بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
24 hadith
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ وَصَفَ لَنَا الْبَرَاءُ السُّجُودَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ بِالأَرْضِ وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ ‏.‏
It was narrated that Abu Ishaq said:"Al-Bara' described the prostration to us. He places his hands on the ground and raised his posterior and said: 'This is what I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ براء رضی اللہ عنہ نے ہمیں سجدہ کر کے دکھایا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے، اور اپنی سرین اٹھائے رکھی، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ ‏ "‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ فَثَنَى رِجْلَهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah said:"The Prophet(ﷺ) prayed Zuhr with five rak'ahs, and it was said to him: 'Has something been added to the prayer?' He said: 'Why are you asking?' They said: 'You prayed five.' So he turned around and prostrated twice
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ ( رکعت ) پڑھی، تو آپ سے عرض کیا گیا: کیا نماز میں زیادتی کر دی گئی ہے؟ تو آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ ( رکعت ) پڑھی ہے، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور دو سجدے کیے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abdullah bin Umar said that:A man asked the Messenger of Allah (ﷺ) about prayers at night. The Messenger of Allah (ﷺ) said: "prayers at night are (offered) two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح کا ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو ۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَدِمَتْ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ حَدَّثَتْنَا قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ ‏"‏ اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ ‏"‏ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ لاَ أَدْرِي أَىُّ بَنَاتِهِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا قَوْلُهُ ‏"‏ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ أَتُؤَزَّرُ بِهِ قَالَ لاَ أُرَاهُ إِلاَّ أَنْ يَقُولَ الْفُفْنَهَا فِيهِ ‏.‏
Muhammad bin Sirin said:"Umm 'Atiyyah was a woman from among the Ansar who told us: 'The Prophet entered upon us while we were washing his daughter and said: "Wash her three times, or five, or more than that if you think that (is necessary), with water and lotus leaves, and put camphor, or some camphor in it the last time. And when you have finished, inform me." So when we finished we informed him, and he threw his waist-wrap to us and said: "Shroud her in it." And he did not add to that. He (the narrator) said: "I do not know which of his daughters that was." I said: "What did he mean by: 'Shroud her in it?' Did he mean to put it on like an Izar?" He said: "No, I think he meant to wrap her completely
محمد بن سیرین کہتے ہیں ام عطیہ رضی اللہ عنہا ایک انصاری عورت تھیں، وہ ( بصرہ ) آئیں، اپنے بیٹے سے جلد ملنا چاہ رہی تھیں لیکن وہ اسے نہیں پا سکیں، انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر ( کی پتیوں ) سے تین بار، یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھو، اور آخر میں کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لینا ( اور ) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتاؤ ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ، اور اس سے زیادہ نہیں فرمایا۔ ( ایوب نے ) کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آپ کی کون سی بیٹی تھی ں، راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا اشعار سے کیا مراد ہے؟ کیا ازار ( تہبند ) پہنانا مقصود ہے؟ ایوب نے کہا: میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِرَجُلٍ ‏ "‏ هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي السَّحُورَ ‏.‏
It was narrated that Khalid bin Ma'dan said:"The Messenger of Allah said to a man: 'Come to the blessed breakfast, - meaning Sahur
(تابعی) خالد بن معدان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”صبح کے مبارک کھانے یعنی سحری کے لیے آؤ“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِكُمْ - يَعْنِي مِنْبَرَ الْبَصْرَةِ - يَقُولُ صَدَقَةُ الْفِطْرِ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا أَثْبَتُ الثَّلاَثَةِ ‏.‏
It was narrated that Abu Raja' said:I heard Ibn 'Abbas deliver a Khutbah from your Minbar - meaning the Minbar in Al-Basrah - saying: 'Sadaqatul Fitr is a Sa' of food." (Sahih) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: This is the most reliable of the three
ابورجاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تمہارے منبر سے یعنی بصرہ کے منبر سے خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: صدقہ فطر گی ہوں سے ایک صاع ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ یعنی ایوب تینوں میں زیادہ ثقہ ہیں ( یعنی: حسن بصری اور ابن سیرین سے ) ۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنِي الأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ لَقَدْ كَانَ يُرَى وَبِيصُ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The glistening of the perfume could be seen in the parting (of the hair) of the Messenger of Allah while he was in Ihram
