بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
51 hadith
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ رَكَعْتُ فَطَبَّقْتُ فَقَالَ أَبِي إِنَّ هَذَا شَىْءٌ كُنَّا نَفْعَلُهُ ثُمَّ ارْتَفَعْنَا إِلَى الرُّكَبِ ‏.‏
It was narrated that Mus'ab bin Sa'd said:"I bowed and put my hands together, and my father said: 'This is something that we used to do, then we brought them up to our knees
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے رکوع کیا، تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان کر لیا، تو میرے والد نے کہا: پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہم اسے اٹھا کر گھٹنوں پر رکھنے لگے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْمَعَ النَّاسَ وَيَؤُمَّهُمْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَصَفَّحَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ لِيُؤْذِنُوهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لاَ يَلْتَفِتُ فِي الصَّلاَةِ فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلِمَ أَنَّهُ قَدْ نَابَهُمْ شَىْءٌ فِي صَلاَتِهِمْ فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىْ كَمَا أَنْتَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ ‏"‏ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ تُصَلِّيَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه مَا كَانَ يَنْبَغِي لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ ‏"‏ مَا بَالُكُمْ صَفَّحْتُمْ إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِذَا نَابَكُمْ شَىْءٌ فِي صَلاَتِكُمْ فَسَبِّحُوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Sahl bin Sa'd said:"The Messenger of Allah (ﷺ) set out to bring about reconciliation among Banu 'Amr bin 'Awf. The time for prayer came, and the Mu'adhdhin went to Abu Bakr to tell him to gather the people and lead them in prayer. Then the Messenger of Allah (ﷺ) came and passed though the rows until he stood in the first row. The people started clapping to let Abu Bakr know that the Messenger of Allah (ﷺ) had come. Abu Bakr never used to turn around when he prayed, but when they clapped consistently he realized something must have happened while they were praying. So he turned around and saw the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) gestured to him to stay where he was. Abu Bakr raised his hands and praised and thanked Allah (SWT) for what the Messenger of Allah (ﷺ) had said. Then, he moved backwards, and the Messenger of Allah (ﷺ) went forward and prayed. When he finished, he said to Abu Bakr: 'What stopped you from continuing to pray when I gestured to you?' Abu Bakr, may Allah (SWT) be pleased with him, said: 'It was not appropriate for the son of Abu Quhafah to lead the Messenger of Allah (ﷺ) in prayer.' Then he said to the people: 'Why did you clap?' Clapping is for women.' Then he said: 'If you notice something when you are praying, say "SubhanAllah
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے گئے تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، تو مؤذن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور اس نے ان سے لوگوں کو جمع کر کے ان کی امامت کرنے کے لیے کہا ( چنانچہ انہوں نے امامت شروع کر دی ) اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور صفوں کو چیر کر اگلی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے، لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تالیاں بجانے لگے تاکہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر دے دیں، جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو انہیں احساس ہوا کہ نماز میں کوئی چیز ہو گئی ہے، تو وہ متوجہ ہوئے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی اور طرف دھیان نہیں کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کہنے پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر وہ الٹے پاؤں پیچھے آ گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے، پھر آپ نے نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم نے نماز کیوں نہیں پڑھائی، جب میں نے تمہیں اشارہ کر دیا تھا؟ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا: تمہیں کیا ہو گیا تھا کہ تم تالیاں بجا رہے تھے، تالیاں تو عورتوں کے لیے ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہیں تمہاری نماز میں کوئی چیز پیش آ جائے، تو تم سبحان اللہ کہو ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ عُبَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ، قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُصَلِّي بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ ‏.‏
It was narrated that Ibn Al-Simt said:"I saw 'Umar bin Al-Khattab praying two rak'ahs in Dhul-Hulaifah and I asked him about that. He said: 'I am simply doing that which I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing
ابن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذوالحلیفہ ۱؎ میں دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے ان سے اس سلسلہ میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: میں تو ویسے ہی کر رہا ہوں جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏‏ "‏‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّهُمَا لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
It was narrated that Abu Bakrah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The sun and moon are two signs of Allah(ﷺ), and they do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that then pray until it (the eclipse) is over
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ تو کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کے پیدا ہونے سے، جب تم ان دونوں کو گرہن لگا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ صاف ہو جائیں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الاِسْتِسْقَاءِ فَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَبَذِّلاً مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّكْبِيرِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Hisham binIshaq bin Abdullah bin Kinanah that:His father said: "I asked Ibn 'Abbas how the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for rain. He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) went out (dressed) in a state of humility, beseeching and humble. He sat on the minbar but he did not deliver a Khutbah like this Khutbah of yours, rather he kept supplicating, beseeching and saying the takbir, and he prayed two rak'ahs as he used to do during the two 'Eids
