بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
51 hadith
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ قَالَ عُمَرُ إِنَّمَا السُّنَّةُ الأَخْذُ بِالرُّكَبِ ‏.‏
It was narrated that 'Abdur-Rahman As-Sulami said:" 'Umar said: 'The Sunnah is to hold the knees
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سنت تو گھٹنوں کو پکڑنا ہی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنُسَلِّمُ بِأَيْدِينَا فَقَالَ ‏ "‏ مَا بَالُ هَؤُلاَءِ يُسَلِّمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ أَمَا يَكْفِي أَحَدَهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يَقُولَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمُ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"We used to pray behind the Messenger of Allah (ﷺ) and we would greet (others) with our hands. He said: 'What is the matter with those who greet (others) with their hands as if they were tails of wild horses? It is sufficient for any one of you to put his hand on his thigh and say: "As-salamu 'alaikum, as-salamu 'alaikum
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے، اور اپنے ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے، اس پر آپ نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کرتے ہیں گویا کہ یہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھیں پھر«السلام عليكم، السلام عليكم» کہیں ۔
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Hafsah, the wife of the Prophet (ﷺ) that:The Prophet (ﷺ) said: "Going to Jumu'ah is obligatory for everyone who has reached the age of puberty
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے لیے ( مسجد ) جانا ہر بالغ مرد پر فرض ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَبِي أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، - وَهُوَ السُّكَّرِيُّ - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ رضى الله عنهما ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah said:"I prayed two rak'ahs with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, and two rak'ahs with Abu Bakr, and two rak'ahs with 'Umar, may Allah (SWT) be pleased with them both
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں دو رکعتیں پڑھیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں ہی پڑھیں۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُنَادِيًا يُنَادِي أَنَّ الصَّلاَةَ جَامِعَةً فَاجْتَمَعُوا وَاصْطَفُّوا فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ‏‏.‏‏
It was narrated that 'Aishah said:"The sun was eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and the Prophet (ﷺ) commanded a caller to call out that prayer was about to begin in congregation. So they gathered and formed rows, and he led them in prayer, bowing four times in two rak'ahs and prostrating four times
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو حکم دیا، تو اس نے ندا دی کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو سب جمع ہو گئے، اور انہوں نے صف بندی کی تو آپ نے انہیں چار رکوع، اور چار سجدوں کے ساتھ، دو رکعت نماز پڑھائی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَسْقَى وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ ‏.‏
It was narrated from 'Abbad bin Tamim, from his paternal uncle that:The Prophet (ﷺ) prayed for rain, and prayed two rak'ahs, and turned his rida' around
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اپنی چادر پلٹی۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَا كَانَتْ صَلاَةُ الْخَوْفِ إِلاَّ سَجْدَتَيْنِ كَصَلاَةِ أَحْرَاسِكُمْ هَؤُلاَءِ الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ هَؤُلاَءِ إِلاَّ أَنَّهَا كَانَتْ عُقَبًا قَامَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ وَهُمْ جَمِيعًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ مَعَهُ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلاَتِهِمْ سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ جَلَسُوا فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالتَّسْلِيمِ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The fear prayer was no more than two prostrations like the prayer of these guards of yours today behind the Imams of yours, except that it was one group after another. One group stood, although they were all behind the Messenger of Allah (ﷺ), and one group prostrated with him, then the Messenger of Allah (ﷺ) stood up and they all stood with him. Then he bowed and they all bowed with him, then he prostrated and those who had been standing the first time prostrated with him. When the Messenger of Allah (ﷺ) and those who had prostrated with him at the end of their prayer sat, those who had been standing prostrated by themselves, then they sat and the Messenger of Allah (ﷺ) said the taslim with all of them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ خوف کی نماز صرف دو سجدوں پر مشتمل تھی، جیسے آج کل تمہارے ان اماموں کی پیچھے تمہارے نگہبان پڑھتے ہیں، مگر وہ باری باری آگے پیچھے آئے، اس طرح کہ پہلے ایک گروہ ( نماز کے لیے آپ کے ساتھ ) کھڑا ہوا حالانکہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ کے ساتھ ان میں سے ایک گروہ نے سجدہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور سبھی لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا، تو آپ کے ساتھ ان لوگوں نے سجدہ کیا جو آپ کے ساتھ پہلی بار کھڑے تھے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جنہوں نے آپ کے ساتھ آخر میں سجدہ کیا تھا بیٹھے تو جو لوگ کھڑے تھے ( اور سجدہ نہیں کیا تھا ) انہوں نے خود سے سجدہ کیا، پھر وہ لوگ بیٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ساتھ سلام پھیرا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عِيدٍ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led us in praying on 'Eid before the Khutbah, with no Adhan and no Iqamah
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان اور بغیر اقامت کے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ وَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ ‏ "‏ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلاَّ أَنِّي خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that:The Messenger of Allah (ﷺ) prayed in the masjid one night, and some people followed his prayer. Then he prayed the following night and more people came. Then they gathered on the third or fourth night and the Messenger of Allah (ﷺ) did not come out to them. When morning came he said: "I saw what you did, and nothing prevented me from coming out to you but the fact that I feared that this would be made obligatory for you," and that was in Ramadan
