بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
24 hadith
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ، يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ‏ "‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَانَتْ يَدَاهُ مِنْ أُذُنَيْهِ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي اسْتَقْبَلَ بِهِمَا الصَّلاَةَ ‏.‏
It was narrated that Wa'il bin Hujr said:"I came to Al-Madinah and said: 'I am going to watch the Messenger of Allah (ﷺ) pray. He said the takbir and raised his hands until I saw his thumbs near his ears. When he wanted to bow, he said the takbir and raised his hands. Then he raised his head and said: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him).' Then he said the takbir and prostrated, and his hands were in the same position in relation to his ears as when he started the prayer
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا ( کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں تو میں نے دیکھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کے دونوں انگوٹھوں کو آپ کی دونوں کانوں کے قریب دیکھا، اور جب آپ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا، اور سجدہ کیا، آپ کے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کانوں کی اس جگہ تک اٹھے جہاں تک آپ نے شروع نماز میں انہیں اٹھایا تھا ( یعنی انہیں دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھایا ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ صَلاَتَهُ حَتَّى لاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When any one of you gets up and prays, the Shaitan comes to him an confuses him until he does not know how many (Rak'ahs) he prayed. If any one of you notices that, let him prostrate twice when he is sitting
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے، اور اس پر اس کی نماز کو گڈمڈ کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا محسوس کرے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Umar that:The Prophet (ﷺ) said: "prayers at night are (offered) two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ ‏.‏
Ayyub narrated from Muhammad, who said:"Hafsah informed me that Umm 'Atiyyah said: 'We put her hair in three braids
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، - بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَقَالَ ‏ "‏ هَلُمُّوا إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that AL-'Irbad bin Sariyah said:"I heard the Messenger of Allah inviting people to have Sahur in Ramadan. He said: 'Come to the blessed breakfast." (Hasan) Chatper 26. Calling Sahur "Ghada" (Breakfast)
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ رمضان کے مہینہ میں سحری کھانے کے لیے بلا رہے تھے، اور فرما رہے تھے: ”آؤ صبح کے مبارک کھانے پر“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ فِي آخِرِ الشَّهْرِ أَخْرِجُوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ ‏.‏ فَنَظَرَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ مَنْ هَا هُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ إِنَّ هَذِهِ الزَّكَاةَ فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى كُلِّ ذَكَرٍ وَأُنْثَى حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ ‏.‏ فَقَامُوا ‏.‏ خَالَفَهُ هِشَامٌ فَقَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ‏.‏
When he was the governor of Al-Basrah, at the end of the month, Ibn 'Abbas said:"Give Zakah of your fast." The people looked at one another, so he said: "Whoever is here from the people of Al-Madinah, get up and teach your brothers, for they do lnot know that this Zakah was enjoined by the Messenger of Allah upon every male and female, free and slave, a Sa' of barley or dates, or half a Sa' of wheat. "So they got up. (Da'if) Hisham contradicted him, he said: "From Muhammad bin Sirin
حسن بصری کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے مہینے کے آخر میں کہا ( جب وہ بصرہ کے امیر تھے ) : تم اپنے روزوں کی زکاۃ نکالو، تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے تو انہوں نے پوچھا: مدینہ والوں میں سے یہاں کون کون ہے ( جو بھی ہو ) اٹھ جاؤ، اور اپنے بھائیوں کو بتاؤ، کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس زکاۃ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع جو یا کھجور، یا آدھا صاع گی ہوں فرض کیا ہے، تو لوگ اٹھے ( اور انہوں نے لوگوں کو بتایا ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ہشام نے حمید کی مخالفت کی ہے، انہوں نے «عن محمد بن سيرين» کہا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ ‏.‏
It was narrated that Al-Qasim said:"'Aishah said: 'I put perfume on the Messenger of Allah (ﷺ) before he entered Ihram and on the Day of Sacrifice before he circumambulated the House, using perfume containing musk
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایسی خوشبو لگائی جس میں مشک کی آمیزش تھی۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلاً غَيْرَ مُدْبِرٍ حَتَّى أُقْتَلَ أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَاىَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ فَقَالَ ‏"‏ هَذَا جِبْرِيلُ يَقُولُ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Abi Qatadah that his father said:"A man came to the Prophet (ﷺ) when he was on the Minbar and said: 'O Messenger of Allah, do you think that if I wield this sword of mine in the cause of Allah, with patience and seeking reward, facing the enemy, and not running away, will Allah forgive my sins?' He said: 'Yes.' When he turned away, he called him back and said: 'Jibril says: unless you are in debt
