بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
25 hadith
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُمِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ وَلاَ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَلاَ ثِيَابَهُ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Prophet (ﷺ) was commanded to prostrate on seven parts of his body and not to tuck up his hair or his garment
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء ۱؎ پر سجدہ کریں، اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں ۲؎۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُجَالِدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ، - يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةً فَزَادَ فِيهَا أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ قُلْنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ قَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي فَعَلَ فَثَنَى رِجْلَهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ ‏"‏ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ لأَنْبَأْتُكُمْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ شَيْئًا فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ صَوَابٌ ثُمَّ يُسَلِّمْ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) prayed and did more or less (rak'ahs). When he had said the salam we said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), has there been some change concerning the prayer?' He said: 'Why are you asking?' So we told him what he had done. He turned back toward the Qiblah and prostrated two prostrations of forgetfulness, then he turned to face us and said: 'If there had been some change concerning the prayer I would have told you.' Then he said: 'Rather I am a human being and I forget as you forget. If any one of you is not sure about his prayer, let him estimate what he thinks is correct, and complete his prayer on that basis, then say the taslim and prostrate two prostrations of forgetfulness
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے اس میں کچھ بڑھا، یا گھٹا دیا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے پوچھا: اللہ کے نبی! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ تو ہم نے آپ سے اس چیز کا ذکر کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا، قبلہ رخ ہوئے، اور سہو کے دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اگر نماز کے متعلق کوئی نئی چیز ہوتی تو میں تمہیں اس کی خبر دیتا ، پھر فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی شک ہو جائے تو غور و فکر کرے، اور اس چیز کا قصد کرے جس کو وہ درست سمجھ رہا ہو، پھر وہ سلام پھیرے، پھر سہو کے دو سجدے کرے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ ‏.‏
It was narrated from Salim that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray two rak'ahs in his house after Jumu'ah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ يَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ قَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ ‏.‏
It was narrated that Abdullah bin Abi Qais said:"I asked Aishah: "How did the Messenger of Allah (ﷺ) recite at night- did he recite loudly or silently?" She said: 'He used to do both; sometimes he recited loudly and sometimes he recited silently
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کس طرح قرآت کرتے تھے، جہری یا سری؟ تو انہوں نے کہا: آپ ہر طرح سے پڑھتے، کبھی جہراً پڑھتے، اور کبھی سرّاً پڑھتے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ، قَالَتْ تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ لاَ تَغْسِلِ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ ‏.‏ فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا ‏"‏ ‏.‏ فَلاَ نَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِرَتْ مَا عُمِرَتْ ‏.‏
It was narrated from Abu Al-Hasan, the freed slave of Umm Qais bint Mihsan, that Umm Qais said:"My son died, and I felt very sad. I said to the one who was washing him: 'Do not wash my son with cold water and kill him." 'Ukashah bin Mihsan went to the Messenger of Allah and told him what she had said, and he smiled then said: "What did she say, may Allah give her long life?" And we do not know of any woman who lived as long as she lived
ام قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرا بیٹا مر گیا، تو میں اس پر رونے لگی اور اس شخص سے جو اسے غسل دے رہا تھا کہا: میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو کہ اس ( مرے کو مزید ) مارو، عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور آپ کو ان کی یہ بات بتائی تو آپ مسکرا پڑے، پھر فرمایا: کیا کہا اس نے؟ اس کی عمردراز ہو ، ( راوی کہتے ہیں ) تو ہم نہیں جانتے کہ کسی عورت کو اتنی عمر ملی ہو جتنی انہیں ملی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّيْنَا ‏.‏
It was narrated that Silah bin Zufar said:"I had Sahur with Hudhaifah, then we went out to the Masjid. We prayed the two Rakahs of Fajr, then the Iqamah for prayer was made, and we prayed
