بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
31 hadith
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى حَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ ‏.‏
It was narrated from Anas that:The Messenger of Allah (ﷺ) said the Qunut for one month, supplicating against one of the 'Arab tribes, then he stopped doing that
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی، آپ عرب کے ایک قبیلے پر بد دعا کر رہے تھے، پھر آپ نے اسے ترک کر دیا۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ فِي سَجْدَتَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَمَّ الصَّلاَةَ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forgot and said the taslim after two rak'ahs. Dhul-Shimalain said to him: 'Has the prayer been shortened or did you forget, O Messenger of Allah (ﷺ)?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Is Dhul-Yadain speaking the truth?' They said: "Yes." So the Messenger of Allah (ﷺ) stood up and completed the prayer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) بھول گئے، تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو آپ سے ذوالشمالین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لوگوں سے ) پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، ( سچ کہہ رہے ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ نے نماز پوری کی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُقَيْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ الذِّكْرَ وَيُقِلُّ اللَّغْوَ وَيُطِيلُ الصَّلاَةَ وَيُقَصِّرُ الْخُطْبَةَ وَلاَ يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُ الْحَاجَةَ ‏.‏
Abdullah bin Abi Awfa said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite a great deal of remembrance, engage little in idle talk, make the prayer long and keep the khutbah short, and he would not refrain from walking with a widow or poor person and tending to their needs
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکرو اذکار زیادہ کرتے، لایعنی باتوں سے گریز کرتے، نماز لمبی پڑھتے، اور خطبہ مختصر دیتے تھے، اور بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ جانے میں کہ ان کی ضرورت پوری کریں، عار محسوس نہیں کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، وَأَبُو النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated from Aishah that :The Prophet (ﷺ) used to pray when he was sitting. He would recite while sitting, then when there were thirty or forty verses left, he would stand up and recite while standing, then he bowed and prostrated, then he would do likewise in the second rak'ah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور بیٹھے ہوتے، اور قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، پھر جب آپ کی قرآت میں تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر باقی رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے، اور کھڑے ہو کر قرآت کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں ( بھی ) ایسے ہی کرتے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ أَرْسَلَتْ بِنْتُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِ أَنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا ‏.‏ فَأَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلاَمَ وَيَقُولُ ‏"‏ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَ اللَّهِ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ ‏"‏ هَذَا رَحْمَةٌ يَجْعَلُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu 'Uthman said:"Usamah bin Zaid told me: 'The daughter of the Prophet sent word to him telling him: A son of mine is dying, come to us. He sent word to her, conveying his greeting of salam and saying: "To Allah belongs that which He takes and that which He gives, and everything has an appointed time with Allah. Let her be patient and seek reward." She sent word to him adjuring him to go to her. So he got up and went, accompanied by Sa'd bin 'Ubadah, Muadh bin Jabal, Ubayy bin Kab Zaid bin Thabit and some other men. The boy was lifted up to the Messenger of Allah, with the death rattle sounding in him, and his eyes filled with tears. Sa'd said: "O Messenger of Allah, what is this?" he said: "This is compassion which Allah has created in the hearts of His slaves. Allah has mercy on His compassionate slaves
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے آپ کو صلی اللہ علیہ وسلم کہلا بھیجا کہ میرا بیٹا ۱؎ مرنے کو ہے آپ آ جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ آپ سلام کہتے ہیں، اور کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو ( کچھ ) لے، اور اسی کے لیے ہے جو ( کچھ ) دے، اور اللہ کے نزدیک ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، تو چاہیئے کہ تم صبر کرو، اور اللہ سے اجر طلب کرو، بیٹی نے ( دوبارہ ) قسم دے کے کہلا بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور آ جائیں، چنانچہ آپ اٹھے، آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور کچھ اور لوگ تھے، ( بچہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر اس حال میں لایا گیا کہ اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی، تو آپ کی آنکھوں ( سے ) آنسو بہ پڑے، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھ رکھا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لاَ نَكْتُبُ وَلاَ نَحْسِبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثًا حَتَّى ذَكَرَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet said:"We are an unlettered Ummah, we do not use astronomical counting or computation. The month is like this, and this, and this," he did three times, showing it as twenty-nine
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم «اُمّی» لوگ ہیں، نہ ہم لکھتے پڑھتے ہیں اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“، ( ایسا تین بار کیا ) یہاں تک کہ انتیس دن کا ذکر کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلاَ تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Prophet said:"No Sadaqah is due on grains or dates unless the amount reaches five Awauq, nor on less than five Dhawd, nor on less than five Awaq
