أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ حَدَّثَنِي بَعْضُ، مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَامَ هُنَيْهَةً .
It was narrated that Ibn Sirin said:"Some of those who prayed the Subh prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) narrated to me that when he said: Sami'Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him)' in the second rak'ah, he stood for a while
ابن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی، بیان کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں «سمع اللہ لمن حمده» کہا تو آپ تھوڑی دیر کھڑے رہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ثُمَّ سَلَّمَ .
It was narrated that Abdullah bin Buhainah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led us in praying two rak'ahs, then he stood up and did not sit, and the people stood up with him. When he finished the prayer, and we were waiting for him to say the taslim, he said the takbir and prostrated twice while sitting, before the taslim. Then he said the taslim
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں، تو لوگ ( بھی ) آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ نے نماز مکمل کر لی، اور ہم آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے، تو آپ نے اللہ اکبر کہا، اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر آپ نے سلام پھیرا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ " مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ اللَّيْثَ عَلَى هَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ ابْنِ جُرَيْجٍ وَأَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ يَقُولُونَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ بَدَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abdullah (from 'Abdullah) Ibn 'Umar that:While he was standing on the minbar, the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever among you comes (to prayer) on a Friday, let him perform ghusl
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے کھڑے فرمایا: جو شخص تم میں سے جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ وہ غسل کر لے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند پر لیث کی متابعت کی ہو سوائے ابن جریج کے، اور زہری کے دیگر تلامذہ «عن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر» کے بدلے «سالم بن عبداللہ عن أبيه» کہتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ يَجُرُّ رِدَاءَهُ مِنَ الْعَجَلَةِ فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلُّونَ فَلَمَّا انْجَلَتْ خَطَبَنَا فَقَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ وَإِنَّهُمَا لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفَ أَحَدِهِمَا فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يَنْكَشِفَ مَا بِكُمْ " .
It was narrated that Abu Bakrah said:"We were with the Prophet (ﷺ) and the sun became eclipsed. He got up and went to the masjid, dragging his garment in haste. The people stood with him and he prayed two rak'ahs as they usually prayed. When the eclipse ended he addressed us and said 'The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT), with which He strikes fear into His slaves. They do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see either of them being eclipsed, then pray and supplicate until it removed it from you
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج گرہن لگ گیا، تو آپ جلدی سے اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے مسجد کی طرف بڑھے، تو لوگ بھی آپ کے ساتھ ہو لیے، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اسی طرح جیسے لوگ پڑھتے ہیں، پھر جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے ہمیں خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اور ان دونوں کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا، تو جب تم ان دونوں میں سے کسی کو گرہن لگا دیکھو تو نماز پڑھو، اور دعا کرو یہاں تک کہ جو تمہیں لاحق ہوا ہے چھٹ جائے ۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ لاَ أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلاَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَلاَ صَامَ شَهْرًا كَامِلاً قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ .
It was narrated that 'Aishah, may Allah (SWT) be pleased with her, said:"I do not know that the Messenger of Allah (ﷺ) recited the whole Qur'an in one night, or spent a whole night in worship until dawn, or that he ever fasted an entire month apart from Ramadan
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، یا رات بھر صبح تک عبادت کی ہو، یا پورے مہینے روزے رکھے ہوں، سوائے رمضان کے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خَالِدٍ الأَحْدَبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكَوْا عَلَيْهِ فَقَالَ أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ كَمَا بَرِئَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَلاَ خَرَقَ وَلاَ سَلَقَ .
It was narrated that Safwan bin Muhriz said:"Abu Musa fell unconscious and they wept for him. He said: 'I say to you the words of disavowal that the messenger of Allah said: He is not one of us who shaves his head (as a sign of mourning), rends his garments, or raises his voice in Lamentation
صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری پر بے ہوشی طاری ہو گئی، لوگ ان پر رونے لگے، تو انہوں نے کہا: میں تم سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ کہہ کر برات کا اظہار کیا تھا کہ جو سر منڈائے کپڑے پھاڑے، واویلا کرے ہم میں سے نہیں۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، - هُوَ أَبُو بُرَيْدٍ الْجَرْمِيُّ بَصْرِيٌّ - عَنْ بَهْزٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet said:"Jibril, peace be upon him, came to me and said: 'The month is twenty-nine days
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ مِائَتَيْنِ زَكَاةٌ " .
