بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
37 hadith
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) prayed (saying the) Qunut after bowing for a month, supplicating against Ri'l, Dhakwan and 'Usayyah who had disobeyed Allah and His Messenger." (Sahih)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں رعل، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل ۱؎ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی، بد دعا کرتے رہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، - وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ - وَالْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ كُلْثُومٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، - وَهَذَا حَدِيثُ الْقَاسِمِ - قَالَ كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَيَرُدُّ عَلَىَّ فَأَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ فَلَمَّا سَلَّمَ أَشَارَ إِلَى الْقَوْمِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ - يَعْنِي - أَحْدَثَ فِي الصَّلاَةِ أَنْ لاَ تَكَلَّمُوا إِلاَّ بِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا يَنْبَغِي لَكُمْ وَأَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abdullah bin Mas'ud said:"I used to come to the Prophet (ﷺ) when he was praying, and I would greet him with Salam, he would return my greeting. Then I came to him when he was praying, and he did not return my greeting. When he said the Taslim, he pointed to the people and said: "Allah (SWT) has decreed that in the prayer you should not speak except to remember Allah (SWT), and it is not appropriate for you, and that you should stand before Allah (SWT) with obedience
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا، اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں آپ کو سلام کرتا، تو آپ مجھے جواب دیتے، ( ایک بار ) میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، جب آپ نے سلام پھیرا، تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا، اور فرمایا: اللہ نے نماز میں ایک نیا حکم دیا ہے کہ تم لوگ ( نماز میں ) سوائے ذکر الٰہی اور مناسب دعاؤں کے کوئی اور گفتگو نہ کرو، اور اللہ کے لیے یکسو ہو کر کھڑے رہا کرو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) delivered a khutbah and said: 'When any one of you wants to go to Jumu'ah, let him perform ghusl
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ غسل کر لے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ فَصَلَّى فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ فَفَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ وَقَدْ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Aishah said:"There was an eclipse of the sun during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He stood and prayed, standing for a very long time, then he bowed for a very long time. Then he stood up and (remained standing) for a very long time, but shorter than the first time. Then he bowed for a very long time, but shorter than the first time. Then he prostrated, then he raised his head and stood for a long time, but it was shorter than the first time. The he stood up and (remained standing) for a long time, but it was shorter than the first time. Then he prostrated, and when he finished his prayer, the eclipse had ended. He addressed the people and praised and glorified Allah, then he said: 'The sun and the moon do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that then pray, give in charity, and remember Allah, the Mighty and Sublime.' And he said: 'O Ummah of Muhammad! There is no one who is more jealous than Allah (SWT) when His male or female slave commits Zina. O Ummah of Muhammad, if you knew what I know, you would laugh little and weep much
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا، تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی تو بہت لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو بہت لمبا رکوع کیا، پھر ( رکوع سے سر ) اٹھایا، پھر قیام کیا تو بہت لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے ( رکوع سے سر ) اٹھایا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا یہاں تک کہ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو سورج سے گرہن چھٹ چکا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، تو اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند کو نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو نماز پڑھو، اور صدقہ خیرات کرو، اور اللہ عزوجل کو یاد کرو ، نیز فرمایا: اے امت محمد! کوئی اللہ تعالیٰ سے زیادہ اس بات پر غیرت والا نہیں کہ اس کا غلام یا اس کی باندی زنا کرے، اے امت محمد! اگر تم لوگ وہ چیز جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتُغَنِّيَانِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُسَجًّى بِثَوْبِهِ - وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى مُتَسَجٍّ ثَوْبَهُ - فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ ‏ "‏ دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ ‏"‏ ‏.‏ وَهُنَّ أَيَّامُ مِنًى وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ ‏.‏