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استسقاء کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے کپڑوں میں عاجزی اور گریہ وزاری کا اظہار کرتے ہوئے نکلے، اور منبر پر بیٹھے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا اور عاجزی کرتے رہے، اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں لگے رہے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی جیسے آپ عیدین میں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِذِي قَرَدٍ وَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلاَءِ إِلَى مَكَانِ هَؤُلاَءِ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَلَمْ يَقْضُوا ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that:The Messenger of Allah (ﷺ) prayed at Dhi Qarad and the people formed two rows behind him, one row behind him and one row facing the enemy. He led those who were behind him in praying one rak'ah, then they went and took the place of the others, and the others came and he led them in praying one rak'ah, and they did not make it up
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قرد ۱؎ میں نماز پڑھی، لوگوں نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنائیں، ایک صف آپ کے پیچھے اور ایک دشمن کے مقابلے میں، تو آپ نے ان لوگوں کو جو آپ کے پیچھے کھڑے تھے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسری صف والوں کی جگہ پر چلے گئے، اور وہ لوگ ان کی جگہ پر آ گئے، تو آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، اور لوگوں نے قضاء نہیں کی۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله تعالى عنه - حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَالْوَفْدِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ فَأَقْبَلَ بِهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ ‏"‏ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَىَّ بِهَذِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِعْهَا وَتُصِبْ بِهَا حَاجَتَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Salim that:His father said: "Umar bin A-Khattab, may Allah be pleased with him, found a Hullah of Istibraq in the market. He took it and brought it to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), why don't you buy this and adorn yourself with it for the two 'Eids and when (meeting) the delegations?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This is the clothing of one who has no share in the Hereafter,' or: 'This is worn by one who has no share in the Hereafter.' Then as much time passed as Allah (SWT) willed, then the Messenger of Allah (ﷺ) sent to Umar a garment made of Dibaj. He brought it to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, you said that this is the clothing of one who has no share in the Hereafter, then you sent this to me?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Sell it and use the money for whatever you need
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں موٹے ریشمی کپڑے کا ایک جوڑا ( بکتے ہوئے ) پایا، تو اسے لیا، اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اسے خرید لیں، اور عید کے لیے اور وفود سے ملتے وقت اسے پہنیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو گا، یا اسے تو وہی پہنے گا جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو گا ، تو عمر رضی اللہ عنہ ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس باریک ریشمی کپڑے کا ایک جبہ بھیجا، تو وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا تھا کہ یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں، پھر آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بیچ دو، اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever prays Qiyam during Ramadan out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے ( رات کا ) قیام کرے گا، تو اس کے گناہ جو پہلے ہو چکے ہوں بخش دیے جائیں گے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، - وَهُوَ الْبَصْرِيُّ - عَنْ يُونُسَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَدْعُوا بِالْمَوْتِ وَلاَ تَتَمَنَّوْهُ فَمَنْ كَانَ دَاعِيًا لاَ بُدَّ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah said: 'Do not pray for death or wish for it. Whoever insists on praying for it let him say: Allahumma ahini ma kanatil-hayatu khairanli wa tawaffani idha kanatil-wafatu khairanli (O Allah, keep me alive so long as life is good for me, and cause me to die when death is good for me)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم موت کی دعا نہ کرو، اور نہ ہی اس کی تمنا ( مگر ) جسے دعا کرنا ضروری ہو وہ کہے: «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور موت دیدے جب میرے لیے موت بہتر ہو ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَارَةَ، حَمْزَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَصْحَابِهِ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ قَالَ أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالُوا هَذَا الأَمْغَرُ الْمُرْتَفِقُ - قَالَ حَمْزَةُ الأَمْغَرُ الأَبْيَضُ مُشْرَبٌ حُمْرَةً - فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ قَالَ ‏"‏ سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ وَرَبِّ مَنْ بَعْدَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ أَمْوَالِ أَغْنِيَائِنَا فَتَرُدَّهُ عَلَى فُقَرَائِنَا قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ اثْنَىْ عَشَرَ شَهْرًا قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ يَحُجَّ هَذَا الْبَيْتَ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي آمَنْتُ وَصَدَّقْتُ وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"While the Prophet was with his Companions a man from among the desert people came and said: 'Which of you is the son of 'Abdul-Muttalib?' They said: 'This Anghar man who is reclining on a pillow.' (One of the narrators) Hamzah said: "Amghar means white with a reddish complexion.'- The man said: 'I am going to ask you questions and I will be harsh in asking.' He said: 'ask whatever you like.' He said: 'I ask you by your Lord and the Lord of those who came before you, and the Lord of those who will come after you; has Allah sent you?' He said: 'By Allah, yes.' He said: 'I adjure you by Him, has Allah commanded you to offer five prayers each day and night?' He said: 'By Allah, yes.; He said: 'I adjure you by Him, has Allah commanded you to take from the wealth of our rich and give it to our poor?' he said: 'By Allah, yes He said: 'I adjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month out of the twelve months?' He said: 'By Allah, yes.' He said: 'I adjure you by Him, has Allah commanded you to go on pilgrimage to this House, where can afford it?' He said: 'By Allah yes.' He said: 'I belive, and I am Dimam bin Thalabah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تھے کہ اسی دوران دیہاتیوں میں ایک شخص آیا، اور اس نے پوچھا: تم میں عبدالمطلب کے بیٹے کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ گورے رنگ والے جو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں ( حمزہ کہتے ہیں: «الأمغر» سرخی مائل کو کہتے ہیں ) تو اس شخص نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنے ولا ہوں، اور پوچھنے میں آپ سے سختی کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”پوچھو جو چاہو“، اس نے کہا: میں آپ سے آپ کے رب کا اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کا اور آپ کے بعد کے لوگوں کے رب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں“، اس نے کہا: تو میں اسی کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھیں؟ آپ نے کہا: ”اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں“، اس نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں کے مالوں میں سے ( زکاۃ ) لیں، پھر اسے ہمارے فقیروں کو لوٹا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں“، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے بارہ مہینوں میں سے اس مہینہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں“، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں کیا اللہ تعالیٰ نے آپ حکم دیا ہے کہ جو اس خانہ کعبہ تک پہنچنے کی طاقت رکھے وہ اس کا حج کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ گواہ رہنا ہاں“، تب اس شخص نے کہا: میں ایمان لایا اور میں نے تصدیق کی، میں ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَىْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ لَكَ وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ هَلْ عَلَى مَنْ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ ‏.‏
Abu Hurairah said:"I heard the Messenger of Allah say" 'Whoever spends on a pair of things in the cause of Allah, he will be called from the gates of Paradise: O slave of Allah, this is good for you. Paradise had (several) gates. Whoever is one of the people of Salah, he will be called from the gate of prayer. Whoever is one of the people of Jihad, will be called from the gate of Jihad. Whoever is one of the people of charity will be called from the gate of charity. And whoever is one of the people of fasting will be called from the gate of Ar-Rayyan." Abu Bakr said: "Is there any need for anyone to be called from all of these gates? Will anyone be called from all of them, O Messenger of Allah?" He said: "Yes, and I hope that you will be among them
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں چیزوں میں سے کسی چیز کے جوڑے دے تو وہ جنت کے دروازے سے یہ کہتے ہوئے بلایا جائے گا کہ اللہ کے بندے! آ جا یہ دروازہ تیرے لیے بہتر ہے، تو جو شخص اہل صلاۃ میں سے ہو گا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ اور جو شخص مجاہدین میں سے ہو گا وہ جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو اہل صدقہ ( و زکاۃ ) میں سے ہوں گے تو وہ صدقہ ( زکاۃ ) کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو روزے رکھنے والوں میں سے ہو گا وہ باب الریان ( ریان کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جو کوئی ان دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے بلا لیا جائے اسے مزید کسی اور دروازے سے بلائے جانے کی ضرورت نہیں، لیکن اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسا بھی ہے جو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْحَجَّةُ الْمَبْرُورَةُ لَيْسَ لَهَا ثَوَابٌ إِلاَّ الْجَنَّةُ ‏"‏ ‏.‏ مِثْلَهُ سَوَاءً إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"Hajj Al-Mabrur brings no reward other than paradise," the report is the same except that he said, "expiates for what came in between
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج مبرور ( مقبول ) کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے“، اس سے آگے پہلے کی حدیث کے مثل ہے، مگر فرق یہ ہے کہ اس میں «كفارة لما بينهما» کے بجائے «تكفر ما بينهما» کا لفظ آیا ہے۔
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا ‏.‏
Narrated It was narrated from Sa’eed bin Al-Musayyab and Salamah bin Abdur-Rahman that Abu Hurairah said:: “I heard the Messenger of Allah said: ‘I have been sent with concise speech, and I have been supported with fear. While I was sleeping, the keys to the treasures of the Earth were brought to me and placed in my hands.’ Abu Hurairah said: The Messenger of Allah has gone and you are acquiring them.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا میں جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہوں ۱؎ اور میری مدد رعب و دبدبہ سے کی گئی ہے، مجھے سوتے میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں ( اور پیش کرتے ہوئے ) میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( اس کی وضاحت کرتے ہوئے ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس دنیا سے ) چلے گئے اور تم ان ( خزانوں ) سے فیض اٹھا رہے ہو۔ ( انہیں نکال رہے اور خرچ کر رہے ہو)
Narrated by Sahl bin Sa'd
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَنَا فِي الْقَوْمِ، إِذْ قَالَتِ امْرَأَةٌ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَأْ فِيَّ رَأْيَكَ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ زَوِّجْنِيهَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَعَكَ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَزَوَّجَهُ بِمَا مَعَهُ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ ‏.‏
Narrated Sahl bin Sa'd:It was narrated that Sahl bin Sa'd said: "I was among the people when a woman said: 'I offer myself (in marriage) to you, O Messenger of Allah, see what you think of me.' A man stood up and said: 'Marry me to her.' He said: 'Go and find (something), even if it is an iron ring.' So he went, but he could not find anything, not even an iron ring. So the Messenger of Allah said: 'Do you have (memorized) any surahs of the Qur'an?' He said: 'Yes.' So he married him to her on the basis of what he knew of surahs of the Qur'an
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قوم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کے لیے اپنے آپ کو ہبہ کرتی ہوں، میرے متعلق آپ کی جیسی رائے ہو کریں، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا ( اللہ کے رسول! ) اس عورت سے میرا نکاح کرا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ ( بطور مہر ) کوئی چیز ڈھونڈھ کر لے آؤ اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“، تو وہ گیا لیکن کوئی چیز نہ پایا حتیٰ کہ ( معمولی چیز ) لوہے کی انگوٹھی بھی اسے نہ ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کیا تمہیں قرآن کی سورتوں میں سے کچھ یا دہے؟“ اس نے کہا: ہاں، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح اس عورت سے قرآن کی ان سورتوں کے عوض کرا دی جو اسے یاد تھیں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُزْرِمُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ‏.‏
