أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ أَتَيْنَا أَبَا مَسْعُودٍ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَى بِمِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ .
It was narrated that Salim said:"We came to Abu Mas'ud and said to him: 'Tell us about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ).' He stood in front of us and said the takbir, then when he bowed he placed his palms on his knees and put his fingers lower than that, and he held his elbows out from his sides until every part of him had settled. Then he said: Sami' Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd (Allah hears those who praise Him, our Lord, and to You be the praise), then he stood up until every part of him had settled
سالم البراد کہتے ہیں کہ ہم ابومسعود ( عقبہ بن عمرو ) کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کیجئے تو وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، اور جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھا، اور انگلیوں کو اس سے نیچے، اور اپنی دونوں کہنیوں کو پہلو سے جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی، پھر انہوں نے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہا، اور کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَابِلٍ، صَاحِبِ الْعَبَاءِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَىَّ إِشَارَةً وَلاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ بِإِصْبَعِهِ .
It was narrated that Suhaib, the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ) said:"I passed by the Messenger of Allah (ﷺ) when he was praying, and greeted him with Salam. He returned my greeting with a gesture, or maybe it was just with his finger
صحابی رسول صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، اور آپ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، ( ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ) اور میں یہی جانتا ہوں کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، - وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ، قَالَ صَلاَةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ وَالْفِطْرِ رَكْعَتَانِ وَالنَّحْرِ رَكْعَتَانِ وَالسَّفَرِ رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that 'Umar said:"The prayer for jumu'ah is two rak'ahs, and for Al-Fitr is two rak'ahs, and for An-Nahr is two rak'ahs, and for traveling is two rak'ahs, complete and not shortened, on the tongue of the Prophet (ﷺ)
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے، عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے، اور سفر کی نماز دو رکعت ہے، اور بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب پوری ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ .
Urwah bin Az-Zubair narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet (ﷺ) said:"The sun was eclipsed during the life of the Prophet (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) went out to the masjid and stood and said the takbir, and the people formed rows behind him. He bowed four times and prostrated four times, and the eclipse ended before he finished
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف نکلے، اور نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ اکبر ، کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، پھر آپ نے چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے، سورج آپ کے فارغ ہونے سے پہلے ہی صاف ہو گیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ .
It was narrated from Abdullah bin Abi Bakr that:He heard Abbad bin Tamim said: "The Messenger of Allah (ﷺ) went out and prayed for rain, and he turned his rida' around when he turned to the Qiblah
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جائے نماز کی طرف ) نکلے، تو آپ نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور جس وقت آپ قبلہ رخ ہوئے اپنی چادر پلٹی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمْ صَلاَةَ الْخَوْفِ فَصَفَّ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُصَافُّو الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلاَءِ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَامُوا فَقَضَوْا رَكْعَةً رَكْعَةً .
It was narrated from Salih bin Khawwat, from Sahl bin Abi Hathmah that:The Messenger of Allah (ﷺ) led them in offering the fear prayer. Some formed a row behind him and some formed a row facing the enemy. He led them in praying one rak'ah, then they moved away and the others came, and he led them in praying one rak'ah, then they got up and each (group) made up the other rak'ah
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک صف آپ کے پیچھے بنی اور ایک صف دشمن کے بالمقابل بنی، پھر آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے، اور دوسری صف والے آئے تو آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر لوگ کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اپنی ایک ایک رکعت پوری کی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، عِنْدَ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَذْبَحَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ يُقَدِّمُهُ لأَهْلِهِ " . فَذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ . قَالَ " اذْبَحْهَا وَلَنْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
Al-Bara' bin 'Azib narrated to us by one of the pillars of the masjid:"The Prophet (ﷺ) delivered a Khutbah on the day of An-Nahr and said: 'The first thing we start with on this day of ours is the prayer, then we offer sacrifice. Whoever does that, he has followed our sunnah, but whoever slaughtered (his sacrifice) before the (prayer), that is just meat that he gave to his family. Abu Burdah bin Niyar had slaughtered his sacrifice and he said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), I have a Jadha'ah that is better than a Musinnah.' He said: 'Slaughter it (as a sacrifice), but that will not be sufficient for anyone else (as a sacrifice) after you
شعبی (عامر بن شراحیل) کہتے ہیں کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہم نے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے پاس بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا، تو آپ نے فرمایا: اپنے اس دن میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر قربانی کریں، تو جس نے ایسا کیا تو اس نے ہماری سنت کو پا لیا، اور جس نے اس سے پہلے ذبح کر لیا تو وہ محض گوشت ہے جسے وہ اپنے گھر والوں کو پہلے پیش کر رہا ہے ، ابوبردہ ابن نیار ( نماز سے پہلے ہی ) ذبح کر چکے تھے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو دانت والے دنبہ سے بہتر ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے ہی ذبح کر لو، لیکن تمہارے بعد اور کسی کے لیے یہ کافی نہیں ہو گا ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ فَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ . قَالَ " إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ قِيَامَ لَيْلَةٍ " . ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا وَلَمْ يَقُمْ حَتَّى بَقِيَ ثَلاَثٌ مِنَ الشَّهْرِ فَقَامَ بِنَا فِي الثَّالِثَةِ وَجَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ حَتَّى تَخَوَّفْنَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاَحُ . قُلْتُ وَمَا الْفَلاَحُ قَالَ السُّحُورُ .