It was narrated from 'Urwah that he narrated from Aishah that Abu Bakr As-Siddiq :Entered upon her and there were two girls with her beating the duff and singing, and the Messenger of Allah (ﷺ) was covered with his garment. He uncovered his face and said: "Let them be there, O Abu Bakr, for these are the days of 'Eid." Those were the days of Mina and the Messenger of Allah (ﷺ) was in Al-Madinah on that day
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے ( گھر میں ) داخل ہوئے، ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، اور گانا گا رہی تھیں۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ اپنے کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے، تو آپ نے اپنا چہرہ کھولا، اور فرمایا: ابوبکر! انہیں چھوڑو کھیلنے دو، یہ عید کے دن ہیں، اور منیٰ کے دن تھے ۲؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مدینہ میں تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها كَانَ إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ أَحْيَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ ‏.‏
It was narrated that Masruq said:"Aishah may Allah (SWT) be pleased with her, said: ' When the last ten nights of Ramadan began, the Messenger of Allah (ﷺ) stayed up at night (for prayer) and he woke his family up and tightened his waist-wrap
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ( رمضان کا آخری ) عشرہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری فرماتے، اور اپنے اہل و عیال کو بیدار کرتے، اور ( عبادت کے لیے ) کمر بستہ ہو جاتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الأَزْرَقِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالْقَلْبَ مُصَابٌ وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Muhammad bin 'Amr bin 'Ata that Salamah bin Al-Azraq said:"I heard Abu Hurairah say: 'Someone from the family of the Messenger of Allah died, and the women gathered, weeping for him. 'Umar stood up and told them not to do that, and threw them out, but the Messenger of Allah said: Let them be there, O 'Umar, for the eye weeps and the heart grieves, but soon we will join them
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں کسی کا انتقال ہو گیا تو عورتیں اکٹھا ہوئیں ( اور ) میت پر رونے لگیں، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر انہیں روکنے اور بھگانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھوں میں آنسو ہے، دل غم میں ڈوبا ہوا ہے، اور موت کا وقت قریب ہے ۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَقُلْتُ أَلَيْسَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ شَهْرًا فَعَدَدْتُ الأَيَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah swore not to come to his wives for a month, and twenty-nine days passed. I said: 'Did you not wives to keep away from you wives for a month? I have counted twenty-nine days.' The Messenger of Allah said: 'The month is twenty-nine days
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ ( تک ) اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، چنانچہ آپ انتیس دن ٹھہرے رہے، تو میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میں نے شمار کیا ہے، ابھی انتیس دن ( ہوئے ) ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، - وَكَانَا ثِقَةً - عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، - وَكَانَا ثِقَةً - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa 'eed Al-Khudri said:"I heard the Messenger of Allah say: "No Sadaqah is due on less than five Awsaq of silver, no Sadaqah is due on less than five Dhawd (head) of camels, and no Sadaqah is due on less than five Awsuq of dates
ابوسعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُوَيْدٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ وَهُوَ فِي الْمُعَرَّسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أُتِيَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that:when the Messenger of Allah was in Dhul-Hulaifah someone came to him and he was told: "You are in a blessed valley.''(sahih)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں آیا گیا اور آپ ذوالحلیفہ کے پڑاؤ کی جگہ میں تھے اور کہا گیا کہ آپ بابرکت بطحاء میں ہیں۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا يَحْكِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي ضَمِنْتُ لَهُ أَنْ أَرْجَعَهُ إِنْ أَرْجَعْتُهُ بِمَا أَصَابَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ وَإِنْ قَبَضْتُهُ غَفَرْتُ لَهُ وَرَحِمْتُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar, from the Prophet (ﷺ), of what he related from his Lord, the Mighty and Sublime:"And of My slaves who goes out as a Mujahid striving in the cause of Allah, seeking my pleasure, I guarantee that I will bring him back with whatever he had earned as reward or spoils of war, and if I take his (soul) I will forgive him and have mercy on him
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث قدسی میں اپنے رب سے نقل فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ میری رضا چاہتے ہوئے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا تو میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اگر میں اس کو لوٹاؤں گا ( یعنی زندہ واپس گھر بھیجوں گا ) تو لوٹاؤں گا اجر و ثواب اور غنیمت دے کر اور اگر اس کی روح قبض کر لوں گا تو اس کو بخش دوں گا اور اسے اپنی رحمت سے نوازوں گا“۔
