بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
35 hadith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) raised his head in the second rak'ah of the subh prayer, he said: 'O Allah, save Al-Walid bin Al-Walid and Salamah bin Hisham and 'Ayyshah bin Abi Rabi'ah and those who are weak and oppressed in Makkah. O Allah, intensify Your punishment in Mudar and give them years (of famine) like the years of Yusuf
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں دوسری رکعت سے اپنا سر اٹھایا تو آپ نے دعا کی: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور لوگوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اور ان کے اوپر یوسف علیہ السلام ( کی قوم ) جیسا سا قحط مسلط کر دے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَامَ فِي الصَّلاَةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Buhainah that:The Messenger of Allah (ﷺ) stood up during the prayer when he should have sat, so he prostrated twice while sitting, before the taslim
عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہو گئے حالانکہ آپ کو تشہد کے لیے بیٹھنا چاہیئے تھا، تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَصَلَّيْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ وَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَلْقُوا ثِيَابًا فَأَعْطَاهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الثَّانِيَةُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ - قَالَ - فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ جَاءَ هَذَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَوا ثِيَابًا فَأَمَرْتُ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ ثُمَّ جَاءَ الآنَ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَى أَحَدَهُمَا ‏"‏ ‏.‏ فَانَتْهَرَهُ وَقَالَ ‏"‏ خُذْ ثَوْبَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Iyad bin 'Abdullah said:"I heard Abu Sa'eed Al-Khudri say: 'A man who appeared shabbily came on a Friday, while the Prophet (ﷺ) was delivering the Khutbah. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'Have you prayed?" He said: 'No." He said: 'Pray two rak'ahs.' And he urged the people to give in charity. They gave clothes, and he gave him two garments. The following Friday, he came when the Messenger of Allah (ﷺ) was delivering the khutbah, and he urged the people to give charity. (That man) gave one of his two garments and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This man came last Friday looking shabby, and I commanded the people to give charity and they gave clothes, and I said that he should be given two garments, and now he came and I commanded the people to give charity and he gave one of them. So he chided him and said: Take your garment
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو ایک آدمی خستہ حالت میں ( مسجد میں ) آیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھی؟ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھ لو ، اور آپ نے ( دوران خطبہ ) لوگوں کو صدقہ پر ابھارا، لوگوں نے صدقہ میں کپڑے دیئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو دیے، پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو وہ شخص پھر آیا، اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ پر ابھارا، تو اس شخص نے بھی اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا ڈال دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص ( پچھلے ) جمعہ کو بڑی خستہ حالت میں آیا، تو میں نے لوگوں کو صدقے پر ابھارا، تو انہوں نے صدقے میں کپڑے دیئے، میں نے اس میں سے دو کپڑے اس شخص کو دینے کا حکم دیا، اب وہ پھر آیا تو میں نے پھر لوگوں کو صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا ، پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: اپنا کپڑا اٹھا لو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ فَقَامَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلاَتِهِ قَطُّ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ هَذِهِ الآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لاَ تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Musa said:"There was an eclipse of the sun, and the Messenger of Allah (ﷺ) got up in a rush, fearing that it might be the Hour. He went to the masjid, where he stood and prayed, standing, bowing and prostrating for the longest time that I ever saw him do in prayer. Then he said: 'These signs that Allah (SWT) sends do not occur for the death or birth of anyone, but Allah (SWT) sends them to strike fear into His slaves. If you see any of these things, then hasten to remember Him, call upon Him supplicate and ask for His forgiveness
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر کھڑے ہوئے، آپ ڈر رہے تھے کہ کہیں قیامت تو نہیں آ گئی ہے، چنانچہ آپ اٹھے یہاں تک کہ مسجد آئے، پھر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو آپ نے اتنے لمبے لمبے قیام، رکوع اور سجدے کیے کہ اتنے لمبے میں نے آپ کو کسی نماز میں کرتے نہیں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، یہ نہ کسی کے مرنے سے ہوتے ہیں نہ کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے بندوں کو ڈرانے کے لیے بھیجتا ہے، تو جب تم ان میں سے کچھ دیکھو تو اللہ کو یاد کرنے اور اس سے دعا اور استغفار کرنے کے لیے دوڑ پڑو ۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فُلاَنَةُ لاَ تَنَامُ ‏.‏ فَذَكَرَتْ مِنْ صَلاَتِهَا فَقَالَ ‏"‏ مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لاَ يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا وَلَكِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Aishah that:The Prophet (ﷺ) came in to her and there was a woman with her. He said: "Who is this?" She said: "So-and-so, and she does not sleep." And she told him about how she prayed a great deal. He said: "Stop praising her. You should do what you can, for by Allah (SWT), Allah never gets tired (of giving reward) until you get tired. And the most beloved of religious actions to Him is that in which a person persists