صلہ بن زفر کہتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی الله عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے، اور ہم نے فجر کی دونوں رکعتیں پڑھیں، ( اتنے میں ) نماز کھڑی کر دی گئی تو ہم نے نماز پڑھی۔
أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ هِلاَلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ لَهُ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ الْوَادِيَ فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ فَكَتَبَ عُمَرُ إِنْ أَدَّى إِلَيْكَ مَا كَانَ يُؤَدِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عُشْرِ نَحْلِهِ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ ذَلِكَ وَإِلاَّ فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ شَاءَ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father that his grandfather said:"Hilal came to the Messenger of Allah with one-tenth of the honey and asked him to protect a valley for him that was called Salabah. 'The Messenger of Allah protected that valley for him. When 'Umar bin Al-Khattab became the Khalifah, sufyan bin Wahb wrote the 'Umar and asked him (about that), and Umar wrote: 'If the gives me what he used to give to the Messenger of Allah, one-tenth of his honey, I will protect Salahab for him, otherwise they are just bees and anyone who wants to may eat of it
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے شہد کا دسواں حصہ لے کر آئے، اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اس وادی کو جسے سلبہ کہا جاتا ہے ان کے لیے خاص کر دیں ( اس پر کسی اور کا دعویٰ نہ رہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مذکورہ وادی ان کے لیے مخصوص فرما دی۔ پھر جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وھب نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے ( کہ یہ وادی ہلال رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے دی جائے یا نہیں ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب لکھا: اگر وہ اپنے شہد کا دسواں حصہ جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے ہمیں دیتے ہیں تو ”سلبہ“ کو انہیں کے پاس رہنے دیں، ورنہ وہ برسات کی مکھیاں ہیں ( پھول و پودوں کا رس چوس کر شہد بناتی ہیں ) جو چاہے اسے کھائے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، وَاللَّفْظُ، لَهُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ مُلَبِّدًا ‏.‏
It was narrated from Salim that his father said:"I saw the Messenger of Allah entering Ihram with his hair matted
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بالوں کو جمائے ہوئے لبیک پکار رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَذَكَرَ، آخَرَ قَبْلَهُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَوَلَّى النَّاسُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَاحِيَةٍ فِي اثْنَىْ عَشَرَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَفِيهِمْ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَأَدْرَكَهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ مَنْ لِلْقَوْمِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ طَلْحَةُ أَنَا ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَمَا أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ لِلْقَوْمِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ طَلْحَةُ أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَمَا أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَنَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ وَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَيُقَاتِلُ قِتَالَ مَنْ قَبْلَهُ حَتَّى يُقْتَلَ حَتَّى بَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَطَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ لِلْقَوْمِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ طَلْحَةُ أَنَا ‏.‏ فَقَاتَلَ طَلْحَةُ قِتَالَ الأَحَدَ عَشَرَ حَتَّى ضُرِبَتْ يَدُهُ فَقُطِعَتْ أَصَابِعُهُ فَقَالَ حَسِّ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ قُلْتَ بِسْمِ اللَّهِ لَرَفَعَتْكَ الْمَلاَئِكَةُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَدَّ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"On the day of Uhud, the people ran away, and the Messenger of Allah (ﷺ) was in one position among twelve men of the Ansar, one of whom was Talhah bin 'Ubaidullah. He said: 'Who will face the people?' Talhah said: 'I will.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Stay where you are.' One of the Ansar said: 'I will, O Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'You (go ahead).' So he fought until he was killed. Then he turned and saw the idolators. He said: 'Who will face the people?' Talhah said: 'I will'. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Stay where you are.' One of the Ansar said: 'I will, O Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'You (go ahead).' So he fought until he was killed. This carried on, and each man of the Ansar went out to face them and fought like the one before him, and was killed, until only the Messenger of Allah (ﷺ) and Talhah bin 'Ubaidullah were left. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who will face the people?' Talhah said: 'I will.' So Talhah fought like the eleven before him, until his hand was struck, and his fingers were cut off, and he exclaimed in pain. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If you had said Bismillah (in the Name of Allah), the angels would have lifted you up with the people looking on.' Then Allah drove back the idolators