Narrated by Amir bin Shurahbil Ash-Sha'bi
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ - قَالَتْ خَطَبَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَخَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَوْلاَهُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا كَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ أَمْرِي بِيَدِكَ فَأَنْكِحْنِي مَنْ شِئْتَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ انْطَلِقِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ‏"‏ ‏.‏ وَأُمُّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ غَنِيَّةٌ مِنَ الأَنْصَارِ عَظِيمَةُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ عَلَيْهَا الضِّيفَانُ فَقُلْتُ سَأَفْعَلُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تَفْعَلِي فَإِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ كَثِيرَةُ الضِّيفَانِ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَنْكِ خِمَارُكِ أَوْ يَنْكَشِفَ الثَّوْبُ عَنْ سَاقَيْكِ فَيَرَى الْقَوْمُ مِنْكِ بَعْضَ مَا تَكْرَهِينَ وَلَكِنِ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فِهْرٍ فَانْتَقَلْتُ إِلَيْهِ ‏.‏ مُخْتَصَرٌ ‏.‏
Narrated 'Amir bin Shurahbil Ash-Sha'bi:'Amir bin Shurahbil Ash-Sha'bi narrated that he heard Fatimah bint Qais--who was one of the first Muhajir women-- say: 'Abdur-Rahman bin 'Awf proposed marriage to me, along with others of the Companions of Muhammad. And the Messenger of Allah proposed that I marry his freed slave, Usamah bin Zaid. I was told that the Messenger of Allah had said: 'Whoever loves me, let him love Usamah.' When the Messenger of Allah spoke to me I said: 'My affairs are in your hands; marry me to whomever you wish.' He said: 'Go to Umm Sharik.' Umm Sharik was a rich Ansari woman who used to spend a great deal in the cause of Allah, and she always had a lot of guests. I said: 'I will do that.' He said: 'Do not do that, for Umm Sharik has a lot of guests, and I would not like your Khimar to fall off, or your shins to become uncovered, and the people to see something of you that you do not want them to see. Rather go to your cousin (son of your paternal uncle) 'Abdullah bin 'Amr bin Umm Maktum, who is a man of Banu Fihr.' So I went to him
عامر بن شراحیل شعبی کا بیان ہے کہ انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے ( جو پہلے پہل ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں ) سنا ہے انہوں نے کہا: مجھے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ آ کر شادی کا پیام دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھے اپنے غلام اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے شادی کے لیے پیغام دیا، اور میں نے سن رکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو کوئی مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے اسامہ سے بھی محبت رکھنی چاہیئے“۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ( اس سلسلے میں ) گفتگو کی تو میں نے کہا: میں اپنا معاملہ آپ کو سونپتی ہوں، آپ جس سے چاہیں میری شادی کر دیں۔ آپ نے فرمایا: ”ام شریک کے پاس چلی جاؤ“۔ ( کہتی ہیں: ) وہ انصار کی ایک مالدار اور فی سبیل اللہ بہت خرچ کرنے والی عورت تھیں ان کے پاس مہمان بکثرت آتے تھے۔ میں نے کہا: میں ایسا ہی کروں گی پھر آپ نے کہا: نہیں، ایسا مت کرو، کیونکہ ام شریک بہت مہمان نواز عورت ہیں اور مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ تم وہاں رہو، پھر کبھی تمہاری اوڑھنی تمہارے ( سر ) سے ڈھلک جائے یا تمہاری پنڈلیوں سے کپڑا ہٹ جائے تو تجھے لوگ کسی ایسی حالت میں عریاں دیکھ لیں جو تمہارے لیے ناگواری کا باعث ہو بلکہ ( تمہارے لیے مناسب یہ ہے کہ ) تم اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے پاس چلی جاؤ، وہ فہر ( قبیلے ) کی نسل سے ہیں، چنانچہ میں ان کے یہاں چلی گئی۔ یہ حدیث مختصر ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ كُنْتُ يَوْمَ حُكْمِ سَعْدٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ غُلاَمًا فَشَكُّوا فِيَّ فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَاسْتُبْقِيتُ فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ‏.‏
It was narrated that 'Atiyyah Al-Qurazi said:"On the day that Sa'd passed judgment on Banu Quraizah I was a young boy and they were not sure about me, but they did not find any pubic hair, so they let me live, and here I am among you
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ جب سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے مردوں کے قتل کا فیصلہ دیا تو اس وقت میں بچہ تھا، لوگوں کو میرے متعلق شبہ ہوا ( کہ میں فی الواقع بچہ ہوں یا جوان؟ جب انہوں نے تحقیق کی ) تو مجھے زیر ناف کے بالوں والا نہیں پایا اور میں بچ رہا۔ چنانچہ میں آج تمہارے درمیان موجود ہوں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالاً وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that a man said to the Prophet:"My father died and left behind wealth, but he did not leave a will. Will it expiate for him if I give charity on his behalf?