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ منبر پر ( کھڑے خطاب فرما رہے ) تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں چلاؤں، ثابت قدمی کے ساتھ، بہ نیت ثواب، سینہ سپر رہوں پیچھے نہ ہٹوں یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے سبھی گناہوں کو مٹا دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پھر جب وہ جانے کے لیے مڑا، آپ نے اسے بلایا اور کہا: ”یہ جبرائیل ہیں، کہتے ہیں: مگر یہ کہ تم پر قرض ہو“ ( تو قرض معاف نہیں ہو گا ) ۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَتَاةً، دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ بِي خَسِيسَتَهُ وَأَنَا كَارِهَةٌ ‏.‏ قَالَتِ اجْلِسِي حَتَّى يَأْتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِيهَا فَدَعَاهُ فَجَعَلَ الأَمْرَ إِلَيْهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ أَلِلنِّسَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ
It was narrated from 'Aishah:"A girl came to her and said: 'My father married me to his brother's son so that he might raise his own status thereby, and I was unwilling.' She said: 'Sit here until the Prophet comes.' Then the Messenger of Allah came, and I told him (what she had said). He sent word to her father, calling him, and he left the matter up to her. She said: 'O Messenger of Allah, I accept what my father did, but I wanted to know whether women have any say in the matter
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک نوجوان لڑکی ان کے پاس آئی، اور اس نے کہا: میرے باپ نے میری شادی اپنے بھتیجے سے اس کی خست اور کمینگی پر پردہ ڈالنے کے لیے کر دی ہے، حالانکہ میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں، انہوں نے اس سے کہا: بیٹھ جاؤ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آ لینے دو ( پھر اپنا قضیہ آپ کے سامنے پیش کرو ) ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لے آئے تو اس نے آپ کو اپنے معاملے سے آگاہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کو بلا بھیجا ( اور جب وہ آ گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ اس ( لڑکی ) کے اختیار میں دے دیا اس ( لڑکی ) نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد نے جو کچھ کر دیا ہے، میں نے اسے قبول کر لیا ( ان کے کئے ہوئے نکاح کو رد نہیں کرتی ) لیکن میں نے ( اس معاملہ کو آپ کے سامنے پیش کر کے ) یہ جاننا چاہا ہے کہ کیا عورتوں کو بھی کچھ حق و اختیار حاصل ہے ( سو میں نے جان لیا ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لاَ أَنَا وَلاَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ‏.‏ لِزَوْجِهَا فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِثَابِتٍ ‏"‏ خُذْ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا ‏.‏
It was narrated from Yahya bin Sa'eed, from 'Amrah bint 'Abdur-Rahman, that she told him about Habibah bint Sahl:"She was married to Thabit bin Qais bin Shammas. The Messenger of Allah went out to pray As-Subh and he found Habibah bint Sahl at his door at the end of the night. The Messenger of Allah said: 'Who is this?' She said: 'I am Habibah bint Sahl, O Messenger of Allah.' He said: 'What is the matter?' She said: 'I cannot live with Thabit bin Qais' -her husband. When Thabit bin Qais came, the Messenger of Allah said to him: 'Here is Habibah bint Sahl and she has said what Allah willed she should say.' Habibah said: 'O Messenger of Allah, everything that he gave me is with me.' The Messenger of Allah said: 'Take it from her.' So he took it from her and she stayed with her family
حبیبہ بنت سہل رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس کی بیوی تھیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز کے لیے ) صبح صادق میں نکلے تو ان کو اپنے دروازے پر تاریکی میں کھڑا ہوا پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کون ہے یہ؟“ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے، کیسے آنا ہوا؟“ انہوں نے کہا: نہ میں اور نہ ثابت بن قیس ( یعنی دونوں بحیثیت میاں بیوی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، آپ ہم میں علیحدگی کرا دیجئیے ) پھر جب ثابت بن قیس بھی آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ حبیبہ بنت سہل ہیں، اللہ کو ان سے جو کہلانا تھا وہ انہوں نے کہا“ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ میرے پاس موجود ہے ( وہ یہ لے سکتے ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا: ”وہ ان سے لے لو ( اور ان کو چھوڑ دو ) “ تو انہوں نے ان سے لے لیا اور وہ ( وہاں سے آ کر ) اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے لگیں۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah said:"There is no vow to commit an act of disobedience and its expiation is the expiation for an oath
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ قَوْمًا، أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ‏.‏
It was narrated from Hisham, from his father, that:Some people raided the camels of the Messenger of Allah [SAW]. He had their hands and feet cut off and their eyes gouged out
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ يَوْمَ خَيْبَرَ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that:the Messenger of Allah forbade (the flesh of) domesticated donkeys on the Day of Khaibar
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ إِمْسَاكِ الأُضْحِيَةِ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ كُلُوا وَأَطْعِمُوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu sa'eed Al-aKhudri said:"The Messenger of Allah forbade keeping the meat of the sacrificial animals for more than three days, then he said: 'Eat and feed other,"' (Sahih)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah bin 'Umar said:"The Messenger of Allah stood up among us ad said: 'Do not sell fruits until their condition is known
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ يَهُودِيًّا، رَأَى عَلَى جَارِيَةٍ أَوْضَاحًا فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ ‏"‏ أَقَتَلَكِ فُلاَنٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا أَنْ لاَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَقَتَلَكِ فُلاَنٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا أَنْ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَقَتَلَكِ فُلاَنٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا أَنْ نَعَمْ ‏.‏ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَتَلَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Anas, that:a Jew saw some jewelry on a girl, so he killed her with a rock. She was brought to the Prophet as she was breathing her last, and he said: "Did so and so kill you?" - Shu'bah (one of the narrators) gestured with his head, to show that she had gestured no. - He said: "Did so and so kill you?" - Shu'bah (one of the narrators) gestured with his head to show that she had gestured no. - He said: "Did so and so kill you?" - Shu'bah (one of the narrators) gestured with his head to show that she had gestured yes. - So the Messenger of Allah called for him, and killed him with two rocks
