بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
28 hadith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith that:He saw the Prophet of Allah (ﷺ) raise his hands when he started to pray, and he narrated a similar report and added: "When he bowed he did likewise, and when he raised his head from bowing he did likewise, and when he raised his head from prostration he did likewise
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہو جاتے …. پھر آگے انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ فَقَالَ يَعْنِي نَقَصَتِ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ فَقَالَ ‏ "‏ أَصَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَقَامَ فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهَا ثُمَّ سَلَّمَ ‏.‏
It was narrated that Imran bin Husain said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said the salam after three rak'ahs of 'Asr, then he entered his house. A man called Al-Khibaq stood up and said: 'Has the prayer been shortened, O Messenger of Allah?' He came out angry, dragging his upper garment and said: 'Is he speaking the truth?' They said: 'Yes.' So he stood and prayed that rak'ah, then he said the salam, then prostrated twice, then he said the salam (again)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر آپ اپنے حجرے میں چلے گئے، تو آپ کی طرف اٹھ کر خرباق نامی ایک شخص گئے اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ تو آپ غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے، اور پوچھا: کیا یہ سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ کھڑے ہوئے، اور ( جو چھوٹ گئی تھی ) اسے پڑھایا پھر سلام پھیرا، پھر اس رکعت کے ( چھوٹ جانے کے سبب ) دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ بِـ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏}‏ وَ{‏ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ‏}‏ ‏.‏
It was narrated that Samurah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in Jumu'ah prayer: 'Glorify the Name of your Lord, the Most High'(Al-A'la 87) and: 'Has there come to you the narration of the overwhelming (i.e. the Day of Resurrection)?"(Al-Ghashiyah)
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلاَتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ ‏.‏
Abu Salamah narrated that Aishah told him:"The Prophet (ﷺ) did not die until most of his prayers were offered sitting down
ابن جریج سے روایت ہے کہ مجھے عثمان بن ابی سلیمان نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ ابوسلمہ نے انہیں خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ اپنی بیشتر نمازیں بیٹھ کر پڑھنے لگے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - وَهُوَ الأَزْرَقُ - عَنْ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلاَثَةُ أَوْلاَدٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلاَّ أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمُ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يُقَالُ لَهُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُونَ حَتَّى يَدْخُلَ آبَاؤُنَا فَيُقَالُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"There are no two Muslims, three of whose children die before reaching puberty, but Allah will admit them to Paradise by virtue of His mercy toward them. It will be said to them: 'Enter Paradise.' They will say: 'Not until our parents enter.' So it will be said: 'Enter Paradise, you and your parents
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان ماں باپ کے تین نابالغ بچے مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، تو وہ کہیں گے ( ہم نہیں داخل ہو سکتے ) جب تک کہ ہمارے والدین داخل نہ ہو جائیں، ( پھر ) کہا جائے گا: ( جاؤ ) اپنے والدین کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ‏.‏ رَفَعَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"Eat Sahur, for in Sahur there is blessing." (Sahih Mawquf) while Ibn Abi Laila narrated it in Marfu form:
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِيَدِهِ عَصًا وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قِنْوَ حَشَفٍ فَجَعَلَ يَطْعَنُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ فَقَالَ ‏ "‏ لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْ هَذَا إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ حَشَفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Awf bin Malik said:"The Messenger of Allah came out with a stick in his hand, and a man had hung up a bunch of dry and bad dates. He started hitting that bunch of dates and said: 'I wish that the one who gave this Sadaqah had given something better than this, for the one who gave these dry, bad dates will eat dry, bad dates on the Day of Resurrection