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ( اللہ کے رسول! ) میرے والد وصیت کئے بغیر انتقال کر گئے اور مال بھی چھوڑ گئے ہیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کی طرف سے کفارہ ( اور ان کے لیے موجب نجات ) ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas that some meat was brought to the Messenger of Allah and he said:"What is this?" It was said: "It was given in charity to Barirah." He said: "It is charity for her and a gift for us
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو آپ نے پوچھا: یہ کیسا گوشت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ لاَ يَرُدُّ شَيْئًا إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:"The Messenger of Allah forbade vows and said: 'They do not change anything; they are just a means of taking wealth from the miserly
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی چیز رد نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا حَائِضٌ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"I used to comb the hair of the Messenger of Allah (ﷺ) while I was menstruating
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرتی، اور میں حائضہ ہوتی۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدٍ، فِي قَوْلِهِ ‏{‏ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ ‏}‏ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ بَعْدَ الَّتِي فِي ‏{‏ تَبَارَكَ ‏}‏ الْفُرْقَانِ بِثَمَانِيَةِ أَشْهُرٍ ‏{‏ وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ ‏}‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَدْخَلَ أَبُو الزِّنَادِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ خَارِجَةَ مُجَالِدَ بْنَ عَوْفٍ ‏.‏
It was narrated from Zaid with regard Allah's saying:"And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell" that he said: "This Verse was revealed eight months after the Verse that is in Tabark Al-Furqan: "And those who invoke not any other ilah (god) along with Allah, or kill such person as Allah has forbidden, except by right
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، قَالَتْ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ لَنَا ‏ "‏ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Umaimah bin Ruqaiqah said:"We gave pledge to the Messenger of Allah among a group of women, and he said to us: 'In as much as you can and are able
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْغَائِطَ وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ فَلَمْ أَجِدْهُ فَأَخَذْتُ رَوْثَةً فَأَتَيْتُ بِهِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ ‏ "‏ هَذِهِ رِكْسٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرِّكْسُ طَعَامُ الْجِنِّ ‏.‏
Abdur-Rahman bin Al-Aswad (narrated) from his father that he heard 'Abdullah say:"The Prophet (ﷺ) wanted to defecate, and he told me to bring him three stones. I found two stones and looked for a third, but I could not find any, so I picked up a piece of dung and brought them to the Prophet (ﷺ). He took the two stones and three away the dung and said: "This is Riks." Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai') said: Riks is the food of the jinn
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت ( پاخانے ) کی جگہ میں آئے، اور مجھے تین پتھر لانے کا حکم فرمایا، مجھے دو پتھر ملے، تیسرے کی میں نے تلاش کی مگر وہ نہیں ملا، تو میں نے گوبر لے لیا اور ان تینوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے دونوں پتھر لے لیے، اور گوبر پھینک دیا ۱؎ اور فرمایا: یہ «رکس» ( ناپاک ) ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن النسائی کہتے ہیں: «رکس» سے مراد جنوں کا کھانا ہے ۲؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُرْسِلُ كَلْبِي فَيَأْخُذُ الصَّيْدَ وَلاَ أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ فَأُذَكِّيهِ بِالْمَرْوَةِ وَالْعَصَا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ أَهْرِقِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
t was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:"I said: 'O Messenger of Allah, I release my dog and he catches the game, but I cannot find anything with which to slaughter it, so I slaughter it with a sharp-edged stone or a stick.' He said: 'Shed the blood with whatever you want, and mention the name of Allah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلاً مَذَّاءً فَأَمَرْتُ رَجُلاً فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «فِيهِ الْوُضُوءُ»
It was narrated that 'Ali, may Allah be please with him, said:"I was a man who emotted a great deal of Madhi. I told a man to ask the Prophet (ﷺ) (about that) and he said: 'Wudu' (is required) for that
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے بہت مذی آتی تھی، تو میں نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ فَحَدَّثَنِي عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ نَاقَةٌ تَرْعَى فِي قِبَلِ أُحُدٍ فَعُرِضَ لَهَا فَنَحَرَهَا بِوَتَدٍ ‏.‏ فَقُلْتُ لِزَيْدٍ وَتَدٌ مِنْ خَشَبٍ أَوْ حَدِيدٍ قَالَ لاَ بَلْ خَشَبٌ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا ‏.‏
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"A man form among the Ansar had a she-camel which used to graze in front of Uhud. Something happened to it, and he slaughtered it with a stake,"- (Ayyub, one of the narrators, said) I said to Zaid:' A stake of wood or of iron?" He said "No of wood."- "Then he went to the Prophet and asked him, and he told him to eat it." (Sahih)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَوَكِيعٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ ‏.‏
It was narrated that 'Aishsh said:" The Messenger of Allah ruled that what a slave earns belongs to his guarantor