It was narrated that 'Ali, may Allah be pleased with him, said:"The Messenger of Allah said: 'I have exempted you from (having to pay Zakah on) houses and slaves, and there is no Zakah on less than two hundred (Dirhams)
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، اور دو سو درہم سے کم میں زکاۃ نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ، - وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ - قَالَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ - عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ بِالْبَيْدَاءِ ثُمَّ رَكِبَ وَصَعِدَ جَبَلَ الْبَيْدَاءِ فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ .
It was narrated from Anas bin Malik that:the Messenger of Allah prayed Zuhr in Al-Baida then he rode up the mountain of Al-Baida; and began the Talbiyah for Hajj and 'Umrah, when he had prayed Zuhr (Daif)
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز بیداء میں پڑھی، پھر سوار ہوئے اور بیداء پہاڑ پر چڑھے، اور ظہر کی نماز پڑھ کر حج و عمرے کا احرام باندھا۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ، أَنَّ ذَكْوَانَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ قَالَ " لاَ أَجِدُهُ هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ تَدْخُلُ مَسْجِدًا فَتَقُومُ لاَ تَفْتُرُ وَتَصُومُ لاَ تُفْطِرُ " . قَالَ مَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ
Abu Hurairah said:"A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'Tell me of an action that is equal to Jihad.' He said: 'I cannot. When the Mujahid goes out, can you enter the Masjid and stand in prayer and never rest, and fast and never break your fast?' He said: 'Who can do that?
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، پھر اس نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو ( یعنی وہی درجہ رکھتا ہو ) آپ نے فرمایا: ”میں نہیں پاتا کہ تو وہ کر سکے گا، جب مجاہد جہاد کے لیے ( گھر سے ) نکلے تو تم مسجد میں داخل ہو جاؤ، اور کھڑے ہو کر نمازیں پڑھنی شروع کرو ( اور پڑھتے ہی رہو ) پڑھنے میں کوتاہی نہ کرو، اور روزے رکھو ( رکھتے جاؤ ) افطار نہ کرو“، اس نے کہا یہ کون کر سکتا ہے؟ ۱؎۔
Narrated by Abu Hurairah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ مُحَمَّدٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلاَ يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلاَ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا " .
Narrated Abu Hurairah:It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: 'Do not artificially inflate prices, a resident should not sell for a Bedouin, a man should not offer more for something that has already been bought by his brother, no one should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her, and no woman should try to bring about the divorce of her sister, in order to deprive her of the blessings that she has
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( دھوکہ دینے کیلئے ) چیزوں کی قیمت نہ بڑھاؤ ۱؎، کوئی شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے ۲؎، اور کوئی اپنے بھائی کے بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے، کوئی عورت اپنی بہن ( سوکن ) کے طلاق کی طلب گار نہ بنے کہ اس کے برتن میں جو کچھ ہے پلٹ کر خود لے لے“ ۳؎۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ أَوْ يَفِيقَ " .
It was narrated from 'Aishah that the Prophet said:"The pen has been lifted from three: From the sleeper until he wakes up, from the minor until he grows up, and from the insane until he comes back to his senses or recovers
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۱؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ۲؎، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے“۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تُوصِ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ ".
It was narrated from Ibn 'Abbas that Sa'd asked the Prophet:"My mother died and did not leave a will; shall I give charity on her behalf?" He said: "Yes
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میری ماں مر چکی ہیں اور کوئی وصیت نہیں کی ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں کر دو“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ يُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ وَلَكِنَّهُ شَىْءٌ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"A vow does not bring anything to the son of Adam that has not been decreed for him. It is just a means of taking wealth from the miserly
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لا سکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ قَدْ حَاضَتْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ " . قَالَتْ بَلَى . قَالَ " فَاخْرُجْنَ " .