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے، ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ انصاری صحابہ کے ساتھ ایک طرف موجود تھے انہیں میں ایک طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۱؎۔ مشرکین نے انہیں ( تھوڑا دیکھ کر ) گھیر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”ہماری طرف سے کون لڑے گا“؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں ( آپ کا دفاع کروں گا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جیسے ہو ویسے ہی رہو“ تو ایک دوسرے انصاری صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! میں ( دفاع کیلئے تیار ہوں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( لڑو ان سے ) تو وہ لڑے یہاں تک کہ شہید کر دیئے گئے“۔ پھر آپ نے مڑ کر ( سب پر ) ایک نظر ڈالی تو مشرکین موجود تھے آپ نے پھر آواز لگائی: ”قوم کی کون حفاظت کرے گا“؟ طلحہ رضی اللہ عنہ ( پھر ) بولے: میں حفاظت کروں گا، آپ نے فرمایا: ” ( تم ٹھہرو ) تم جیسے ہو ویسے ہی رہو“، تو دوسرے انصاری صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! میں قوم کی حفاظت کروں گا، آپ نے فرمایا: ”تم ( لڑو ان سے ) “ پھر وہ صحابی ( مشرکین سے ) لڑے اور شہید ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر ایسے ہی پکارتے رہے اور کوئی نہ کوئی انصاری صحابی ان مشرکین کے مقابلے کے لیے میدان میں اترتا اور نکلتا رہا اور اپنے پہلوں کی طرح لڑ لڑ کر شہید ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ بن عبیداللہ ہی باقی رہ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز لگائی۔ ”قوم کی کون حفاظت کرے گا“؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے ( پھر ) کہا: میں کروں گا ( یہ کہہ کر ) پہلے گیارہ ( شہید ساتھیوں ) کی طرح مشرکین سے جنگ کرنے لگ گئے۔ ( اور لڑتے رہے ) یہاں تک کہ ہاتھ پر ایک کاری ضرب لگی اور انگلیاں کٹ کر گر گئیں۔ انہوں نے کہا: «حس» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ( «حس» کے بجائے ) «بسم اللہ» کہتے تو فرشتے تمہیں اٹھا لیتے اور لوگ دیکھ رہے ہوتے“، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو واپس کر دیا ( یعنی وہ مکہ لوٹ گئے ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah said:"A previously married woman has more right to decide about herself (with regard to marriage) than her guardian, and a virgin should be asked for permission with regard to marriage, and her permission is her silence
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت اپنے ولی ( سر پرست ) کے بالمقابل اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری ( لڑکی ) سے اس کی شادی کی اجازت لی جائے گی۔ اور اس کی اجازت ( اس سے پوچھے جانے پر ) اس کا خاموش رہنا ہے“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَاشْتَرَطُوا الْوَلاَءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْوَلاَءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ وَضَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that she bought Barirah from some of the Ansar who stipulated that her Wala' should go to them. The Messenger of Allah said:"Al-Wala' is to the one who did the favor (of setting the slave free)." The Messenger of Allah gave her the choice, as her husband was a slave. And she gave some meat to 'Aishah as a gift, and the Messenger of Allah said: "Why don't you give me some of this meat?" 'Aishah said: "It was given in charity to Barirah." He said: "It is a charity for her, and a gift for us
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ کو کچھ انصاری لوگوں سے خریدا جنہوں نے ( اپنے لیے ) ولاء ( میراث ) کی شرط رکھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء ( میراث ) کا حقدار ولی نعمت ( آزاد کرانے والا ) ہوتا ہے“ ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( یعنی بریرہ کو ) اختیار دیا، اس کا شوہر غلام تھا ( اس نے اس حق کا اپنے حق میں استعمال کیا اور شوہر کو چھوڑ دیا ) ، اس نے ( بریرہ نے ) عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت کا ہدیہ بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گوشت میں ہمارے لیے بھی تو حصہ رکھنا تھا“، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ گوشت بریرہ کے پاس صدقہ آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بریرہ کے لیے صدقہ تھا لیکن ہمارے لیے ( صدقہ نہیں ) ہدیہ ہے“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ مَالَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ عَلَىَّ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ ‏.‏
Abdullah bin Ka'b bin Malik said:"I heard Ka'b bin Malik narrating his Hadith about when he stayed behind and did not join the Messenger of Allah on the campaign to Tabuk. (he said) I said: 'As part of my repentance I want to give my wealth in charity for Allah and His Messenger.' The Messenger of Allah said: 'Keep some of your wealth for yourself; that is better for you.' I said: 'I will keep for myself my share that is in Khaibar