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اور ان کے پاس ایک عورت ( بیٹھی ہوئی ) تھی تو آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں ( عورت ) ہے جو سوتی نہیں ہے، پھر انہوں نے اس کی نماز کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چپ رہو، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تمہیں طاقت ہو، قسم اللہ کی، اللہ نہیں تھکتا ہے یہاں تک کہ تم تھک جاؤ، پسندیدہ دین ( عمل ) اس کے نزدیک وہی ہے جس پر آدمی مداومت کرے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah that the Prophet said:"He is not one of us who strikes his cheeks, rends his garment, and calls the calls of the Jahiliyyah
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گال پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ہم میں سے نہیں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَذَكَرَ، كَلِمَةً مَعْنَاهَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'The month is twenty-nine days
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِنْتٌ لَهَا فِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيِظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ ‏"‏ أَتُؤَدِّينَ زَكَاةَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَخَلَعَتْهُمَا فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ هُمَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu 'aib, from his father, from his grandfather, that:a woman from among the people of Yemen came to the Messenger of Allah with a daughter of hers, and on the daughter's hand were two thick bangles of gold. He said: "Do you pay Zakah on these? She said: "No." He said: "Would it please you if Allah were to put two bangles of fire on you on the Day of Resurrection? " So she took them of and gave them to the Messenger of Allah and said: "They are for Allah and His Messenger
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ یمن کی رہنے والی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی تھی جس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس کی زکاۃ دیتی ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تجھے اچھا لگے گا کہ اللہ عزوجل ان کے بدلے قیامت کے دن تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟“ یہ سن کر اس عورت نے دونوں کنگن ( بچی کے ہاتھ سے ) نکال لیے۔ اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ڈال دیا، اور کہا: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّهَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بِالْبَيْدَاءِ فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لْتُهِلَّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Asma bin 'Umais that:she gave birth to Muhammad bin Abi Bakr As-Siddiq in Al-Baida, Abu Bakr told the Messenger of Allah about that, and he said: "Tell her to perform Gusl then begin the Talbiyah
اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے محمد بن ابی بکر صدیق کو بیداء میں جنا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”ان سے کہو کہ غسل کر لیں پھر لبیک پکاریں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّهُ سَأَلَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْعَمَلِ خَيْرٌ قَالَ ‏ "‏ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Dharr that he asked the prophet of Allah (ﷺ) which deed was best. He said:"Belief in Allah and Jihad in the cause of Allah, the Mighty and Sublime
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا“۔
Narrated by Abu Hurairah
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said: "None of you should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے“۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي كُلَّ شَىْءٍ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that -(one of the narrators) 'Abdur-Rahman said:"The Messenger of Allah -said: 'Allah, the Most High, has forgiven my Ummah for everything that enters the mind, so long as it is not spoken of or put into action
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ( عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کر دیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں اور اس پہ عمل نہ کریں“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that a man said:"O Messenger of Allah, my mother died; will it benefit her if I give in charity on her behalf?" He said: "Yes." He said: "I have a garden and I ask you to bear witness that I am giving it in charity on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: پھر تو میرے پاس کھجور کا ایک باغ ہے، آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی ماں کی طرف سے اسے صدقہ میں دے دیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لاَ يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"Do not make vows, for a vow does not have any impact on the Qadar. Rather it is just a means of taking wealth from the miserly