It was narrated that Abu Dharr said:"We fasted with the Messenger of Allah (ﷺ) in Ramadan and he did not lead us in praying Qiyam until there were seven days left in the month, when he led us in praying Qiyam until one-third of the night had passed. Then he did not lead us in praying Qiyam when there were six days left. Then he led us praying Qiyam when there were five days left until one-half of the night had passed. I said: "O Messenger of Allah! What if we spend the rest of this night praying Nafl?" He said: "Whoever prays Qiyam with the Imam until he finishes, Allah (SWT) will record for him the Qiyam of a (whole) night." Then he did not lead us in prayer or pray Qiyam until there were three days of the month left. Then he led us in praying Qiyam when there were three days left. He gathered his family and wives (and led us in prayer) until we feared that we would miss Al-Falah. I (one of the narrators) said: "What is Al-Falah?" He said: "The suhur
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں روزے رکھے، تو آپ ہمارے ساتھ ( تراویح کے لیے ) کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ مہینے کی سات راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی، پھر چوبیسویں رات کو قیام نہیں کیا، پھر پچیسویں رات کو قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ ہماری اس رات کے باقی حصہ میں بھی اسی طرح نفلی نماز پڑھاتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے حق میں پوری رات کے قیام ( کا ثواب ) لکھے گا ، پھر آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، اور نہ آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ مہینے کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے ستائیسویں رات میں ہمارے ساتھ قیام کیا، اور اپنے اہل و عیال کو بھی جمع کیا یہاں تک کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ کہنے لگے: سحری ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " . فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقُولُ قَالَ " قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً " . فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that Umm Salamah said:"I heard the Messenger of Allah say: 'When you see the dead, say something good, for the angels say Amin to whatever you say; When Abu Salamah died, I said: 'O Messenger of Allah, what should I say?' He said: 'Say" Allahummaghfirlanaa wa lahu wa a 'qibni minhu 'uqbai hasanah (O Allah, forgive us and him, and compensate me well for this loss.)"' Then Allah, the Mighty and Sublime, compensated me with Muhammad
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اچھی باتیں کرو، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔ چنانچہ جب ابوسلمہ مر گئے، تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ تو آپ نے فرمایا ـ: تو کہو: «اللہم اغفر لنا وله وأعقبني منه عقبى حسنة» اے اللہ! ہماری اور ان کی مغفرت فرما، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"When the month of Ramadan begins, the gates of Paradise are opened and the gates of Hell are shut, and the devils are fettered
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْغُدَانِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ لاَ يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجْدَتُهَا وَرِسْلُهَا قَالَ " فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنِهِ وَآشَرِهِ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا إِذَا جَاءَتْ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ بَقَرٌ لاَ يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَغَذَّ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ وَآشَرَهُ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا وَتَطَؤُهُ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ لاَ يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَكْثَرِهِ وَأَسْمَنِهِ وَآشَرِهِ ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا وَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلاَ عَضْبَاءُ إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ " .
Abu Hurairah said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Any man who has camels and does not pay what is due on them in its Najdah or its Risl mean?' He said: 'In times of hardship or in times of ease; they will come on the Day of Resurrection as energetic, fat and lively as they ever were. He will be laid face down in a flat arena for them and they will trample him with their hooves. When the last of them has passed, the first of them will return, on a day that is as long as fifty thousand years, until judgment is passed among the people, and he realizes his end. Any man who has cattle and does not pay what is due on them in drought or in plenty, they will come on the Day of Resurrection as energetic, fat and lively as they ever were. He will be laid face down in a flat arena for them, and they will trample him with their cloven hooves. When the last of them has passed the first of them will return, on a day that is as long as fifty thousand years, until judgment is passed among the people and he realizes his end. Any man who has sheep and does not pay what is due on them in drought or in plenty, they will come on the Day or Resurrection as energetic, fat and lively as they ever were. He will be laid face down in a flat arena for them and they will trample him with their cloven hooves, and each horned one will gore him with its horn, and there will be none among them with twisted or broken horns. When the last of them has passed, the first of them will return, on a day that is as long as fifty thousand years, until judgment is passed among the people, and he realizes his end
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اور وہ ان کی تنگی اور خوشحالی میں ان کا حق ادا نہ کرے ( لوگوں نے ) عرض کیا: اللہ کے رسول! «نجدتها ورسلها» سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: تنگی اور آسانی ۱؎ تو وہ اونٹ جیسے کچھ تھے قیامت کے دن اس سے زیادہ چست، فربہ اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے۔ اور یہ ایک کشادہ اور ہموار چٹیل میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، جب آخری اونٹ روند چکے گا تو پھر پہلا اونٹ روندنے کے لیے لوٹایا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی، اور یہ سلسلہ برابر اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کر دیا جائے گا، اور وہ اپنا راستہ دیکھ نہ لے گا، جن کے پاس گائے بیل ہوں اور وہ ان کا حق ادا نہ کرے یعنی ان کی زکاۃ نہ دے، ان کی تنگی اور ان کی کشادگی کے زمانہ میں، تو وہ گائے بیل قیامت کے دن پہلے سے زیادہ مستی و نشاط میں موٹے تازے اور تیز رفتار ہو کر آئیں گے، اور اسے ایک کشادہ میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا اور ہر سینگ والا اسے سینگوں سے مارے گا، اور ہر کھر والا اپنی کھروں سے اسے روندے گا، جب آخری جانور روند چکے گا، تو پھر پہلا پھر لوٹا دیا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے، اور جس شخص کے پاس بکریاں ہوں اور وہ ان کی تنگی اور آسانی میں ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ بکریاں اس سے زیادہ چست فربہ اور موٹی تازی ہو کر آئیں گی جتنی وہ ( دنیا میں ) تھیں، پھر وہ ایک کشادہ ہموار میدان میں منہ کے بل لٹا دیا جائے، تو ہر کھر والی اسے اپنے کھر سے روندیں گی، اور ہر سینگ والی اسے اپنی سینگ سے مارے گی، ان میں کوئی مڑی ہوئی اور ٹوٹی ہوئی سینگ کی نہ ہو گی، جب آخری بکری مار چکے گی تو پھر پہلی بکری لوٹا دی جائے گی، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " جِهَادُ الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ وَالضَّعِيفِ وَالْمَرْأَةِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of allah said:"Jihad of the elderly, the young, the weak, and women, is Hajj and 'Umarah."(Sahah)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بوڑھے، بچے، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُغِيرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، ح وَأَنْبَأَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا . قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ . وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ .