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلہ میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ کھجور میں یہاں تک کہ یہ پانچ وسق ہو جائیں، اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے، اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ ہے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلاَ الْعَمَائِمَ وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ وَلاَ الْبَرَانِسَ وَلاَ الْخِفَافَ إِلاَّ أَحَدٌ لاَ يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلاَ تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلاَ الْوَرْسُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that:a man asked the Messenger of Allah "What clothes can the Muhrim wear?" The Messenger of Allah said: "They should not wear shirts nor 'Imamahs, or pants, or burnoues, or Khuffs - unless a person cannot find sandals, in which cause he may wear Khuffs. But he should cut them to come lower than the ankles. And they should not wear anything that has been touched by (dyed with) saffron or Wars
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نہ قمیص پہنو نہ عمامے نہ پائجامے، نہ ٹوپیاں اور نہ موزے البتہ اگر کسی کو جوتے نہ مل پائیں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے سے کر لے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگی ہو“۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو
Abu Hurairah used to narrate that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah, he will be called in Paradise: 'O slave of Allah, here is prosperity.' Whoever is one of those who pray, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of those who participated in Jihad, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of those who fast, he will be called from the gate of Ar-Rayyan." Abu Bakr As-Siddiq said: "O Messenger of Allah! No distress, or need will befall the one who is called from those gates. Will there be anyone who will be called from all these gates? The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Yes, and I hope that you will be one of them
ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں جوڑا دے ۱؎، جنت میں ( اسے مخاطب کر کے ) کہا جائے گا: اللہ کے بندے یہ ہے ( تیری ) بہتر چیز۔ تو جو کوئی نمازی ہو گا اسے باب صلاۃ ( صلاۃ کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی مجاہد ہو گا اسے باب جہاد ( جہاد کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی صدقہ و خیرات دینے والا ہو گا اسے باب صدقہ ( صدقہ و خیرات والے دروازہ ) سے پکارا جائے گا، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہو گا اسے باب ریان ( سیراب و شاداب دروازہ ) سے بلایا جائے گا“۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اس کی کوئی ضرورت و حاجت نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ۲؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلاَ نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الأَنْصَارِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَ وَالصَّوَابُ أَبُو هُرَيْرَةَ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man of the Ansar came to the Messenger of Allah and said: 'I have married a woman.' He said: 'Did you look at her? For there is something in the eyes of the Ansar
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ ( دیکھ لیے ہوتے تو اچھا ہوتا ) کیونکہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے ( بعد میں اس کی وجہ سے کوئی بدمزگی نہ پیدا ہو ) ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی حدیث مجھے ایک دوسری جگہ «عن یزید بن کیسان عن ابی حازم عن ابی ہریرہ» کے بجائے «عن یزید بن کیسان أن جابر بن عبداللہ حدث» کے ساتھ ملی۔ لیکن صحیح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَمُوسَى بْنُ عُلَىٍّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تُعَجِّلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَاىَ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِّي بِفِرَاقِهِ - قَالَتْ - ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ جَمِيلاً ‏}‏ فَقُلْتُ أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَىَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ - قَالَتْ عَائِشَةُ - ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ مَا فَعَلْتُ وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ حِينَ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاخْتَرْنَهُ طَلاَقًا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُنَّ اخْتَرْنَهُ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet, said:"When the Messenger of Allah was commanded to give his wives the choice, he started with me and said: 'I am going to say something to you and you do not have to rush (to make a decision) until you consult your parents.'" She said: "He knew that my parents would never tell me to leave him." She said: "Then he recited this Verse: 'O Prophet! Say to your wives: If you desire the life of this world, and its glitter, then come! I will make a provision for you and set you free in a handsome manner.' I said: 'Do I need to consult my parents concerning this? I desire Allah, the Mighty and Sublime, and His Messenger, and the home of the Hereafter.'" 'Aishah said: "Then the wives of the Prophet all did the same as I did, and that was not counted as a divorce, when the Messenger of Allah gave them the choice and they chose him
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( اختیار دہی ) کی ابتداء مجھ سے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں تو ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر فیصلہ لینے میں جلدی نہ کرنا“ ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخوبی سمجھتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا» ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں“۔ ( الاحزاب: ۲۸ ) تک پڑھی ( یہ آیت سن کر ) میں نے کہا: میں اس بات کے لیے اپنے ماں باپ سے صلاح و مشورہ لوں؟ ( مجھے کسی سے مشورہ نہیں لینا ہے ) میں اللہ عزوجل، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں ( یہی میرا فیصلہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں نے بھی ویسا ہی کیا ( اور کہا ) جیسا میں نے کیا ( اور کہا ) تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سے کہنے اور ان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب کر لینے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۴؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَهُ عَنْهَا‏.‏