It was narrated from Anas that a Bedouin urinated in the Masjid, and some of the people went after him, but the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Do not restrain him." When he had finished he called from a bucket (of water) and poured over it
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو کچھ لوگ اس کی طرف بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے نہ روکو ( پیشاب کر لینے دو ) جب وہ پیشاب کر چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگا کر اس پر بہا دیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ ‏}‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضى الله عنه قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas, concerning the saying of Allah, the Mighty and Sublime:"O Prophet! When you divorce women, divorce them at their 'Iddah (prescribed periods)." Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said: "Before their 'Iddah elapses
مجاہد (اپنے استاذ) ابن عباس رضی الله عنہما سے اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» یعنی ”جب عورت حیض سے پاک ہو جائے اور اس سے اس طہر میں صحبت بھی نہ کی جائے تب طلاق دینی چاہیئے“ کے سلسلے میں روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «لعدتهن» کی جگہ «قبل عدتهن» پڑھا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدَّمِ - فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلآنَ دَمًا - فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حِيضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي ‏"‏ ‏.‏وَأَخْبَرَنَا بِهِ قُتَيْبَةُ مَرَّةً أُخْرَى وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ
It was narrated from 'Aishah that Umm Habibah asked the Messenger of Allah (ﷺ) about bleeding. 'Aishah said:"I saw her wash tub filled with blood." The Messenger of Allah (ﷺ) said to her: "Stop (praying) for as long as your period used to last, then perform Ghusl. And Qutayba told us about it again, and he did not mention Ja`far ibn Rabi`ah in it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خون کے متعلق دریافت کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کے ٹب کو خون سے بھرا دیکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ( نماز روزے سے ) اتنے دن رکی رہو جس قدر تمہیں تمہارا حیض روکے رکھتا تھا، پھر غسل کر لو ۔ ( امام نسائی فرماتے ہیں ) ہمیں قتیبہ نے دوبارہ یہ حدیث بیان کی تو ( یزید بن ابی حبیب اور عراک بن مالک کے درمیان ) جعفر بن ربیعہ کا ذکر نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدَّمِ - فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلآنَ دَمًا - فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حِيضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي ‏"‏ ‏.‏وَأَخْبَرَنَا بِهِ قُتَيْبَةُ مَرَّةً أُخْرَى وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ
It was narrated from 'Aishah that Umm Habibah asked the Messenger of Allah (ﷺ) about bleeding. 'Aishah said:"I saw her wash tub filled with blood." The Messenger of Allah (ﷺ) said to her: "Stop (praying) for as long as your period used to last, then perform Ghusl. And Qutayba told us about it again, and he did not mention Ja`far ibn Rabi`ah in it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خون کے متعلق دریافت کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کے ٹب کو خون سے بھرا دیکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ( نماز روزے سے ) اتنے دن رکی رہو جس قدر تمہیں تمہارا حیض روکے رکھتا تھا، پھر غسل کر لو ۔ ( امام نسائی فرماتے ہیں ) ہمیں قتیبہ نے دوبارہ یہ حدیث بیان کی تو ( یزید بن ابی حبیب اور عراک بن مالک کے درمیان ) جعفر بن ربیعہ کا ذکر نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْبَزَّازُ، هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ، - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الأَنْبِيَاءِ وَأَحَبُّ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَكْفَالِهَا وَقَلِّدُوهَا وَلاَ تُقَلِّدُوهَا الأَوْتَارَ وَعَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Wahb, who was a Companion of the Prophet, said:"The Messenger of Allah said: 'Call (your children) by the names of the prophets. And the most beloved names to Allah, the Mighty and Sublime, are 'Abdullah and 'Abdur-Rahman. Keep horses; wipe their forelocks and posteriors, and prepare them for Jihad, but do not prepare them to seek vengeance for people killed during the Jahiliyyah. You should seek out Kumait, horses with a white mark on the face and white feet, or red with a white mark on the face and white feet, or black with a white mark on the face and white feet
صحابی رسول ابو وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( اپنے بچوں کے ) نام انبیاء کے ناموں پر رکھو، اور اللہ کے نزدیک سب ناموں میں زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہے ۱؎، گھوڑے باندھو، ان کی پیشانی سہلاؤ اور ان کے پٹھوں کی مالش کرو، ان کے گلے میں قلادے لٹکاؤ، لیکن تانت کے نہیں، کمیتی ( سرخ سیاہ رنگ والے ) گھوڑے رکھو جن کی پیشانی اور ٹانگیں سفید ہوں یا اشقر ( سرخ زرد رنگ والے ) گھوڑے رکھو جن کی پیشانیاں اور ٹانگیں سفید ہوں یا «ادھم» ( کالے رنگ کے ) گھوڑے رکھو جن کی پیشانی اور ٹانگوں پر سفیدی ہو“ ( یہ گھوڑے اچھے اور خیر و برکت والے ہوتے ہیں ) ۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏
A similar report was narrated from Abu Ishaq Al-Fazari, from (Ayyub) bin 'Awn, from Nafi', from Ibn 'Umar, from 'Umar, may Allah be pleased with him, from the Prophet
عمر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَىْءٌ يُوصَى فِيهِ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ إِلاَّ وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ ‏"‏‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah said: 'It is not befitting for a Muslim who has anything concerning which a will should be made, to abide for two nights without having a written will with him
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ضروری ہو مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں ایسی گزارے جس میں اس کے پاس اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، نَحَلَهُ نُحْلاً فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ أَشْهِدِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَا نَحَلْتَ ابْنِي ‏.‏ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَكَرِهَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَشْهَدَ لَهُ ‏.‏
