أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ خَلَفٍ، - وَهُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ - عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيٍّ فَلَمْ يَقْنُتْ ثُمَّ قَالَ يَا بُنَىَّ إِنَّهَا بِدْعَةٌ .
It was narrated from Abu Malik Al-Ashja'i that his father said:"I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not say the Qunut, and I prayed behind Abu Bakr and he did not say the Qunut, and I prayed behind Umar and he did not say the Qunut, and I prayed behind Uthman and he did not say the Qunut, and I prayed behind Ali and he did not say the Qunut." Then he said: "O my son, this is an innovation
ابو مالک اشجعی (سعد) اپنے والد (طارق بن اشیم) سے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، اور علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، پھر انہوں نے کہا: میرے بیٹے! یہ ( یعنی: مداومت ) بدعت ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبِي، بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَانْصَرَفَ . فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ بْنُ عَمْرٍو أَنُقِصَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ " . فَقَالُوا صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ . فَأَتَمَّ بِهِمُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Zuhr or 'Asr and said the taslim following two rak'ahs and left. Dhul-Shimalain bin 'Amr said to him: 'Has the prayer been shortened or did you forget?" The Prophet (ﷺ) said: 'What is Dhul-Yadain saying?' They said: 'He is speaking the truth, O Messenger of Allah (ﷺ).' So he led them in praying the two rak'ahs that he missed
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہم کو ) ظہر یا عصر پڑھائی، تو آپ نے دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، اور اٹھ کر جانے لگے، تو آپ سے ذوالشمالین بن عمرو نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لوگوں سے ) پوچھا: ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: وہ سچ کہہ رہے ہیں، اللہ کے نبی! تو آپ نے ان دو رکعتوں کو جو باقی رہ گئی تھیں لوگوں کے ساتھ پورا کیا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ جَالَسْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَا رَأَيْتُهُ يَخْطُبُ إِلاَّ قَائِمًا وَيَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ الْخُطْبَةَ الآخِرَةَ .
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"I sat with the Prophet (ﷺ) and I did not see him deliver the khutbah except standing, and he sat, then he stood up and delivered the second khutbah
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کی، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے دیکھا، آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ فَكَانَ يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّورَةِ ثَلاَثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ بِهَا ثُمَّ رَكَعَ .
It was narrated that Aishah said:"I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) pray sitting down until he grew old. Then he would pray sitting down and when there were thirty or forty verses left, he would stand up and recite them, then bow
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی ہو یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے، تو ( جب آپ بوڑھے ہو گئے ) تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور بیٹھ کر قرآت کرتے، پھر جب سورۃ میں سے تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو ان کی قرآت کھڑے ہو کر کرتے، پھر رکوع کرتے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى " .
It was narrated that Thabit said:"I heard Anas say: 'The Messenger of Allah said: True patience is that which comes at the first blow
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر وہی ہے جو صدمہ ( غم ) پہنچتے ہی ہو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لاَ نَحْسِبُ وَلاَ نَكْتُبُ وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . وَعَقَدَ الإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ " وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . تَمَامَ الثَّلاَثِينَ .
It was narrated from Saeed bin 'Amr bin Saeed bin Abi Al-As, that:he heard Ibn 'Umar narrate that the Prophet said; "We are an unlettered Ummah; we do not use computation. The month is like this, and this, and this," and he held down his thumb the last time. "And the month is like this, and this, and this," completing thirty
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: ”ہم «اُمّی» لوگ ہیں، نہ تو ہم لکھتے ہیں، اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے“، اور تیسری بار انگوٹھا بند کر لیا، ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے، پورے تیس دن“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الأَوْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ " .
It was narrated that Abu Sa'eed said:The Messenger of Allah said: "No Sadaqah is due on less than five Awaq
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا قَالَ " لاَ تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ " . وَقَالَ عَمْرٌو مَرَّةً أُخْرَى " الْقُمُصَ وَلاَ الْعَمَائِمَ وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ وَلاَ الْخُفَّيْنِ إِلاَّ أَنْ لاَ يَكُونَ لأَحَدِكُمْ نَعْلاَنِ فَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلاَ ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلاَ زَعْفَرَانٌ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that a man said:"O Messenger of Allah, what clothes should we wear when we enter Ihram?" He said: "Do not wear a shirt (or shirts), or 'Imamahs, or pants, or Khuffs unless someone Cannot find sandals, in which case he should cut them (the Khuffs) so that they come beneath the ankles or any garment that has been touched by (dyed with ) wars or saffron
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم احرام باندھ لیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنو، ( عمرو بن علی نے دوسری بار قمیص کے بجائے جمع کے صیغے کے ساتھ قمص کہا ) نہ عمامے، نہ پائجامے اور نہ موزے، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو موزوں کو کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے، اور نہ ایسا کپڑا جس میں ورس اور زعفران لگی ہو“۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ وَيُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
Abu Musa Al-Ash'ari said:"A Bedouin came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'A man fights for fame, or he fights for the spoils of war, or he fights to show off. Who is the one who is fighting in the cause of Allah?' He said: 'The one who fights so that the word of Allah will be supreme is the one who is fighting in the cause of Allah, the Mighty and Sublime
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آدمی لڑتا ہے تاکہ اس کا ذکر اور چرچا ہو ۱؎، لڑتا ہے تاکہ مال غنیمت حاصل کرے، لڑتا ہے تاکہ اللہ کے راستے میں لڑنے والوں میں اس کا مقام و مرتبہ جانا پہچانا جائے تو کس لڑنے والے کو اللہ کے راستے کا مجاہد کہیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے کا مجاہد اسے کہیں گے جو اللہ کا کلمہ ۲؎ بلند کرنے کے لیے لڑے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ، امْرَأَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الأَنْصَارِ شَيْئًا " .
It was narrated from Abu Hurairah that a man wanted to marry a woman and the Prophet said:"Look at her, for there is something in the eyes of the Ansar
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک ( انصاری ) عورت سے شادی کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( پہلے ) اسے دیکھ لو کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کچھ ( نقص ) ہوتا ہے“ ( شادی بعد تم نے دیکھا اور وہ تیرے لیے قابل قبول نہ ہوئی تو ازدواجی زندگی تباہ ہو جائے گی ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ { إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ } دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَدَأَ بِي فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تُعَجِّلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " . قَالَتْ قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَىَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِّي بِفِرَاقِهِ فَقَرَأَ عَلَىَّ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا } فَقُلْتُ أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَىَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالأَوَّلُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
It was narrated that 'Aishah said:"When the following was revealed: 'But if you desire Allah and His Messenger,' the Prophet came and started with me. He said: 'O 'Aishah, I am going to say something to you and you do not have to rush (to make a decision) until you consult your parents.'" She said: "He knew, by Allah, that my parents would never tell me to leave him. Then he recited to me: 'O Prophet! Say to your wives: If you desire the life of this world, and its glitter.'" "I said: 'Do I need to consult my parents concerning this? I desire Allah and His Messenger
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «إن كنتن تردن اللہ ورسوله» اتری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے مجھ سے بات چیت کی، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تو تم اپنے ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔“ آپ بخوبی جانتے تھے کہ قسم اللہ کی میرے ماں باپ مجھے آپ سے جدائی اختیار کر لینے کا مشورہ و حکم دینے والے ہرگز نہیں ہیں، پھر آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» میں نے ( یہ آیت سن کر ) آپ سے عرض کیا: کیا آپ مجھے اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کر لینے کے لیے کہہ رہے ہیں، میں تو اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں ( اس بارے میں مشورہ کیا کرنا؟ ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ( یعنی حدیث «معمر عن الزہری عن عائشہ» غلط ہے اور اول ( یعنی حدیث «یونس و موسیٰ عن ابن شہاب، عن أبی سلمہ عن عائشہ» زیادہ قریب صواب ہے۔ واللہ أعلم۔)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْضِهِ عَنْهَا ".
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"Sa'd bin 'Ubadah Al-Ansari consulted the Messenger of Allah about an (outstanding) vow that his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah said: 'Fulfill it on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر سے متعلق جو ان کی ماں کے ذمہ تھی مسئلہ پوچھا اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گئیں تھیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے تم پوری کر دو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ " .
It was narrated from 'Imran bin Husain that the Prophet said:"There is no vow to commit an act of disobedience, and no vow concerning that which the son of Adam does not possess
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں ہے جس کا ابن آدم مالک نہ ہو ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِهِ أَوِ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ " . وَقَّفَهُ زُهَيْرٌ .
It was narrated that 'Amr bin Ghalib said:"Aishah said: 'Do you not know that the Messenger of Allah [SAW] said: It is not permissible to shed the blood of a Muslim, except a man who committed adultery after being married, or one who reverted to Kufr after becoming Muslim, or a life for a life
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، وَعَنْ سُمَىٍّ، وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الدِّينُ النَّصِيحَةُ " . قَالُوا لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"Religion is sincerity (An-Nasihah)." The said: "To whom, O Messenger of Allah?" he said: "To Allah, to His Book, to His Messenger, to the imams of the Muslims and to their common folk
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ سُئِلَ عَنِ الضَّبِّ فَقَالَ " لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that:the Messenger of Allah was asked about mastigures when he was on the Minbar and he said? "I do not eat them, but I do not say that they are Haram
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ " .
It was narrated that Shaddad bin Aws said:"The Messenger of Allah said: 'Allah has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ قَالَ الْوُضُوءُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ فَقَالَ مَرْوَانُ أَخْبَرَتْنِيهِ بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ . فَأَرْسَلَ عُرْوَةُ قَالَتْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ فَقَالَ " مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ " .
It was narrated that Marwan bin Al-Hakam said that one should perform Wudu' after touching one's penis. Marwan said:"Busrah bint Safwan told me that." 'Urwah sent someone to check that, and she said: "The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned what Wudu' is done for, and said: 'Touching the penis
عروہ بن زبیر مروان بن حکم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: شرمگاہ چھونے پر وضو ہے، تو مروان نے کہا: مجھ سے اسے بسرہ بنت صفوان نے بیان کیا ہے، تو عروہ نے بسرہ کے پاس ( اس کی تصدیق کے لیے آدمی ) بھیجا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر چھونے سے بھی وضو ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ . قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا .
It was narrate from Ibn Tawus, from his father, that Ibn 'Abbas said; "The Messenger of Allah forbade meeting the riders, and for a town-dweller." I said to Ibn 'Abbas:"What does a town-dweller (selling) for a desert-dweller mean?" he said: "He should not act as a broker for him
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوا إِلَيْهِمُ الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَعُرِضَ عَلَيْهِمُ الأَرْشُ فَأَبَوْا فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ . قَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ تُكْسَرُ . قَالَ " يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ " . فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَعَفَوْا فَقَالَ " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ " .
It was narrated that Anas said:"Ar-Rubai broke the front tooth of a girls, and they asked them (her people) to forgive her, but they refused. They offered them blood money, but they refused. Then they went to the Prophet and he decreed relation. Anas Bin An-Nadr said: "O Messenger of Allah, will you break the front tooth of Ar-Rubai'? No, by the One Who sent you with the truth, it will not be broken!" He said: "O Anas, what Allah has decreed is retaliation." But the people agreed to forgive her. He (the Prophet) said: "There are among the slaves of Allah who, if they swear by Allah, Allah fulfills their oath
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ قُتَيْبَةُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم - يَقْطَعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا .
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah" (one of the narrators) Qutaibah said:'Used to cut off the hand of the thief for one-quarter of a Dinar or more
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ مُسْلِمٍ غَنَمٌ يَتَّبِعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنْ الْفِتَنِ
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Soon the best wealth of a Muslim will be the sheep which follows in the mountain peaks and places where rainfall is to be found, fleeing with his religion from the tribulations
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو الأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَىٍّ، - وَقَالَ أَبُو الأَسْوَدِ شَفِيٌّ - إِنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ، لِي يُسَمَّى أَبَا عَامِرٍ - رَجُلٌ مِنَ الْمَعَافِرِ - لِنُصَلِّيَ بِإِيلِيَاءَ وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلاً مِنَ الأَزْدِ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ فَقُلْتُ لاَ . فَقَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَشْرٍ عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ أَسْفَلَ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الأَعَاجِمِ أَوْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا أَمْثَالَ الأَعَاجِمِ وَعَنِ النُّهْبَى وَعَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ وَلُبُوسِ الْخَوَاتِيمِ إِلاَّ لِذِي سُلْطَانٍ .
