بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v2.0 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
24 hadith
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ - عَنْ عَمِّهِ، يَزِيدَ - وَهُوَ ابْنُ الأَصَمِّ - عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى يَدَيْهِ حَتَّى لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ تَحْتَ يَدَيْهِ مَرَّتْ ‏.‏
It was narrated from Maimunah that:When the Prophet (ﷺ) prostrated he would hold his arms out from his sides so that if a lamb wanted to pass beneath his arms it would be able to do so
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ النَّهْشَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ وَأَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ ‏"‏ ‏.‏ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْفَتَلَ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah that :The Messenger of Allah (ﷺ) offered one of the afternoon prayers with five (rak'ahs), and it was said to him: "Has something been added to the prayer?" He said: 'Why are you asking?' They said: 'You prayed five.' He said: 'I am only human, I forget as you forget, and I remember as you remember.' Then he prostrated twice then ended his prayer
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی دونوں نمازوں ( یعنی ظہر اور عصر ) میں سے کوئی ایک نماز پانچ رکعت پڑھائی، تو آپ سے کہا گیا: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ لوگوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں، میں بھی بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے، ہو اور مجھے بھی یاد رہتا ہے جیسے تمہیں یاد رہتا ہے ، پھر آپ نے دو سجدے کیے، اور پیچھے کی طرف پلٹے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثٍ الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَرَكْعَتَىِ الْفَجْرِ وَصَوْمِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"My closest friend advised me to do three things: 'To pray witr at the beginning of the night, to pray two rak'ahs of Fajr and to fast three days of each month
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی نصیحت کی: شروع رات میں وتر پڑھنے کی، فجر کی رکعت سنت پڑھنے کی ۱؎، اور ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُفِّنَ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ ‏.‏
It was narrated that Aishah said:"The Prophet was shrouded in three white Suhuli garments
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنائے گئے جن میں نہ تو قمیص تھی اور نہ عمامہ ( پگڑی ) ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ وَيُرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ بِكَفِّهِ ‏"‏ وَلَكِنِ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَتَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Ibn Mas'ud that the Prophet said:"Bilal calls the Adhan at night to awaken those of you who are asleep, and so that those who are praying Qiyam cam return. Dawn is not when the light appears like this" - and he gestured with his hand - "rather dawn is when it appears like this: - and he gestured with his two forefingers
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، تاکہ وہ تم میں سونے والوں کو ہوشیار کر دیں، ( تہجد پڑھنے یا سحری کھانے کے لیے ) اور تہجد پڑھنے والوں کو ( گھر ) لوٹا دیں، اور فجر اس طرح ظاہر نہیں ہوتی“، انہوں اپنی ہتھیلی سے اشارہ کیا، ”بلکہ فجر اس طرح ظاہر ہوتی ہے“ انہوں نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کیا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ ‏.‏ فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ مَنْ هَا هُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ ‏.‏ قَالَ الْحَسَنُ فَقَالَ عَلِيٌّ أَمَّا إِذَا أَوْسَعَ اللَّهُ فَأَوْسِعُوا أَعْطُوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ غَيْرِهِ ‏.‏
It was narrated from Al-Hasan that Ibn 'Abbas delivered a Khutbah in Al-Basrah and said:"Give Zakah of your fast." The people started looking at one another. So he said: "Whoever is here of the people of Al-Madinah, get up and teach your brothers, for they do not know that the Messenger of Allah has enjoined Salaqatul Fitr upon young and old, free and slave, male and female; half a Sa' of wheat or a Sa' of dates or barely." Al_Hasan said: 'If Allah has given you more, then give more generously of wheat or something else
