أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ فَآخُذُ قَبْضَةً مِنْ حَصًى فِي كَفِّي أُبَرِّدُهُ ثُمَّ أُحَوِّلُهُ فِي كَفِّي الآخَرِ فَإِذَا سَجَدْتُ وَضَعْتُهُ لِجَبْهَتِي .
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"We used to pray Zuhr with the Messenger of Allah (ﷺ) and I would take a handful of pebbles in my hand to cool them down, then I would pass them from one hand to the other, and when I prostrated I would put them down to lay my forehead on them
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم ظہر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، میں نماز میں ہی ایک مٹھی کنکری اپنے ہاتھ میں لے لیتا، اسے ٹھنڈا کرتا، پھر اسے دوسرے ہاتھ میں پلٹ دیتا، تو جب سجدہ کرتا تو اسے اپنی پیشانی کے نیچے رکھ لیتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ نَحْوَهُ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ وَأَخْبَرَنِيهِ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ .
Abu Bakr bin Sulaiman bin Abi Hathmah narrated that:It was conveyed to him that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed two rak'ahs, and Dhul-Shimalain said something similar to him. (One of the narrators Ibn Shihab said: "Sa'eed bin Al-Musayyab informed me of this hadith from Abu Hurairah." He said: "And Abu Salamah bin 'Abdur Rahman, Abu Bakr bin 'Abdur Rahman, abu Bakr bin 'Abdur Rahman bin Al-Harith and 'Ubaidullah bin 'Abdullah informed me)
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی، تو ذوالشمالین نے آپ سے عرض کیا، آگے حدیث اسی طرح ہے۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطہ سے دی ہے، وہ ( زہری ) کہتے ہیں: نیز مجھے اس کی خبر ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اور عبیدالرحمن بن عبداللہ نے بھی دی ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ الْخُطْبَتَيْنِ وَهُوَ قَائِمٌ وَكَانَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجُلُوسٍ .
It was narrated from 'Abdullah that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to deliver two khutbahs standing, and he would separate them by sitting
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو خطبے دیتے تھے، ان دونوں کے بیچ میں بیٹھ کر فصل کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً .
It was narrated that Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite sitting, and when he wanted to bow he would stand up for as long as it takes a person to recite forty verses
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، تو جب آپ رکوع کرنا چاہتے تو آدمی کے چالیس آیتیں پڑھنے کے بقدر ( باقی رہنے پر ) کھڑے ہو جاتے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ، - وَهُوَ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ - عَنْ أَبِيهِ، رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ فَقَالَ لَهُ " أَتُحِبُّهُ " . فَقَالَ أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ . فَمَاتَ فَفَقَدَهُ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالَ " مَا يَسُرُّكَ أَنْ لاَ تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلاَّ وَجَدْتَهُ عِنْدَهُ يَسْعَى يَفْتَحُ لَكَ " .
Abu lyas Mu'awiyah bin 'Qurrah narrated from his father that:a man came to the Prophet accompanied by a son of his. He said to him: "Do you love him?" He said: "May Allah love you as I love him." Then he (the son) died and he noticed his absence and asked about him. He said: "Will it not make you happy to know that you will not come to any of the gates of Paradise but you will find him there, trying to open it for you?
قرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ساتھ اس کا بیٹا ( بھی ) تھا، آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا: اللہ آپ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پھر وہ ( لڑکا ) مر گیا، تو آپ نے ( کچھ دنوں سے ) اسے نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں ( اس کے باپ سے ) پوچھا ( تو انہوں نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے ) آپ نے فرمایا: کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہو گی کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ گے ( اپنے بچے ) کو اس کے پاس پاؤ گے، وہ تمہارے لیے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرے گا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشَّهْرُ هَكَذَا " . وَوَصَفَ شُعْبَةُ عَنْ صِفَةِ جَبَلَةَ عَنْ صِفَةِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فِيمَا حَكَى مِنْ صَنِيعِهِ مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا مِنْ أَصَابِعِ يَدَيْهِ .
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet said:"The month is like this," and (one of the narrators) Shubah did the same gesture as Jabalah had done, copying, Ibn 'Umar: "It is twenty-nine, as he gestured twice with all fingers of both hands, and putting down one of his fingers the third time
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے“۔ شعبہ نے جبلہ سے نقل کیا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ مہینہ انتیس دن کا ( بھی ) ہوتا ہے، اس طرح کہ انہوں نے دو بار اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا، اور تیسری بار ایک انگلی دبا لی۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ " .
It was narrated from Abu Sa'eed Al_khudri that the Prophet said:"No sadaqah is due on less than five Awaq, no Sadaqah is due on less than five Dhawd, no Sadaqah is due on less than five Awsuq
ابو سعید خدری رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں زکاۃ نہیں، اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے، اور نہ پانچ وسق سے کم غلہ میں زکاۃ ہے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لاَ يَجِدُ الإِزَارَ وَالْخُفَّيْنِ لِمَنْ لاَ يَجِدُ النَّعْلَيْنِ " . لِلْمُحْرِمِ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said; "I heard the Prophet delivering a khutbah and he said:'Pants (are allowed) for one who cannot find an Izar, and Khuffs for one who cannot find sandals to wear in Ihram.;;
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے: ”پائجامہ اس شخص کے لیے ہے جسے تہبند میسر نہ ہو، اور موزہ اس شخص کے لیے ہے جسے جوتے میسر نہ ہوں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَوَّلُ النَّاسِ يُقْضَى لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلاَثَةٌ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ . قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ فُلاَنٌ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ . قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ مَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلَمْ أَفْهَمْ تُحِبُّ كَمَا أَرَدْتُ " أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلاَّ أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ . قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنْ لِيُقَالَ إِنَّهُ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ فَأُلْقِيَ فِي النَّارِ " .
It was narrated from Abu Hurairah, that one of the people of Ash-Sham said to him:"O Shaikh, tell me of a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ)." (He said: "Yes; I heard the Messenger of Allah (ﷺ)) say: 'The first of people for whom judgment will be passed on the Day of Resurrection are three. A man who was martyred. He will be brought and Allah will remind him of His blessings and he will acknowledge them. He will say: What did you do with them? He will say: I fought for Your sake until I was martyred. He will say: You are lying. You fought so that it would be said that so-and-so is brave, and it was said. Then He will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire. And (the second will be) a man who acquired knowledge and taught others,and read Qur'an. He will be brought, and Allah will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. He will say: What did you do with them? He will say: I acquired knowledge and taught others, and read the Qur'an for Your sake. He will say: You are lying. You acquired knowledge so that it would be said that you were a scholar; and you read Qur'an so that it would be said that you were a reciter, and it was said. Then He will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire. And (the third will be) a man whom Allah made rich and gave him all kinds of wealth. He will be brought and Allah will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. he will say: What did you do with them? He will say: I did not leave any way that You like wealth to be spent - Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: I did not understand "what You like" as I wanted to [1] - "but I spent it." He will say: "You are lying. You spent it so that it would be said that he was generous, and it was said." Then he will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire.'" [1] That is, he did not hear or understand what came after it as well as he wanted to, but it was similar to what follows regarding the spending. Similar was stated by Shaikh 'Abdur-Rahman Al-punjani in his notes on the text, according to Al-Funjani in his commentary At-Ta'iqat As-Salafiyyah (2:)
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( کی مجلس ) سے لوگ جدا ہونے لگے، تو اہل شام میں سے ایک شخص نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: شیخ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث مجھ سے بیان کیجئے، کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن پہلے پہل جن لوگوں کا فیصلہ ہو گا، وہ تین ( طرح کے لوگ ) ہوں گے، ایک وہ ہو گا جو شہید کر دیا گیا ہو گا، اسے لا کر پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی ( ان ) نعمتوں کی پہچان کروائے گا ( جو نعمتیں اس نے انہیں عطا کی تھیں ) ۔ وہ انہیں پہچان ( اور تسلیم کر ) لے گا۔ اللہ ( اس ) سے کہے گا: یہ ساری نعمتیں جو ہم نے تجھے دی تھیں ان میں تم نے کیا کیا وہ کہے گا: میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ میں شہید کر دیا گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے۔ بلکہ تو اس لیے لڑاتا کہ کہا جائے کہ فلاں تو بڑا بہادر ہے چنانچہ تجھے ایسا کہا گیا ۱؎، پھر حکم دیا جائے گا: اسے لے جاؤ تو اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر لے جایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک وہ ہو گا جس نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا، اور قرآن پڑھا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ ( اس سے ) کہے گا: ان نعمتوں کا تو نے کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور اسے ( دوسروں کو ) سکھایا اور تیرے واسطے قرآن پڑھا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا: تو نے جھوٹ اور غلط کہا تو نے تو علم اس لیے سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے چنانچہ تجھے کہا گیا۔ پھر اسے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ چہرے کے بل گھسیٹ کر اسے لے جایا جائے گا یہاں تک کہ وہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا“۔ ایک اور شخص ہو گا جسے اللہ تعالیٰ نے بڑی وسعت دی ہو گی طرح طرح کے مال و متاع دیئے ہوں گے اسے حاضر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی عطا کردہ نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ ( اس سے ) کہے گا: ان کے شکریہ میں تو نے کیا کیا وہ کہے گا: اے رب! میں نے کوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جہاں تو پسند کرتا ہے کہ وہاں خرچ کیا جائے۔ مگر میں نے وہاں خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بکتا ہے، تو نے یہ سب اس لیے کیا کہ تیرے متعلق کہا جائے کہ تو بڑا سخی اور فیاض آدمی ہے چنانچہ تجھے کہا گیا، اسے یہاں سے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ چہرے کے بل گھسیٹتا ہوا اسے لے جایا جائے گا۔ اور لے جا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں «تحب» ( کا مفہوم ) جیسا میں چاہتا تھا سمجھ نہ سکا لیکن جو میں نے سمجھا وہ یہ ہے کہ استاذ نے «تحب» کے آگے «أن ينفق فيها» “ کہا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ حُذَافَةَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ . فَقَالَ سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ . فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَلَقِيتُهُ فَقَالَ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا . قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رضى الله عنه فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَىَّ شَيْئًا فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَخَطَبَهَا إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَىَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَىَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي حِينَ عَرَضْتَ عَلَىَّ أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا إِلاَّ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُهَا وَلَمْ أَكُنْ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكَهَا نَكَحْتُهَا .
It was narrated that 'Umar said:"Hafsah bint 'Umar became single when (her husband) Khunais -meaning bin Hudhafah- (died). He was one of the Companions of the Prophet who had been present at Badr, and he died in Al-Madinah. I met 'Uthman bin 'Affan and offered Hafsah in marriage to him. I said: 'If you wish, I will marry you to Hafsah.' He said: 'I will think about it.' A few days passed, then I met him and he said: 'I do not want to get married at the moment.'" 'Umar said: "Then I met Abu Bakr As-Siddiq, may Allah be pleased with him, and said: 'If you wish, I will marry Hafsah to you.' He did not give me any answer, and I felt more upset with him than I had with 'Uthman, may Allah be pleased with him. Several days passed, then the Messenger of Allah proposed marriage to her, and I married her to him. Abu Bakr met me and said: 'Perhaps you felt upset with me when you offered Hafsah in marriage to me and I did not give you an answer?' I said: 'Yes.' He said: 'Nothing prevented me from giving you an answer when you made the offer to me except the fact that I had heard the Messenger of Allah speak of her, and I did not want to disclose the secret of the Messenger of Allah; if he had left her, then I would have married her
(عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں، وہ خنیس بن حذافہ کے نکاح میں تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں موجود تھے، اور انتقال مدینہ میں فرمایا تھا ) ۔ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے ان کے سامنے حفصہ کا تذکرہ کیا، اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی شادی حفصہ سے کر دوں، انہوں نے کہا: میں اس پر غور کروں گا۔ چند راتیں گزرنے کے بعد میں ان سے ملا تو انہوں نے کہا: میں ان دنوں شادی کرنا نہیں چاہتا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے کہا: اگر آپ پسند کریں تو حفصہ کو آپ کے نکاح میں دے دوں تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے ان کے اس رویے سے عثمان رضی اللہ عنہ کے جواب سے بھی زیادہ غصہ آیا، پھر چند ہی دن گزرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے میرے پاس اپنا پیغام بھیجا تو میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ ( اس نکاح کے بعد ) ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا: جب آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا اور میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا، تو اس وقت آپ کو مجھ پر بڑا غصہ آیا ہو گا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب آپ نے مجھ پر حفصہ کا معاملہ پیش کیا تو میں نے آپ کو محض اس وجہ سے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا تذکرہ سن چکا تھا اور میں آپ کا راز افشاء کرنا نہیں چاہتا تھا، ہاں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شادی نہ کرتے تو میں ضرور ان سے شادی کر لیتا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَرْنَاهُ فَهَلْ كَانَ طَلاَقًا
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah gave us the choice and we chose him; was that a divorce?