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، آپ کی نماز کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی نماز پڑھی، پھر آپ نے آنے والی رات میں بھی نماز پڑھی اور لوگ بڑھ گئے تھے، پھر تیسری یا چوتھی رات میں لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکلے ہی نہیں، پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: تم نے جو دلچسپی دکھائی اسے میں نے دیکھا، تو تمہاری طرف نکلنے سے مجھے صرف اس چیز نے روک دیا کہ میں ڈرا کہ کہیں وہ تمہارے اوپر فرض نہ کر دی جائے ، یہ رمضان کا واقعہ تھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَالِدُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Remember often the destroyer of pleasures."' (Hasan) Abu 'Abdur-Rahaman (An-Nasai) said: Muhammad bin Ibrahim (one of the narrators) is the father of Abu Bakr Ibn Abi Shaibah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لذتوں کو کاٹنے والی ۱؎ کو خوب یاد کیا کرو ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: محمد بن ابراہیم ابوبکر بن ابی شیبہ کے والد ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ وَكَانَ إِذَا كَانَ قَرِيبَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَأَدْخَلَ هَذَا حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"Hardly anyone every remembered the Messenger of Allah cursing anyone, and if he had recently met with Jibril and studied the Quran with him, he was more generous in doing good than the blowing with. "(Sahih) Abu 'Abdur-Rehman (An-Nasai) said; This is a mistake, and what is correct is the (previous) narration of Yunus bin Yazid, he put this narration in the Hadith
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جسے ذکر کیا جائے، ( اور ) جب جبرائیل علیہ السلام کے آپ کو قرآن دور کرانے کا زمانہ آتا تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ ( روایت ) غلط ہے، اور صحیح یونس بن یزید والی حدیث ہے ( جو اوپر گزری ) راوی نے اس حدیث میں ایک ( دوسری ) حدیث داخل کر دی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مِنْ رَجُلٍ لَهُ مَالٌ لاَ يُؤَدِّي حَقَّ مَالِهِ إِلاَّ جُعِلَ لَهُ طَوْقًا فِي عُنُقِهِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏}‏ الآيَةَ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'There is no man who has wealth and does not pay the dues of his wealth, but a baldheaded Shuja'a will be made to encircle his neck, and he will run away from the Book of Allah: 'And let not those who covetously withhold of that which Allah has bestowed on them of His Bounty (wealth)' think that it is good for them (and so they do not pay the obligatory Zakah). Nay, it will be worse for them; the things which they covetously withheld, shall be tied toothier necks like a collar on the Day of Resurrection
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اپنے مال کا حق ادا نہ کرے ( یعنی زکاۃ نہ دے ) تو وہ مال ایک گنجے زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی گردن کا ہار بنا دیا جائے گا، وہ اس سے بھاگے گا، اور وہ ( سانپ ) اس کے ساتھ ہو گا“، پھر اس کی تصدیق کے لیے آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی «ولا تحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله هو خيرا لهم بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ”تم یہ مت سمجھو کہ جو لوگ اس مال میں جو اللہ نے انہیں دیا ہے بخیلی کرتے ہیں ان کے حق میں بہتر ہے، یہ بہت برا ہے ان کے لیے۔ عنقریب جس مال کے ساتھ انہوں نے بخل کیا ہو گا وہ قیامت کے دن ان کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا“ ( آل عمران: ۱۸ ) ۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَثْرُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَفْدُ اللَّهِ ثَلاَثَةٌ الْغَازِي وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'The guests of Allah are three: The ghazi, the Hajj (pilgrim) and the Mu'tamir
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے وفد میں تین لوگ ہیں: ایک غازی، دوسرا حاجی اور تیسرا عمرہ کرنے والا“۔
Narrated by It was narrated that Abu Hurairah said
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ ‏.‏
Narrated It was narrated that Abu Hurairah said:: “When the Messenger of Allah died and Abu Bakr was appointed as Khalifah, and some of the Arab’s disbelieved, Umar said: ‘O Abu Bakr! How can you fight the people when the Messenger of Allah said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah). Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah?’ Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: ‘By Allah, I will surely fight those who separate prayer and Zakah, for Zakah is what is due on wealth. By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah I will fight them for withholding it.’ (Umar said) ‘By Allah, when I realized that Allah, the Mighty and Sublime, had opened the chest of Abu Bakr to fighting, then I knew that it was the truth.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنا دیئے گئے، اور عربوں میں سے جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے ۱؎، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں، تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، ( اور یہ زکاۃ نہ دینے والے «لا إله إلا اللہ» کے قائل ہیں ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی میں ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا، ( یعنی نماز پڑھے گا اور زکاۃ دینے سے انکار کرے گا ) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، ( جس طرح نماز بدن کا حق ہے ) قسم اللہ کی، اگر لوگوں نے مجھے بکری کا سال بھر سے چھوٹا بچہ بھی دینے سے روکا جسے وہ زکاۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ تو اس روکنے پر بھی میں ان سے ضرور لڑوں گا۔ ( عمر کہتے ہیں: ) قسم اللہ کی اس معاملے کو تو میں نے ایسا پایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے لیے شرح صدر بخشا ہے، اور میں نے سمجھ لیا کہ حق یہی ہے۔
Narrated by Aishah
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ أَوَكَانَ طَلاَقًا ‏.‏
Narrated 'Aishah:It was narrated that 'Aishah, may Allah be pleased with her, said: "The Messenger of Allah gave his wives the choice (of staying with him) was it divorce?