It was narrated from 'Aishah that she said to the Messenger of Allah (ﷺ):"Safiyyah bint Huyai began menstruating." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Perhaps she has detained us. Did she not circumambulate the House with you?" She said: "Yes." He said: "Then you can leave
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید وہ ہمیں روک لے گی، کیا اس نے تم لوگوں کے ساتھ طواف ( افاضہ ) نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ( ضرور کیا تھا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو نکلو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ وَلاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَيُقِيمُ الصَّلاَةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ كَانَ لَهُ الْجَنَّةُ " . فَسَأَلُوهُ عَنِ الْكَبَائِرِ فَقَالَ " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ " .
Abu Ayyub Al-Ansari narrated that:The Messenger of Allah [SAW] said: "Whoever comes worshipping Allah and not associating anything with Him, establishing Salah, paying Zakah and avoiding major sins, Paradise will be his." They asked him about major sins and he said: "Associating others with Allah, killing a Muslim soul, and fleeing (from the battlefield) on the day of the march
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَدَّتِي، تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا " .
It was narrated that Yahya bin Husain said:"I heard my grandmother say: 'I heard the Messenger of Allah say, during the Farewell Pilgrimage: If an Ethiopian slave is appointed over you who rules according to the Book of Allah, then listen to him and obey
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقُتِلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلاَ تَأْكُلْ " .
(It was narrated that Ash-Sha bi said:" I heard 'Adiyy bin Hatim say: 'I asked the Messenger of Allah about the Mirad and he said: "If the sharp point hits 9the game) then eat, bu
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَذْيِ فَقَالَ: «تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ». قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مَخْرَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا
Ali said:"I sent Al-Miqdad to the Messenger of Allah (ﷺ) to ask him about Madhi, and he said: 'Perform Wudu' and sprinkle water over your private part.'" Abu 'Abdur-Rahman said: Makhramah (one of the narrators) did not hear anything from his father
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ ( جا کر ) آپ سے مذی کے متعلق پوچھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر لو، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ فَلْيَسْتَطِبْ بِهَا فَإِنَّهَا تَجْزِي عَنْهُ " .
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"When any one of you goes to the Gha'it (toilet to defecate), let him take with him three stones and clean himself with them, for that will suffice him
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے، اور ان سے پاکی حاصل کرے کیونکہ یہ طہارت کے لیے کافی ہیں ۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا أَوْ ظُفْرًا وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ " .
It was narrated that Rafi bin Khadij said:"I said: 'O Messenger of Allah we are going to meet the enemy tomorrow and we do not have any knives.' The Messenger of Allah said: "If the blood is shed and the name of Allah is mentioned, then eat, unless (it is slaughtered (with teeth or nails, and I will tell you about that. As for teeth, they are bones, and as for nails, they are the knives of the Ethiopians."' (Sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَإِنْ كَانَ أَبَاهُ أَوْ أَخَاهُ .
It was narrated from Anas that:the Prophet forbade a town-dweller to sell for a desert- dweller, even if he was his father or brother. (Sahih)
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَتَلَ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا " .
It was narrated from Al-Qasim bin Al-Mukhaimirah, from a man among the Companions of the Prophet, that the Prophet said:"Whoever kills a man from among Ahl Adh-Dhimmah.[2] he will not smell the fragrance of Paradise, and its fragrance may be detected from a distance of seventy years
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَفِيهِ أُنْزِلَتْ { فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ } .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray while on his animal when he was coming back from Makkah to Madinah. Concerning this, the verse was revealed: So wherever you turn (yourselves or your faces) there is the Face of Allah.'" [1] [1] Al-Baqarah 2:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ( نفل ) نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ مکہ سے مدینہ آ رہے تھے، اسی سلسلہ میں یہ آیت کریمہ: «فأينما تولوا فثم وجه اللہ» تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے ( البقرہ: ۱۱۵ ) نازل ہوئی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ سَرَقَ رَجُلٌ مِجَنًّا عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ فَقُوِّمَ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ فَقُطِعَ .