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah bin Mas'ud that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) died and Abu Bakr (was appointed Khalifah) after him, and some of the 'Arabs disbelieved, 'Umar, may Allah be pleased with him, said: 'O Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah (ﷺ) said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah.) Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah?'" Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: "I will surely fight those who separate prayer and Zakah, for Zakah is what is due on wealth. By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah (ﷺ) I will fight them for withholding it.' ('Umar said) 'By Allah, when I realized that Allah, the Mighty and Sublime, had opened the chest of Abu Bakr to fighting, then I knew that it was the truth.'" The wording is that of Ahmad
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ ہوئے اور عربوں میں جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ( اور یہ زکاۃ نہ دینے والے «لا إله إلا اللہ» کے قائل ہیں ) تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی، میں ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا، ( یعنی نماز پڑھے گا اور زکاۃ دینے سے انکار کرے گا ) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے ( جس طرح نماز بدن کا ) قسم اللہ کی، اگر لوگوں نے مجھے بکری کا سال بھر سے چھوٹا بچہ بھی دینے سے روکا جسے وہ زکاۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ تو اس روکنے پر بھی میں ان سے ضرور لڑوں گا۔ ( عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ) قسم اللہ کی، اس معاملے کو تو میں نے ایسا پایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے لیے شرح صدر بخشا ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ حق یہی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ احمد کے ہیں۔
Narrated by Aishah
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَكُنْ طَلاَقًا .
Narrated 'Aishah:It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah gave us the choice, and we chose him, so there was no divorce
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( انتخاب کا ) اختیار دیا، تو ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا تو یہ ( اختیار ) طلاق نہیں تھا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " .
Abu Hurairah said:"A man asked the prophet (ﷺ): 'O Messenger of Allah, we travel by sea and we take a little water with us, but if we use it for Wudu', we will go thirsty. Can we perform Wudu' with seawater?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Its water is a means of purification and its dead meat is permissible
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں، اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو ہم پیاسے رہ جائیں گے، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا، اور مردار حلال ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا اغْتَسَلَتْ فَلْيَتْرُكْهَا حَتَّى تَحِيضَ فَإِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا الأُخْرَى فَلاَ يَمَسَّهَا حَتَّى يُطَلِّقَهَا فَإِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلْيُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
It was narrated from 'Abdullah that he issued a divorce to his wife when she was menstruating. So 'Umar went to inform the Prophet about that. The Prophet said to him:"Tell 'Abdullah to take her back, then, when she has performed Ghusl, let him leave her alone, until she menstruates (again). Then, when she performs Ghusl following that second period, he should not touch her until he divorces her. And if he wants to keep her, then let him keep her. That is the time when Allah has stated that women may be divorced
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حیض سے تھی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو اس بات کی خبر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ عبداللہ کو حکم دو کہ اسے لوٹا لے۔ پھر جب ( حیض سے فارغ ہو کر ) وہ غسل کر لے تو اسے چھوڑے رکھے پھر جب حیض آئے اور اس دوسرے حیض سے فارغ ہو کر غسل کر لے تو اسے نہ چھوئے یعنی ( صحبت نہ کرے ) یہاں تک کہ اسے طلاق دیدے پھر اسے روک لینا چاہے تو روک لے ( اور طلاق نہ دے ) یہی وہ عدت ہے جس کا لحاظ کرتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - وَهُوَ ابْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ - عَنْ أَبِي بَكْرٍ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ - عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ لاَ تَطْهُرُ فَذُكِرَ شَأْنُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ لِتَنْظُرْ قَدْرَ قُرْئِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ لَهَا فَلْتَتْرُكِ الصَّلاَةَ ثُمَّ تَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ " .
It was narrated from 'Aishah that Umm Habibah bint Jahsh who was married to 'Abdur-Rahman bin 'Awf suffered from Istihadah and did not become pure. Her situation was mentioned to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said:"That is not menstruation, rather it is a kick in the womb, so let her work out the length of the menses that she used to have, and stop praying (for that period of time), then after that let her perform Ghusl for every for every prayer
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا جو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں کو استحاضہ کا خون آتا تھا، وہ پاک نہیں رہ پاتی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاملہ ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ رحم میں شیطان کی ایک ایڑ ہے، تو اسے چاہیئے کہ اپنے حیض کو دیکھ لے جس میں وہ حائضہ ہوتی تھی ( اور اسی کے بقدر ) نماز چھوڑ دے، پھر اس کے بعد جو دیکھے تو ہر نماز کے وقت غسل کرے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشُّؤْمُ فِي ثَلاَثَةٍ الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ " .
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet said:"Omens are only in three things: a woman, a horse or a house
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست تین چیزوں میں ہے، عورت، گھوڑے اور گھر میں“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَأْمِرُهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ " إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا " . فَحَبَّسَ أَصْلَهَا أَنْ لاَ تُبَاعَ وَ لاَ تُوهَبَ وَلاَ تُورَثَ فَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي الْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ .
It was narrated from Azhar As-Samman, from Ibn 'Awn, from Nafi', from Ibn 'Umar, that 'Umar acquired some land at Khaibar. He came to the Prophet and consulted him about that. He said:"If you wish, you may 'freeze' it and give it in charity." So he 'froze' it, stipulating that it should not be sold, given as a gift or inherited, and he gave it in charity to the poor, relatives, slaves, the needy, wayfarers and guests. There is no sin on the administrator if he eats from it on a reasonable basis or feeds a friend with no intention of becoming wealthy from it
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے، (وہ کہتے ہیں:) کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ اس زمین کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشورہ کرنے آئے، آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو اصل کو روک کر وقف کر دو اور اس کی پیداوار کو صدقہ کر دو“۔ تو انہوں نے اس کی اصل کو اس طرح روک کر وقف کیا کہ یہ زمین نہ تو بیچی جا سکے گی اور نہ ہی کسی کو ہبہ کی جا سکے گی اور نہ ہی کسی کو وراثت میں دی جا سکے گی۔ اور اس کو صدقہ کیا اس طرح کہ اس سے فقراء، قرابت دار فائدہ اٹھائیں گے، اس کی آمدنی سے غلاموں کو آزاد کرانے میں مدد دی جائے گی اور مساکین پر خرچ کی جائے گی، مسافر کی مدد اور مہمان کی تواضع کی جائے گی اور جو اس زمین کا ولی ( سر پرست و نگراں ) ہو گا وہ بھی اس کی آمدنی سے معروف طریقے سے کھا سکے گا اور اپنے دوست کو کھلا سکے گا، لیکن ( اپنے کھانے پینے کے نام پہ اس میں سے لے کر ) مالدار اور سیٹھ نہ بن سکے گا۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ فَإِنَّ سَالِمًا أَخْبَرَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَمُرُّ عَلَيْهِ ثَلاَثُ لَيَالٍ إِلاَّ وَعِنْدَهُ وَصِيَّتُهُ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مَا مَرَّتْ عَلَىَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ذَلِكَ إِلاَّ وَعِنْدِي وَصِيَّتِي.