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی ( مسجد میں پہنچے ) وہاں ایک شخص نے سوکھی خراب کھجور کا ایک گچھا لٹکا رکھا تھا ۱؎ آپ اس گچھے میں ( لاٹھی سے ) کوچتے جاتے تھے، اور فرماتے جاتے تھے: ”یہ صدقہ دینے والا اگر چاہتا تو اس سے اچھی کھجوریں دے سکتا تھا، یہ صدقہ دینے والا قیامت میں اسی طرح کی سوکھی خراب کھجوریں کھائے گا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَادَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ مَا نَلْبَسُ إِذَا أَحْرَمْنَا قَالَ ‏ "‏ لاَ تَلْبَسِ الْقَمِيصَ وَلاَ الْعَمَائِمَ وَلاَ الْبَرَانِسَ وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ وَلاَ الْخِفَافَ إِلاَّ أَنْ لاَ يَكُونَ نِعَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ نِعَالٌ فَخُفَّيْنِ دُونَ الْكَعْبَيْنِ وَلاَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ أَوْ زَعْفَرَانٍ أَوْ مَسَّهُ وَرْسٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"A man came to the Prophet and said: 'What should we wear when we enter Ihram?' He said: 'Do not wear shirts, or 'Imamahs, or burnouses, or pants, or Khuffs unless there are no sandals; if there are no sandals, then wear Khuffs that come beneath the ankles. And (do not wear) any garment that has been dyed with Wars or saffron, or has been touched by Wars or saffron
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور اس نے پوچھا: جب ہم محرم ہوں تو کیا پہنیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنو، نہ عمامے ( پگڑیاں ) ، نہ ٹوپیاں، نہ پائجامے، نہ موزے البتہ اگر جوتے نہ ہوں تو ایسے موزے پہنو جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور نہ ورس اور زعفران لگے ہوئے کپڑے پہنو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَبَلَّغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ عِدْلُ مُحَرَّرٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Najih As-Sulami said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever shoots an arrow in the cause of Allah and it hits the target, it will raise him one level in Paradise.' That day I shot sixteen arrows that hit their targets." He said: "And I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever shoots an arrow in the cause of Allah, it is equal to the reward of freeing a slave
ابونجیح سلمی (عمرو بن عبسہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں ایک تیر لے کر پہنچا، تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ کا باعث بنا“ تو اس دن میں نے سولہ تیر پہنچائے، راوی کہتے ہیں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تو ( اس کا ) یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ فَلَمْ تَزَوَّجْهُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ فَقَالَتْ أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى وَأَنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدٌ ‏.‏ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏ "‏ ارْجِعْ إِلَيْهَا فَقُلْ لَهَا أَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى فَسَأَدْعُو اللَّهَ لَكِ فَيُذْهِبُ غَيْرَتَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ فَسَتُكْفَيْنَ صِبْيَانَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدٌ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلاَ غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ لاِبْنِهَا يَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَزَوَّجَهُ ‏.‏ مُخْتَصَرٌ ‏.‏
It was narrated from Umm Salamah, that when her 'Iddah had ended, Abu Bakr sent word to her proposing marriage to her, but she did not marry him. Then the Messenger of Allah sent 'Umar bin Al-Khattab with a proposal of marriage. She said:"Tell the Messenger of Allah that I am a jealous woman and that I have sons, and none of my guardians are present." He went to the Messenger of Allah and told him that. He said: "Go back to her and tell her: As for your saying that you are a jealous woman, I will pray to Allah for you to take away your jealousy. As for your saying that you have sons, your sons will be taken care of. And as for your saying that none of your guardians are present, none of your guardians, present or absent, would object to that." She said to her son: "O 'Umar, get up and perform the marriage to the Messenger of Allah," so he performed the marriage
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کی عدت پوری ہو گئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی شادی کا پیغام بھیجا۔ جسے انہوں نے قبول نہ کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنی شادی کا پیغام دے کر ان کے پاس بھیجا، انہوں نے ( عمر رضی اللہ عنہ سے ) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچا دو کہ میں ایک غیرت مند عورت ہوں ( دوسری بیویوں کے ساتھ رہ نہ پاؤں گی ) بچوں والی ہوں ( ان کا کیا بنے گا ) اور میرا کوئی ولی اور سر پرست بھی موجود نہیں ہے۔ ( جب کہ نکاح کرنے کے لیے ولی بھی ہونا چاہیئے ) عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کو یہ سب باتیں بتائیں، آپ نے ان سے کہا: ( دوبارہ ) ان کے پاس ( لوٹ ) جاؤ اور ان سے کہو: تمہاری یہ بات کہ میں ایک غیرت مند عورت ہوں ( اس کا جواب یہ ہے کہ ) میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے دعا کروں گا، اللہ تمہاری غیرت ( اور سوکنوں کی جلن ) دور کر دے گا، اور اب رہی تمہاری ( دوسری ) بات کہ میں بچوں والی عورت ہوں تو تم ( شادی کے بعد ) اپنے بچوں کی کفایت ( و کفالت ) کرتی رہو گی اور اب رہی تمہاری ( تیسری ) بات کہ میرا کوئی ولی موجود نہیں ہے ( تو میری شادی کون کرائے گا ) تو ایسا ہے کہ تمہارا کوئی ولی موجود ہو یا غیر موجود میرے ساتھ تمہارے رشتہ نکاح کو ناپسند نہ کرے گا ( جب عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب ان کے سامنے رکھا ) تو انہوں نے اپنے بیٹے عمر بن ابی سلمہ سے کہا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( میرا ) نکاح کر دو، تو انہوں نے ( اپنی ماں کا ) نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا، یہ حدیث مختصر ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لاَ تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet, said:Three Sunan were established because of Barirah. One of those Sunan was that she was set free and was given the choice concerning her husband; the Messenger of Allah said: 'Al Wala' is to the one who set the slave free;' and the Messenger of Allah entered when some meat was being cooked in a pot, but bread and some condiments were brought to him. He said: 'Do I not see a pot in which some meat is being cooked?' They said: 'Yes, O Messenger of Allah, that is meat that was given in charity to Barirah and you do not eat (food given in) charity.' The Messenger of Allah said: 'It is charity for her and a gift for us