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھی جاتی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ ‏.‏ فَيَقُولُ سَلْ وَتَمَنَّ فَيَقُولُ أَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'A man from among the people of Paradise will be brought and Allah, the Mighty and Sublime, will say: "O son of Adam, how do you find your place (in Paradise)?" He would say: "O Lord, it is the best place." He will say: "Ask and wish (for whatever you want)." He would say: "I ask You to send me back to the world so that I may be killed in Your cause ten time" - because of what be sees of the virtue of martyrdom
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت والوں میں سے ایک شخص اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ اس سے کہے گا: آدم کے بیٹے! تم نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تو بہترین ٹھکانہ ملا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہے گا تمہاری کوئی طلب اور کوئی تمنا ہو تو مانگو اور ظاہر کرو۔ وہ کہے گا: میری تجھ سے یہی تمنا و طلب ہے کہ تو مجھے دنیا میں دسیوں بار بھیج تاکہ ( میں جاؤں ) پھر تیری راہ میں مارا جاؤں۔ اس کی یہ تمنا شہادت کی فضیلت دیکھنے کی وجہ سے ہو گی“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَفِي حَدِيثِ يَعْلَى بِسَرِفَ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah married Maimunah bint Al-Harith when he was a Muhrim." According to the Hadith of Ya'la (one of the narrators): "In Sarif
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے اس وقت شادی کی جب کہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎، اور یعلیٰ ( راوی ) کی حدیث میں «سرف» کا بھی ذکر ہے ۲؎۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي لاَ تَمْنَعُ يَدَ لاَمِسٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ غَرِّبْهَا إِنْ شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَتَّبِعَهَا نَفْسِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اسْتَمْتِعْ بِهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"A man came to the Messenger of Allah and said: 'My wife does not object if anyone touches her.' He said: 'Divorce her if you wish.' He said: 'I am afraid that I will miss her.' He said: 'Then stay with her as much as you need to
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی ۱؎ آپ نے فرمایا: چاہو تو طلاق دے دو، اس نے کہا میں اسے طلاق دے دیتا ہوں تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس سے میرا دل اٹکا نہ رہے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو اس سے اپنا کام نکالتے رہو“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah said:"There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَزَلَتْ فِيهِمْ آيَةُ الْمُحَارَبَةِ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar:From the Messenger of Allah [SAW]: "The Verse about Al-Muharabah was revealed concerning them
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ نَضِيجًا وَنِيئًا ‏.‏
It was narrated that Al-Bara said:"On the Day of Khaibar, the Messenger of Allah forbade the flesh of domesticated donkeys, cooked or raw
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نَاسًا، مِنَ الأَعْرَابِ كَانُوا يَأْتُونَا بِلَحْمٍ وَلاَ نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ وَكُلُوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that:some Bedouin people used to bring us meat, and we did not know whether they had mentioned the Name of Allah (when slaughtering it) or not. The Messenger of Allah said: "Messenger of Allah said: "Mention the Name of Allah and eat." (Sahih)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَبَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يُطْعَمَ إِلاَّ الْعَرَايَا ‏.‏
It was narrated from Jabir that:the Prophet forbade Mukhabarah, Muzabanah and Muhaqalah, and selling fruits until they were fit to eat, except in the case f 'Aray