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Prophet said:"It is not befitting for a Muslim to abide for three nights without having his will with him." 'Abdullah bin 'Umar said: "Since I heard this from the Messenger of Allah, I have always had my will with me
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کی تین راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کے اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے ہمیشہ میری وصیت میرے پاس رہتی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ، قَالَ انْطَلَقَ بِهِ أَبُوهُ يَحْمِلُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا . قَالَ " كُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ " .
It was narrated that An-Nu'man said that his father took him to the Prophet and said:"Bear witness that I have given An-Nu'man such and such of my wealth as a gift." He said: "Have you given all your children a present like that which you have given to An-Nu'man?
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد انہیں اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور کہا: آپ گواہ رہیں میں نے اپنے مال میں سے نعمان کو فلاں اور فلاں چیزیں بطور عطیہ دی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو وہی دی ہیں جو نعمان کو دی ہیں؟“۔
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَثَلُ الَّذِي يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " . قَالَ الأَوْزَاعِيُّ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that the Messenger of Allah said:"The likeness of the one who takes back his gift is that of a dog which vomits, then goes back to its vomit." (One of the narrators) Al-Awza'i said: "I heard him narrating this Hadith to 'Ata bin Abi Rabah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دے کر واپس لینے والے کی مثال کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے اور دوبارہ اسی قے کو کھا لیتا ہے“۔ اوزاعی کہتے ہیں: میں نے محمد بن علی بن الحسین کو یہ حدیث عطاء بن ابی رباح سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لاَ تَصْلُحُ الْعُمْرَى وَلاَ الرُّقْبَى فَمَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا أَوْ أَرْقَبَهُ فَإِنَّهُ لِمَنْ أُعْمِرَهُ وَأُرْقِبَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ . أَرْسَلَهُ حَنْظَلَةُ .
(A different chain) from Hajjaj, from Abu Az-Zubair, from Tawus, from Ibn 'Abbas, who said:"'Umra and Ruqba are not proper. Whoever gives something on the basis of 'Umra or Ruqba, it belongs to the one to whom he gave it on that basis, both during his lifetime and after his death." Hanzalah narrated it in Mursal form
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمریٰ اور رقبیٰ کرنا جائز نہیں، لیکن جس کسی نے کسی کو کوئی چیز عمریٰ یا رقبیٰ میں دی تو جس کو دی ہے وہ چیز اسی کی ہو جائے گی، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی ( یعنی مرنے کے بعد اس کے ورثہ کو ملے گی ) ۔ حنظلہ نے اس حدیث کو مرسلاً بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ، عَنْ طَاوُسٍ، بَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعُمْرَى وَالرُّقْبَى .
It was narrated from Tawus that the Messenger of Allah made 'Umra and Ruqba binding
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ اور رقبیٰ کو کاٹ کر الگ کر دیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ حَرْبٍ - عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " . قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا .
It was narrated from Salim, from his father, that he told him from 'Umar:"The Messenger of Allah said: 'Allah forbids you to swear by your forefathers.'" 'Umar said: "By Allah, I never swore by them again, whether saying it for myself or reporting it of others
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کے بعد ان کی قسم نہیں کھائی، نہ تو خود کچھ بیان کرتے ہوئے اور نہ ہی کسی دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ الثِّقَةُ الْمَأْمُونُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اجْتَمَعْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَ لَهَا إِنَّ نِسَاءَكَ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ . قَالَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ نِسَاءَكَ أَرْسَلْنَنِي وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ . فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَتُحِبِّينِي " . قَالَتْ نَعَمْ قَالَ " فَأَحِبِّيهَا " . قَالَتْ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ مَا قَالَ فَقُلْنَ لَهَا إِنَّكِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا فَارْجِعِي إِلَيْهِ . فَقَالَتْ وَاللَّهِ لاَ أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا . وَكَانَتِ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَقًّا فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ أَزْوَاجُكَ أَرْسَلْنَنِي وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ . ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَىَّ تَشْتِمُنِي فَجَعَلْتُ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَنْظُرُ طَرْفَهُ هَلْ يَأْذَنُ لِي مِنْ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا - قَالَتْ - فَشَتَمَتْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لاَ يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا فَاسْتَقْبَلْتُهَا فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمْ أَرَ امْرَأَةً خَيْرًا وَلاَ أَكْثَرَ صَدَقَةً وَلاَ أَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي كُلِّ شَىْءٍ يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ زَيْنَبَ مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ كَانَتْ فِيهَا تُوشِكُ مِنْهَا الْفَيأَةَ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ .