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے تین سنتیں تھیں ۱؎، ایک یہ کہ وہ لونڈی تھیں آزاد کی گئیں، ( آزادی کے باعث ) انہیں ان کے شوہر کے سلسلہ میں اختیار دیا گیا ( اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدگی اختیار کر لینے کا ) اور ( دوسری سنت یہ کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء ( میراث ) آزاد کرنے والے کا حق ہے“، اور ( تیسری سنت یہ کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ان کے ) گھر گئے ( اس وقت ان کے یہاں ) ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا، آپ کے سامنے روٹی اور گھر کے سالنوں میں سے ایک سالن پیش کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے گوشت کی ہنڈیا نہیں دیکھی ہے؟“ ( تو پھر گوشت کیوں نہیں لائے؟ ) لوگوں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! ( آپ نے صحیح دیکھا ہے ) لیکن یہ گوشت وہ ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں ملا ہے اور آپ صدقہ نہیں کھاتے ( اس لیے آپ کے سامنے گوشت نہیں رکھا گیا ہے ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے صدقہ ہے لیکن ( جب تم اسے مجھے پیش کرو گے تو ) وہ میرے لیے ہدیہ ہو گا ( اس لیے اسے پیش کر سکتے ہو ) “ ۳؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، - وَهُوَ ابْنُ السَّائِبِ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏وَلاَ تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ‏}‏ وَ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا‏}‏ قَالَ اجْتَنَبَ النَّاسُ مَالَ الْيَتِيمِ وَطَعَامَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاَحٌ لَهُمْ خَيْرٌ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏لأَعْنَتَكُمْ‏}‏‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"When these Verses were revealed - 'And come not near to the orphan's property, except to improve it,' and 'Verily, those who unjustly eat up the property of orphans' - the people avoided the property and food of the orphans. That caused hardship to the Muslims and they complained about that to the Prophet. Then Allah revealed: 'And they ask you concerning orphans. Say: The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers. And Allah knows him who means mischief (e.g. to swallow their property) from him who means good (e.g. to save their property). And if Allah had wished, He could have put you into difficulties
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «‏ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» ”یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو ( یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ) “ ( الأنعام: ۱۵۲ ) اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» ”اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں ( وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں“ ( النساء: ۱۰ ) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب جانے ( اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالنے ) اور ان کا مال کھانے سے بچنے لگے۔ تو یہ چیز مسلمانوں پر شاق ( دشوار ) ہو گئی، چنانچہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير‏» سے «‏لأعنتكم» ”اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ اور حکمت والا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۰ ) تک نازل فرمائی ۳؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، - وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ - عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَلَمْ تَقْضِهِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ اقْضِهِ عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"Sa'd bin 'Ubadah came to the Prophet and said: 'My mother died and she had sworn a vow, but she did not fulfill it.' He said: 'Fulfill it on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میری ماں مر گئیں، ان کے ذمے ایک نذر تھی جو انہوں نے پوری نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ان کی جانب سے تم پوری کر دو ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، مَوْلَى أَبِي قِلاَبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ وَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى ‏.‏ فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَصَحُّوا فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ فَأَخَذُوهُمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ وَنَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا ‏.‏
Anas bin Malik narrated that:A group of eighty people from 'Ukl came to the Prophet [SAW], but the climate of Al-Madinah did not suit them and they fell sick. They complained about that to the Messenger of Allah [SAW] and he said: "Why don't you go out with our herdsmen and drink the milk and urine of the camels?" They said: "Yes (we will do that)." They went out and drank some of the (camels') milk and urine, and they recovered. Then they killed the herdsman of the Messenger of Allah [SAW], so he sent (men after them) and they caught them and brought them back. He had their hands and feet cut off and branded their eyes, and left them in the sun to die