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( ازواج مطہرات ) کو اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو چن لیا، تو کیا یہ طلاق ہوئی؟ ( نہیں، یہ طلاق نہیں ہوئی ) ۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، - هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ - عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ وَلَمْ تَقْضِهِ قَالَ " اقْضِهِ عَنْهَا ".
It was narrated that Ibn 'Abbas said:Sa'd bin 'Ubadah came to the Prophet and said: "My mother has died and she had a vow to fulfill but she did not do so." He said: "Fulfill it on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں انتقال کر گئی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے اور وہ اسے پوری نہیں کر سکی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم اسے ان کی طرف سے پوری کر دو“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى مِلَّةِ الإِسْلاَمِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَىْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ " .
It was narrated from Thabit bin Ad-Dahhak, that the Messenger of Allah said:"Whoever swears by a religion other than Islam, telling a lie, will be as he said, and whoever kills himself with something, he will be punished with it in the Hereafter, and there is no vow concerning that which a man does not possess
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی دین اسلام کے سوا کسی دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اسی طرح ہو گا جیسے اس نے کہا، اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کیا تو اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو ۔
أَخْبَرَنَا هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا عَمَّارُ أَمَا إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ إِلاَّ ثَلاَثَةٌ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ مَا أُحْصِنَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
It was narrated that 'Amr bin Ghalib said:"Aishah said: 'O 'Ammar! Do you not know that it is not permissible to shed the blood of a Muslim except in three cases: a life for a life, a man who commits adultery after being married
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ يَعْمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ وَالٍ إِلاَّ وَلَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ وَبِطَانَةٌ لاَ تَأْلُوهُ خَبَالاً فَمَنْ وُقِيَ شَرَّهَا فَقَدْ وُقِيَ وَهُوَ مِنَ الَّتِي تَغْلِبُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا " .
It was narrated that Abu Hurairah said " The Messenger of Allah said:'No ruler is appointed but he has tow groups of advisers: A group which urges him to do good and tells him not to do evil, and a group which does its best to corrupt him. Whoever is protected from their evil is indeed protected. And he (the ruler) belongs to the group that has the greater influence over him
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي الضَّبِّ قَالَ " لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلاَ مُحَرِّمِهِ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that a man said:"O Messenger of Allah what do you think about mastigures?" He said: "I do not eat them but I do not say that they arte Haram
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم اثْنَتَيْنِ فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ ثُمَّ لِيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ " .
It was narrated that Shadad bin Aws said:"I heard two things from the Messenger of Allah He said 'Allah, the Mighty and Sublime, ahs decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spear suffering to the animal he slaughter."" (Sahih)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلاَ يُصَلِّي حَتَّى يَتَوَضَّأَ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ هَذَا الْحَدِيثَ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
It was narrated from Busrah bin Safwan that the Prophet (ﷺ) said:"Whoever touches his penis, he should not perform Salah until he performs Wudu'." Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: Hisham bin 'Urwah did not hear this Hadith from his father
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے، تو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کر لے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: ہشام بن عروہ نے اس حدیث ۱؎ کو اپنے باپ سے نہیں سنا ہے، «واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم»۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَلَقُّوا الْجَلَبَ فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ " .
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Do and whoever meets any of them and buys from him the vendor has the choice of annulling the transaction when he comes to the marketplace
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَوْزَاءِ، قَالَ أَنْبَأَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ يَدَ رَجُلٍ فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ أَوْ قَالَ ثَنَايَاهُ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَأْمُرُنِي تَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَهُ أَنْ يَدَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ إِنْ شِئْتَ فَادْفَعْ إِلَيْهِ يَدَكَ حَتَّى يَقْضَمَهَا ثُمَّ انْتَزِعْهَا إِنْ شِئْتَ " .
It was narrated from 'Imran bin Hussain that:a man bit the hand of another man, who pulled his hand away, and the man's front tooth (or from teeth) fell out. He complained about that to the Messenger of Allah, and the Messenger of Allah said: "What do you want? Do you want me to tell him to put his hand in your mouth, so that you can bite it like a stallion bites? Or, do you want to give him your hand so that he may bite it, then you can pull it away if you want?