حسن (حسن بصریٰ) سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں خطبہ دیا، تو انہوں نے کہا: تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ دو ( یعنی صدقہ فطر نکالو ) تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے۔ تو انہوں نے کہا: یہاں اہل مدینہ میں سے کون کون ہیں؟ تم لوگ اٹھو، اور اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ، انہیں بتاؤ، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام، مذکر اور مونث پر آدھا صاع گی ہوں، یا ایک صاع کھجور، یا جو فرض کیا ہے۔ حسن کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رہی بات جب اللہ نے تمہیں وسعت و فراخی دے رکھی ہو تو تم بھی وسعت و فراخی کا مظاہرہ کرو۔ گیہوں وغیرہ ( نصف صاع کے بجائے ) ایک صاع دو۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُهِلُّ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"It is as if I can see the glistening of the perfume in parting of the Messenger of Allah while he was in Ihram. (sahih)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک پکار رہے ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْجَبُ مِنْ رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ - وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى لَيَضْحَكُ مِنْ رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ - ثُمَّ يَدْخُلاَنِ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"Allah, the Mighty and Sublime, likes it when there are two men, one of whom killed the other, then they both enter Paradise." And another time he said: "He laughs at two men, one of whom killed the other, then they both entered Paradise
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر تعجب کرتا ہے کہ ایک ان میں کا ساتھی کو قتل کرتا ہے“، اور دوسری بار آپ نے یوں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے جن میں کا ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہوئے“۔
حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رضى الله عنه حَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلاَ يُنْكِحُ وَلاَ يَخْطُبُ ‏"‏ ‏.‏
Uthman bin 'Affan, may Allah be pleased with him, narrated that the Prophet said:"The Muhrim should not get married, arrange a marriage for someone else, nor propose marriage
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ اپنا نکاح کرے، نہ کسی کا کرائے، اور نہ ہی کہیں نکاح کا پیغام دے“۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ الأَزْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ إِنَّ أَوَّلَ لِعَانٍ كَانَ فِي الإِسْلاَمِ أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ شَرِيكَ ابْنَ السَّحْمَاءِ بِامْرَأَتِهِ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْبَعَةَ شُهَدَاءَ وَإِلاَّ فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ‏"‏ ‏.‏ يُرَدِّدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ مِرَارًا فَقَالَ لَهُ هِلاَلٌ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَعْلَمُ أَنِّي صَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْجَلْدِ ‏.‏ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ آيَةُ اللِّعَانِ ‏{‏ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ فَدَعَا هِلاَلاً فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ دُعِيَتِ الْمَرْأَةُ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ فَلَمَّا أَنْ كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الْخَامِسَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَقِّفُوهَا فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَتَلَكَّأَتْ حَتَّى مَا شَكَكْنَا أَنَّهَا سَتَعْتَرِفُ ثُمَّ قَالَتْ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ ‏.‏ فَمَضَتْ عَلَى الْيَمِينِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ آدَمَ جَعْدًا رَبْعًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ السَّحْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَتْ بِهِ آدَمَ جَعْدًا رَبْعًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْلاَ مَا سَبَقَ فِيهَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الشَّيْخُ وَالْقَضِيءُ طَوِيلُ شَعْرِ الْعَيْنَيْنِ لَيْسَ بِمَفْتُوحِ الْعَيْنِ وَلاَ جَاحِظِهِمَا وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"The first Li'an in Islam was when Hilal bin Umayyah accused Sharik bin As-Sahma' (of committing adultery) with his wife. He came to the Prophet and told him about that. The Prophet said: '(Bring) four witnesses, otherwise (you will feel) the Hadd punishment on your back.' And he repeated that several times. Hilal said to him: 'By Allah, O Messenger of Allah! Allah, the Mighty and Sublime, knows that I am telling the truth, and Allah, the Mighty and Sublime, will certainly reveal to you that which will spare my back from the whip.' While they were like that, the Verse of Li'an was revealed to him: 'As to those who accuse their wives.' He called Hilal and he bore witness four times by Allah that he was telling the truth, and the fifth time he invoked the curse of Allah upon him if he were lying. Then he called the woman and she bore witness four times by Allah that he was lying. When it came to the fourth or fifth time, the Messenger of Allah said: 'Stop her, for it will inevitably bring the punishment of Allah upon the liar.' She hesitated until we thought that she was going to confess, then she said: 'I will not dishonor my people today.' Then she went ahead with the oath. The Messenger of Allah said: 'Wait and see. If she produces a child who is white, with straight hair and Qadiy'a eyes, then he belongs to Hilal bin Umayyah, but if she produces a child who is dark with curly hair, of average size and with narrow calves, then he belongs to Sharik bin As-Sahma'.' She produced a child who was dark with curly hair, of average size and with narrow calves. The Messenger of Allah said: 'Had not the matter been settled by the Book of Allah, I would have punished her severely