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ تِسْعَةٌ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ مَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَىَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَارِدٌ عَلَىَّ الْحَوْضَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Kab bin Ujrah said:"The Messenger of Allah came out to us, and there were nine of us. He said; 'After me there will be rulers, whoever believes in their lies and helps them in their wrongdoing is not of me, and I am not of him, and he will not come to me at the Cistern. Whoever does not believe their lies and does not help them in their wrongdoing, he is of me, and I am of hi, and he will come to me at the Cistern
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضَبٍّ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَيُقَلِّبُهُ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ أُمَّةً مُسِخَتْ لاَ يُدْرَى مَا فَعَلَتْ وَإِنِّي لاَ أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Thabit bin Wadi ah said:"A man brought a mastigure to the Messenger of Allah and he started looking at it, and turning it over. He said: 'A nation was transformed, it is not known what they did, and I do not know if this is one of them
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحَرَ بَعْضَ بُدْنِهِ بِيَدِهِ وَنَحَرَ بَعْضَهَا غَيْرُهُ ‏.‏
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that:the Messenger of Allah slaughtered some of his sacrificial animals with his won hand, and someone else slaughtered some of them. (Sahih)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَكْفِئَ بِهِ مَا فِي صَحْفَتِهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"No tow-dweller should sell for desert-dweller, no man should outbid his brother; and no woman should ask for her sister (in faith) to be divorced so as to turn over what is in her bowl (deprive her of her share of maintenance)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَاتَلَ رَجُلاً فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا فَأَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْبَكْرُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَطَلَّهَا أَىْ أَبْطَلَهَا ‏.‏
It was narrated from Ya'la bin Munyah that:a man from Banu Tamim fought with another man, and he bit his hand, so he pulled it away and a front tooth fell out. They referred the dispute to the Messenger of Allah, who said: "Would one of you bite his brother as a young camel bites?" and he thwarted it, meaning he judged it to be invalid
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يُقْطَعُ السَّارِقُ إِلاَّ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that:she heard the Messenger of Allah say: "The hand of the thief is not be cut off except for one-quarter of a Dinar or more
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ زَعْرَاءُ أَيَصْلُحُ أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِي فَقَالَ لاَ ‏.‏ قَالَتْ أَشَىْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ لاَ بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
It was narrated from Masruq that:A woman came to 'Abdullah bin Mas'ud and said: "I am a woman with little hair, is it alright for me to add extensions to my hair?" He said: "No." She said: "Is it something that you heard from the Messenger of Allah [SAW] or that you find in the Book of Allah?" He said: "No, rather I heard it from the Messenger of Allah [SAW] and I find it in the Book of Allah." And he quoted the Hadith
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ ‏ "‏ بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Umm Salamah that :When the Prophet [SAW] went out of his house, he said: "Bismillahi Rabbi! A'udhu bika min an azilla aw adilla aw azlima aw uzlama, aw ajhala aw yujhala 'alayya (In the name of Allah, my Lord, I seek refuge in You from falling into error or going astray, or wrongdoing (others) or being wronged, and from behaving or being treated in an ignorant manner
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي صَدَقَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعَصْرَ بَيْنَ صَلاَتَيْكُمْ هَاتَيْنِ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ - ثُمَّ قَالَ عَلَى إِثْرِهِ - وَيُصَلِّي الصُّبْحَ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray Zuhr when the sun passed its zenith, and he would pray 'Asr between these two prayers; and he would pray Maghrib when the sun had set, and he used to pray 'Isha' when the twilight had disappeared," then he said straight after that: "And he would pray Fajr when a man could see clearly
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، اور عصر تمہاری ان دونوں نمازوں ۱؎ کے درمیان پڑھتے تھے، اور مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈوب جاتا تھا، اور عشاء اس وقت پڑھتے تھے جب شفق غائب جاتی تھی، پھر اس کے بعد انہوں نے کہا: اور آپ فجر پڑھتے تھے یہاں تک کہ نگاہ پھیل جاتی تھی ۲؎۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ الأَيَامِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Musa said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Every intoxicant is unlawful