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر ( کے لکھے ) میں کچھ کام نہیں آتی، اس سے تو صرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَبِي بَكْرٍ ‏ "‏ مُرْهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah concerning Asma' bint Umais that when she gave birth at Dhul-Hulaifah, the Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr:"Tell her to perform Ghusl and (begin the Talbiyah)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جب انہیں ذوالحلیفہ میں نفاس آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: انہیں حکم دو کہ غسل کر لیں، اور احرام باندھ لیں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْكَبَائِرُ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Ubaidullah bin Abi Bakr said:"I heard Anas say: 'The Messenger of Allah [SAW] said: The major sins are: Associating others with Allah (Shirk), disobeying one's parents, killing a soul (murder) and speaking falsely
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever obeys me, obeys Allah, and whoever disobeys me, disobeys Allah. Whoever obeys my governor (Amir), he has obeyed me, and whoever disobeys my governor, he has disobeyed me
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الذَّارِعُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مِحْصَنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلاَ تَأْكُلْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:"I asked the Messenger of Allah about hunting with the Mirad and the said: 'If the sharp edge hits (the game), then eat, but if the broad edge of it strikes it, do not eat it
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ أَرْسَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْمَذْىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَغْسِلُ ذَكَرَهُ ثُمَّ لْيَتَوَضَّأْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Sulaiman bin Yasar said:"Ali bin Abi Talib sent Al-Miqdad to the Messenger of Allah (ﷺ) to ask him about a man who notices Madhi. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Let him wash his penis then perform Wudu
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ آپ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو مذی پاتا ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لے، پھر وضو کر لے ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ اثْنَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Shaddad bin Aws said:"There are two things that I memorized from the Messenger of Allah, who said: 'Allah has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters.'" (Sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ، حَاضِرٌ لِبَادٍ وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"It was forbidden to us for a town-dweller to sell for a desert-dweller, even if he was his father or brother." (Sahih)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ أَحْمِلُ أَنَا وَغُلاَمٌ مَعِي نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ ‏.‏
Anas bin Malik said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) would go to the toilet, I and another boy like me would bring a small leather vessel of water and he would clean himself with water
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو میں اور میرے ساتھ مجھ ہی جیسا ایک لڑکا دونوں پانی کا برتن لے جا کر رکھتے، تو آپ پانی سے استنجاء فرماتے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، دُحَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو - عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever kills a person from among Ahl Adh-Dhimmah, he will not smell the fragrance of Paradise, and its fragrance may be detected from a distance of forty years
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رُبُعِ دِينَارٍ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah, may Allah be pleased with her, that:the Messenger of Allah cut off (a thief's hand) for one quarter of a Dinar
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray on his mount while on a journey, no matter what direction it was facing." Malik said: "Abdullah bin Dinar said: 'And Ibn 'Umar used to do likewise
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے جس طرف بھی وہ متوجہ ہوتی، مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ بن دینار نے کہا: اور ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي أَنَّهُ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِأَيِّهِمَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ وَإِمَّا وَفَاةٍ أَوْ أَنْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ يَنَالُ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ
Abu Hurairah said:"I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'Allah has promised the one who goes out in His cause 'and does not go out except with faith in Me and for Jihad in My cause,' that he is guaranteed to enter Paradise no matter how, either he is killed, or he dies, or he will be brought back to his home from which he departed having acquired whatever he acquired of reward or spoils of war
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَرَأَيْتُهُ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ ‏.‏
It was narrated that Abu Rimthah said:"I came to the Prophet [SAW] and I saw that he had dyed his beard with yellow dye
