أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ .
It was narrated from Abdullah bin Malik bin Buhainah that:When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed he held his arms out so much that the whiteness of his armpits appeared
عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ کشادگی رکھتے، یہاں تک کہ آپ کے بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ صَلَّى عَلْقَمَةُ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ مَا فَعَلْتُ . قُلْتُ بِرَأْسِي بَلَى . قَالَ وَأَنْتَ يَا أَعْوَرُ فَقُلْتُ نَعَمْ . فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى خَمْسًا فَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ " لاَ " . فَأَخْبَرُوهُ فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ " .
It was narrated that Ibrahim bin Suwaid said:"Alqamah prayed five (rak'ahs) and was told about that. He said: 'Did I really do that?' I nodded yes. He said: 'What about you, O odd-eyed one?' I said: 'Yes'. So he prostrated twice, then he narrated to us from 'Abdullah that the Prophet (ﷺ) prayed five (rak'ahs), and the people whispered to one another, then they said to him: 'Has something been added the prayer?' He said: 'No.' So they told him, and he turned around and prostrated twice, then he said: 'I am only human; I forget as you forget
ابراہیم بن سوید کہتے ہیں کہ علقمہ نے پانچ ( رکعت ) نماز پڑھی، تو ان سے ( اس زیادتی کے بارے میں ) کہا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے ( ایسا ) نہیں کیا ہے، تو میں نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: کیوں نہیں؟ آپ نے ضرور کیا ہے، انہوں نے کہا: اور تم اس کی گواہی دیتے ہو اے اعور! تو میں نے کہا: ہاں ( دیتا ہوں ) تو انہوں نے دو سجدے کیے، پھر انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ ( رکعتیں ) پڑھیں، تو لوگ ایک دوسرے سے کھسر پھسر کرنے لگے، ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، لوگوں نے آپ کو بتایا ( کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، اور دو سجدے کیے، پھر فرمایا: میں انسان ہی ہوں، میں ( بھی ) بھول سکتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو ۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، - وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ - عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " .
It was narrated that Ali, may Allah (SWT) be pleased with him, said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: "O people of the Qur'an, pray witr, for Allah, the Mighty and Sublime, is Witr (One) and loves Al-Witr (the odd numbered)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی، پھر فرمایا: اے اہل قرآن! وتر پڑھو ۱؎ کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر ہے، اور وتر کو محبوب رکھتا ہے ۲؎۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ الْقَطَّانُ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِهِ مَاتَ فَقُبِرَ لَيْلاً وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْبَرَ إِنْسَانٌ لَيْلاً إِلاَّ أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفَنَهُ " .
It was narrated that Ibn Juraij said:"Abu Az-Zubair told me that he heard Jabir say; 'The Messenger of Allah delivered a speech and mentioned a man among his Companions who had died. He had been buried at night and wrapped in a shroud that was not sufficient. The Messenger of Allah rebuked (them) and said that no one should be buried at night unless constrained to do that. And the Messenger of Allah said: When one of you wants to takes care of his brother, let him shroud him well
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو آپ نے اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مر گیا تھا، اور اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا تھا، اور ایک گھٹیا کفن میں اس کی تکفین کی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی آدمی رات میں دفنایا جائے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی ( کے کفن دفن کا ) ولی ہو تو اسے چاہیئے کہ اسے اچھا کفن دے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ عِنْدَ السُّحُورِ " يَا أَنَسُ إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ أَطْعِمْنِي شَيْئًا " . فَأَتَيْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلاَلٌ فَقَالَ " يَا أَنَسُ انْظُرْ رَجُلاً يَأْكُلُ مَعِي " . فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَجَاءَ فَقَالَ إِنِّي قَدْ شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ " . فَتَسَحَّرَ مَعَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ .
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah said, at the time of Sahur. 'O Anas, I want to fast, so give me something to eat.' So I brought him some dates and a vessel of water. That was after the Adhan of Bilal. He said: 'O Anas, find a man to come and eat with me.' So I called Zaid bin Thabit, who came and said: "I drank some Sawiq and I want to fast.' The Messenger of Allah said: "I also want to fast.' So he ate Sahr with him, then he got up and prayed two Rak'ahs, then he went out to the prayer
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا: ”اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلاؤ“، تو میں کچھ کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، اور یہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دینے کے بعد کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! کسی اور شخص کو تلاش کرو جو میرے ساتھ ( سحری ) کھائے“، تو میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا، چنانچہ وہ آئے ( اور ) کہنے لگے: میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے، اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ( بھی ) روزہ رکھنا چاہتا ہوں“، ( پھر ) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ اٹھے، اور ( فجر کی ) دو رکعت ( سنت ) پڑھی، پھر آپ فرض نماز کے لیے نکل گئے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"We used to pay Zakaul Fitr when the Messenger of Allah was among us; a Sa' of food, or a Sa' of barley, or a Sa' of dates, or a Sa' of raisins, or a Sa of cottage cheese
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے درمیان موجود تھے تو ہم صدقہ فطر گی ہوں سے ایک صاع، یا جو سے، یا کھجور سے، یا کشمش سے، یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي أُصُولِ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ .