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that his father gave him a present, and his mother said:"Ask the Prophet to bear witness to what you have given to my son." So he came to the Prophet and told him about that, and the Prophet did not want to bear witness to it
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں ایک عطیہ دیا، تو ان کی ماں نے ان کے والد سے کہا کہ آپ نے جو چیز میرے بیٹے کو دی ہے اس کے دینے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا دیجئیے، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اس کے لیے گواہ بننے کو ناپسند کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يَهَبَ هِبَةً ثُمَّ يَرْجِعَ فِيهَا إِلاَّ مِنْ وَلَدِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ طَاوُسٌ كُنْتُ أَسْمَعُ وَأَنَا صَغِيرٌ عَائِدٌ فِي قَيْئِهِ فَلَمْ نَدْرِ أَنَّهُ ضَرَبَ لَهُ مَثَلاً قَالَ ‏"‏ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ ثُمَّ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Tawus said:"The Messenger of Allah said: 'It is not permissible for anyone to give a gift then take it back, except from one's son.'" Tawus said: "When I was young I used to hear (the phrase), 'The one who goes back to his vomit,' but we did not realize that this was a similitude." He said: "The likeness of the one who does that is that of a dog which eats then vomits, then goes back to its vomit
تابعی طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کوئی ہبہ دے پھر اسے واپس لے، سوائے باپ کے کہ وہ اپنے بیٹے کو دے کر اس سے واپس لے سکتا ہے“۔ طاؤس کہتے ہیں: قے کر کے اسے چاٹنے کی بات میں سنتا تھا اور ( اس وقت ) میں چھوٹا تھا۔ میں یہ نہیں جان سکا تھا کہ آپ نے اسے بطور مثال بیان کیا ہے، ( تو اب سنو ) جو شخص ایسا کرے اس کی مثال کتے کی ہے جو قے کرتا ہے، پھر اسے چاٹتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِمَنْ أُعْمِرَهَا وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِمَنْ أُرْقِبَهَا وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ ‏"‏ ‏.‏
Hajjaj narrated from Abu Az-Zubair, from Tawus, from Ibn 'Abbas, who said:"The Messenger of Allah said: 'Umra (life-long gift) is permissible for the one to whom it is given, and Ruqba is permissible to the one to whom it is given, and the one who takes back his gift is like the one who goes back to his vomit
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ ۱؎ لاگو ہو گا، اور وہ اسی کا حق ہو گا جسے وہ عمریٰ کیا گیا ہے، اور رقبیٰ لاگو ہو گا، اور یہ اسی کا ہو گا جسے وہ رقبیٰ کیا گیا ہو اور اپنا ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ، عَرَضَ عَلَىَّ مَعْقِلٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ وَلاَ تَرْقُبُوا فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ لِسَبِيلِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Zaid bin Thabit said:The Messenger of Allah said: "Whoever gives a life-long gift, it belongs to the one to whom he gave it, both during his life and after his death. And do not give things on the basis of Ruqba, for whoever is given something on the basis of Ruqba, it becomes part of his estate
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی چیز ( صرف ) عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز جس کو دی ہے اس کی ہو جائے گی، اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مر جانے کے بعد بھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) رقبیٰ نہ کرو کیونکہ جس نے رقبیٰ کیا ہے ( وہ اسے نہ ملے گی ) وہ موہوب لہ کے راستہ ہی میں رہے گی“ ۱؎۔
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي مَجْلِسِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - وَهُوَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Yahya bin Abi Ishaq said:"A man from Banu Ghifar told me, in the gathering of Salim bin 'Abdullah, Salim bin 'Abdullah said: 'I heard 'Abdullah -that is, Ibn 'Umar- say: "The Messenger of Allah said: 'Allah forbids you to swear by your forefathers
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ ثُمَّ يَعْدِلُ ثُمَّ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلاَ تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلاَ أَمْلِكُ ‏"‏ ‏.‏ أَرْسَلَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah used to divide his time equally among his wives then he would say: 'O Allah, this is what I have done with regard to that over which I have control, so do not blame me for that over which You have control and I do not.'" Hammad bin Zaid narrated it in Mursal form
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان کچھ تقسیم کرتے تو برابر برابر کرتے، پھر فرماتے: اللہ! میرا یہ کام تو میرے دائرہ اختیار میں ہے، لہٰذا تو مجھے ملامت نہ کر ایسے کام کے سلسلے میں جو تیرے اختیار کا ہے اور مجھے اس میں کوئی اختیار نہیں۔ حماد بن زید نے یہ حدیث مرسل روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ لأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالاً كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنِّي رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah [SAW] died and Abu Bakr became the Khalifah after him, and some of the 'Arabs reverted to Kufr, 'Umar said to Abu Bakr: 'How can you fight the people when the Messenger of Allah [SAW] said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship but Allah). Whoever says La ilaha illallah, his wealth and his life are safe from me except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah.?' Abu Bakr said: 'By Allah, I will fight whoever separates Salah and Zakah, for Zakah is the compulsory right to be taken from wealth. By Allah, if they withhold from me a rope that they used to give to the Messenger of Allah [SAW], I will fight them for withholding it.' 'Umar, may Allah be pleased with him, said: 'By Allah, as soon as I realized that Allah has expanded the chest of Abu Bakr for fighting, I knew that it was the truth
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ ‏‏.‏‏ قَالَ سُفْيَانُ قَالُوا لِهِشَامٍ - يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ - أَنَّ أَيُّوبَ إِنَّمَا يَنْتَهِي بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ إِنَّ أَيُّوبَ لَوِ اسْتَطَاعَ أَنْ لاَ يَرْفَعَ حَدِيثًا لَمْ يَرْفَعْهُ ‏‏.‏‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"None of you should urinate into standing water which does not flow and then perform Ghusl with it." (One of the narrators) Sufyan said: "They said to Hisham - meaning Ibn Hassan - 'Ayyub only attributed this Hadith to Abu Hurairah?' So he said: 'If Ayyub is not able to raise up a narration then he does not raise it.'" [1] [1] That is, he narrated it from Abu Hurairah, rather than from him from the Prophet (ﷺ) while others narrated it in Marfu' form or "raised" to the Prophet (ﷺ) And perhaps by: "If he is able to not raise it" he means: "If he is not able to raise it." And Allah knows best