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا۔ کیا وہ طلاق تھا؟ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'None of you should perform Ghusl in standing water while he is Junub
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے اس حال میں کہ وہ جنبی ہو ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ طَلاَقُ السُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا فِي غَيْرِ جِمَاعٍ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah said:"The Sunnah divorce is to divorce her when she is pure (not menstruating) without having had intercourse with her
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنت یہ ہے کہ عورت کو طہر کی حالت میں بغیر جماع کیے ہوئے طلاق دے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا فَلْتَتْرُكِ الصَّلاَةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لْتَسْتَثْفِرْ بِالثَّوْبِ ثُمَّ لْتُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Umm Salamah that a woman suffered from constant bleeding during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), so Umm Salamah consulted the Prophet (ﷺ) for her. He said:"Let her count the number of nights and days that she used to menstruate each month before this happened to her, and let her stop praying for that period of time each month. Then when that is over let her perform Ghusl, then wrap a cloth around herself, and pray
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خون آتا تھا، تو انہوں نے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ان راتوں اور دنوں کی تعداد شمار کر کے رکھے جن میں اسے اس بیماری سے پہلے جو اسے لاحق ہوئی ہے حیض آتا تھا، اور اسی کے بقدر ہر مہینہ نماز چھوڑ دے، پھر جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کرے، پھر کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے پھر نماز پڑھے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَرِهَ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشِّكَالُ مِنَ الْخَيْلِ أَنْ تَكُونَ ثَلاَثُ قَوَائِمَ مُحَجَّلَةً وَوَاحِدَةٌ مُطْلَقَةً أَوْ تَكُونَ الثَّلاَثَةُ مُطْلَقَةً وَرِجْلٌ مُحَجَّلَةً وَلَيْسَ يَكُونُ الشِّكَالُ إِلاَّ فِي رِجْلٍ وَلاَ يَكُونُ فِي الْيَدِ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet used to dislike the Shikal among horses
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «شکال» گھوڑا ناپسند فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: گھوڑے کا «شکال» یہ ہے کہ اس کے تین پیر سفید ہوں اور ایک کسی اور رنگ کا ہو یا تین پیر کسی اور رنگ کے ہوں اور ایک سفید ہو، «شکال» ہمیشہ پیروں میں ہوتا ہے ہاتھ میں نہیں۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ وَأَنْبَأَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْمَرَهُ فِيهَا فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا كَثِيرًا لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُ فِيهَا قَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَتَصَدَّقَ بِهَا - عَلَى أَنَّهُ لاَ تُبَاعُ وَلاَ تُوهَبُ - فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لاَ جُنَاحَ - يَعْنِي - عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ اللَّفْظُ لإِسْمَاعِيلَ ‏.‏
It was narrated from Bishr, from Ibn 'Awn, from Nafi', from Ibn 'Umar who said:"Umar acquired some land at Khaibar. He came to the Prophet and consulted him about it. He said: 'I have acquired a great deal of land, and I have never acquired any wealth that is more precious to me than it. What do you command me to do with it?' He said: 'If you wish, you may freeze it and give it in charity.' So he gave it in charity on condition that it would not be sold or given away, and he gave it in charity to the poor, relatives, to emancipate slaves, for the cause of Allah, for wayfarers and guests. There is no sin -on the administrator- if he eats (from it) or feeds a friend, with no intention of becoming wealthy from it.'" These are the wordings of Isma'il
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کے بارے میں صلاح و مشورہ کرنے کے لیے آئے اور کہا: مجھے ایک ایسی بڑی زمین ملی ہے جس سے میری نظروں میں زیادہ قیمتی مال مجھے کبھی نہیں ملا تو آپ مجھے اس زمین کے بارے میں کیا حکم و مشورہ دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو اصل زمین کو روک کر وقف کر دو اور اس کی آمدنی کو صدقہ کر دو“۔ تو انہوں نے اس طرح صدقہ کر دیا کہ وہ بیچی نہ جا سکے گی اور نہ ھبہ کی جا سکے گی اور اس کی پیداوار اور آمدنی کو صدقہ کر دیا فقراء، قرابت داروں، غلاموں کو آزاد کرنے، اللہ کی راہ، مسافروں ( کی امداد ) میں اور مہمانوں ( کے تواضع ) میں۔ اور اس کے ولی ( نگراں و مہتمم ) کے اس میں سے کھانے اور اپنے دوست کو کھلانے میں کوئی حرج و مضائقہ نہیں ہے لیکن ( اس کے ذریعہ سے ) مالدار بننے کی کوشش نہ ہو، حدیث کے الفاظ راوی حدیث اسماعیل مسعود کے ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَوْلَهُ‏.‏
(The same) was narrated from Ibn 'Awn, from Nafi', from Ibn 'Umar
اس سند سے یہ ابن عمر سے موقوفاً روایت ہے ( یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ بَشِيرًا، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ نِحْلَةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَعْطَيْتَ لإِخْوَتِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَارْدُدْهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Hisham bin 'Urwah, from his father, that Bashir came to the Prophet and said:"O Prophet of Allah, I have given An-Nu'man a present." He said: "Have you given something to his brothers?" He said: "No." He said: "Then take it back