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
It was narrated from 'Aishah, from the Prophet:"The hand of the thief is to be cut off for one-quarter of a Dinar or more
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً لَا تَدْرِي أَيَّهَا تَتْبَعُ
It was narrated from Ibn 'Umar that :The Messenger of Allah [SAW] said: "The parable of the hypocrite is that of a sheep that hesitates between two flocks, sometimes following one, and sometimes following another, not knowing which to follow
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الزُّورِ .
It was narrated from Sa'eed bin Al-Musayyab that Mu'awiyah said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade giving a false impression
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعُوهُ لاَ تُزْرِمُوهُ " . فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِدَلْوٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي لاَ تَقْطَعُوا عَلَيْهِ .
It was narrated from Anas that a Bedouin urinated in the Masjid, and some of the people went after him, but the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Leave him and do not restrain him." When he had finished he called for a bucket (of water) and poured it over it. [1] Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: "Meaning: 'Do not interrupt him.'" [1]The author will cite this narration again in No. 330 as a possible proof for setting the minimum, since it mentions "a bucket" as if this is the minium amount required
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو کچھ لوگ اس پر جھپٹے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کرنے دو روکو نہیں ۱؎، جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی منگوایا، اور اس پر انڈیل دیا۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی رحمہ اللہ ) کہتے ہیں: یعنی بیچ میں نہ روکو پیشاب کر لینے دو۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ فَيَرْجِعْنَ فَمَا يَعْرِفْهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ .
It was narrated that 'Aishah said:"The women used to pray Subh with the Messenger of Allah (ﷺ), wrapped in their wrappers, then they would return, and no one would recognize them because of the darkness
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی فجر پڑھتی تھیں، پھر وہ لوٹتی تھیں تو اندھیرے کی وجہ سے کوئی انہیں پہچان نہیں پاتا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَسُوءِ الْعُمُرِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ .
It was narrated from 'Umar that:The Prophet [SAW] used to seek refuge with Allah from cowardice, miserliness, reaching the age of second childhood, the trials of the heart and the torment of the grave
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " . قَالَ قُتَيْبَةُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Every drink that intoxicates is unlawful.'" Qutaibah (one of the narrators) said: "From the Prophet [SAW]
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عَلْقَمَةَ، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ وَصَلُّوا عَلَىَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَىَّ صَلاَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لاَ تَنْبَغِي إِلاَّ لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ " .
Abdullah bin 'Amr said:"I heard the Messenger of Allah (S.A.W) say: 'When you hear the Mu'adhdhin then say what he says, and do Salah upon me, for whoever does Salah upon me once, Allah will Salah upon him ten (times). Then ask Allah to grant me Al-Wasilah, which is a position in paradise which only one of the slaves of Allah will attain, and I hope that I will be the one. Whoever asks for Al-Wasilah for me, will be entitled to my intercession
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: جب مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی ویسے ہی کہو جیسے وہ کہتا ہے، اور مجھ پر صلاۃ و سلام ۱؎ بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار صلاۃ بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت و برکت بھیجتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ ۲؎ طلب کرو کیونکہ وہ جنت میں ایک درجہ و مرتبہ ہے جو کسی کے لائق نہیں سوائے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کے، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں، تو جو میرے لیے وسیلہ طلب کرے گا، اس پر میری شفاعت واجب ہو جائے گی ۳؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying on a donkey, when he was heading toward Khaibar
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اور آپ کا رخ خیبر کی طرف تھا۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يَخْطُبُ قَالَ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ، وَكَانَ، غَيْرَ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ سَاجِدًا ثُمَّ سَجَدُوا .
It was narrated that Abu Ishaq said:"I heard 'Abdullah bin Yazid delivering a Khutbah. He said: 'Al-Bara, who was no liar,told us that when they prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) would raise his head from bowing and they would remain standing until they saw him prostrate, then they would prostrate
براء رضی اللہ عنہ (جو جھوٹے نہ تھے ۱؎) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، اور آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو وہ سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ وہ دیکھ لیتے کہ آپ سجدہ میں جا چکے ہیں، پھر وہ سجدہ میں جاتے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي، سَلَمَةَ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When the Imam says Amin, say Amin, for if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