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا لعان ہلال بن امیہ کا اس طرح ہوا کہ انہوں نے شریک بن سمحاء پر اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کا الزام لگایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو اس بات کی خبر دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”چار گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی ( کوڑے پڑیں گے ) “ آپ نے یہ بات بارہا کہی، ہلال نے آپ سے کہا: قسم اللہ کی، اللہ کے رسول! اللہ عزوجل بخوبی جانتا ہے کہ میں سچا ہوں اور ( مجھے یقین ہے ) اللہ بزرگ و برتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسا حکم ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو کوڑے کھانے سے بچا دے گا، ہم سب یہی باتیں آپس میں کر ہی رہے تھے کہ آپ پر لعان کی آیت: «والذين يرمون أزواجهم» ۔ آخر تک نازل ہوئی ۱؎ آیت نازل ہونے کے بعد آپ نے ہلال کو بلایا، انہوں نے اللہ کا نام لے کر ( یعنی قسم کھا کر ) چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہیں اور پانچویں بار انہوں نے کہا کہ ان پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹے لوگوں میں سے ہوں، پھر عورت بلائی گئی اور اس نے بھی چار بار اللہ کا نام لے کر ( قسم کھا کر ) چار گواہیاں دیں کہ وہ ( شوہر ) جھوٹوں میں سے ہے ( راوی کو شک ہو گیا ) چوتھی بار یا پانچویں بار قسم کھانے کا جب موقع آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( ذرا ) اسے روکے رکھو ( آخری قسم کھانے سے پہلے اسے خوب سوچ سمجھ لینے دو ہو سکتا ہے وہ سچائی کا اعتراف کر لے ) کیونکہ یہ گواہی ( اللہ کی لعنت و غضب کو ) واجب و لازم کر دے گی“، وہ رکی اور ہچکائی تو ہم نے شک کیا ( سمجھا ) کہ ( شاید ) وہ اعتراف گناہ کر لے گی، مگر وہ بولی: میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے شرمندہ، رسوا و ذلیل نہیں کر سکتی، یہ کہہ کر ( آخری ) قسم بھی کھا گئی۔ ( اس کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیکھتے رہو اگر وہ سفید ( گورا ) لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا بچہ جنے تو ( سمجھو کہ ) وہ ہلال بن امیہ کا لڑکا ہے اور اگر وہ بچہ گندم گوں، پیچیدہ الجھے ہوئے بالوں والا، میانہ قد کا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو ( سمجھو ) وہ شریک بن سحماء کا ہے“۔ تو اس عورت نے گندمی رنگ کا گھونگھریالے بالوں والا، درمیانی سائز کا، پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا، ( اس کے جننے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس معاملے میں اللہ کا فیصلہ نہ آ چکا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ ( یعنی میں اس پر حد قائم کر کے رہتا ) “۔ واللہ اعلم
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، - وَهُوَ الأَوْزَاعِيُّ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Imran bin Husain, may Allah be pleased with him, said:"The Messenger of Allah said: 'There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ کے کام ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏}‏ الآيَةَ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي الْمُشْرِكِينَ فَمَنْ تَابَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ سَبِيلٌ وَلَيْسَتْ هَذِهِ الآيَةُ لِلرَّجُلِ الْمُسْلِمِ فَمَنْ قَتَلَ وَأَفْسَدَ فِي الأَرْضِ وَحَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ثُمَّ لَحِقَ بِالْكُفَّارِ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ لَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ الَّذِي أَصَابَ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said, :Concerning the statement of Allah, the Most High: The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger. "This Verse was revealed concerning the idolators. Whoever among them repents before he is captured, you have no way against him. This Verse does not apply to the Muslims. Whoever kills, spreads mischief in the land, and wages war against Allah and His Messenger, then joins the disbelievers before he can be caught, there is nothing to prevent the Hadd punishment being carried out on him because of what he did
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، - هُوَ ابْنُ فَضَالَةَ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَكَلْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ لُحُومَ الْخَيْلِ وَالْوَحْشِ وَنَهَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحِمَارِ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"On the Day of Khaibar we ate the flesh of horses, and onagers, but the Prophet forbade us (from eating) donkeys."(sahih)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah cursed those who take anything that has a soul as a target." (Sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ، - وَهُوَ الأَعْرَجُ - عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَ الْجَوَائِحَ ‏.‏
It was narrated from Jabir that:the Prophet annulled transaction in the event of crop faioure
Narrated by Abu Hurairah