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے نبی! میں نے ( اپنے بیٹے ) نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اس کے بھائیوں کو بھی دیا ہے؟“، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”جو دیا ہے اسے واپس لے لو“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبٌ، - وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ - قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، - هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، - وَهُوَ الأَوْزَاعِيُّ - أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ بِالصَّدَقَةِ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ فَأَكَلَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet said:"The likeness of the one who gives a gift then takes it back, is that of a dog which vomits, then goes back to its vomit and eats it
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دے کر واپس لینے والے کی مثال کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے اور دوبارہ اسی قے کو کھا لیتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لاَ تَحِلُّ الرُّقْبَى وَلاَ الْعُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ وَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ ‏.‏
(A different chain) from Sufyan, from Abu Az-Zubair, from Tawus, from Ibn 'Abbas, who said:"Ruqba and 'Umra are not permissible; whoever is given something on the basis of 'Umra, it is his, and whoever is given something on the basis of Ruqba, it is his
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رقبیٰ اور عمریٰ جائز نہیں ہیں ۱؎ لیکن اگر کسی نے کوئی چیز عمریٰ کسی کو دی تو وہ اسی کی ہو جائے گی جسے عمریٰ میں دی گئی ہے، اور جس نے کسی کو کوئی چیز رقبیٰ کی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی جسے اس نے رقبیٰ کی ہے۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، - هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet said:"Indeed 'Umra is permissible
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا ‏.‏
It was narrated from 'Umar that the Prophet said:"Allah forbids you to swear by your forefathers." 'Umar said: "By Allah, I never swore by them again, whether saying it for myself or reporting of others
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ ۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد پھر کبھی میں نے خود اپنی بات بیان کرتے ہوئے یا دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے ان کی قسم نہیں کھائی۔
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَذَكَرَتْ نَحْوَهُ وَقَالَتْ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ فَاسْتَأْذَنَتْ فَأَذِنَ لَهَا فَدَخَلَتْ فَقَالَتْ نَحْوَهُ ‏.‏ خَالَفَهُمَا مَعْمَرٌ رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah mentioned a similar report and said:"The wives of the Prophet sent Zainab and she asked him permission to enter and she entered." And she said something similar. Ma'mar contradicted the two of them; he reported it from Az-Zuhri, from 'Urwah, from 'Aishah
اس سند سے بھی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا اور وہ اس میں ( صرف اتنا ) کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے زینب کو بھیجا تو انہوں نے اجازت طلب کی، آپ نے انہیں اجازت دی، پھر وہ اسی طرح آگے کہتی ہیں، معمر نے اس کے برعکس عن الزہری، عن عروۃ، عن عائشہ کہہ کر روایت کی ہے۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏ جَمَعَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا ‏.‏
Abu Hurairah narrated that :The Messenger of Allah [SAW] said: "I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship but Allah). Whoever says La ilaha illallah, his wealth and his life are safe from me except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو ‏‏ "‏‏ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْهَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
Abdullah bin Abi Awfa narrated that the Prophet (ﷺ) would supplicate:"Allahumma tahhirni min adh-dhunub wal-khataya. Allahumma naqqini minha kama yunaqqa ath-thawb al-abyad min ad-danas, Allahumma tahhirni bith-thalji wal-barad wal-ma' al-barid (O Allah, purify me of sin and error, O Allah cleanse me of it as a white garment is cleansed of dirt, O Allah purify me with snow and hail and cold water)
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دے، اے اللہ! مجھے اس سے اسی طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى بَعِيرًا فَأَخَذَ مِنْ سَنَامِهِ وَبَرَةً بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنَ الْفَىْءِ شَىْءٌ وَلاَ هَذِهِ إِلاَّ الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:the Messenger of Allah went to a camel, and took a hair from its hump between his fingers and said: "I am not entitled to take anything from the Fay, not even this, except the Khumus, and the Khumus will come back to you
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عَلَيْكَ بِالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَعُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"You have to obey when you feel energetic and when you feel tired, during your ease and your hardship, and when others are preferred over you
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لاَ يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Umma Kurz that the Messenger of Allah said:"For a boy, two sheep, and or a girl, one sheep, and it does not matter if they are male or female
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَمِيلٌ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ كُنَّا نَعْتِرُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَىِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Nubaishah said:"It was said to the prophet: 'During the Jahiliyyah we used to offer the 'Atirah.' He said: 'Slaughter for the sake of Allah, the Mighty and sublime, no matter what month it is; do good for the sake of Allah, the Mighty and sublime, and feed the poor