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ‏}‏ فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ وَاتِّبَاعٌ بِمَعْرُوفٍ يَقُولُ يَتَّبِعُ هَذَا بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ بِإِحْسَانٍ وَيُؤَدِّي هَذَا بِإِحْسَانٍ ‏{‏ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ‏}‏ مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ إِنَّمَا هُوَ الْقِصَاصُ لَيْسَ الدِّيَةَ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"There was Qisas among the Children of Israel, but Diyah was unknown among them. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: "Al-Qisas (the law of equality in punishment) is prescribed for your in case of murder: the free for the free, the slave for the slave, and the female for the female." Up to His saying: "But if the killer is forgiven by the brother 9or the relatives) of the killed against blood money, then adhering to it with fairness and payment of the blood money to the heir should be made in fairness."[2] Forgiveness means accepting the Diyah in the case of deliberate killing. Adhering to it in fairness means asking him to pay the Diyah in a fair manner, and payment in fairness means giving the Diyah in a fair manner. This is and alleviation and a mercy from you Lord,[1] means: This is easier thanthat which was prescribed for those who came before you, which was Qisas and not Diyah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ، قَالَ لَمْ تُقْطَعِ الْيَدُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ وَثَمَنُهُ يَوْمَئِذٍ دِينَارٌ ‏.‏
It was narrated that Ayman said:"The hand of a thief was not be cut off during the time of the Messenger of Allah except for the price of a shield, which in those days was a Dinar." (Daif)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ بِالزَّعْفَرَانِ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْبُغُ ‏.‏
Abdullah bin Zaid narrated from his father that:Ibn 'Umar used to dye his garments with saffron. He was asked about that and he said: "The Messenger of Allah [SAW] used to dye his clothes (with it)
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَبِي طَلْحَةَ ‏"‏ الْتَمِسْ لِي غُلاَمًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي ‏"‏ ‏.‏ فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يَرْدُفُنِي وَرَاءَهُ فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُلَّمَا نَزَلَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَرَمِ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ‏"‏ ‏.‏
Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah [SAW] said to Abu Talhah: 'Find me one of your boys to serve me.' Abu Talhah brought me out, riding behind him, and I served the Prophet [SAW] every time he stopped (on his journey). And I often heard him say: 'Allahumma, inni a'udhu bika min al-harami, wal-huzni, wal-'ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wa dala'id-dain, wa ghalabatir-rijal (O Allah, I seek refuge in You from old age, grief, incapacity, laziness, miserliness, cowardice, the burden of debt and being overpowered by men)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عُمَرَ أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ طَاوُسٌ وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ ‏.‏
It was narrated that Tawus said:"A man said to Ibn 'Umar: 'Did the Messenger of Allah [SAW] forbid soaking (fruits) in earthenware jars?' He said: 'Yes.' Tawus said: 'By Allah, I heard that from him
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) forbade praying after 'Asr
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when the time for 'Asr prayer had come. The people looked for (water for) Wudu' but they could not find any. Then some (water for) Wudu' was brought to the Messenger of Allah (ﷺ). He put his hand in that vessel and told the poeple to perform Wudu', and I saw water springing from beneath his fingers, until they had all performed Wudu
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھا کہ عصر کا وقت قریب ہو گیا تھا، تو لوگوں نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا مگر وہ پانی نہیں پا سکے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھوڑا سا وضو کا پانی لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا، اور لوگوں کو وضو کرنے کا حکم دیا، تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے ابل رہا ہے، حتیٰ کہ ان کے آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَرْقَمَ، كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ يَوْمًا فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Hisham bin 'Urwah from his father that 'Abdullih bin Arqam used to lead his companions in prayer. The time for prayer came one day and he went to relieve himself then he came back and said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'If any one of you feels the need to defecate, let him do that first, before he prays
عروہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے، پھر واپس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی حاجت محسوس کرے، تو نماز سے پہلے اس سے فارغ ہو لے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَالْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُرَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ ‏{‏ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ‏}‏ ‏.‏
It was narrated that Amr bin Huraith said:"I heard the Prophet (ﷺ) reciting: 'When the sun is wound round.' in fajr
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں «إذا الشمس كورت» پڑھتے سنا۔