It was narrated that 'Aishah said:"The wives of the Prophet got together and sent Fatimah to the Prophet. They told her to say: 'Your wives'" -and he (the narrator) said something to the effect that they are urging you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah. She said: "So she entered upon the Prophet when he was with 'Aishah under her cover. She said to him: 'Your wives have sent me and they are urging you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah.' The Prophet said to her: 'Do you love me?' She said: 'Yes.' He said: 'Then love her.' So she went back to them and told them what he said. They said to her: 'You did not do anything; go back to him.' She said: 'By Allah, I will never go back (and speak to him) about her again.' She was truly the daughter of the Messenger of Allah. So they sent Zainab bint Jahsh." 'Aishah said: "She was somewhat my equal among the wives of the Prophet. She said: 'Your wives have sent me to urge you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafa.' Then she swooped on me and abused me, and I started watching the Prophet to see if he would give me permission to respond to her. She insulted me and I started to think that he would not disapprove if I responded to her. So I insulted her and I soon silenced her. Then the Prophet said to her: 'She is the daughter of Abu Bakr.'" 'Aishah said: "And I never saw any woman who was better, more generous in giving charity, more keen to uphold the ties of kinship, and more generous in giving of herself in everything by means of which she could draw closer to Allah than Zainab. But she had a quick temper; however, she was also quick to calm down
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور انہوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور ان سے کہا: آپ کی بیویاں – اور ایسا کلمہ کہا جس کا مفہوم یہ ہے – ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے مطالبہ کرتی ہیں کہ انصاف سے کام لیجئیے۔ چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں، آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی چادر میں تھے۔ انہوں نے آپ سے کہا: ( اللہ کے رسول! ) آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ ابوقحافہ کی بیٹی ( عائشہ ) کے سلسلے میں آپ سے عدل کا مطالبہ کر رہی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟“ کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”تو تم بھی ان ( عائشہ ) سے محبت کرو“، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس واپس آ کر انہیں وہ ساری بات بتائی جو آپ نے ( فاطمہ سے ) کہی، وہ سب بولیں: تم نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا، تم پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ فاطمہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے سلسلے میں آپ کے پاس کبھی نہیں جاؤں گی اور درحقیقت وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھیں ۱؎، اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ اور زینب ہی ایسی تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ) میرے برابر کا درجہ رکھتی تھیں۔ وہ بولیں: ( اللہ کے رسول! ) آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ وہ سب ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں اور وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھی اور آپ کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ آیا آپ مجھے بھی ان کا جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ زینب رضی اللہ عنہا ابھی وہیں پر تھیں کہ میں نے اندازہ کر لیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا نہیں لگے گا۔ چنانچہ ( جب ) میں نے انہیں برا بھلا کہا ( تو میں نے انہیں ذرا بھی ٹکنے نہیں دیا ) یہاں تک کہ میں ان سے آگے نکل گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”یہ ابوبکر کی بیٹی ہے“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کبھی بھی دین کے معاملے میں بہتر، اللہ سے ڈرنے والی، سچ بات کہنے والی اور صلہ رحمی کرنے والی، بڑے بڑے صدقات کرنے والی، صدقہ و خیرات اور قرب الٰہی کے کاموں میں خود کو سب سے زیادہ کمتر کرنے والی زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی عورت نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ وہ مزاج کی تیز طرار تھیں لیکن ان کا غصہ بہت جلد رفع ہو جاتا تھا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس ( روایت ) میں غلطی ہے صحیح وہی ہے جو اس سے پہلے گزری۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ فَوَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا . قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah [SAW] died, and Abu Bakr (became Khalifah) after him, and the 'Arabs reverted to Kufr, 'Umar said: 'O Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah [SAW] said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah, and whoever says La ilaha illallah, his wealth and his life are safe from me, except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah, the Mighty and Sublime?' Abu Bakr said: 'I will fight whoever separates Salah and Zakah, for Zakah is the compulsory right to be taken from wealth. By Allah, if they withhold from me a young goat that they used to give to the Messenger of Allah [SAW], I will fight them for withholding it.' 'Umar said: 'By Allah, as soon as I saw that Allah has expanded the chest of Abu Bakr to fighting, I knew that it was the truth
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رُقْبَةَ، عَنْ مَجْزَأَةَ الأَسْلَمِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ كَمَا يُطَهَّرُ الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ " .
It was narrated that Ibn Abi Awfa said:"The Prophet (ﷺ) used to say: 'Allahumma tahhirni bith-thalji wal-barad wal-ma' al-barid, Allahumma tahhirni min adh-dhunub kama yutahhar ath-thawb al-abyad min ad-danas (O Allah, purify me with snow and hail and cold water, O Allah, purify me of sin as a white garment is cleansed of dirt)
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْهَا قُوتَ سَنَةٍ وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلاَحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ .
It was narrated that 'Umar said:"The wealth of Banu An-Nadir was among the Fay' that Allah bestowed upon His Messenger, in cases where the Muslims did not go out on and expedition with horses and camels. From it he kept for himself food for one year, and what was left he spent on cavalry and weapons equipment for the cause of Allah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ .
It was narrated that Jarir said:"I pledged to the Messenger of Allah to be sincere toward ever Muslim
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، - هُوَ ابْنُ طَهْمَانَ - عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رضى الله عنهما بِكَبْشَيْنِ كَبْشَيْنِ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah offered an 'Aqiqah for Al-Hasan and Al-Husain, may Allah be please with them, two rams for each
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ - عَنْ خَالِدٍ، وَرُبَّمَا، قَالَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، وَرُبَّمَا، ذَكَرَ أَبَا قِلاَبَةَ عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ نَادَى رَجُلٌ وَهُوَ بِمِنًى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " اذْبَحُوا فِي أَىِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا " . قَالَ إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ " .
It was narrated that Nubaishah said:"A man called out while he was in Mina and said: 'O Messenger of Allah, we used to sacrifice the 'Atirah during the Jahiliyyah in Rajab; what do you command us to do?' He said: 'Sacrifice during whatever month it is, do good for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and feed (the poor).' They said: 'O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Fara' during the Jahiliyyah; what do you command us to do?' He said: 'For every flock of grazing animals, feed the firstborn as you feed the rest of you flock until it reaches an age where it could be used carry loads, then sacrifice it, and give its meat in charity
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، - وَكَانَ لَنَا جَارًا وَدَخِيلاً وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ - أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ لاَ أَدْرِي أَيَّهُمَا أَخَذَ قَالَ " لاَ تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ " .
It was narrated from Ash-Sha bi that; "Adiyy bin Hatim who was neighbor, Dakhilan and Rabitan at An-Nahrain narrated that he asked the Prophet Saying:'I releaser my dog and I find another dog with my dog, and I do not know which of them caught (the game).' He said: 'Do not eat, for your only said the name of Allah over your dog, and not over any other dog
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ شَهِدْتُ أَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ رَأَى غَنَمًا قَدْ ذُبِحَتْ فَقَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيَذْبَحْ شَاةً مَكَانَهَا وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
It was narrated that Jundub bin Sufyan said:"I attended (the day of) sacrifice with the Messenger of Allah He led the people 9in prayer, then when he finished praying he saw some sheep that had been sacrificed. He said 'Whoever slaughtered (his sacrifice) before the prayer. Let him slaughtered (his sacrifice) before the prayer, let him slaughter a sheep in its place, and whoever has not slaughtered, let him offer a sacrifice in the name of Allah, the Mighty and Sublime
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَفْشُوَ الْمَالُ وَيَكْثُرَ وَتَفْشُوَ التِّجَارَةُ وَيَظْهَرَ الْعِلْمُ وَيَبِيعَ الرَّجُلُ الْبَيْعَ فَيَقُولَ لاَ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ تَاجِرَ بَنِي فُلاَنٍ وَيُلْتَمَسَ فِي الْحَىِّ الْعَظِيمِ الْكَاتِبُ فَلاَ يُوجَدُ " .
It was narrated that 'Amr bin Taghilb said:"The Messenger of Allah said: 'One of the portents of the Hour will be that wealth becomes widespread and abundant, and trade will become widespread, but knowledge will disappear. A man will try to sell something and will say: "No, not until I consult the merchant of banu so and so: and People will look throughout a vast area for a scribe and will not find one." (Sahih)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلاَةِ الْحَضَرِ .
It was narrated that 'Aishah said:"The Salah was enjoined two Rak'ahs at a time, then the Salah when traveling remained like that, but the Salah while resident was increased
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نماز دو دو رکعت فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز ( دو ہی ) برقرار رکھی گئی، اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ أَتَيَا خَيْبَرَ فِي حَاجَةٍ لَهُمَا فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَحُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا عَمِّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ - وَهُوَ أَصْغَرُ مِنْهُمْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْكُبْرَ لِيَبْدَأَ الأَكْبَرُ " . فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا " يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ كَيْفَ نَحْلِفُ قَالَ " فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ . فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ قِبَلِهِ . قَالَ سَهْلٌ فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الإِبِلِ .
(It was narrated from Sahl bin Ab Hathmah and Rafi bin Khadij that:Muhayysah bin Mas'ud and 'Abdullah bin Sahl went to Khaibar for some need they had there, and they parted among the palm trees. 'Abdullah bin Sahl was killed, and 'Abdullah bin Sahl was killed, and his brother 'Abdur-Rahman bin Shl, and Huwayysah, and Musayysah, his paternal cousins, came to the Messenger of Allah. 'Abdur-Rahan spoke about his brother's case, but he was the youngest of them, so the Messenger of Allah said: "Let the elders speak first." So they spoke about their companions, and the Messenger of Allah said: Let fifty of your swear an oath." The said: "O Messenger of Allah, it is something that we did not witness: how can we swear an oath?" He said: "Then let the Jews swear fifty oaths to their innocence." They said: "O Messenger of Allah, they area) a disbelieving people," So the Messenger of Allah paid the blood money himself Sahl said: "I entered a Mirbad of theirs, and one of those camels kicked me
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ، مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلِصٍّ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ " . قَالَ بَلَى . قَالَ " اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ ثُمَّ جِيئُوا بِهِ " . فَقَطَعُوهُ ثُمَّ جَاءُوا بِهِ فَقَالَ لَهُ " قُلْ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ " . فَقَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ . قَالَ " اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " .
It was narrated from abu Umayah Al-Makhzumi that:a thief who confused to a crime but with whom no stolen goods has been found, was brought to the Messenger of Allah. The Messenger of Allah said to him: "I do not think that you stole anything."He He said: "Yes I did." He said: "Take him and cut off his hands, then bring him here, "So they cut off his hand then they brought him to him. He said to him; "Say: I seek the forgiveness of Allah and I repent to Him." He said: "I seek the forgiveness of Allah and I repent to Him." He said:: "O Allah, accept his repentance."(Daif)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ - قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَعْطَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رِجَالاً وَلَمْ يُعْطِ رَجُلاً مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَلَمْ تُعْطِ فُلاَنًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوْ مُسْلِمٌ " . حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلاَثًا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَوْ مُسْلِمٌ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأُعْطِي رِجَالاً وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُمْ لاَ أُعْطِيهِ شَيْئًا مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ " .
It was narrated from 'Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas that his father said:"The Prophet [SAW] gave a share (of some spoils of war) to some men and not to others. Sa'd said: 'O Messenger of Allah [SAW], you gave to so-and-so and so-and-so, but you did not give anything to so-and-so, and he is a believer.' The Prophet [SAW] said: 'Or a Muslim,' until Sa'd had repeated it three times, and the Prophet [SAW] said: 'I give to some men, and leave those who are dearer to me, without giving them anything, lest (the former) be thrown into Hell on their faces
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَأَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، يَرْفَعُهُ قَالَ " أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فَإِنَّ الَّذِي تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
It was narrated from Abu Musa in a Marfu' [1] report:"Wait until it cools down to pray Zuhr, for the heat you experience is a breeze from Hell." [1] Meaning he attributed it to the Prophet (ﷺ)
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھو، کیونکہ جو گرمی تم محسوس کر رہے ہو یہ جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ صُهَيْبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا " .
It was narrated that Zaid bin Al-Arqam said:"I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'Whoever does not take from his mustache, he is not one of us
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمِّرِ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدٍ. وَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه بَلْ أَمِّرِ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ. فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَنَزَلَتْ فِي ذَلِكَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَىِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ} حَتَّى انْقَضَتِ الآيَةُ {وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ}.