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْكَلْبِ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَكُلْ وَإِنْ وَجَدْتَ كَلْبًا آخَرَ مَعَ كَلْبِكَ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:"I asked the Messenger of Allah about dogs and he said: 'If you release your dog and say the name of Allah, then eat, but if you find another dog with your dog then do not eat, for you only said the name of Allah over your dog, not any other
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحَرَ يَوْمَ الأَضْحَى بِالْمَدِينَةِ - قَالَ - وَقَدْ كَانَ إِذَا لَمْ يَنْحَرْ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that:the Messenger of Allah offered the sacrifice obn the Day of Sacrifice in Al-Madinah. He said: "if he did not offer the Nahr (sacrifice a camel) he would have offered Dhabihah (Sacrificed a sheep) at the prayer place
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ الرِّبَا فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: "There will come a time when there will be no one left who does not consume Riba, and whoever does not consume it will nevertheless be affected by residue." (Sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الأَوْزَاعِيَّ، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّلاَةَ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم أَوَّلَ مَا فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أُتِمَّتْ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ عَلَى الْفَرِيضَةِ الأُولَى ‏.‏
Abu 'Amr - meaning, Al-Awza'i - said that he asked Az-Zuhri about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) in Makkah before the Hijrah to Al-Madinah. He said:"Urwah told me that 'Aishah said: 'Allah enjoined the salah upon the Messenger of Allah (ﷺ), and the first thing that He enjoined was two Rak'ahs at a time, then it was made complete four Rak'ahs while in the state of residence but the prayer when traveling remained two Rak'ahs, as it was first enjoined
ولید کہتے ہیں کہ ابوعمرو اوزاعی نے مجھے خبر دی ہے کہ انہوں نے زہری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا کہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مکہ میں آپ کی نماز کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے خبر دی ہے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر دو دو رکعت نماز فرض کی، پھر حضر میں چار رکعت کر کے انہیں مکمل کر دی، اور سفر کی نماز سابق حکم ہی پر برقرار رکھی گئی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ وَحَسِبْتُ قَالَ وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُمَا قَالاَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَالِكَ ثُمَّ إِذَا بِمُحَيِّصَةَ يَجِدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلاً فَدَفَنَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ - وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ - فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَبِّرِ الْكُبْرَ فِي السِّنِّ ‏"‏ ‏.‏ فَصَمَتَ وَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مَعَهُمَا فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ فَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَاتِلَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ قَالَ ‏"‏ فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ عَقْلَهُ ‏.‏
It was narrated from Yahya, from Bushair bin Yasa, from Sahl bin Abi Hathmah who said - and I think he said:and from Rafi bin Khadij, the two of them said - :"Abdullah bin Sahl bin Zaid and Muhayysah bin Mas'ud went out until when they reached Khaibar, they went their separate ways. Then Muhayysah found 'Abdullah bin Sahl slain, so he buried him. Then he came to the Mesenger of Allah, along with Huwayysah bin Mas'ud and 'Abdur-Rahman bin Sahl, who was the youngest of them, 'Abdur-Rahman started to speak before his two companions, but the Messenger of Allah said to him: "Let the clear speak first." So he fell silent and his two companions spoke, then he spoke with them. They told the Messenger of Allah about the killing of 'Abdullah bin Sahl, and he said to them: "Will you swear fifty oaths, then you will receive compensation, or be entitled to retaliate?" They said: "How can we swear an oath when we did not witness what happened?" he said: "Then can the Jews swear fifty oaths declaring their innocence?" They said: "How can we accept the oath of a disbelieving people?" When the Messenger of Allah saw that, he paid the blood money (himself)
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَبَسَ رَجُلاً فِي تُهْمَةٍ ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ ‏.‏