Muhammad bin 'Abdullah bin Yazid said:"Sufyan narrated to us from Az-Zuhri, from 'Ubaidullah bin 'Abdullah, from Ibn 'Abbas, that Sa'd said: 'My mother died and there was an (outstanding) vow that she had to fulfill. I asked the Prophet and he told me to fulfill it on her behalf
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ان کی طرف سے پوری کر دوں۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ يَقُودُهُ إِنْسَانٌ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ وَإِنْسَانٌ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ خَيْطٍ أَوْ بِشَىْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ قُدْهُ بِيَدِكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas:"The Prophet passed by a man who was circumambulating the Ka'bah, led by another man with a reign in his nose. The Prophet took him by the hand and commanded him to lead him by his hand." Ibn Juraij said: "Sulaiman told me that Tawus told him, from Ibn 'Abbas, that the Prophet passed by him when he was circumambulating the Ka'bah, and a man had tied his hand to another man with some string or thread or whatever. The Prophet cut it with his hand then said: 'Lead him with your hand
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ( آدمی ) کے پاس سے گزرے، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک دوسرے آدمی سے تسمے سے یا دھاگے سے یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جاؤ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلاَّ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ التَّارِكُ لِلإِسْلاَمِ مُفَارِقُ الْجَمَاعَةِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الأَعْمَشُ فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'By the One besides Whom there is no other god, it is not permissible to shed the blood of a Muslim who bears witness to La ilaha illalla (there is none worthy of worship except Allah) and that I am the Messenger of Allah, except in three cases: One who leaves Islam and splits away from the Jama'ah, a person who has been married and then commits adultery, and a life for a life
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"Religion is sincerity, religion is sincerity (Al-Nasihah), religion is sincerity." They said; "To whom, O Messenger of Allah?" He said: "To Allah, to His Book, to His Messenger, to the imams of the Muslims and to their common folk
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَاصِمٍ، وَدَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ صَفْوَانَ، قَالَ أَصَبْتُ أَرْنَبَيْنِ فَلَمْ أَجِدْ مَا أُذَكِّيهِمَا بِهِ فَذَكَّيْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا ‏.‏
It was narrated that Ibn Safwan said:"I caught two rabbits but I could not find anything with which to slaughter then, so I slaughtered them with a sharp-edged stone. I asked the Prophet about that and he commanded me to eat them
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ إِذَا ذَبَحَ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Shaddad bin Aws said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Allah, the Mighty and Sublime, has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters" (Sahih)
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Busrah bint Safwan that the Prophet (ﷺ) said:"If any one of you touches his private part with his hand, let him perform Wudu
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اپنے ذکر ( عضو تناسل ) تک لے جائے ( چھوئے ) تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ حَتَّى يَدْخُلَ بِهَا السُّوقَ فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ نَعَمْ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade meeting traders on the way, until one enters the market with them?" Abu Usamah acknowledged it and said: Yes
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ ذَكَرَ أَنَسٌ أَنَّ عَمَّتَهُ، كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَقَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْقِصَاصِ فَقَالَ أَخُوهَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلاَنَةَ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلاَنَةَ ‏.‏ قَالَ وَكَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ سَأَلُوا أَهْلَهَا الْعَفْوَ وَالأَرْشَ فَلَمَّا حَلَفَ أَخُوهَا - وَهُوَ عَمُّ أَنَسٍ وَهُوَ الشَّهِيدُ يَوْمَ أُحُدٍ - رَضِيَ الْقَوْمُ بِالْعَفْوِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ ‏"‏ ‏.‏
Anas narrated that:his paternal aunt broke the front tooth of a girl and the Prophet of Allah decreed retaliation. Her brother, Anas bin An-Nadr, said: "Will you break the front tooth of so and so? No, by the One Who sent you with the truth, the front tooth of so and so will not be broken!" Before that, they had asked her family for forgiveness and blood money. When her brother - who was the paternal uncle of Anas and was martyred at Uhud - swore that oath, the people agreed to forgive. The Prophet said: "There are among the slaves of Allah who, if they swear by Allah, Allah fulfills their oath
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah said:"The hand of the thief is to be cut off for one-quarter of a Dinar or more
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ فُلَانَةُ لَا تَنَامُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا فَقَالَ مَهْ عَلَيْكُمْ مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ
It was narrated from 'Aishah that:The Prophet [SAW] entered upon her and there was a woman with her. He said: "Who is this?" She said: "So-and-so; she does not sleep"- she mentioned her excessive praying. The Prophet [SAW] said: "Keep quiet. You should do what you are able to, for by Allah, Allah, the Mighty and Sublime, does not get tired. The most beloved religion to Him is that in which a person persists