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا نہ ہو ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل بھی کرے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَتَيْتُهُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلاَءِ بَنُو هَاشِمٍ لاَ نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي جَعَلَكَ اللَّهُ بِهِ مِنْهُمْ أَرَأَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَمَنَعْتَنَا فَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونِي فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلاَ إِسْلاَمٍ إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَىْءٌ وَاحِدٌ ‏"‏ ‏.‏ وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ‏.‏
It was narrated that Jubair bin Mut'im said:"When the Messenger of Allah distributed the share for his relatives to Banu Hashim and BanuA-Muttalib, I came to himwith 'Uthman bin 'Affan and we said: 'O Messenger of Allah, no one denies the virtue of Banu Hashim because of the relationship between you and them. But how come you have given (a share) to Banu Al-Muttalib and not to us? They and we share the same degree of relationship to you. 'The Messenger of Allah said: "They did not abandon me during the Jahiliyyah or in Islam. Banu Hashim and Banu Al-Muttalib are the same thing, and he interlaced his fingers
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَنَّ أَبَاهُ الْوَلِيدَ، حَدَّثَهُ عَنْ جَدِّهِ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكَارِهِنَا وَعَلَى أَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْعَدْلِ أَيْنَ كُنَّا لاَ نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ‏.‏
It was narrated that 'Ubadah bin As-Samit said:"We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey during our hardship and our ease, when we felt energetic and when we felt tired, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, that we would stand for justice wherever we may be, and that we would not fear the blame of any blamer for the sake of Allah
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قَالَ عَمْرٌو عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Umm Kurz that the Messenger of Allah said:"For a boy two sheep, Mukafaatan (of equal age), and for a girl, one sheep
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ زُرَارَةَ بْنِ كُرَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو الْبَاهِلِيُّ - قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو، يُحَدِّثُ أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ فَأَتَيْتُهُ مِنْ أَحَدِ شِقَّيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي اسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ أَرْجُو أَنْ يَخُصَّنِي دُونَهُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ فَقَالَ بِيَدِهِ ‏"‏ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَتَائِرُ وَالْفَرَائِعُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَنْ شَاءَ عَتَرَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ وَمَنْ شَاءَ فَرَّعَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ فِي الْغَنَمِ أُضْحِيَتُهَا ‏"‏ ‏.‏ وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ إِلاَّ وَاحِدَةً ‏.‏
It was narrated that Yahya bin Zurarah bin Karim bin Al-Harith bin 'Amr Al-Bahili said:"I heard my father say, that he heard his grandfather Al-Harith bin 'Amr, that he met the Messenger of Allah during the Farewell Pilgrimage, when he was atop his slit-eared camel. (He said): 'I said: O Messenger of Allah, May my father and mother be ransomed for you; pray for forgiveness for me. He said: May Allah forgive you (plural). Then I came to him from the other side, hoping that he would supplicate just for me alone, and not them. I said: O Messenger of Allah, pray for forgiveness for me. He said: May Allah forgive you (plural). Then a man among the people said: O Messenger of Allah, (what about) the 'Atirah and Fara'? He said: Whoever wishes to offer and 'Atirah may do so, and whoever does not wish to, may not. Whoever wishes to offer a Fara' may do so, and whoever does not wish to, may not. And with regard to sheep, a sacrifice should be offered. And he clasped between his fingers except for one
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ أَبُو صَالِحٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُرْسِلُ كِلاَبِي الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَىَّ فَآكُلُ قَالَ ‏"‏ إِذَا أَرْسَلْتَ كِلاَبَكَ الْمُعَلَّمَةَ فَأَمْسَكْنَ عَلَيْكَ فَكُلْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَإِنْ قَتَلْنَ قَالَ ‏"‏ وَإِنْ قَتَلْنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا لَمْ يَشْرَكْهُنَّ كَلْبٌ مِنْ سِوَاهُنَّ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَيَخْزِقُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنْ خَزَقَ فَكُلْ وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلاَ تَأْكُلْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:"I said: 'O Messenger of Allah, I release my trained dogs and they catch (game) for me; can I eat It? He said: 'When you release your trained dogs and they catch (game) for you, then eat.' I said: 'Even if they kill it.' He said: 'So long as no other dogs have joined them." I said: 'I shoot with the Mirad. And they penetrate (the game).' He said 'If they penetrate it, then eat, but if the broad said strikes it, then do not eat
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، وَذَكَرَ، آخَرِينَ عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلاَلٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ ‏"‏ أُمِرْتُ بِيَوْمِ الأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الأُمَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلاَّ مَنِيحَةً أُنْثَى أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ ‏"‏ لاَ وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin al-As that the Messenger of Allah said to a man:"I have been instructed to take the Day of Sacrifice as an 'Id which Allah, the Might and Sublime, has ordained for this Ummah." The man said: "What do you think if I cannot find anything but a female sheep that has been loaned to me so that I may benefit from its milk - should I sacrifice it?" He said: "No. Rather cut something from your hair and your nails, trim your mustache and shave your pubic hairs, and you will have a complete reward with Allah, the Might and Sublime, as if you had offered the sacrifice