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, from his grandfather, that:the Messenger of Allah detained a man who was under suspicion, and then he let him go. (Hssan)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي، ذَرٍّ قَالاَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ أَصْحَابِهِ فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلاَ يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ كَانَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسِهِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهًا وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يَمَسَّهَا دَنَسٌ حَتَّى سَلَّمَ فِي طَرَفِ الْبِسَاطِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ ‏.‏ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ قَالَ أَدْنُو يَا مُحَمَّدُ قَالَ ‏"‏ ادْنُهْ ‏"‏ ‏.‏ فَمَا زَالَ يَقُولُ أَدْنُو مِرَارًا وَيَقُولُ لَهُ ‏"‏ ادْنُ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَا الإِسْلاَمُ قَالَ ‏"‏ الإِسْلاَمُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ صَدَقْتَ ‏.‏ فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الرَّجُلِ صَدَقْتَ أَنْكَرْنَاهُ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَا الإِيمَانُ قَالَ ‏"‏ الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ صَدَقْتَ ‏.‏ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَا الإِحْسَانُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ صَدَقْتَ ‏.‏ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَتَى السَّاعَةُ قَالَ فَنَكَسَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا وَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ‏"‏ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَلَكِنْ لَهَا عَلاَمَاتٌ تُعْرَفُ بِهَا إِذَا رَأَيْتَ الرِّعَاءَ الْبُهُمَ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ مُلُوكَ الأَرْضِ وَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّهَا خَمْسٌ لاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ اللَّهُ ‏{‏ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ لاَ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ هُدًى وَبَشِيرًا مَا كُنْتُ بِأَعْلَمَ بِهِ مِنْ رَجُلٍ مِنْكُمْ وَإِنَّهُ لَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ نَزَلَ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah and Abu Dharr said:"The Messenger of Allah [SAW] would sit among his Companions and if a stranger came, he would not know which of them was he (the Prophet [SAW]) until he asked. So we suggested to the Messenger of Allah [SAW] that we should make a dais for him so that any stranger would know him if he came to him. So we built for him a bench made of clay on which he used to sit. (One day) we were sitting and the Messenger of Allah [SAW] was sitting in his spot, when a man came along who was the most handsome and good-smelling of all people, and it was as if no dirt had ever touched his garments. He came near the edge of the rug and greeted him, saying: 'Peace be upon you, O Muhammad!' He returned the greeting, and he said: 'Shall I come closer, O Muhammad?' He came a little closer, and he kept telling him to come closer, until he put his hands on the knees of the Messenger of Allah [SAW]. He said: 'O Muhammad, tell me, what is Islam?' He said: 'Islam means to worship Allah and not associate anything with Him; to establish Salah, to pay Zakah, to perform Hajj to the House, and to fast Ramadan.' He said: 'If I do that, will I have submitted (be a Muslim)?' He said: 'Yes.' He said: 'You have spoken the truth,' we found it odd. He said: 'O Muhammad, tell me, what is faith?' He said: 'To believe in Allah [SWT], His Angels, the Book, the Prophets, and to believe in the Divine Decree.' He said: 'If I do that, will I have believed?' The Messenger of Allah [SAW] said: 'Yes.' He said: 'You have spoken the truth.' He said: 'O Muhammad, tell me, what is Al-Ihsan?' He said: 'To worship Allah [SWT] as if you can see Him, for although you cannot see Him, He can see you.' He said: 'You have spoken the truth.' He said: 'O Muhammad, tell me about the Hour.' He lowered his head and did not answer. Then he repeated the question, and he did not answer. Then he repeated the question (a third time) and he did not answer. Then he raised his head and said: 'The one who is being asked does not know more than the one who is asking. But it has signs, by which it may be known. When you see the herdsmen competing in building tall buildings, when you see the barefoot and naked ruling the Earth, when you see a woman giving birth to her mistress. Five things which no one knows except Allah [SWT]. Verily, Allah, with Him (alone) is the knowledge of the Hour up to His saying: 'Verily, Allah is All-Knower, All-Aware (of things).' Then he said: 'No, by the One who sent Muhammad with the truth, with guidance and glad tidings, I did not know him more than any man among you. That was Jibril, peace be upon you, who came down in the form of Dihyah Al-Kalbi
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If it is very hot, wait until it cools down before you pray, for intense heat is a breeze from Hell
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَعْفُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Let the beard grow and trim the mustache
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الإِمَارَةِ وَإِنَّهَا سَتَكُونُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَةُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ ‏"‏‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that :The Prophet [SAW] said: "You will be keen for governorship but it will be regret and loss on the Day of Resurrection. What a good position it is when they are alive, but how miserable their state when they die (and leave it behind)
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ التِّرْمِذِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ ‏.‏ قَالَ عُقْبَةُ فَأَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِهِمَا فِي صَلاَةِ الْغَدَاةِ ‏.‏
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir that :He asked the Messenger of Allah [SAW] about Al-Mu'awwidhatain. 'Uqbah said: "The Messenger of Allah [SAW] recited them when he led us in Salah Al-Ghadah (As-Subh)
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ هُوَ الْخَمْرُ ‏"‏‏.‏