Abdullah bin Az-Zubair narrated that:A group from Banu Tamim came to the Prophet [SAW]. Abu Bakr said: "Appoint Al-Qa'qa' bin Ma'bad (as commander or governor)," and 'Umar said: "No, (appoint) Al-Aqra' bin Habis." They argued until they began to raise their voices, then the words were revealed: "O you who believe! Make not (a decision) in advance before Allah and His Messenger..." until the end of the Verse: "And if they had patience till you could come out to them, it would have been better for them
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عُقْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ بِهِمَا فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ .
It was narrated from 'Uqbah that:The Messenger of Allah [SAW] recited them in the Subh prayer
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ.
It was narrated from Ibn Abi Laila, from one of the Companions of the Prophet [SAW], that:The Prophet [SAW] forbade (mixtures of) Al-Balh and dried dates, and of raisins and dried dates
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ حُنَيْنٍ خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشْرَةٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ نَطْلُبُهُمْ فَسَمِعْنَاهُمْ يُؤَذِّنُونَ بِالصَّلاَةِ فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ سَمِعْتُ فِي هَؤُلاَءِ تَأْذِينَ إِنْسَانٍ حَسَنِ الصَّوْتِ " . فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَأَذَّنَّا رَجُلٌ رَجُلٌ وَكُنْتُ آخِرَهُمْ فَقَالَ حِينَ أَذَّنْتُ " تَعَالَ " . فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِي وَبَرَّكَ عَلَىَّ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ " اذْهَبْ فَأَذِّنْ عِنْدَ الْبَيْتِ الْحَرَامِ " . قُلْتُ كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَّمَنِي كَمَا تُؤَذِّنُونَ الآنَ بِهَا " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ " . فِي الأُولَى مِنَ الصُّبْحِ قَالَ وَعَلَّمَنِي الإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ هَذَا الْخَبَرَ كُلَّهُ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ .
It was narrated that Abu Mahdhurah said:"When the Messenger of Allah (S.A.W) left Hunain, I was the tenth of a group of ten of the people of Makkah who were trying to catch up with them. We heard them calling the Adhan for the prayer and we started to repeat the Adhan, mocking them. The Messenger of Allah (S.A.W) said, 'I heard among these people the Adhan of one who has a beautiful voice.' He sent for us, and we recited the Adhan one by one, and I was the last of them. When I said the Adhan, he said: 'Come here.' He sat me down in front of him and rubbed my forelock and blessed me three times, then he said, 'Go and give the Adhan at the sacred House.' I said: 'How, O Messenger of Allah?' He taught me as you say the Adhan now: 'Allahu Akbar, Allahu akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar; Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu an la ilaha illallah; Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu an la ilaha illallah; Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah; Hayya 'alas-salah, Hayya 'ala-salah; Hayya 'alal-falah Hayya 'alal-falah; as-salatu khairun min an-nawm;as-salatu khairun min an-nawm; (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, Allah is the Greatest; I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, I bear witness that there is none worthy of worship except Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger Allah; I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, I bear witness that there is none worthy of worship except Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to prayer, come to prayer; come to prosperity, come to prosperity; prayer is better than sleep, prayer is better than sleep)' - in the first (Adhan) for As-Subh (Fajr). And he taught me the Iqamah saying each phrase twice: 'Allahu Akbar, Allahu Akbar, (Allahu Akbar, Allahu Akbar), Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu an la ilaha illallah; Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah; Hayya 'alas-salah, Hayya 'alas-salah; Hayya 'alal-falah, Hayya 'alal-falah; qad qamatis-salah, qad qamati-salah, Allahu Akbar, Allahu Akbar La ilaha illallah (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest); I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, I bear witness that there is none worthy of worship except Allah ; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to prayer, come to prayer; come to prosperity, come to prosperity; the prayer is about to begin, the prayer is about to begin, Allah is the Greatest, Allah is the Greatest; there is none worthy of worship except Allah)." (One of the narrators) Ibn Juraij said: ''Uthman narrated this whole report to me from his father and from Umm 'Abdul-Malik bin Abi Mahdhurah, and (said that) they heard that from Abu Mahdhurah
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے نکلے تو میں ( بھی ) نکلا، میں اہل مکہ کا دسواں شخص تھا، ہم انہیں تلاش کر رہے تھے تو ہم نے انہیں نماز کے لیے اذان دیتے ہوئے سنا، تو ہم بھی اذان دینے ( اور ) ان کا مذاق اڑانے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں میں سے ایک اچھی آواز والے شخص کی اذان میں نے سنی ہے چنانچہ آپ نے ہمیں بلا بھیجا تو یکے بعد دیگرے سبھی لوگوں نے اذان دی، اور میں ان میں سب سے آخری شخص تھا جب میں اذان دے چکا ( تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) : ادھر آؤ! چنانچہ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھایا، اور میری پیشانی پر ( شفقت کا ) ہاتھ پھیرا، اور تین بار برکت کی دعائیں دیں، پھر فرمایا: جاؤ اور خانہ کعبہ کے پاس اذان دو ( تو ) میں نے کہا: کیسے اللہ کے رسول؟ تو آپ نے مجھے اذان سکھائی جیسے تم اس وقت اذان دے رہے ہو: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ( پھر دوبارہ ) «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ»، اور فجر میں «الصلاة خير من النوم»، «الصلاة خير من النوم» نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے کہا، ( اور ) کہا: مجھے آپ نے اقامت دہری سکھائی: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «قد قامت الصلاة»،«قد قامت الصلاة»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ»۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ یہ پوری حدیث مجھے عثمان نے بتائی، وہ اسے اپنے والد اور عبدالملک بن ابی محذورہ رضی اللہ عنہ کی ماں دونوں کے واسطہ سے روایت کر رہے تھے کہ ان دونوں نے اسے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " .
It was narrated that 'Abdullah bin Zaid said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The area between my house and my Minbar is one of the gardens of Paradise
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حصہ میرے گھر ۱؎ اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے ۱؎۔
Narrated by Abdullah bin Umar
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِينَ خَرَجَ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلاَثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ - وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ - ثُمَّ صَلَّى وَجَعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ نَحْوًا مِنْ ثَلاَثَةِ أَذْرُعٍ .