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ( کہتے ہیں: ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا ( کچھ ) مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: تو میں اپنے پاس اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدِنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ قَتَادَةُ ‏"‏ وَأَبْوَالِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَخَرَجُوا إِلَى ذَوْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُؤْمِنًا وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَانْطَلَقُوا مُحَارِبِينَ فَأَرْسَلَ فِي طَلَبِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"Some people from 'Uraynah came to the Messenger of Allah [SAW], but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Messenger of Allah [SAW] said to them: 'Why don't you go out to our camels and drink their milk?'" - (one of the narrators) Qatadah said: 'And their urine.' - "So they went out to the camels of the Messenger of Allah [SAW], but when they recovered they killed the herdsman of the Messenger of Allah [SAW], who was a believer, and drove off the camels of the Messenger of Allah [SAW], and left as those at war. He sent (men) after them and they were caught. Then he had their hands and feet cut off, and branded their eyes
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، - وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى - وَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ وَأَذِنَ فِي الْخَيْلِ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"On the Day of Khaibar, the Messenger of Allah forbade the flesh of donkeys but he permitted the flesh of horses
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلاَثٍ ‏.‏
Ali bin Abi Talib Said:"The Messenger of Allah has forbidden you from eating the meat of your sacrificaial animals for more than three day." (Sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى بْنِ بُهْلُولٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدًا، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ وَالْمُلاَمَسَةُ أَنْ يَتَبَايَعَ الرَّجُلاَنِ بِالثَّوْبَيْنِ تَحْتَ اللَّيْلِ يَلْمِسُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِيَدِهِ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ الثَّوْبَ وَيَنْبُذَ الآخَرُ إِلَيْهِ الثَّوْبَ فَيَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ ‏.‏
<Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah forbade Munabadhah and Mulamash. Mulamasah is when two men trade garments with each other under cover of night, each man touching the garment of the other with his hand> and Munabadhah is when one man throws a garment to another and the other throws a garment to him, and they trade them with each other in that manner
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، بِمِثْلِ الَّذِي عَضَّ فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ دِيَةَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏
A similar report to that of the one who bit (another man) and his from tooth fell out was narrated from Ibn Ya'la from his father, in which the Prophet said:"There is no Diyah for you
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ أَبُو عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، أَنَّ امْرَأَةً، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تُقْطَعُ الْيَدُ فِي الْمِجَنِّ ‏"‏ ‏.‏
Aishah, the mother of the believers, narrated that the Messenger of Allah said:"The hand (of the thief) is not to be cut off for a shield
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ قَالَ إِلاَّ مِنْ دَاءٍ فَقَالَ نَعَمْ وَالْحَالُّ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ وَمَانِعُ الصَّدَقَةِ وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Awn, from Ash-Sha'bi, from Al-Harith, who said:"The Messenger of Allah [SAW] cursed the one who consumes Riba, the one who pays it, the one who writes it down and the one who witnesses it; the woman who does tattoos and the woman who has that done"- he said: "Unless it is done as a remedy;" he said: "Yes"- "the man who married a woman in order to divorce her so that she may go back to her first husband and the man (the first husband) for whom that is done; and the one who withholds Sadaqah (Zakah). And he used to forbid wailing (in mourning), but he did not say 'cursed
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْتَعِيذُ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَجَهْدِ الْبَلاَءِ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that :The Prophet [SAW] used to seek refuge from being destined to an evil end, from his enemies rejoicing in his misfortune, from being overtaken by destruction and from the difficult moment of a calamity
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلاَةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ فَقَدْ أَدْرَكَهَا إِلاَّ أَنَّهُ يَقْضِي مَا فَاتَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Salim that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Whoever catches up with a Rak'ah of one of the prayers has caught up with it, except that he has to make up the portion that he missed
