ إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ " .
Jabir bin Yazid bin Al-Aswad Al Amir told us that his father said:"I attended Fajr prayer with the Messenger of Allah (ﷺ)in Masjid Al Khaif. When he finished praying, he saw two men at the back of the people who had not prayed with him. He said: 'Bring them here.' So they were brought to him, trembling. He said: 'What kept you from praying with us? They said: '0 Messenger of Allah (ﷺ) we has already prayed in our lodgings.' He said: 'Do not do that. If you have already prayed in your lodgings, then you come to a Masjid in which there is a congregation, then pray with them, and it will be a voluntary prayer for you
یزید بن اسود عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد خیف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز میں موجود تھا، جب آپ اپنی نماز پوری کر چکے تو آپ نے دیکھا کہ لوگوں کے آخر میں دو آدمی ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے، آپ نے فرمایا: ان دونوں کو میرے پاس لاؤ ، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا، ان کے مونڈھے ( گھبراہٹ سے ) کانپ رہے تھے وہ گھبرائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ تو ان دونوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، جب تم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکو، پھر مسجد میں آؤ جہاں جماعت ہو رہی ہو تو تم ان کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے نفل ( سنت ) ہو جائے گی ۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَجَدَ فِي { ص } وَقَالَ " سَجَدَهَا دَاوُدُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا " .
It was narrated from Ibn Abbas that:The Prophet (ﷺ) prostrated in Sad and said: "Dawud did this prostration in repentance and we do it in thanksgiving
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «ص» میں سجدہ کیا، اور فرمایا: داود علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا، اور ہم یہ سجدہ ( توبہ کی قبولیت پر ) شکر ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں ۔