Narrated Abdullah bin Umar:It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) entered the Ka'bah with Usamah bin Zaid, Bilal and Uthman bin Talha al Hajabi, and locked the door behind him. Abdullah bin Umar said: "I asked Bilal when he came out: " What did the Messenger of Allah (ﷺ) do?" He said: "He stood with one pillar to his left, two pillars to his right and three pillars behind him - at that time the House stood on six pillars - and he prayed with approximately three forearm's length between him and the wall
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم چاروں خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کر لیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب وہ لوگ نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کعبہ کے اندر ) کیا کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھمبا ( ستون ) اپنے بائیں طرف کیا، دو کھمبے اپنے دائیں طرف، اور تین کھمبے اپنے پیچھے، ( ان دنوں خانہ کعبہ چھ ستونوں پر تھا ) پھر آپ نے نماز پڑھی، اور اپنے اور دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ رکھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَلَغَهُ أَنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ كَانَ بَيْنَهُمْ شَىْءٌ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَانَتِ الأُولَى فَجَاءَ بِلاَلٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ حُبِسَ وَقَدْ حَانَتِ الصَّلاَةُ فَهَلْ لَكَ أَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ قَالَ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ . فَأَقَامَ بِلاَلٌ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَكَبَّرَ بِالنَّاسِ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ وَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيقِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لاَ يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ الْتَفَتَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُهُ أَنْ يُصَلِّيَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ شَىْءٌ فِي الصَّلاَةِ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيقِ إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ مَنْ نَابَهُ شَىْءٌ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ فَإِنَّهُ لاَ يَسْمَعُهُ أَحَدٌ حِينَ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ إِلاَّ الْتَفَتَ إِلَيْهِ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ لِلنَّاسِ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ يَنْبَغِي لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated from Sahl bin Sa'd that the Messenger of Allah (ﷺ) heard that there was a dispute among Banu 'Amr bin 'Awf, so he went to them with some other people to reconcile between them. The Messenger of Allah (ﷺ) was delayed there, and the time for Zuhr came. Bilal came to Abu Bakr and said to him:"The Messenger of Allah (ﷺ) has been delayed (there) and the time for prayer has come, will you lead the people in prayer?" Abu Bakr said: 'Yes, if you wish.' Bilal said the Iqamah and Abu Bakr went forward and said the Takbir for the people. Then the Messenger of Allah(ﷺ) came, passing through the rows (of praying people) and stood in the (first) row and the people started clapping. Abu Bakr would never glance sideways in his prayer but when the people clapped so much he looked back and (ﷺ)Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah(ﷺ) gestured to him to carry on praying. Aha Bakr raised his hands praising Allah the Mighty and Sublime, and retreated till he reached the (first) row. Then the Messenger ofAllah(ﷺ) went forward and led the people in the prayer. When he completed the prayer he turned to face the people and said: '0 people, why did you start clapping when something unusual happened to you in the prayer? Clapping is only for women. So whoever among you comes across something in the prayer should say: 'Subhan Allah' for there is none who will not turn round when they hear him saying Subhan Allah. 0 Abu Bakr! What prevented you from leading the people in the prayer when I gestured to you to do so?' Abu Bakr replied: 'It is not fitting for the son of Abu Quhafah to lead the prayer in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ)
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں کچھ اختلاف ہو گیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے کر نکلے تاکہ آپ ان میں صلح کرا دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی معاملہ میں مشغول رہے یہاں تک کہ ظہر کا وقت آپ پہنچا ۱؎ تو بلال رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہنے لگے: ابوبکر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ابھی تک ) نہیں آ سکے ہیں، اور نماز کا وقت ہو چکا ہے تو کیا آپ لوگوں کی امامت کر دیں گے؟ انہوں نے کہا: ہاں کر دوں گا اگر تم چاہو، چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اور اللہ اکبر کہہ کر لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کر دی، اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور آپ صفوں میں چلتے ہوئے آئے یہاں تک کہ ( پہلی ) صف میں آ کر کھڑے ہو گئے، اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ) لوگ تالیاں بجانے لگے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے تھے، تو جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو وہ متوجہ ہوئے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، پھر وہ الٹے پاؤں اپنے پیچھے لوٹ کر صف میں کھڑے ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور جا کر لوگوں کو نماز پڑھائی، اور جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا: لوگو! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ جب تمہیں نماز میں کوئی بات پیش آتی ہے تو تالیاں بجانے لگتے ہو حالانکہ تالی بجانا عورتوں کے لیے مخصوص ہے، جسے اس کی نماز میں کوئی بات پیش آئے وہ سبحان اللہ کہے، کیونکہ جب کوئی سبحان اللہ کہے گا تو جو بھی اسے سنے گا اس کی طرف ضرور متوجہ ہو گا ( پھر آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ) اور فرمایا: ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کر دیا تھا تو تم نے لوگوں کو نماز کیوں نہیں پڑھائی؟ ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا؟ ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نماز پڑھائے ۲؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى، - وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ - عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ، - وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحٍ - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ بِأَىِّ شَىْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ قَالَتْ بِالسِّوَاكِ .
It was narrated from Al-Miqdam - Abu Shuraih - that his father said:"I said to 'Aishah: 'What did the Prophet (ﷺ) start with when he entered his house?' She said: 'The Siwak
شریح کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کون سا کام پہلے کرتے؟ انہوں نے کہا: مسواک سے ( پہل کرتے ) ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ، قَالَ جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقَالَ ثَلاَثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْمَلُ بِهِنَّ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلاَةِ مَدًّا وَيَسْكُتُ هُنَيْهَةً وَيُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ .
Sa'eed bin Sam'an said Abu Hurairah came to the Masjid of Banu Zuraiq and said:"There are three things that the Messenger of Allah (ﷺ) used to do and the people have abandoned; he used to raise his hands extended when praying, and he would fall silent briefly, and say takbir when he prostrated and when he sat up
سعید بن سمعان کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قبیلہ زریق کی مسجد میں آئے، اور کہنے لگے: تین کام ایسے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے ۱؎، آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر اٹھاتے تھے، اور تھوڑی دیر چپ رہتے تھے ۲؎ اور جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے تھے۔