It was narrated from Jabir that:The Prophet [SAW] said: "Raisins and dried dates are Khamr
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ، أَخْبَرَهُ - وَكَانَ، يَتِيمًا فِي حَجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حَتَّى جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ - قَالَ قُلْتُ لأَبِي مَحْذُورَةَ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَأَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ قَالَ لَهُ خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ مَقْفَلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ حُنَيْنٍ فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالصَّلاَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْهُ مُتَنَكِّبُونَ فَظَلِلْنَا نَحْكِيهِ وَنَهْزَأُ بِهِ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا حَتَّى وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَشَارَ الْقَوْمُ إِلَىَّ وَصَدَقُوا فَأَرْسَلَهُمْ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي فَقَالَ ‏"‏ قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُمْتُ فَأَلْقَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ قَالَ ‏"‏ قُلِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ارْجِعْ فَامْدُدْ صَوْتَكَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ قُلْ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَىْءٌ مِنْ فِضَّةٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلاَةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abdul-'Aziz bin 'Abdul-Malik bin Abu Mahdhurah narrated that 'Abdullah bin Muhairiz - who was an orphan under the care of Abu Mahdhurah until he prepared him to go to Ash-Sham - informed him:he said: "I said to Abu Mahdhurah: 'I am going to Ash-Sham and I am afraid that I will be asked about how you say the Adhan. "'He told me that Abu Mahdhurah said to him, I went out with a group of people and we were somewhere on the road to Hunain when the Messenger of Allah (S.A.W) was coming back from Hunain. The Messenger of Allah met us somewhere on the road and the Muadhdhin of the Messenger of Allah called the Adhan for prayer in the presence of the Messenger of Allah (S.A.W). We heard the voice of the Muadh'dhin and we were careless about it (the Adhan), so we started yelling, immitating and mocking it. The Messenger of Allah (S.A.W) heard us, so he sent some people who brought us to stand in front of him. He said, 'Who is the one whose voice I heard so loud?' The people all pointed to me, and they were telling the truth. He sent them all away, but kept me there and said to me: 'Stand up and call the Adhan for the Prayer.' I stood up and the Messenger of Allah (S.A.W) taught me the Adhan himself. He Said, 'Say: 'Allahu Akbar, Allahu akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar; Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu an la ilaha illallah; Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah (Allah is the Greatest,Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, Allah is the Greatest; I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, I bear witness that there is none worthy of worship except Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger Allah,I bear witness that Muhammad is the Messenger Allah).' Then he said: 'Then repeat and say in a loud voice:Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu an la ilaha illallah; Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah; Hayya 'alas-salah, Hayya 'ala-salah; Hayya 'alal-falah Hayya 'alal-falah; Allahu Akbar, Allahu Akbar; La ilaha ill-Allah (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, I bear witness that there is none worthy of worship except Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to prayer, come to prayer; come to prosperity, come to prosperity; Allah is the Greatest, Allah is the Greatest; there is none worthy of worship except Allah).' Then he called me when I had finished saying the Adhan, and he gave me a bundle in which there was some silver. I said: 'O Messenger of Allah (S.A.W), let me be the one doing the Adhan in Makkah.' He said: 'I command you to do so.' Then I came to 'Attab bin Asid who was the governor of the Messenger of Allah (S.A.W) in Makkah, and I called the Adhan for prayer with him upon the orders of the Messenger of Allah (S.A.W)
(عبداللہ بن محیریز جو ابومحذورہ کے زیر پرورش ایک یتیم کے طور پر رہے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ان کے شام کے سفر کے لیے سامان تیار کیا ) کہتے ہیں کہ میں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں شام جا رہا ہوں، اور میں ڈرتا ہوں کہ آپ کی اذان کے متعلق مجھ سے کہیں سوال کیا جائے ( اور میں جواب نہ دے پاؤں، اس لیے مجھے اذان سکھا دو ) ، تو آپ نے کہا: میں چند لوگوں کے ساتھ نکلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حنین سے لوٹتے وقت ہم حنین کے راستہ میں تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے میں ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ہی ) اذان دی، ہم نے مؤذن کی آواز سنی، تو ہم اس کی نقل اتارنے، اور اس کا مذاق اڑانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سنی تو ہمیں بلوایا تو ہم آ کر آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: میں نے ( ابھی ) تم میں سے کس کی آواز سنی ہے؟ تو لوگوں نے میری جانب اشارہ کیا، اور انہوں نے سچ کہا تھا، آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا، اور مجھے روک لیا اور فرمایا: اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو، تو میں اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے اذان سکھائی، آپ نے فرمایا: کہو: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ اپنی آواز کھینچو ( بلند کرو ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»،«أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ»، پھر جس وقت میں نے اذان پوری کر لی تو آپ نے مجھے بلایا، اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے مکہ میں اذان دینے پر مامور فرما دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس کے لیے مامور کر دیا ، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ آیا تو میں نے ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی۔