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said:"A man asked the Prophet (ﷺ): 'O Messenger of Allah, we travel by sea and we take a little water with us, but if we use it for Wudu', we will go thirsty. Can we perform Wudu', with sea-water?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Its water is a means of purification and its dead meat is permissible
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو صَخْرَةَ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا نُودِيَ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abu Sakhrah narrated that Abu Ash-Sha'tha' said:"A man left the Masjid after the call to prayer had been given, and Abu Hurairah said: 'This man has indeed disobeyed Abu Al-Qasim (S.A.W)
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک شخص نماز کی اذان ہو جانے کے بعد مسجد سے باہر نکلا، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ يَؤُمُّهُمْ فَأَخَّرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الصَّلاَةَ وَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ يَؤُمُّهُمْ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا سَمِعَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ تَأَخَّرَ فَصَلَّى ثُمَّ خَرَجَ فَقَالُوا نَافَقْتَ يَا فُلاَنُ ‏.‏ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا نَافَقْتُ وَلآتِيَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأُخْبِرُهُ ‏.‏ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَأْتِينَا فَيَؤُمُّنَا وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الصَّلاَةَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّى مَعَكَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ تَأَخَّرْتُ فَصَلَّيْتُ وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا وَسُورَةِ كَذَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Amr said:"I heard Jabir bin 'Abdullah say: 'Mu'adh used to pray with the Prophet (ﷺ) then he would go back to his people to lead them in a prayer. He stayed late one night and prayed with the Prophet (ﷺ) then he went back to his people to lead them in prayer, and he recited Surat Al-Baqarah. When a man from his people heard that, he stepped aside and prayed (on his own), then he left. They said: 'You have become a hypocrite, 0 so and-so!' He said: 'By Allah, I have not become a hypocrite, and I will go to the Prophet (ﷺ) and tell him (about that),' So he went to the Prophet and said: '0 Messenger of Allah(ﷺ), Muadh prays with you, then he comes to lead us in prayer. You delayed the prayer, and he prayed with you then he came back to lead us in prayer, and he started to recite Shut Al-Baqarah. When I heard that, I stepped aside and prayed by myself, because we are people who bring water with the camels and we work hard.' The Prophet (ﷺ) said to him: '0 Muadh, do you want to cause hardship to the people? Recite such and such a Surah, and such and such a Surah
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کی امامت کرتے، ایک رات انہوں نے نماز لمبی کر دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انہوں نے نماز پڑھی، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آ کر ان کی امامت کرنے لگے، تو انہوں نے سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی، جب مقتدیوں میں سے ایک شخص نے قرآت سنی تو نماز توڑ کر پیچھے جا کر الگ سے نماز پڑھ لی، پھر وہ ( مسجد سے ) نکل گیا، تو لوگوں نے پوچھا، فلاں! تو منافق ہو گیا ہے؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم میں نے منافقت نہیں کی ہے، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، اور آپ کو اس سے باخبر کروں گا ؛ چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر ہمارے پاس آتے ہیں، اور ہماری امامت کرتے ہیں، پچھلی رات انہوں نے نماز بڑی لمبی کر دی، انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر واپس آ کر انہوں نے ہماری امامت کی، تو سورۃ البقرہ پڑھنا شروع کر دی، جب میں نے ان کی قرآت سنی تو پیچھے جا کر میں نے ( تنہا ) نماز پڑھ لی، ہم پانی ڈھونے والے لوگ ہیں، دن بھر اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو تم ( نماز میں ) فلاں، فلاں سورت پڑھا کرو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْىُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَىَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلاً فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا ‏.‏
It was narrated from Aishah that:Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah (ﷺ): 'How does the Revelation come to you?' He said: 'Like the ringing of a bell, and this is the hardest on me. When it departs I remember what he said. And sometimes the Angel appears to me in the form of a man and speaks to me, and I remember what he said." Aishah said: "I saw him when the Revelation came to him on a very cold day, and his forhead was dripping with sweat
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبھی میرے پاس گھنٹی کی آواز کی شکل میں آتی ہے، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور کبھی میرے پاس فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے ۱؎ اور مجھ سے باتیں کرتا ہے، اور جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کڑکڑاتے جاڑے میں آپ پر وحی اترتے دیکھا، پھر وہ بند ہوتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