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْمَغْرِبِ ثُمَّ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَنَامُوا وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ وَلَوْلاَ ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسُقْمُ السَّقِيمِ لأَمَرْتُ بِهَذِهِ الصَّلاَةِ أَنْ تُؤَخَّرَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led us in Maghrib prayer, then he did not come out to us until half the night had passed. Then he came out and led them in prayer, then he said: 'The people have prayed and gone to sleep, but you are still in a state of prayer so long as you are waiting for the prayer. Were it not for the weakness of the weak and, the sickness of the sick, I would have commanded that this prayer be delayed until halfway through the night
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو مغرب پڑھائی، پھر آپ نہیں نکلے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، پھر نکلے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر فرمایا: لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہیں، اور تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے نماز ہی میں تھے، اگر کمزور کی کمزوری، اور بیمار کی بیماری نہ ہوتی تو میں حکم دیتا کہ اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کیا جائے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الأَلَدُّ الْخَصِمُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'The most hated of men to Allah is the most quarrelsome of opponents
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْحِمْصِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، - هُوَ ابْنُ الزُّبَيْرِ - عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ التَّعَوُّذَ مِنَ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُكْثِرُ التَّعَوُّذَ مِنَ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah [SAW] often used to seek refuge (with Allah) from debt and sin. It was said to him: 'O Messenger of Allah! You often seek refuge from debt and sin?' He said: 'If a man gets into debt, he speaks and lies, and he makes a promise and breaks it
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْحُسَيْنُ قَالَ أَحْمَدُ وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Every intoxicant is unlawful and every intoxicant is Khamr
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأْذِينَ فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الْمَرْءُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (S.A.W) said:"When the call for the prayer is given, the Shaitan takes to his heels, passing wind loudly so that he will not hear the call to prayer. When the call to prayer is finished, he comes back. And when the Iqamah is said, he again takes to his heels, and after it is completed, he returns again to interfere between the (praying) person and his heart, saying to him: 'Remember such and such, remember such and such,' - things that he had not remembered - until he does not know how many (Rak'ahs) he has prayed
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا ۱؎ پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اذان ( کی آواز ) نہ سنے، پھر جب اذان ہو چکتی ہے تو واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے، تو ( پھر ) پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، اور جب اقامت ہو چکتی ہے تو ( پھر ) آ جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے ( کہ ) فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر، پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ كُنَّا نَغْدُو إِلَى السُّوقِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَمُرُّ عَلَى الْمَسْجِدِ فَنُصَلِّي فِيهِ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa'eed bin Al-Mu'alla said:"We used to go to the marketplace in the morning at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and we would pass through the Masjid and pray there
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بازار جاتے تو مسجد سے گزرتے، تو اس میں نماز پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ أَنَسٍ فَصَلَّيْنَا مَعَ أَمِيرٍ مِنَ الأُمَرَاءِ فَدَفَعُونَا حَتَّى قُمْنَا وَصَلَّيْنَا بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَجَعَلَ أَنَسٌ يَتَأَخَّرُ وَقَالَ قَدْ كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated that 'Abdul Hamid bin Mahmud said:"We were with Anas and we prayed with one of the Amirs. They pushed us until we stood and prayed between two rows, and Anas started moving backward and said: 'We used to avoid this at the time of the Messenger of Allah (ﷺ)
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہم نے حکام میں سے ایک حاکم کے ساتھ نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں ( بھیڑ کی وجہ سے ) دھکیلا یہاں تک کہ ہم نے دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھی، تو انس رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے اور کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اس سے بچتے تھے۔
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ صَدَقَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ubadah bin As-Samit said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led us in one of the prayers in which the recitation is done out loud, and he said: 'None of you should recite when I recite out loud, apart from the Umm Al_quran (Al Fatihah)
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نمازیں پڑھائیں جن میں قرآت بلند آواز سے کی جاتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں بآواز بلند قرآت کروں تو تم میں سے کوئی بھی سورۃ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھے ۔