بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
28 hadith
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ يُوسُفَ، - وَهُوَ ابْنُ مَاهِكٍ - يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمٍ، قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ أَخِرَّ إِلاَّ قَائِمًا ‏.‏
It was narrated that Abu Bushr said:"I heard Yusuf-meaning Ibn Mahak- narrating that Hakim said: 'I gave my pledge of allegiance to the Messenger of Allah (ﷺ), pledging that I would go down (in prostration) only after standing up from bowing
حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ میں کھڑے کھڑے ہی سجدے میں گروں گا ۱؎۔
Narrated by from Abu Hurairah
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
Narrated from Abu Hurairah:A similar report was narrated from Abu Hurairah from the Messenger of Allah (ﷺ)
محمد بن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ فَيَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ فَيُكَلِّمُهُ فَيَقُومُ مَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ إِلَى مُصَلاَّهُ فَيُصَلِّي ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) would come down from the minbar and a man would come to him and speak to him, then the Prophet (ﷺ) would listen to him until he gave him an answer, then he would go to his place of prayer and pray
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترتے پھر کوئی آدمی آپ کے سامنے آ جاتا تو آپ اس سے گفتگو کرتے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اپنی ضرورت پوری نہ کر لیتا یعنی اپنی بات ختم نہ کر لیتا، پھر آپ اپنی جائے نماز کی طرف بڑھتے، اور نماز پڑھاتے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قَالَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ مَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلاَتِهِ جَالِسًا إِلاَّ الْمَكْتُوبَةَ ‏.‏ خَالَفَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ وَقَالاَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏
It was narrated from Al-Aswad, that Umm Salamah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) did not pass away until most of his prayers were offered sitting down, except for the obligatory prayers
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں سوائے فرض نماز کے۔ شعبہ اور سفیان نے یونس بن شریک کی مخالفت کی ہے، ان دونوں نے اسے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ام سلمہ سے روایت کی۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلاَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah said: 'There is no Muslim, three of whose children die before reaching puberty, but Allah will admit him to Paradise by virtue of His mercy towards them
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ اسے ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ تَسَحَّرُوا ‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ لاَ أَدْرِي كَيْفَ لَفْظُهُ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah said:"Take Sahur." 'Ubaidullah said: "I do not know how he said it
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں سحری کھاؤ۔ عبیداللہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس کے الفاظ کیا تھے؟
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، - وَهُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ - عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِمَّا سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرَ وَفِيمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفَ الْعُشْرِ ‏.‏
It was narrated that Mu'adh said:"The Messenger of Allah sent me to Yemen and he commanded me to take one-tenth of whatever is irrigated by the sky, and half of one-tenth of whatever is irrigated by means of buckets
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ جسے آسمان کے پانی نے سینچا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں، اور جو پیداوار ڈولوں کے پانی سے ( سینچائی کر کے ) ہو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ لوں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ وَلاَ الْعَمَائِمَ وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ وَلاَ الْبَرَانِسَ وَلاَ الْخِفَافَ إِلاَّ أَحَدٌ لاَ يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلاَ تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلاَ الْوَرْسُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that:a man asked the Messenger of Allah what clothes the Muhrim should wear? The Messenger of Allah said: "Do not wear shirts, or 'Imamahs, or pants, or burnouses, or Khuffs except if someone does not have sandals, in which case let him wear Khuffs, and cut them so that they come below the ankles. And do not wear any garment that has been touched by (dyed with) saffron or Wars
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ، نہ پائجامے پہنو، نہ ٹوپیاں، اور نہ موزے پہنو، البتہ اگر کسی کو جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگی ہو“۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ هِلاَلٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلاً غَزَا يَلْتَمِسُ الأَجْرَ وَالذِّكْرَ مَا لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ شَىْءَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعَادَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ شَىْءَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلاَّ مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu 'Umamah Al-Bahili said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'What do you think of a man who fights seeking reward and fame - what will he have?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'He will not have anything.' He repeated it three times, and the Prophet (ﷺ) said to him: 'He will not have anything.' Then he said: 'Allah does not accept any deed, except that which is purely for Him, and seeking His Face
