أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ قَالَ " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا " . يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ } .
It was narrated from Salim, from his father, that:He heard the Prophet (ﷺ), when he raised his head in the last rak'ah of the subh prayer, say: "O Allah, curse so-and-so and so-and-so," supplicating against some of the hypocrites. Then Allah revealed the words: "Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے فجر کی نماز میں آخری رکعت سے اپنا سر اٹھایا کچھ منافقوں پر لعنت بھیجتے ہوئے سنا، آپ کہہ رہے تھے: «اللہم العن فلانا وفلانا» اے اللہ! تو فلاں فلاں کو رسوا کر ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ليس لك من الأمر شىء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» اے محمد! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں ( آل عمران: ۱۲۸ ) ۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَدْرَكَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُقِصَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ " لَمْ تُنْقَصِ الصَّلاَةُ وَلَمْ أَنْسَ " . قَالَ بَلَى وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ " . قَالُوا نَعَمْ . فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) prayed one day and said the salam after two rak'ahs, then he left. Dhul-Shimalain caught up with him and said: "O Messenger of Alah, has the prayer been shortened or did you forget?" He said: "The prayer has not been shortened, and I did not forget." He said: "Yes, by the One Who sent you with the truth." The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Is Dhul-Yadain speaking the truth?" They said: 'Yes.' So he led the people in praying two rak'ahs
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر جانے لگے تو آپ کے پاس ذوالشمالین ۱؎ آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: نہ تو نماز کم کی گئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں ، اس پر انہوں نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ان دونوں میں سے ضرور کوئی ایک بات ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لوگوں سے ) پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں اور پڑھائیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رضى الله عنهما - وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ فِيهِمَا فَنَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَطَعَ كَلاَمَهُ فَحَمَلَهُمَا ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ قَالَ " صَدَقَ اللَّهُ { إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ } رَأَيْتُ هَذَيْنِ يَعْثُرَانِ فِي قَمِيصَيْهِمَا فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ كَلاَمِي فَحَمَلْتُهُمَا " .
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:"The Prophet (ﷺ) was preaching, then Al-Hasan and Al-Husain came, wearing red shirts and stumbling in them. The Prophet (ﷺ) came down, interrupting himself, and picked them up, then he went back to the minbar and said: 'Allah has spoken the truth: Your wealth and your children are only a trial (At-Taghabun 64:15). I saw these two stumbling in their shirts and I could not continue until I had interrupted myself and picked them up
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہم لال رنگ کی قمیص پہنے گرتے پڑتے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر سے ) اتر پڑے، اور اپنی بات بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا، پھر منبر پر واپس آ گئے، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو اٹھا لیا ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا .
It was narrated hat Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray standing and sitting. If he started to pray standing, he would bow standing and if he started to pray sitting, he would bow sitting
ابن سیرین عبداللہ بن شفیق سے اور عبداللہ بن شقیق ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھڑے ہو کر اور کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے، اور جب بیٹھ کر شروع کرتے تو بیٹھے بیٹھے ہی رکوع کرتے۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنِ الْقَرْثَعِ، قَالَ لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى صَاحَتِ امْرَأَتُهُ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ بَلَى . ثُمَّ سَكَتَتْ فَقِيلَ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ أَىُّ شَىْءٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَعَنَ مَنْ حَلَقَ أَوْ سَلَقَ أَوْ خَرَقَ .
It was narrated that Al-Qartha' said:"When Abu Musa was close to death, his wife screamed and he said: 'Do you not know what the Messenger of Allah said?" She said: 'Yes, Then she fell silent and it was said to her after that: 'What did the Messenger of Allah say?' She said: 'The Messenger of Allah cursed the one who shaves his head, raises his voice in lamentation or rends his garment
قرثع کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری بڑھ گئی تو ان کی بیوی چیخ مار کر رونے لگی، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے کیا تجھے معلوم نہیں؟ اس نے کہا: کیوں، نہیں ضرور معلوم ہے، پھر وہ خاموش ہو گئی، تو اس سے اس کے بعد پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہر اس شخص پر ) لعنت فرمائی ہے جو سر منڈوائے، یا واویلا کرے، یا گریبان پھاڑے۔
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، ح وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، وَهُوَ - ابْنُ عُمَرَ - يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
Abdullah Ibn ' Umar said:" I heard the Messenger of Allah say: 'The month is twenty-nine days
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ فِي الْبُرِّ وَالتَّمْرِ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ وَلاَ يَحِلُّ فِي الْوَرِقِ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوَاقٍ وَلاَ يَحِلُّ فِي إِبِلٍ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ " .
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Messenger of Allah said:"No Zakah is due on wheat or dates unless the amount reaches five Awsuq. No Zakah is due on silver unless the amount reaches five Awaq. No Zakah is due on camels until the number reaches five Dhawd
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیہوں اور کھجور میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ وسق کو پہنچ جائے، اسی طرح چاندی میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ اوقیہ کو پہنچ جائے۔ اور اونٹ میں زکاۃ نہیں ہے یہاں تک کہ وہ پانچ کی تعداد کو پہنچ جائیں“۔
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقُومَسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ فَبَيْنَا نَحْنُ بِالْجِعِرَّانَةِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي قُبَّةٍ فَأَتَاهُ الْوَحْىُ فَأَشَارَ إِلَىَّ عُمَرُ أَنْ تَعَالَ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْقُبَّةَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ قَدْ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بِعُمْرَةٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ قَدْ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ إِذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَغِطُّ لِذَلِكَ فَسُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ " أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَنِي آنِفًا " . فَأُتِيَ بِالرَّجُلِ فَقَالَ " أَمَّا الْجُبَّةُ فَاخْلَعْهَا وَأَمَّا الطِّيبُ فَاغْسِلْهُ ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ " ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا " . مَا أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَهُ غَيْرَ نُوحِ بْنِ حَبِيبٍ وَلاَ أَحْسِبُهُ مَحْفُوظًا وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
It was narrated from Safwan bin Umayyah, from his father that he said:"I wished that I could see the Messenger of Allah when Revelation was coming down to him. While we were in Al-Jirranah and the Prophet was in a tent, Revelation was coming down to him and 'Umar gestured to me to come. So I put my head into the tent. A man had come to him who had entered Ihram wearing a said: 'O Messenger of Allah, what do you say concerning a man who entered Ihram wearing a Jubbah?'Then (because of this question) the Revelation came. The Prophet started to breath deeply, and when it was over he said: 'Where is the man who asked me just now?' The man was brought to him, and he saidA: 'As for the Jubbah, take it off, and as for the perfume, wash it off, then enter Ihram.'''(Sahih) Chatper 30. The Prohibiton Of Wearing A Shirt In Ihram
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے دیکھتا، پھر اتفاق ایسا ہوا کہ ہم جعرانہ میں تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تھے کہ آپ پر وحی نازل ہونے لگی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اشارہ کیا کہ آؤ دیکھ لو۔ میں نے اپنا سر خیمہ میں داخل کیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا ہوا ہے وہ جبہ میں عمرہ کا احرام باندھے ہوئے تھا، اور خوشبو سے لت پت تھا اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے جبہ پہنے ہوئے احرام باندھ رکھا ہے کہ یکایک آپ پر وحی اترنے لگی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے۔ پھر آپ کی یہ کیفیت جاتی رہی، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھا تھا“ تو وہ شخص حاضر کیا گیا، آپ نے ( اس سے ) فرمایا: ”رہا جبہ تو اسے اتار ڈالو، اور رہی خوشبو تو اسے دھو ڈالو پھر نئے سرے سے احرام باندھو۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ ”نئے سرے سے احرام باندھ“ کا یہ فقرہ نوح بن حبیب کے سوا کسی اور نے روایت کیا ہو یہ میرے علم میں نہیں اور میں اسے محفوظ نہیں سمجھتا، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لاِبْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ تُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ وَآبَاءِ أَبِيكَ فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ تُهَاجِرُ وَتَدَعُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ فَقَالَ تُجَاهِدُ فَهُوَ جَهْدُ النَّفْسِ وَالْمَالِ فَتُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقْسَمُ الْمَالُ فَعَصَاهُ فَجَاهَدَ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ وَقَصَتْهُ دَابَّتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ " .
It was narrated that Sabrah bin Abi Fakih said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'the Shaitan sits in the paths of the son of Adam. He sits waiting for him, in the path to Islam, and he says: Will you accept Islam, and leave your religion, and the religion of your forefathers? But he disobeys him and accepts Islam. Then he sits waiting for him, on the path to emigration, and he says: Will you emigrate and leave behind your land and sky? The one who emigrates is like a horse tethered to a peg. But he disobeys him and emigrates. Then he sits, waiting for him, on the path to Jihad, and he says: Will you fight in Jihad when it will cost you your life and your wealth? You will fight and be killed, and your wife will remarry, and your wealth will be divided. But he disobeys him and fights in Jihad.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever does that, then he had a right from Allah, the Mighty and Sublime, that He will admit him to paradise. Whoever is killed, he has a right from Allah, the Mighty and Sublime, that He will admit him to Paradise. If he is drowned, he has a right from Allah that He will admit him to paradise, or whoever is thrown by his mount and his neck is broken, he had a right from Allah that he will admit him to Paradise
سبرہ بن ابی فاکہہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: شیطان ابن آدم کو بہکانے کے لیے اس کے راستوں میں بیٹھا۔ کبھی وہ اسلام کے راستہ سے سامنے آیا۔ کہا: تم اسلام لاتے ہو؟ اپنے دین کو، اپنے باپ کے دین کو اور اپنے دادا کے دین کو چھوڑ رہا ہے؟ ( یہ اچھی بات نہیں ) لیکن انسان نے اس کی بات نہیں مانی اور اسلام لے آیا۔ پھر وہ ہجرت کے راستے سے اسے بہکانے کے لیے بیٹھا۔ کہا: تم ہجرت کر رہے ہو؟ تم اپنی زمین اور اپنا آسمان چھوڑ کر جا رہے ہو، مہاجر کی مثال لمبی رسی میں بندھے گھوڑے کی مثال ہے ( جو رسی کے دائرے سے باہر کہیں آ جا نہیں سکتا ) ، لیکن اس نے اس کی بات نہیں مانی ( اس کے بہکانے میں نہیں آیا ) اور ہجرت کی۔ پھر وہ انسان کو جہاد کے راستے سے بہکانے کے لیے بیٹھا۔ کہا: تم جہاد کرتے ہو؟ یہ تو جان و مال کو کھپا دینا اور ضائع کر دینا ہے۔ تم جہاد کرو گے تو قتل کر دیئے جاؤ گے۔ تمہاری بیوی کی شادی کر دی جائے گی، اور تمہارا مال بانٹ دیا جائے گا۔ لیکن اس نے اس کی بات نہیں مانی اور جہاد کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسا کیا اس کا اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے ( اپنی رحمت سے ) جنت میں داخل فرمائے، اور جو شخص ( اس راہ میں ) شہید ہو گیا اللہ تعالیٰ پر ایک طرح سے واجب ہو گیا کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے، اگر وہ ( اس راہ میں ) ڈوب گیا تو اسے بھی جنت میں داخل کرنا اللہ پر اس کا حق بنتا ہے، اگر اسے اس کی سواری گرا کر ہلاک کر دے تو بھی اللہ تعالیٰ پر اس کا حق بنتا ہے کہ اسے بھی ( اپنے فضل و کرم سے ) جنت میں داخل فرمائے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلُهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ . فَقَالَ وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَىْءٍ . فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ " . فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ " تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " . قَالَتْ فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلاَ يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لاَ مَالَ لَهُ وَلَكِنِ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " . فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ " انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " . فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ .
It was narrated from Fatimah bint Qais that Abu 'Amr bin Hafs issued a final divorce to her while he was absent. His deputy sent some barley to her but she did not like it. He said:"By Allah, you have no rights over us." She went to the Messenger of Allah and told him about that, and he said: "You have no right to maintenance." He told her to observe her 'Iddah in the house of Umm Sharik, then he said: "She is a woman whose house is frequented by my Companions. Observe your 'Iddah in the house of Ibn Umm Maktum, for he is a blind man and you can take off your garment. And when your 'Iddah is over, let me know." She said: "When my 'Iddah was over I told him that Mu'awiyah bin Abi Sufyan and Abu Jahm had proposed marriage to me. The Messenger of Allah said: 'As for Abu Jahm, his stick never leaves his shoulder, and as for Mu'awiyah he is a poor man who has no wealth. Rather you should marry Usamah bin Zaid.' I did not like the idea, then he said: 'Marry Usamah bin Zaid.' So I married him and Allah created a lot of good in him, and others felt jealous of my good fortune
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی اور وہ موجود نہ تھے۔ ( شہر سے باہر سفر پر تھے ) پھر ان کے پاس اپنے وکیل کو کچھ جو دے کر بھیجا تو وہ ان پر غصہ اور ناراض ہوئیں، تو وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا تو ہم پر کوئی حق ہی نہیں بنتا ( یوں سمجھئے کہ یہ جو تو تمہاری دلداری کے لیے ہے ) ۔ تو فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے بھی فرمایا: ”تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے“ اور انہیں حکم دیا کہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہ کر عدت پوری کرو، پھر کہا: ام شریک کو ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں ( ان کے گھر نہیں بلکہ ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی عدت کے دن پوری کرو، وہ اندھے آدمی ہیں، تم وہاں اپنے کپڑے بھی اتار سکو گی، پھر جب تم ( عدت پوری کر کے ) حلال ہو جاؤ تو مجھے خبر دو، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میں حلال ہو گئی تو آپ کو اطلاع دی کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم دونوں نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ابوجہم تو اپنے کندھے سے اپنی لاٹھی اتار کر نہیں رکھتے ۱؎“ اور معاویہ تو مفلس آدمی ہیں، ان کے پاس کچھ بھی مال نہیں ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو تو میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن آپ نے دوبارہ پھر کہا کہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو تو میں نے ان کے ساتھ شادی کر لی، اور اللہ تعالیٰ نے اس شادی میں ہمیں بڑی برکت دی اور میں ان کے ذریعہ قابل رشک بن گئی۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ " انْظُرُوا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ إِنَّهُمْ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ " .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:"Look at how Allah diverts the insults and curses of Quraish from me. They insult 'Mudhammam' and curse 'Mudhammam' -but I am Muhammad
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذرا دیکھو تو ( غور کرو ) اللہ تعالیٰ قریش کی گالیوں اور لعنتوں سے مجھے کس طرح بچا لیتا ہے، وہ لوگ مجھے مذمم کہہ کر گالیاں دیتے اور مذمم کہہ کر مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں اور میں محمد ہوں“ ۱؎۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ " اقْضِهِ عَنْهَا ".
It was narrated that Al-Harith bin Miskin said, it being read to him while I was listening:"From Sufyan, from Az-Zuhri, from 'Ubaidullah bin 'Abdullah, from Ibn 'Abbas, that Sa'd bin 'Ubadah consulted the Prophet about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah said: 'Fulfill it on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور جسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ مر گئیں۔ تو آپ نے فرمایا: ”اسے تم ان کی طرف سے پوری کر دو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ يَقُودُ رَجُلاً فِي قَرَنٍ فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَطَعَهُ قَالَ إِنَّهُ نَذْرٌ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah passed by a man who was leading another man by a rope. The Prophet took it, and cut it, and he said: 'It is a vow
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک آدمی کو رسی میں باندھ کر کھینچے لے جا رہا تھا، آپ نے رسی کو لیا اور اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: یہ نذر ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ قَالَ " الشِّرْكُ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَأَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ الْفَقْرِ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ " . ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ { وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ } . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ وَحَدِيثُ يَزِيدَ هَذَا خَطَأٌ إِنَّمَا هُوَ وَاصِلٌ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
It was narrated that 'Abdullah said:"I asked the Messenger of Allah [SAW], which sin is most grievous?" He said: "Shirk, setting up a rival to Allah, committing adultery with your neighbor's wife, and killing your child for fear of poverty, and that he may eat with you." Then 'Abdullah recited the Verse: "And those who invoke not any other Ilah (god) along with Allah
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ " . قَالُوا لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ " .
It was narrated that Tamim Ad-Dari said:"The Messenger of Allah said: 'Religion is sincerity (An-Nasihah).' They said: 'To whom, O Messenger of Allah? He said: 'To Allah, to His Book, to His Messenger, to the imams of the Muslims and to their common folk
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامٍ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَأَخَذْتُهَا فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا فَبَعَثَنِي بِفَخِذَيْهَا وَوَرِكَيْهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَبِلَهُ .
Anas said:"We disturbed a rabbit in Marr Az-Zahran so I caught it, and brought it to Abu Talhah who slaughtered it, and sent me with its thighs and haunches to the Prophet and he accepted it
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى . قَالَ " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفْرَ وَسَأُحَدِّثُكُمْ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ " . وَأَصَبْنَا نَهْبَةَ إِبِلٍ أَوْ غَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ لِهَذِهِ الإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَىْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا " .
It was narrated that Rafi bin Khadij said:"I said: 'O Messenger of Allah, we are going to meet the enemy tomorrow, and we do not have any knives.' He said: If the blood is shed and the name of Allah is mentioned, then eat, unlike (it is slaughtered) with teeth or nails and I will tell you about that. As for teeth, they are bones, and as for nails, they are the knives of the Ethiopians,; We acquired some spoils of war including sheep or camels, and a camel ran away, so a man shot an arrow at it an stopped it. The Messenger of Allah said: 'some of these animals' or 'these camels'- 'are untamed like wild animals, so if one of them goes out of your control, do the same." (Sahih)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرٍ - قَالَ عَلَى أَثَرِهِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلَمْ أُتْقِنْهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ " .
It was narrated that Busrah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever touches his private part, let him perform Wudu
بسرۃ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے، تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّلَقِّي .
It was narrated from Ibn 'Umar that:the Messenger of Allah forbade meeting traders on the way
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ، جَرَحَتْ إِنْسَانًا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ " . فَقَالَتْ أُمُّ الرُّبَيِّعِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلاَنَةَ لاَ وَاللَّهِ لاَ يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ الرُّبَيِّعِ الْقِصَاصُ كِتَابُ اللَّهِ " . قَالَتْ لاَ وَاللَّهِ لاَ يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا . فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا الدِّيَةَ . قَالَ " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ " .
It was narrated from Anas that:the sister of Ar-Rubai' Umm Harithah injured a person and they referred the dispute to the Messenger of Allah. The Messenger of Allah said: "Retaliation, retaliation (Qisas)." Umm Ar-Rabi said: 'O Messenger of Allah, how could retaliation be carried out against so and so? No, by Allah, retaliation willnever be carried out against her!' The Messenger of Allah said: "Subhan Allah, O Umm Ar-Rabi'! decreed by Allah." She said: "No, by Allah, retaliation will never be carried out against her!" And she carried on until they accepted Diyah (blood money). He (the prophet) said: "There are among the slaves of Allah who, if they swear by Allah, Allah fulfills their oath
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah said:"The hand of the thief is to be cut off for one-quarter of a Dinar or more
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ فَلَمَّا اسْتَنْجَى دَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) performed Wudu', and when he had performed Istinja' he rubbed his hand on the ground
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، جب آپ نے ( اس سے پہلے ) استنجاء کیا تو اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَيَسِّرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنْ الدَّلْجَةِ
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Indeed, this religion is easy, and no one will ever overburden himself in religion, except that it will overcome him. So seek what is appropriate, and come as close as you can, and receive the glad tidings (that you will be rewarded), and take it easy; and gain strength by worshipping in the mornings, afternoons, and during the last hours of the nights
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، مَدَّتْ يَدَهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِكِتَابٍ فَقَبَضَ يَدَهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَدَدْتُ يَدِي إِلَيْكَ بِكِتَابٍ فَلَمْ تَأْخُذْهُ . فَقَالَ " إِنِّي لَمْ أَدْرِ أَيَدُ امْرَأَةٍ هِيَ أَوْ رَجُلٍ " . قَالَتْ بَلْ يَدُ امْرَأَةٍ . قَالَ " لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ " .
It was narrated from 'Aishah that:A woman reached out her hand (to give) a letter to the Prophet [SAW], and he withdrew his hand. She said: "O Messenger of Allah, I reached out my hand (to give you) a letter and you did not take it." He said: "I did not know whether it was the hand of a woman or a man." She said: "It is the hand of a woman." He said: "If you were a woman, you would change your nails (by dyeing them with Henna)
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ .
Ja'far bin Muhammad bin 'Ali bin Al-Husain narrated from his father, that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Subh as soon as he was certain the dawn had appeared
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی جس وقت صبح ( صادق ) آپ پر واضح ہو گئی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَشَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ " .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah [SAW] used to say: 'Allahumma inni a'udhu bika min 'adhabil-qabri, wa fitnatin-nar, wa fitnatil-qabr, wa 'adhabil-qabr, wa sharri fitnati masihid-dajjali wa sharri fitnatil-ghana', wa sharri fitnatil-faqri. Allahummaghsil khatayaya kama naqqaitath-thawbal-abyada minad-danas. Allahumma inni a'udhu bika minal-kasali walharami wal-maghrami wal-ma'tham (O Allah, I seek refuge with You from the torment of the grave, the tribulation of the Fire, the tribulation of the grave and the torment of the grave, the evil of the tribulation of Masihid-Dajjal, the evil of the tribulation of richness and the evil of the tribulation of poverty. O Allah, wash away my sins with water of snow and hail, and cleanse my heart of sin as a white garment is cleansed of filth. O Allah, I seek refuge with You from laziness, old age, debt and sin)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Every intoxicant is unlawful
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَكَبَّرَ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَتَشَهَّدَ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَتَشَهَّدَ اثْنَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي هَكَذَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that Mujammi' bin Yahya Al-Ansari said:"I was sitting with Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif when the Mu'adhdhin called the Adhan. He said: 'Allahu akbar; Allahu Akbar (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest),' and he (also) pronounced the takbir twice. Then he said: 'Ashhadu an la ialaha ill-Allah (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah),' and he also sent the testimony twice. Then he said: 'Ashhadu anna Muhammadan Rasul-Allah (I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah),' and he (also) sent the testimony twice. Then he said: 'This is what Mu'awiyah bin Abi Sufyan told me, narrating from statement of the Messenger of Allah (S.A.W)
مجمع بن یحییٰ انصاری کہتے ہیں کہ میں ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ مؤذن اذان دینے لگا، اور اس نے کہا: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «اللہ أكبر اللہ أكبر» کہا، پھر اس نے «أشهد أن لا إله إلا اللہ» کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «أشهد أن لا إله إلا اللہ» کہا، پھر اس نے «أشهد أن محمدا رسول اللہ» کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «أشهد أن محمدا رسول اللہ» کہا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کہتے تھے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتِيَهَا فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهَا فَتَتَّخِذَهُ مُصَلًّى فَأَتَاهَا فَعَمَدَتْ إِلَى حَصِيرٍ فَنَضَحَتْهُ بِمَاءٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَلَّوْا مَعَهُ .
It was narrated from Anas bin Malik that Umm Sulaim asked the Messenger of Allah (ﷺ) to come to her and pray in her house so that she could take (the place where he prayed) as a Musalla (prayer place). So he came to her and she went and got a reed mat and sprinkled it with water, and he prayed on it, and they prayed with him
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ان کے پاس تشریف لا کر ان کے گھر میں نماز پڑھ دیں تاکہ وہ اسی کو اپنی نماز گاہ بنا لیں ۱؎، چنانچہ آپ ان کے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے چٹائی لی اور اس پر پانی چھڑکا، پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی، اور آپ کے ساتھ گھر والوں نے بھی نماز پڑھی۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِالتَّخْفِيفِ وَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to enjoin upon us to make the prayer short, but he would lead us in prayer and recite As-Saffat
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیتے، اور آپ ہماری امامت سورۃ الصافات سے کرتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the reciter says Amin, then say: "Amin" too, for the angels say Amin and if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, Allah will forgive his previous sins
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری ( امام ) آمین کہے، تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے ۱؎ گا تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ بخش دے گا ۔