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُقَادَ وَإِمَّا أَنْ يُفْدَى ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'If a person's relative is killed, he has the choice of two things: Either he may retaliate, or he may take the ransom
Narrated by Ibn 'Abbas
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ كَانَ ثَمَنُ الْمِجَنِّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَوَّمُ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:A similar report was narrated from Ibn 'Abbas. The price of a shield at the time of the Messenger of Allah was estimated to be ten Dirhams
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ حُكَيْمِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهِ رَدْعٌ مِنْ خَلُوقٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذْهَبْ فَانْهَكْهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَانْهَكْهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَانْهَكْهُ ثُمَّ لاَ تَعُدْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man came to the Prophet [SAW] wearing a little dab of Khaluq." The Prophet [SAW] said to him: 'Go and scrub it off.' Then he came (again) and he said: 'Go and scrub it off.' Then he came to him (again) and he said: 'Go and scrub it off, and don't put it on again
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَمَالِكٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet [SAW] said: "Seek refuge with Allah from the torment of the grave, seek refuge with Allah from the trials of life and death, and seek refuge with Allah from the tribulation of Al-Masihid-Dajjal
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ سَمِعْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا عَجِبْتُ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ مَا هُوَ قُلْتُ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ ‏.‏ قُلْتُ مَا الْجَرُّ قَالَ كُلُّ شَىْءٍ مِنْ مَدَرٍ ‏.‏
It was narrated that Sa'eed bin Jubair said:"We asked Ibn 'Umar about Nabidh made in an earthenware jar and he said: 'The Messenger of Allah [SAW] forbade that.' So I went to Ibn 'Abbas and said to him: 'Today I heard something that surprised me.' He said: 'What was it?' I said: 'I asked Ibn 'Umar about Nabidh made in an earthenware jar and he said: The Messenger of Allah [SAW] forbade it.' He said: 'Ibn 'Umar spoke the truth.' I said: 'What is an earthenware jar?' He said: 'Anything that is made of clay
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، قَالَتْ عَائِشَةُ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ ‏.‏
It was narrated that Hisham said:"My father told me: 'Aishah said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) never neglected to pray two Rak'ahs after 'Asr in my house
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعت کبھی بھی نہیں چھوڑیں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَنْبَأَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا يُسْنِدُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Al-Muttalib bin 'Abdullah bin Hantab (narrated) that 'Abdullah bin 'Umar performed Wudu', washing each part of the body three times, and he attributed that to the Prophet (ﷺ)
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے وضو کیا، اور اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کر رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ عَنْ مِحْجَنٍ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَذَّنَ بِالصَّلاَةِ - فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Mihjan that he was in a gathering with the Messenger of Allah (ﷺ) when the Adhan was called for prayer. The A Messenger of Allah (ﷺ) got up, then he came back and Mihjan was still sitting there. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him:"What kept you from praying? Are you not a Muslim man?" He said: "Yes, but I had already prayed with my family." The Messenger of Allah (ﷺ)said to him: "When you come you should pray with the people even if you have already prayed
محجن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ( اور جا کر نماز پڑھی ) ، پھر ( نماز پڑھ کر ) لوٹے، اور محجن اپنی مجلس ہی میں بیٹھے رہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں! لیکن میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب تم آؤ ( اور لوگ نماز پڑھ رہے ہوں ) تو لوگوں کے ساتھ تم بھی نماز پڑھ لیا کرو، اگرچہ تم پڑھ چکے ہو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ الْمُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏{‏ تَنْزِيلُ ‏}‏ السَّجْدَةَ وَ ‏{‏ هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ ‏}‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Abbas that:The Prophet (ﷺ) used to recite: The revelation of the Book and; 'Has there not been over man.' in Subh prayer on Friday
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر میں «تنزیل سجدہ» ( سورۃ السجدہ ) اور «ھل أتی علی الإنسان» ( سورۃ دھر ) پڑھتے تھے۔