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے، اور شہرت و ناموری کا خواہشمند ہے، اسے کیا ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کچھ نہیں ہے“ ۱؎۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور اس سے اللہ کی رضا مقصود و مطلوب ہو“۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِزَيْدٍ ‏ "‏ اذْكُرْهَا عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زَيْدٌ فَانْطَلَقْتُ فَقُلْتُ يَا زَيْنَبُ أَبْشِرِي أَرْسَلَنِي إِلَيْكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُكِ ‏.‏ فَقَالَتْ مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَبِّي فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ بِغَيْرِ أَمْرٍ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"When the 'Iddah of Zainab was over, the Messenger of Allah said to Zaid: 'Propose marriage to her on my behalf.' Zaid went and said: 'O Zainab, rejoice, for the Messenger of Allah has sent me to you to propose marriage on his behalf.' She said: 'I will not do anything until I consult my Lord.' She went to her prayer place and Qur'an was revealed, then the Messenger of Allah came and entered upon her without any formalities
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہا کو ان کے پاس بھیجا کہ جا کر انہیں میرے لیے رشتہ کا پیغام دو۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گیا اور میں نے کہا: زینب خوش ہو جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: میں کچھ نہیں کرنے کی جب تک میں اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں ( یہ کہہ کر ) وہ اپنے مصلی پر ( صلاۃ استخارہ پڑھنے ) کھڑی ہو گئیں، ( ادھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ان سے آسمان پر ہی کر دیا ) ، اور قرآن نازل ہو گیا: «فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها» ( اس آیت کے نزول کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کسی حکم و اجازت ( یعنی رسمی ایجاب و قبول کے بغیر تشریف لائے، اور ) ان سے خلوت میں ملے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ أَفَكَانَ طَلاَقًا ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah gave his wives the choice; was that a divorce?
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو ( انتخاب کا ) اختیار دیا تو کیا یہ ( اختیار ) طلاق تھا؟ ( نہیں، یہ طلاق نہیں تھا ) ۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ أُمَّهُ، مَاتَتْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَأَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ سَقْىُ الْمَاءِ ‏"‏‏.‏ فَتِلْكَ سِقَايَةُ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ‏.‏
It was narrated from Sa'd bin 'Ubadah that his mother died. He said:"O Messenger of Allah, my mother has died; can I give charity on her behalf?" He said: "Yes." He said: "What kind of charity is best?" He said: "Providing drinking water." And that is the drinking-fountain of Sa'd in Al-Madinah
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ماں مر گئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، انہوں نے کہا: کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا“ تو یہ ہے مدینہ میں سعد رضی اللہ عنہ کی پانی کی سبیل۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَكِبَتِ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"A woman traveled by sea and vowed to fast for a month, but she died before she could fast. Her sister came to the Prophet and told him about that, and he told her to fast on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندر کا سفر کیا اور نذر مانی کہ وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی پھر وہ روزے رکھنے سے پہلے ہی مر گئی تو اس کی بہن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ وَهَنَاتٌ - وَرَفَعَ يَدَيْهِ - فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ يُرِيدُ تَفْرِيقَ أَمْرِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ جَمِيعٌ فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Arfajah bin Shuraih said:"The Prophet [SAW] said: 'After me there will be many calamities and much evil behavior.' He raised his hands (and said): 'Whomever you see trying to create division among the Ummah of Muhammad [SAW] when they are all united, kill him, no matter who he is among the people
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَمَّتِي، تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ عَمَلاً فَأَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرًا صَالِحًا إِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Al-Qasim bin Muhammad said:" I heard my paternal aunt say: 'The Messenger of Allah said; "Whoever among you is appointed to a position of authority. If Allah wills good for him. He will give him a righteous minister who will remind him if he forgets and help him if he remembers
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقِطًا وَسَمْنًا وَأَضُبًّا فَأَكَلَ مِنَ الأَقِطِ وَالسَّمْنِ وَتَرَكَ الأَضُبَّ تَقَذُّرًا وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"My maternal aunt gave some cottage cheese, cooking fat, and mastigures to the Messenger of Allah He ate some of the cottage cheese and cooking fat, and left the mastigures, as he found them distasteful. But they were eaten upon the table-spread of the Messenger of Allah and if they were Haram they would not have been eaten upon the table-spread of the Messenger of Allah and he would not have told others to eat them
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَكَانَ يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا ‏.‏
Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah used to sacrifice two pronounce the name of Allah and say: 'Allah Akabar,' and I saw him slaughtering them with his own hand, and placing his foot on their sides "(Sahih)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَبْتَاعَ أَوْ يَذَرَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah said:"Do not urge someone to cancel a sale he has already agreed upon so as to sell him your own goods, unless he bys or changes his mind