سالم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی البتہ وہ چھٹی ہوئی رکعتوں کو پڑھ لے ۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الأَجْلَحِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ قَالَ ‏"‏ وَمَا هِيَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَمَّا الْبِتْعُ فَنَبِيذُ الْعَسَلِ وَأَمَّا الْمِزْرُ فَنَبِيذُ الذُّرَةِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَشْرَبْ مُسْكِرًا فَإِنِّي حَرَّمْتُ كُلَّ مُسْكِرٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Bakr bin Abi Musa narrated that his father said:"The Messenger of Allah [SAW] sent me to Yemen and I said: 'O Messenger of Allah, there are (different kinds of) drinks there, what should I drink, and what should I refrain from?' He said: 'What are they?' I said: 'Al-Bit' (mead) and Al-Mizr (beer).' He said: 'What are mead and beer?' I said: 'Mead is a drink made from honey and beer is a drink made from grains.' The Messenger of Allah [SAW] said: 'Do not drink any intoxicant, for I have forbidden all intoxicants
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هِلاَلُ بْنُ أُسَامَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُخْبِرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏
A similar Hadith was narrated from Abu Hurairah from Prophet (ﷺ)
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ قَزَعَةَ، مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عِكْرِمَةَ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُصَلِّي مَعَهُ ‏.‏
Ibn 'Abbas said:"I prayed beside the Prophet (ﷺ) and Aisha was behind us praying with us, and I was beside the Prophet (ﷺ) praying with him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہیں تھیں، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ نُفَيْلٍ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُورَةً فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ جَالِسٌ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلاً يَقْرَؤُهَا يُخَالِفُ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ لَهُ مَنْ عَلَّمَكَ هَذِهِ السُّورَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقُلْتُ لاَ تُفَارِقْنِي حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا خَالَفَ قِرَاءَتِي فِي السُّورَةِ الَّتِي عَلَّمْتَنِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْرَأْ يَا أُبَىُّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأْتُهَا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَحْسَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ ‏"‏ اقْرَأْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأَ فَخَالَفَ قِرَاءَتِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَحْسَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أُبَىُّ إِنَّهُ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهُنَّ شَافٍ كَافٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ ‏.‏
It was narrated that Ubayy bin Ka'b said:"The Messenger of Allah (ﷺ) taught me a surah, and when I was sitting in the masjid I heard a man reciting it in a way that was different from mine. I said to him: 'Who taught you this surah?' He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ).' I said: 'Stay with me until we go to the Messenger of Allah (ﷺ).' So we came to him and I said: 'O Messenger of Allah, this man recites a surah that you taught me differently.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Recite, O Ubayy.' So I recited it, and the Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'You have done well.' Then he said to the man: 'Recite.' So he recited it and it was different to my recitation. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'You have done well.' Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'O Ubayy, the Quran has been revealed with seven different modes of reciation, all of which are good and sound
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سورت پڑھائی تھی، میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اسی سورت کو پڑھ رہا ہے، اور میری قرآت کے خلاف پڑھ رہا ہے، تو میں نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، میں نے کہا: تم مجھ سے جدا نہ ہونا جب تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آ جائیں، میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ شخص وہ سورت جسے آپ نے مجھے سکھائی ہے میرے طریقے کے خلاف پڑھ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابی! تم پڑھو تو میں نے وہ سورت پڑھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت خوب ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: تم پڑھو! تو اس نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت خوب ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابی! قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، اور ہر ایک درست اور کافی ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: معقل بن عبیداللہ ( زیادہ ) قوی نہیں ہیں ۱؎۔