It was narrated from Abu Al-Husain Al-Haitham bin Shufayy that he said:"A friend of mine who was called Abu 'Amir, from Al-Ma'afir, and I went out to pray in Jerusalem. Their preacher was a man from (the tribe of) Azd who was called Abu Raihanah, one of the Companions." Abu Al-Husain said: "My companion reached the Masjid before I did, then I caught up with him, and sat beside him. He said: 'Have you heard the preaching of Abu Raihanah?' I said: 'No.' He said: 'I heard him say: 'The Messenger of Allah [SAW] forbade ten things: Filing (the teeth), tattoos, plucking (hair), for two men to lie under one cover with no barrier between them, for two women to lie under one cover with no barrier between them, for a man to add more than four fingers' width of silk to the bottom of his garment like the foreigners (Persians), (and he forbade) plundering, riding (while sitting on) leopard skins and wearing rings- except for rulers
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ . فَقَالَ " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abdullah bin 'Umar that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about water and how some animals and carnivorous beasts might drink from it. He said: 'If the water is more than two Qullahs, it will not carry filth.'"[1] [1]It comes with some explanation in Sunan At Timidhi 'Abdah (one of the narrators) said: "Muhammad bin Ishaq said: 'A Qullah refers to Jirar (These are two nouns describing large casks that are used to hold water), and a Qullah is the thing that drinking water is held in."' At-Tirmidhi said: "This is the saying of Ash Shafa'i, Ahmad and Ishaq. They say that when the water is two Qullahs then nothing makes it impure, as long as it does not change its smell, and its taste. And they say, it is approximately fifty Qirbahs (waterskins)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر چوپائے اور درندے آتے جاتے ہوں؛ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ۱؎ ہو تو وہ گندگی کو اثر انداز نہیں ہونے دے گا یعنی اسے دفع کر دے گا؟ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ .
It was narrated that 'Aishah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) has prayed Subh, the women would depart, wrapped in their wrappers, unrecognizable because of the darkness
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھتے تھے ( آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر ) عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی لوٹتی تھیں، تو وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔
أَخْبَرَنِي هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ، قَالاَ كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُكْتِبُ الْغِلْمَانَ وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
It was narrated that Mus'ab bin Sa'd and 'Amr bin Maimun Al-Awdi said:"Sa'd used to teach his children these words as a teacher teaches his students, and he would say that the Messenger of Allah [SAW] used to seek refuge (with Allah) with these words at the end of every prayer: 'Allahumma inni a'udhu bika minal-bukhli, wa a'udhu bika mnal-jubni, wa a'udhu bika an uradda ila ardhalil-'umuri, wa a'udhu bika min fitnatid-dunya, wa min 'adhabil-qabr (O Allah, I seek refuge with You from miserliness, and I seek refuge with You from cowardice, and I seek refuge with You from reaching the age of senility, and I seek refuge with You from the trials of this life and the torment of the grave)
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ زَبْرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلاَ الْمُزَفَّتِ وَلاَ النَّقِيرِ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
It was narrated from 'Aishah that:The Prophet [SAW] said: "Do not soak (fruits) in Ad-Dubba', An-Naqir, Al-Hantam, and every intoxicant is unlawful
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، أَنَّ عِيسَى بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ إِنِّي عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَتَّى إِذَا قَالَ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ قَالَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ فَلَمَّا قَالَ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ قَالَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ .
It was narrated that 'Alqamah bin Waqqas said:"I was with Mu'awiyah when the Mu'adhdhin called the Adhan. Muawiyah said what the Mu'adhdhin said, but when he said: 'Hayya 'alas-salah (come to prayer),' he said: 'La hawla wa la quwwata illa Billah (There is no power and no strength except with Allah);' and when he said: 'Hayya 'alal-falah (come to prosperity),' he said: 'La hawla wa la quwwata illa Billah (There is no power and no strength except with Allah).' After that he said what the Mu'adhdhin said, then he said: 'I heard the Messenger of Allah (S.A.W) saying exactly like that
علقمہ بن وقاص کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان کے مؤذن نے اذان دی، تو آپ ویسے ہی کہتے رہے جیسے مؤذن کہہ رہا تھا یہاں تک کہ جب اس نے «حى على الصلاة» کہا تو انہوں نے: «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہا، پھر جب اس نے «حى على الفلاح» کہا تو انہوں نے: «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہا، اور اس کے بعد مؤذن جس طرح کہتا رہا وہ بھی ویسے کہتے رہے پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کہتے ہوئے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالاً، أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مِمَّ هُوَ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى فُلاَنَةَ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ " أَنْ مُرِي غُلاَمَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ " . فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقِيَ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعَلَّمُوا صَلاَتِي " .
Abu Hazim bin Dinar narrated that some men came to Sahl bin Sa'd As-Sa'idi. They were wondering what kind of wood the Minbar was made of, so they asked him about that. He said:"By Allah, I know what it is made of. I saw it the first day it was set up and the first day the Messenger of Allah (ﷺ) sat on it. The Messenger of Allah (ﷺ) sent word to so-and-so" - a woman whose name Sahl mentioned - "telling her: 'Tell your carpenter slave to make me something of wood that I can sit on when I speak to the people.' So she told him, and he made it from tamarisk wood from Al-Ghabah (a place near Al-Madinah). Then he brought it and it was sent to the Messenger of Allah (ﷺ), who commanded that it be set up here. Then I saw the Messenger of Allah (ﷺ) ascend it and praying on it, and saying the Takbir while he was on top of it, then he bowed when he was on top of it, then he came down backward and prostrated at the base of the Minbar, then he went back. When he had finished he turned to face the people and said: 'O people, I only did this so that you can follow me in prayer and learn how I pray
ابوحازم بن دینار کہتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ لوگ منبر کی لکڑی کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ وہ کس چیز کی تھی؟ ان لوگوں نے سہیل رضی اللہ عنہ اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خوب جانتا ہوں کہ یہ منبر کس لکڑی کا تھا، میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا تھا جس دن وہ رکھا گیا، اور جس دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پہل اس پر بیٹھے ( ہوا یوں تھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت ( سہل رضی اللہ عنہ نے اس کا نام لیا تھا ) کو کہلوا بھیجا کہ آپ اپنے غلام سے جو بڑھئی ہے کہیں کہ وہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو اس طرح بنا دے کہ جب میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کروں تو اس پر بیٹھ سکوں، تو اس عورت نے غلام سے منبر بنانے کے لیے کہہ دیا، چنانچہ غلام نے جنگل کے جھاؤ سے اسے تیار کیا، پھر اسے اس عورت کے پاس لے کر آیا تو اس نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے یہاں رکھا گیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر چڑھے، اور اس پر نماز پڑھی، آپ نے اللہ اکبر کہا، آپ اسی پر تھے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور آپ اسی پر تھے، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کے پایوں کے پاس سجدہ کیا، پھر آپ نے دوبارہ اسی طرح کیا، تو جب آپ فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تاکہ تم لوگ میری پیروی کر سکو، اور ( مجھ سے ) میری نماز سیکھ سکو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"Muhammad (ﷺ) said: 'Does the one who raises his head before the Imam not fear that Allah may turn his head into the head of a donkey?
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا سر امام سے پہلے اٹھا لیتا ہے کیا وہ ( اس بات سے ) نہیں ڈرتا کہ ۱؎ اللہ اس کا سر گدھے کے سر میں تبدیل نہ کر دے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا " قَالَ الإِمَامُ { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ } فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَقُولُ آمِينَ وَإِنَّ الإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the Imam says: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray, say: 'Amin' for the angels say Amin and the Imam says Amin, and if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمين کہو، کیونکہ فرشتے آمین کہتے ہیں اور امام آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