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ سَمِعْتُ كَرِيمَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، سَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَنِ الْخِضَابِ، بِالْحِنَّاءِ قَالَتْ لاَ بَأْسَ بِهِ وَلَكِنْ أَكْرَهُ هَذَا لأَنَّ حِبِّي صلى الله عليه وسلم كَانَ يَكْرَهُ رِيحَهُ ‏.‏ تَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Karimah said:"I heard a woman asking 'Aishah about dyeing the hair with Henna. She said: 'There is nothing wrong with it, but I do not like to do it because my beloved- meaning the Prophet [SAW]- disliked its smell
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَى الْخَلاَءَ فَقَضَى الْحَاجَةَ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ يَا جَرِيرُ هَاتِ طَهُورًا ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَيْتُهُ بِالْمَاءِ فَاسْتَنْجَى بِالْمَاءِ وَقَالَ بِيَدِهِ فَدَلَكَ بِهَا الأَرْضَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ ‏.‏
Ibrahim bin Jarir narrated that his father said:"I was with the Prophet (ﷺ) and he went to Al Khala' (toilet) and relieved himself, then he said: "O Jarir, bring Tahur (a means of purification)." So I brought him some water and he performed Intinja' with water, and did like this with hand, rubbing it on the ground. Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: "This resembles more with what is correct than the (previous) narration of Sharik, and Allah knows best
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کی جگہ میں آئے، اور آپ نے حاجت پوری کی، پھر فرمایا: جریر! پانی لاؤ ، میں نے پانی حاضر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی سے استنجاء کیا، اور راوی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کو زمین پر رگڑا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ صَلاَةِ الْغَدَاةِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا مِنَ الْغَدِ أَمَرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ أَنْ تُقَامَ الصَّلاَةُ فَصَلَّى بِنَا فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَسْفَرَ ثُمَّ أَمَرَ فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى بِنَا ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ ‏"‏ ‏.‏
Humaid narrated from Ans that a man came to the Prophet (ﷺ) and asked him about the time of the Subh prayer. The following morning he commanded that the Iqamah for prayer be said when dawn broke, and he led us in prayer. The next day when there was light he commanded that the Iqamah for prayer be said and he led us in prayer. Then he said:"Where is the one who was asking about the time for prayer? (It is) between these two times
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے فجر کے وقت کے بارے میں پوچھا، تو جب ہم نے دوسرے دن صبح کی تو آپ نے ہمیں جس وقت فجر کی پو پھٹی نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر جب دوسرا دن آیا، اور خوب اجالا ہو گیا تو حکم دیا تو نماز کھڑی کی گئی، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر فرمایا: نماز کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ انہی دونوں کے درمیان ( فجر کا ) وقت ہے ۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُهُ هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ وَيَرْوِيهِنَّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏
Mus'ab bin Sa'd said that :Sa'd used to teach him these words, narrating from the Prophet [SAW]: "Allahumma inni a'udhu bika minal-bukhli, wa a'udhu bika minal-jubni, wa a'udhu bika an uradda ila ardhalil-'umuri, wa a'udhu bika min fitnatid-dunya wa 'adhabil-qabr (O Allah, I seek refuge with You from miserliness, and I seek refuge with You from cowardice, and I seek refuge with You from reaching the age of senility, and I seek refuge in You from the trials of this world and the torment of the grave)
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ ‏ "‏ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah [SAW] forbade soaking (fruits) in Ad-Dubba', Al-Muzaffat, An-Naqir, Al-Hantam, and every intoxicant is unlawful
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُجَمِّعٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، - رضى الله عنه - يَقُولُ سَمِعْتُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَمِعَ الْمُؤَذِّنَ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ ‏.‏
It was narrated that Abu Umamah bin Sahl said:"I heard Mu'awiyah say: 'I heard the Messenger of Allah (S.A.W), when he heard the Mu'adhdhin, repeating what he said
ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا تو جیسے اس نے کہا ویسے ہی آپ نے بھی کہا۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، - يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ ‏.‏
It was narrated from Maimunah that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray on a mat
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا رَفَعَ مِنْ سُجُودِهِ أَعَادَهَا ‏.‏
It was narrated that Abu Qatadah said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ)leading the people in prayer, carrying Umamah bint Abi Al-As on his shoulder. When he bowed he put her down and when he stood up from prostration he picked her up again
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی امامت کرتے ہوئے دیکھا، آپ ( اپنی نواسی ) امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ رکوع میں جاتے تو اسے اتار دیتے، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اسے دوبارہ اٹھا لیتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet (ﷺ) said: "When the reciter says Amin, then say: "Amin" too, for the angels say Amin and if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, Allah will forgive his previous sins
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری ( امام ) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