It was narrated that Qatadah said:"I heard Anas say: 'A man stole a shield during the time of Abu Bakr, the value of which was five Dirhams, and he cut off his hand
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلَا يُفْهَمُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنْ الْإِسْلَامِ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ فَقَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ
Abu Suhail narrated from his father,:That he heard Talhah bin 'Ubaidullah say: "A man from Najd with unkempt hair came to the Messenger of Allah [SAW]; he was speaking loudly but his speech could not be understood until he came close. He was asking about Islam. The Messenger of Allah [SAW] said: 'Five prayers every day and night.' He said: 'Do I have to do any more than that? He said: 'No, not unless you do it voluntarily.' The Messenger of Allah [SAW] said: 'Fasting the month of Ramadan.' He said: 'Do I have to do any more than that?' He said: 'No, not unless you do it voluntarily.' Then the Messenger of Allah [SAW] told him about Zakah. He said: 'Do I have to do any more than that?' He said: 'No, not unless you do it voluntarily.' The man left saying, 'I will not do any more than that or any less.' The Messenger of Allah [SAW] said: 'He will succeed, if he is telling the truth
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ أَتَيْتُ أَنَا وَأَبِي النَّبِيَّ، صلى الله عليه وسلم وَكَانَ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ .
It was narrated that Abu Rimthah said:"My father and I came to the Prophet [SAW] and he had dyed his beard with Henna
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعِشَاءِ الآخِرَةِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ " إِنَّكُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلاَةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلاَ أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ " . ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"We stayed in the Masjid one night waiting for the Messenger of Allah (ﷺ) to pray 'Isha'. He came out to us when one-third of the night or more had passed, and he said when he came out: 'You are waiting for a prayer for which the followers of no other religion are waiting. Were it not that I would impose too much difficulty on my Ummah, I would have led them in prayer at this time.' Then he commanded the Mu'adhdhin to say the Iqamah and he prayed
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک رات ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، جب تہائی یا اس سے کچھ زیادہ رات گزر گئی تو آپ نکل کر ہمارے پاس آئے، اور جس وقت نکل کر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایک ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے سوا کسی اور دین کا ماننے والا اس کا انتظار نہیں کر رہا ہے، اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو انہیں اسی وقت نماز پڑھاتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَىَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " .
It was narrated that Umm Salamah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'You refer your disputes to me, but I am only human. And some of you may be more eloquent in arguing their case than others, and I may pass judgment on the basis of what I hear. If I pass judgment in favor of one of you against his brother's rights, then it is a piece of the fire that I am giving him
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ، عَنْ دُوَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ أَبُو صَالِحٍ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوءِ الأَخْلاَقِ " .
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] used to say in his supplication: 'Allahumma inni a'udhu bika minash-shiqaqi wan-nifaqi, wa suw'il-akhlaq (O Allah, I seek refuge with You from opposing the truth, hypocrisy and bad manners)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that:The Prophet [SAW] said: "Every intoxicant is unlawful and every intoxicant is Khamr
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلِصَاحِبٍ لِي " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمَا أَحَدُكُمَا " .
It was narrated that Malik bin Al-Huwayrith said:"The Messenger of Allah (S.A.W) said to me and to a companion of mine: 'When the time for prayer comes, let the two of you call the Adhan then the two of you say Iqamah, then let one of you lead the prayer
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور میرے ایک ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت آ جائے تو تم دونوں اذان دو، پھر دونوں اقامت کہو، پھر تم دونوں میں سے کوئی ایک امامت کرے ۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ وَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَادِمًا وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَكَانُوا بِضْعًا وَثَمَانِينَ رَجُلاً فَقَبِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلاَنِيَتَهُمْ وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جِئْتُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ " تَعَالَ " . فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لِي " مَا خَلَّفَكَ أَلَمْ تَكُنِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنِّي سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلاً وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ لِتَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشَكُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُسْخِطُكَ عَلَىَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَىَّ فِيهِ إِنِّي لأَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى وَلاَ أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ " . فَقُمْتُ فَمَضَيْتُ . مُخْتَصَرٌ .