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَيْمَنَ، قَالَ لَمْ تَكُنْ تُقْطَعُ الْيَدُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ وَقِيمَتُهُ يَوْمَئِذٍ دِينَارٌ ‏.‏
It was narrated that Ayman said:"The hand of a thief would not be cut off during the time of the Messenger of Allah except for the value of a shield, which in those days was a Dinar." (Daif)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدَ إِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ لَيِّنُ الْحَدِيثِ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that:The Messenger of Allah [SAW] said: "One of the best kinds of kohl that you use is Ithmid (antimony); it brightens the vision and makes the hair (eye-lashes) grow
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَافَرَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ قَالَ بِإِصْبَعِهِ - وَمَدَّ شُعْبَةُ بِإِصْبَعِهِ - قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah [SAW] traveled and rode his mount, he gestured with his finger - and Shu'bah (one of the narrators) stretched out his finger - and said: 'Allahumma, antas-sahibu fis-safari wal-khalifatu fil-ahli wal-mal. Allahumma, inni a'udhu bika min wa'tha'is-safari, wa kabatil-munqalabi (O Allah, You are our help when we are traveling and the One Who takes care of our families and wealth (in our absence). O Allah, I seek refuge in You from the hardships of travel and the sorrows of return
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، - وَهُوَ ابْنُ سُمَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ قَالَ صَعْصَعَةُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ انْهَنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ ‏.‏
Sa'sa'ah said to 'Ali bin Abi Talib - may Allah honor his face - :"Forbid to us, O Commander of the Believers! What the Messenger of Allah [SAW] forbade to you." He said: "The Messenger of Allah [SAW] forbade me from using Ad-Dubba' and Al-Hantam
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ صَلاَةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَبْزُغَ الشَّمْسُ وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Ata' bin Yazid that he heard Abu Sa'eed Al-Khudri say:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'There is no prayer after Fajr until the sun has clearly risen, and no prayer after 'Asr until the sun has fully set
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جَدَّتِي، وَهِيَ أُمُّ عُمَارَةَ بِنْتُ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ قَدْرَ ثُلُثَىِ الْمُدِّ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ فَأَحْفَظُ أَنَّهُ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَجَعَلَ يَدْلُكُهُمَا وَيَمْسَحُ أُذُنَيْهِ بَاطِنَهُمَا وَلاَ أَحْفَظُ أَنَّهُ مَسَحَ ظَاهِرَهُمَا ‏.‏
It was narrated from Shu'bah that Habib said:"I heard 'Abbad bin Tamim narrate from my grandmother - who was Umm 'Umarah bint Ka'b - that the Prophet (ﷺ) performed Wudu', and he was brought a vessel in which there were two-thirds of a Mudd." Shu'bah said: "I remember that he washed his forearms and started rubbing them, and he wiped the inside of his ear, but I do not remember whether he wiped the outside of them
ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا ارادہ کیا تو آپ کی خدمت میں ایک برتن میں دو تہائی مد کے بقدر پانی لایا گیا، ( شعبہ کہتے ہیں: مجھے اتنا اور یاد ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، اور انہیں ملنے اور اپنے دونوں کانوں کے داخلی حصے کا مسح کرنے لگے، اور مجھے یہ نہیں یاد کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اوپری ( ظاہری ) حصے کا مسح کیا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ، يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الصَّلاَةِ فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَأَذِنَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ لَهُ ‏"‏ أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَجِبْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"A blind man came to the Messenger of Allah (ﷺ)and said: 'I do not have a guide to bring me to the prayer.' And he asked him to grant him a dispensation allowing him to pray in his house, and he gave him permission. Then when he turned away he said to him: 'Can you hear the call to prayer?' He said: 'Yes.' He said: 'Then respond to it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۱؎، اور اس نے عرض کیا: میرا کوئی راہبر ( گائیڈ ) نہیں ہے جو مجھے مسجد تک لائے، اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے اس کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا، اور اس سے پوچھا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، ( سنتا ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ( مؤذن کی پکار پر ) لبیک کہو ۲؎۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ مَا أَخَذْتُ ‏{‏ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ‏}‏ إِلاَّ مِنْ وَرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ ‏.‏
It was narrated that Umm Hisham bint Harithah bin An-Nu'man said:"I only learned :Qaf. By the Glorious Quran.' Behind the Messenger of Allah (ﷺ); he used to recite it in Subh
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے «ق، والقرآن المجيد» کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( سن سن کر ) یاد کیا ہے، آپ اسے فجر میں ( بکثرت ) پڑھا کرتے تھے۔