It was narrated that 'Aishah said:" I used to see the glistening of the perfume at the roots of the hair of the Messenger of Allah when he was in Ihram.(sahih)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ " .
Sahl bin Abi Umamah bin Sahl bin Hunaif narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Whoever asks Allah, the mighty and Sublime, sincerely for martyrdom, Allah will cause him to reach the status of the martyrs even of he dies in his bed
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے شہادت کی طلب کرے تو وہ چاہے اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مقام پر پہنچا دے گا“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ جَعَلَتْ أَمْرَهَا إِلَى الْعَبَّاسِ فَأَنْكَحَهَا إِيَّاهُ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet married Maimunah when he was a Muhrim, and she appointed Al-'Abbas in charge of her marriage, and he married her to him
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی، اور آپ اس وقت احرام میں تھے، میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنا معاملہ عباس رضی اللہ عنہما کے سپرد کر رکھا تھا تو انہوں نے ان کی شادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ جَاءَنِي عُوَيْمِرٌ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَجْلاَنِ - فَقَالَ أَىْ عَاصِمُ أَرَأَيْتُمْ رَجُلاً رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ يَا عَاصِمُ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَعَابَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَكَرِهَهَا . فَجَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ مَا صَنَعْتَ يَا عَاصِمُ فَقَالَ صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا . قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لأَسْأَلَنَّ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَائْتِ بِهَا " . قَالَ سَهْلٌ وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ بِهَا فَتَلاَعَنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْسَكْتُهَا لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا . فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِفِرَاقِهَا فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ .
It was narrated from Sahl bin Sa'd, from 'Asim bin 'Adiyy who said:"Uwaimir, a man from Banu 'Ajlan, came and said: 'O 'Asim, what do you think if a man sees another man with his wife, should he kill him and be killed in retaliation, or what should he do? O 'Asim, ask the Messenger of Allah about that for me.'" So 'Asim asked the Messenger of Allah about that, and the Messenger of Allah disapproved of the question and criticized the asking of too many questions. Then 'Uwaimir came to him and said: "What happened, O 'Asim?" 'Asim said to 'Uwaimir: "What happened?! You have not brought me any good. The Messenger of Allah disapproved of the question I asked." 'Uwaimir said: "By Allah, I will go and ask the Messenger of Allah." So he went to the Messenger of Allah and asked him. The Messenger of Allah said: "Allah the Mighty and Sublime has revealed (something) concerning you and your wife, so bring her here." Sahl said: "I was among the people in the presence of the Messenger of Allah and he brought her and they engaged in the procedure of Li'an. He said: 'O Messenger of Allah, by Allah! If I keep her I would have been telling lies about her.' So he parted from her before the Messenger of Allah told him to separate from her, and that became the way of Li'an
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عجلان کا ایک شخص عویمر میرے پاس آیا اور کہنے لگا: عاصم! بھلا بتاؤ تو صحیح؟ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر شخص کو دیکھتا ہے، اگر وہ اسے قتل کر دیتا ہے تو کیا تم لوگ اسے قتل کر دو گے یا وہ کیا کرے؟ عاصم میرے واسطے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو تو عاصم رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوالات کو برا جانا اور ناپسند کیا، عویمر ان کے پاس آئے اور کہا: عاصم! کیا کیا تو نے؟ ( مسئلہ پوچھا یا نہیں؟ ) انہوں نے کہا: میں نے کیا تو ( یعنی پوچھا تو ) لیکن تو اچھا سوال لے کر نہیں آیا تھا ( جواب کیا ملتا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوالات کو ناپسند کیا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں تو ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھ کر رہوں گا ( یہ کوئی فرضی سوال نہیں امر واقع ہے ) پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے معاملے میں حکم نازل فرما دیا ہے۔ تو ( جاؤ ) اسے لے کر آؤ“، سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس وقت میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، وہ اسے لے کر آئے اور دونوں نے لعان کیا ۱؎۔ پھر اس نے ( یعنی عویمر نے ) کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی اگر میں نے اسے اپنے پاس رکھا تو میں اس پر تہمت لگانے والا ٹھہروں گا ( یہ کہہ کر ) انہوں نے اسے طلاق دے کر چھوڑ دیا اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑ دینے کا حکم دیتے۔ ( راوی کہتے ہیں ) پھر لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ رائج ہو گیا ( یعنی لعان کے بعد میاں بیوی دونوں جدا ہو جائیں ) ۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " .
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah said:"There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الأَعْرَجُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلاَنَ، - ثِقَةٌ مَأْمُونٌ - قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ إِنَّمَا سَمَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَعْيُنَ أُولَئِكَ لأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرُّعَاةِ .
It was narrated that Anas said:"The Prophet [SAW] only had the eyes of those people gouged out, because they had gouged out the eyes of the herdsmen
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ فَخَرَجُوا إِلَيْنَا وَمَعَهُمُ الْمَسَاحِي فَلَمَّا رَأَوْنَا قَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ . وَرَجَعُوا إِلَى الْحِصْنِ يَسْعَوْنَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " . فَأَصَبْنَا فِيهَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ .
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah reached Khaibar in the morning, and they came out to us carrying their shovels. When they saw us they said: 'Muhammad and the army!' And they rushed back inot the fortress. The Messenger of Allah raised his hands, then he said: ' Allahu Akbar, Allahu Akbar, Khaibar is destroyed. Verily, when we descend in field of a people (i.e. near to them), evil will be the morning for those who had been warned! Acquired some donkeys there and we cooked the., Then the caller of the Prophet called out: 'Allah and His Messenger forbid you to eat the flesh of donkeys, for it is an abomination
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ " .
It was narrated that Abu Tha'labah said:"The Messenger of Allah said: An animal that has been taken as a target is not lawful
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا تُزْهِيَ قَالَ " حَتَّى تَحْمَرَّ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ " .
It was narrated from Anas bin Malik that:the Messenger of Allah forbade selling fruits before they ripen. It was said: "O Messenger of Allah what does ripen mean?" he said: 'when they turn red." And the Messenger of Allah said: "What do you think if Allah withholds the fruits (causes it not to ripen), why would any one of you take his brother's wealth?
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي قِصَاصٍ فَأَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ .
It was narrated that Anas said:"A case requiring Qisas was brought to the Messenger of Allah and he enjoined them to pardon
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ أُمِّ أَيْمَنَ، يَرْفَعُهُ قَالَ " لاَ تُقْطَعُ الْيَدُ إِلاَّ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ " . وَثَمَنُهُ يَوْمَئِذٍ دِينَارٌ .
It was narrated that Ayman bin Umm Ayman who attributed it to the Prophet said:"The (hand of) a thief is not to be cut off except for the price of a shield, and in those days the price of a shield was a Dinar
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، - يَعْنِي الْحَفَرِيَّ - عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَخَفِيَ رِيحُهُ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'The perfume for men is that whose scent is apparent while its color is hidden, and the perfume for women is that whose color is apparent, while its scent is hidden
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: "A'udhu billahi min 'adhabi jahannama, wa a'udhu billahi min 'adhabil-qabri, wa a'udhu billahi min sharril-masihid-dajjali, wa a'udhu billahi min sharri fitnatil-mahya wal-mamat (I seek refuge with Allah from the torment of Hell, and I seek refuge with Allah from the torment of the grave, and I seek refuge with Allah from the evil of the Dajjal, and I seek refuge with Allah from the evil of the trials of life and death)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ .
Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade soaking (fruits) in earthenware jars
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تُشْرِقَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَغْرُبَ " .
Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the edge of the sun rises, then delay prayer until it has fully risen, and when the edge of the sun starts to set, delay prayer until it has fully set
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو نماز کو مؤخر کرو، یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے، اور جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے تو نماز کو مؤخر کرو یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَضُوءًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ " . فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ وَيَقُولُ " تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللَّهِ " . فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ . قَالَ ثَابِتٌ قُلْتُ لأَنَسٍ كَمْ تُرَاهُمْ قَالَ نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ .
It was narrated that Anas said:"Some of the Companions of the Prophet (ﷺ) were looking for (water for) Wudu'. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Do any of you have water?' He put his hand in the water and said: 'Perform Wudu' in the Name of Allah.' I saw the water coming out from between his fingers until they had all performed Wudu'." Thabit said: "I said to Anas: 'How many did you see?' He said: 'About seventy
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ کرام نے وضو کا پانی تلاش کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے؟ ( تو ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لایا گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ یہ فرماتے ہوئے پانی میں ڈالا: بسم اللہ کر کے وضو کرو میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے نکل رہا تھا، حتیٰ کہ ان میں سے آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کے خیال میں وہ کتنے لوگ تھے؟ تو انہوں نے کہا: ستر کے قریب ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحُنَيْنٍ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ .
It was narrated from Abu Al Malih that his father said:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in Hunain and it rained. The caller of the Messenger of Allah (ﷺ) called out, telling us: 'Pray where you are
اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آواز لگائی: ( لوگو! ) اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، أَسْلَمَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ اتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ رَاكِبٌ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ فَقُلْتُ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ سُورَةَ هُودٍ وَسُورَةَ يُوسُفَ . فَقَالَ " لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } وَ { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ } " .
It was narrated that Uqbah bin Amr said:"I followed the Messenger of Allah (ﷺ) when he was riding, and I placed my hand on his foot and said : O Messenger of Allah, teach me Surah Hud and Surah Yusuf. He said: 'You will never recite anything greater before Allah than: "Say: I seek refuge with (Allah), the Lord of the daybreak." And "Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، اور آپ سوار تھے تو میں نے آپ کے پاؤں پہ اپنا ہاتھ رکھا، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے سورۃ هود اور سورۃ یوسف پڑھا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سے زیادہ بلیغ سورت تم کوئی اور نہیں پڑھو گے ۔