Abdullah bin Ka'b said:"I heard Ka'b bin Malik telling the story of when he stayed behind from going out on the campaign of Tabuk with the Messenger of Allah (ﷺ). He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) came back in the morning, and when he came back from a journey he would go to the Masjid first and pray two Rak'ahs there, then he would sit to (meet with) the people. When he did that, those who had stayed behind came to him and started giving their excuses, swearing by Allah. There were eighty-odd men, and the Messenger of Allah (ﷺ) accepted what they declared and accepted their oaths of allegiance; he prayed for forgiveness for them and left whatever was in their hearts to Allah. Then when I came and greeted him, he smiled as one who is angry, then he said: 'Come here.' So I came and sat in front of him, [1] and he said: 'What kept you behind? Did you not buy a mount?' I said: 'O Messenger of Allah, if I were to sit before anyone other than you of those who hold high positions in this world, I would find a way to avoid his anger. I am an eloquent man but, by Allah, I know that if I were to tell you a lie today to make you pleased with me, Allah would soon make you angry with me, but if I tell you the truth, it will make you angry with me, but I will still have the hope that Allah may forgive me. I have never been in a better position, physically or financially, than the time when I stayed behind and did not join you.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This man has spoken the truth. Go away until Allah decides concerning you.' So I got up and went away." This is an abridged version of narration. [1] It is this which the author cited the narration for. While the absence of the mention of a thing - in this case prayer - is not a proof that it does not exist
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنا وہ واقعہ بیان کر رہے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو تشریف لائے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کر لیا تو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آئے، آپ سے معذرت کرنے لگے، اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے، وہ اسّی سے کچھ زائد لوگ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری بیان کو قبول کر لیا، اور ان سے بیعت کر لی، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، اور ان کے دلوں کے راز کو اللہ عزوجل کے سپرد کر دیا، یہاں تک کہ میں آیا تو جب میں نے سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے جیسے کوئی غصہ میں مسکراتا ہے، پھر فرمایا: آ جاؤ! چنانچہ میں آ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا ۱؎، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ کیا تم نے اپنی سواری خرید نہیں لی تھی؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس ہوتا تو میں اس کے غصہ سے اپنے آپ کو یقیناً بچا لیتا، مجھے باتیں بنانی خوب آتی ہے لیکن اللہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کو خوش کرنے کے لیے میں آج آپ سے جھوٹ موٹ کہہ دوں تو قریب ہے کہ جلد ہی اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے، اور اگر میں آپ سے سچ سچ کہہ دوں تو آپ مجھ پر ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے گا، اللہ کی قسم جب میں آپ سے پیچھے رہ گیا تھا تو اس وقت میں زیادہ طاقتوراور زیادہ مال والا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا یہ شخص تو اس نے سچ کہا، اٹھو چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ آپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کر دے ، چنانچہ میں اٹھ کر چلا آیا، یہ حدیث لمبی ہے یہاں مختصراً منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The best rows for men are the front rows and the worst are the last, and the best rows for women are the back rows and the worst are those in the front
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے ۱؎، اور بد تر صف آخری صف ہے ۲؎، اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ہے ۳؎، اور ان کی سب سے بدتر صف پہلی صف ہے ۴؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ " هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا " . قَالَ رَجُلٌ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ " . قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلاَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ .
It was narrated from Abu Hurairah:"The Messenger of Allah (ﷺ) finished a prayer in which he recited out loud, then he said: 'Did any one of you recite with me just now?' A man said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'I was wondering what was distracting me in reciting Quran.'" So the people stopped reciting in prayers in which the Messenger of Allah (ﷺ) recited out loud when they heard that
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے جس میں آپ نے زور سے قرآت فرمائی تھی سلام پھیر کر پلٹے تو پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قرآت کی ہے؟ تو ایک شخص نے کہا: جی ہاں! اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج بھی میں کہہ رہا تھا کہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے ۔ زہری کہتے ہیں: جب لوگوں نے یہ بات سنی تو جن نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے قرآت فرماتے تھے ان میں قرآت سے رک گئے ۱؎۔