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - فَوَاللَّهِ لاَ أَسْمَعُ بَعْدَهُ أَحَدًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ الْحَلاَلَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ ‏"‏ ‏.‏ وَرُبَّمَا قَالَ ‏"‏ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلاً إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَى حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا حَرَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى ‏"‏ ‏.‏ وَرُبَّمَا قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ مَنْ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ وَإِنَّ مَنْ يُخَالِطِ الرِّيبَةَ يُوشِكْ أَنْ يَجْسُرَ ‏"‏ ‏.‏
An-Nu'man bin Bashir said:"I heard the Messenger of Allah say: "That which is lawful is plain and that which is unlawful is plain, and between them are matters which are not as clear. I will strike a parable for you about that: indeed Allah, the Mighty and Sublime, has established a sanctuary, and the sanctuary of Allah is that which He has forbidden. Whoever approaches the sanctuary is bound to transgress upon it, Or he said: 'Whoever grazes around the sanctuary will soon transgress upon it, and whoever indulges in matters that are not clear, he will soon transgress beyond the limits
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْبُنَانِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الصَّلَوَاتِ، فُرِضَتْ بِمَكَّةَ وَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَهَبَا بِهِ إِلَى زَمْزَمَ فَشَقَّا بَطْنَهُ وَأَخْرَجَا حَشْوَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فَغَسَلاَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ كَبَسَا جَوْفَهُ حِكْمَةً وَعِلْمًا ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the prayers were enjoined in Makkah, and that two angels came to the Messenger of Allah (ﷺ) and took him to Zamzam, where they split open his stomach and took out his innards in a basin of gold, and washed them with Zamzam water, then they filled his heart with wisdom and knowledge
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پنج وقتہ نمازیں مکہ میں فرض کی گئیں، دو فرشتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ دونوں آپ کو زمزم کے پاس لے گئے، اور آپ کا پیٹ چاک کیا، اور اندر کی چیزیں نکال کر سونے کے ایک طشت میں رکھیں، اور انہیں آب زمزم سے دھویا، پھر آپ کا پیٹ علم و حکمت سے بھر کر بند کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمَا فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ ‏.‏ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ‏.‏ ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَخُوهُ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَبِّرْ كَبِّرْ ‏"‏ ‏.‏ وَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ ‏"‏ ‏.‏ فَكَتَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَكَتَبُوا إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏"‏ تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لَيْسُوا مُسْلِمِينَ ‏.‏ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ ‏.‏ قَالَ سَهْلٌ لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ ‏.‏
It was narrated from Sahl bin Abi Hathmah that:'Abdullah bin Sahl and Muhayysah set out for Khaibar because of some problem that had arisen. Someone came to Muhayysah and he told him that 'Abdullah bin Sahl had been Killed and thrown into a pit, or a well. He came to the Jews and said: "By Allah, you killed him. " They said: "By Allah, we did not kill him."Then he went back to the Messenger of Allah and told him about that. Then he and Huwayysah - his brother who was older than him - and 'Abdur-Rahman bin Sahl, came (to the Prophet). Muhayysah, who was the one who had been at Khaibar, began to speak, but the messenger of Allah said: "Let the elder speak first," So Huwayysah elder speaks first." So Huwayysah spoke, then Muhayysah spoke. The Messenger of Allah said: "Either (the Jews) will pay the Diyah for your comanion, or war will be declared on them." The Messenger of Allah sent a letter to that effect (to the Jews) and they wrote back saying: "By Allah, we did not kill him." The Messenger of Allah said to Huwayysah. Muhayysah and 'Abdur-Rahman: "Will you swear an oath establishing your claim to the blood money of your companion?" They said: "No." He said: "Should the jews swear an oath for you? They said: "They are not Muslims." So the Messenger of Allah paid (the Diyah) himself, and he sent one hundred she-camels to their abodes. Sahl said: "A red she-camel from among them kicked me
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُ رَفَعَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الْكَلاَعِيِّينَ أَنَّ حَاكَةً سَرَقُوا مَتَاعًا فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا خَلَّيْتَ سَبِيلَ هَؤُلاَءِ بِلاَ امْتِحَانٍ وَلاَ ضَرْبٍ ‏.‏ فَقَالَ النُّعْمَانُ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَضْرِبْهُمْ فَإِنْ أَخْرَجَ اللَّهُ مَتَاعَكُمْ فَذَاكَ وَإِلاَّ أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَهُ ‏.‏ قَالُوا هَذَا حُكْمُكَ ‏.‏ قَالَ هَذَا حُكْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that:a group of the Kala'iyin complaned to him about some people who had stolen some goods, shoe detained them for several days, and then he let them go. They came and said: "You let them go without any pressure (to make them admit to their crime) or beating?" An-Nu'man said: "What do you want? If you wish, I will beat them, and if Allah brings back your goods thereby, all well and good. Otherwise I will take retaliation from your backs (by beating you) likewise." They said: "is this your ruling?" He said: "This is the ruling of Allah and His Messenger "(Daif)
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَزَلَ مَنْزِلاً لَمْ يَرْتَحِلْ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ قَالَ وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ ‏.‏
Hamzah Al-'A'idhi said:"I heard Anas bin Malik say: 'When the Prophet (ﷺ) halted, he would not move on until he had prayed Zuhr.' A man said: 'Even if it was the middle of the day?' He said: 'Even if it was the middle of the day