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ يَعْلَى، قَالَ فِي الَّذِي عَضَّ فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ دِيَةَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Imran bin Husain that:Ya'la said, concerning the one who bit (another), and his front tooth fell out, that the Prophet said: "There is no Diyah for you." (Sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ الْقَطْعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا ‏.‏
It was narrated from 'Amrah that she heard 'Aishah say:"The hand of the thief is to be cut off for one-quarter of a Dinar or more
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ ‏.‏ أَرْسَلَهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah [SAW] cursed the woman who affixes hair extensions and the woman who has that done, the woman who does tattoos and the woman who has that done
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَعَوَّذُ مُرْسَلٌ ‏.‏
It was narrated that 'Amr bin Maimun said:"The Prophet [SAW] used to seek refuge." Mursal
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رِجَالٍ، مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا أَسْفَرْتُمْ بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ بِالأَجْرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Mahmud bin Labid, from some men among his people who were of the Ansar, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The more you delay Fajr, the greater the reward
محمود بن لبید اپنی قوم کے کچھ انصاری لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنا تم فجر اجالے میں پڑھو گے، اتنا ہی ثواب زیادہ ہو گا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ فَقَالَ ‏ "‏ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏ وَالْبِتْعُ هُوَ نَبِيذُ الْعَسَلِ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that:The Prophet [SAW] was asked about mead and he said: "Every drink that intoxicates is unlawful." And mead is a drink made of honey
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"A Bedouin stood up and urinated in the Masjid, ans the people started shouting. The Messenger of Allah (ﷺ) said to them: 'Leave him alone, and spill a bucket of water over his urine. For you have been sent to make things easy for people, you have not been sent to make things difficult
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی اٹھا، اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو ( پیشاب کر لینے دو ) اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی کرنے والے بنا کر نہیں ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ كَهْمَسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ لِمَنْ شَاءَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Mughaffal said:"The Messenger of Allah (S.A.W) said: 'Between each two Adhans [1] there is a prayer, between each two Adhans there is a prayer, between each two Adhans there is a prayer, for whoever wants to do it." [1]Meaning, between the Adhan and Iqamah
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو اذان ۱؎ کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، جو چاہے اس کے لیے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ فَصَلَّى صَلاَةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) rode a horse and fell from it, and sustained an injury on his right side. He led one of the prayers sitting, and we prayed behind him sitting. When he had finished he said:"The Imam is appointed to be followed. If he prays standing then pray standing; when he bows, bow; when he says, Sami' Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), say 'Rabbana lakalhamd (Our Lord, to You be praise); and if he prays sitting then pray sitting, all of you
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ اس سے گر گئے اور آپ کے داہنے پہلو میں خراش آ گئی، تو آپ نے کچھ نمازیں بیٹھ کر پڑھیں، ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ سلام پھیر کر پلٹے تو فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم«ربنا لك الحمد» کہو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّ، أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى ‏.‏ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ فَقَالَ ‏"‏ مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ ‏"‏ مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعِ بْنِ عَفْرَاءَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ قُلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلاَثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Mu'adh bin Rifa'ah bin Rafi' that :His father said: "I prayed behind the Prophet (ﷺ) and I sneezed and said: 'Al-hamdu lillahi, hamdan kathiran tayiban mubarakan fih, mubarakan'alaihi, kama yuhibbu rabbuna wa yarda (Praise be to Allah, much good and blessed praise as our Lord loves and is pleased with.)' When he finished praying, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who is the one who spoke during the prayer?' But no one said anything. Then he said it a second time: 'Who is the one who spoke during the prayer?' So Rifa'ah bin Rafi bin Afrah said: 'It was me, O Messenger of Allah.' He said: 'I said: "Praise be to Allah, much good and blessed praise as our Lord loves and is pleased with.'" The Prophet (ﷺ) said: 'By the One in Whose hand is my soul, thirty-odd angels hastened to see which of them would take it up
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو مجھے چھینک آ گئی، تو میں نے «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے کہا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے، اور سلام پھیر کر پلٹے تو آپ نے پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے دوسری بار پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو رفاعہ بن رافع بن عفراء رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے کیسے کہا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا تھا: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے لے کر کون اوپر چڑھے ۔