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، مَوْلَى الْجُهَنِيِّينَ وَكَانَا مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آخِرُ الأَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدُهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَمْ نَشُكَّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمُنِعْنَا أَنْ نَسْتَثْبِتَ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي ذَلِكَ الْحَدِيثِ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ وَتَلاَوَمْنَا أَنْ لاَ نَكُونَ كَلَّمْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي ذَلِكَ حَتَّى يُسْنِدَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنْ كَانَ سَمِعَهُ مِنْهُ فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ جَالَسْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ الْحَدِيثَ وَالَّذِي فَرَّطْنَا فِيهِ مِنْ نَصِّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فَإِنِّي آخِرُ الأَنْبِيَاءِ وَإِنَّهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman and Abu 'Abdullah Al-Agharr, the freed slave of the Juhanis - better of whom were companions of Abu Hurairah - that they heard Abu Hurairah say:"One prayer in the Masjid of the Messenger of Allah (ﷺ) is better than one thousand prayers offered in other mosques, except Al-Masjid Al-Haram, for the Messenger of Allah (ﷺ) was the last of the prophets and his Masjid was the last of the Masjids." Abu Salamah and Abu 'Abdullah said: "We do not doubt that Abu Hurairah was speaking on the basis of the Hadith of the Messenger of Allah (ﷺ), but we could not verify that Hadith with Abu Hurairah before he died. Then we remembered that and we blamed one another for not having spoken to Abu Hurairah about that, so that he could attribute it to the Messenger of Allah (ﷺ) if he had indeed heard it from him. While we were arguing, we went and sat down with 'Abdullah bin Ibrahim bin Qariz, and we told him about the Hadith and how we had been negligent in not checking it with Abu Hurairah. 'Abdullah bin Ibrahim said to us: 'I bear witness that I heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: I am the last of the prophets and it is the last of the Masjids
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے سوائے خانہ کعبہ کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے ۱؎ ابوسلمہ اور ابوعبداللہ کہتے ہیں: ہمیں شک نہیں کہ ابوہریرہ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی بیان کرتے تھے، اسی وجہ سے ہم نے ان سے یہ وضاحت طلب نہیں کی کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے یا خود ان کا قول ہے، یہاں تک کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو ہم نے اس کا ذکر کیا تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے اس سلسلے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کیوں نہیں گفتگو کر لی کہ اگر انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اسے آپ کی طرف منسوب کریں، ہم اسی تردد میں تھے کہ ہم نے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کی مجالست اختیار کی، تو ہم نے اس حدیث کا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث پوچھنے میں جو ہم نے کوتاہی کی تھی دونوں کا ذکر کیا، تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہم سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: بلاشبہ میں آخری نبی ہوں، اور یہ ( مسجد نبوی ) آخری مسجد ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Were it not that it would be too difficult for my Ummah, I would have commanded them to use the Siwak at (the time of) every Salah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے باعث مشقت نہ سمجھتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لاَ يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلاَتَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Sahl bin Abi Hathmah said:"When anyone of you prays toward a Sutra, let him get close to it and not allow the Shaitan to sever his prayer for him
سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سترہ کی طرف ( رخ کر کے ) نماز پڑھے، تو اس سے قریب رہے کہ شیطان اس کی نماز باطل نہ کر سکے ۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلاَ يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلاَّ بِإِذْنِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Masud said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'A man should not be led in prayer in his place of authority, and no one should sit in his place of honor except with his permission
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی امامت ایسی جگہ نہ کی جائے جہاں اس کی سیادت و حکمرانی ہو، اور بغیر اجازت اس کی مخصوص نشست گاہ پر نہ بیٹھا جائے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكَادَ إِبْهَامَاهُ تُحَاذِي شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ‏.‏
It was narrated from Abdul-Jabbar bin Wa'il, from his father, that:He saw the Prophet (ﷺ), when he started to pray, raise his hands until his thumbs were almost level with his earlobes
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو یہاں تک اٹھاتے کہ آپ کے دونوں انگوٹھے آپ کے کانوں کی لو کے بالمقابل ہو جاتے۔