حمزہ عائذی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ظہر سے پہلے ) جب کسی جگہ اترتے ۱؎ تو جب تک ظہر نہ پڑھ لیتے وہاں سے کوچ نہیں کرتے، اس پر ایک آدمی نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی؟ انہوں نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ۲؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلاَوَةَ الإِسْلاَمِ مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ أَحَبَّ الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas that :The Prophet [SAW] said: "There are three things, whoever attains them will find therein the sweetness of Islam: When Allah [SWT] and His Messenger [SAW] are dearer to him than all else; when he loves a person and only loves him for the sake of Allah [SWT]; and when he would hate to go back to disbelief as much as he would hate to be thrown into the fire
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ ‏"‏ ‏.‏
Abdur-Rahman bin Abu 'Atiq said:"My father told me: 'I heard 'Aishah say, (narrating) from the Prophet (ﷺ): "Siwak is a means of purification for the mouth and is pleasing to the Lord
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسواک منہ کی پاکیزگی، رب تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ تَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَالْخِتَانُ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"Five things are of the Fitrah: Clipping the nails, trimming the mustache, plucking the armpit hairs, shaving the pubes, and circumcision." (Sahih Mawquf)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَلاَ تَسْتَعْمِلْنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلاَنًا قَالَ ‏ "‏ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ ‏"‏‏.‏
It was narrated from Usaid bin Hudair that:A man from among the Ansar came to the Messenger of Allah [SAW] and said: "Will you not appoint me as you appointed so-and-so?" He said: "You will encounter selfishness after I am gone, so be patient until you meet me at the cistern (Al-Hawd)
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ يَا ابْنَ عَابِسٍ أَلاَ أَدُلُّكَ - أَوْ قَالَ أَلاَ أُخْبِرُكَ - بِأَفْضَلِ مَا يَتَعَوَّذُ بِهِ الْمُتَعَوِّذُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ‏{‏ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ‏}‏ وَ ‏{‏ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ‏}‏ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
Abu 'Abdullah narrated that Ibn 'Abis Al-Juhani told him that:The Messenger of Allah [SAW] said to him: "O Ibn 'Abis, shall I not tell you of the best thing with which those who seek refuge with Allah may do so?" He said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak.", "Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind." - these two Surahs
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ خَمْرٌ‏.‏
It was narrated that Jabir - meaning bin 'Abdullah - said:"Unripe dates and dried dates are Khamr
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الأَذَانُ تِسْعُ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالإِقَامَةُ سَبْعُ عَشْرَةَ كَلِمَةً ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ عَدَّهَا أَبُو مَحْذُورَةَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَسَبْعَ عَشْرَةَ ‏.‏
It was narrated from Abu Mahdhurah that the Messenger of Allah (S.A.W) taught him the Adhan with nineteen phrases and the Iqamah with seventeen phrases, then Abu Mahdhurah counted them as nineteen and seventeen
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان کے انیس کلمے ہیں، اور اقامت کے سترہ کلمے ، پھر ابومحذورۃ رضی اللہ عنہ نے انیس اور سترہ کلموں کو گن کر بتایا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا فَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ فَلَقِيتُ بِلاَلاً فَسَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Salim that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) entered the House (the Ka'bah), with Usamah bin Zaid, Bilal and 'Uthman bin Talhah, and they locked the door behind them. When the Messenger of Allah (ﷺ) opened it, I was the first one to enter. I met Bilal and asked him: 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) pray inside?' He said: 'Yes, he prayed between the two Yemeni columns
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور ان لوگوں نے خانہ کعبہ کا دروازہ بند کر لیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھولا تو سب سے پہلے اندر جانے والا میں تھا، پھر میں بلال رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے دونوں یمانی ستونوں یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان نماز پڑھی ہے۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي فَقَالَ ‏ "‏ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Aisha(ra) said:"The messenger of Allah(ﷺ) was asked during the campaign of Tabuk about the Sutra of one who is praying. He said: "Something as high as the back of a camel saddle
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ تبوک میں نمازی کے سترہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ کجاوہ کی پچھلی لکڑی کی طرح کی بھی کوئی چیز ہو سکتی ہے ۔
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي - وَقَالَ مَرَّةً أَنَا وَصَاحِبٌ لِي - فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Malik bin Al-Huwairith said:"I came to the Messenger of Allah (ﷺ) with a cousin of mine" - once he said, "with a friend of mine" - and he said: 'When you travel, call the Adhan and Iqamah, and let the older of you lead the prayer
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ایک چچازاد بھائی ( اور کبھی انہوں ) نے کہا: میں اور میرے ایک ساتھی، دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دونوں سفر کرو تو تم دونوں اذان اور اقامت کہو، اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حِيَالَ أُذُنَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ‏.‏
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith- who was one of the companions of the Prophet (ﷺ)- that:When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed he would raise his hands-when he said the Takbir- until they were parallel to his ears, and when he wanted to bow and when he raised his head from bowing
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو جس وقت آپ اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرنے اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کرتے ( تب بھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھاتے ) ۔