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عُيَيْنَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، قَالَ أَبُو بَكْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Bakrah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever kills a Mu'ahad with no justification, Allah will forbid Paradise to him
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ إِنَّهُ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَمَرَّ رَجُلٌ قَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ ‏.‏ فَانْحَرَفُوا إِلَى الْكَعْبَةِ ‏.‏
It was narrated that Al-Bara bin 'Azib said:"The Messenger of Allah (ﷺ) came to Al-Madinah and prayed toward Bait Al-Maqdis for sixteen months, then he was commanded to face towards the Ka'bah. A man who had prayed with the Prophet (ﷺ) passed by some of the Ansar and said: 'I bear witness that the Messenger of Allah (ﷺ) has been commanded to face towards the Ka'bah' so they turned to face the Ka'bah
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے سولہ مہینہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے، تو ایک آدمی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے ہیں، ( لوگوں نے یہ سنا ) تو وہ بھی قبلہ کی طرف پھر گئے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that:the Messenger of Allah cut off (a thief's hand) for a shield. (Sahih) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is a mistake
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet [SAW] said: "Whoever stands (in the voluntary night prayer of) Ramadan out of faith and in the hope of reward, his previous sins will be forgiven
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Buraidah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'The best things with which you can change gray hair are Henna and Katam
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً بِالْعَتَمَةِ فَنَادَاهُ عُمَرُ رضى الله عنه نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ‏.‏ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ مَا يَنْتَظِرُهَا غَيْرُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَكُنْ يُصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلاَّ بِالْمَدِينَةِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ صَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏ وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حِمْيَرَ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) delayed A;-'Atamah one night, and 'Umar, may Allah be pleased with him, called out to him: 'The women and children have gone to sleep.' The Messenger of Allah (ﷺ) came out and said: 'No one is waiting for it except you.' At that time no prayer was offered except in Al-Madinah. Then he said: 'Pray it between the time when the twilight disappears and when one-third of the night has passed
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء میں تاخیر کی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، اور فرمایا: تمہارے سوا اس نماز کا کوئی انتظار نہیں کر رہا ہے ۱؎، اور ( اس وقت ) صرف مدینہ ہی میں نماز پڑھی جا رہی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے شفق غائب ہونے سے لے کر تہائی رات تک پڑھو ۔ اور اس حدیث کے الفاظ ابن حمیر کے ہیں۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلاَ يُنْفِقُ عَلَىَّ وَوَلَدِي مَا يَكْفِينِي أَفَآخُذُ مِنْ مَالِهِ وَلاَ يَشْعُرُ قَالَ ‏ "‏ خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"Hind came to the Messenger of Allah [SAW] and said : 'O Messenger of Allah, Abu Sufyan is a stingy man who does not spend enough on my child and I. Can I take from his wealth without him realizing?' He said: 'Take what is sufficient for you and your child on a reasonable basis
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ، وَذَكَرَ، آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَمِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] used to say: 'Allahumma inni a'udhu bika minal-ju'i, fa innahu bi'sad-daji'u, wa a'udhu bika minal-khiyanati, fa innahu bi'satil-bitanah (O Allah, I seek refuge in You from hunger, for it is a bad companion, and I seek refuge with You from treachery, for it is a bad thing to hide in one's heart)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ الْخَمْرُ مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ التَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْعَسَلِ وَالْعِنَبِ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"Khamr is made from five things: From dates, wheat, barley, honey and grapes
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلاَّدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزَّرْقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ فِي صَفِّ الصَّلاَةِ الْحَدِيثَ ‏.‏
It was narrated from Rifa'ah bin Rafi' that while the Messenger of Allah (S.A.W) was sitting in the row for prayer. The Hadith. [1] [1]With this chain, At-Tirmidhi recorded it (No. 302) and An-Nasai in Al-Kubra (No. 1631). It is the narration about the man who prayed incorrectly, and in it, the Prophet instructed him:"Then Tashhad, then say the Iqamah." And they say that the meaning of Tashhad here is call the Adhan. An-Nasai recorded the Hadith with different chains (1054, 1137, 1314,1315). Whereas the wording narrated by At- Tirmidhi, and the author in Al-Kubra, mentions what the author mentioned in the chapter, the other cited versions that An-Nasai in this hook quoted do not. So it is as if he narrated the chain here for Hadith, indicating the same version that At-Tirmidhi narrated, and he himself in Al-Kubra, but he did not want to narrate the actual text here. Abu Dawud also narrated it with the order for the Adhan and Iqamah, through a different route of transmission (No. 861). And it is among the proofs used for the view that the Adhan and Iqamah are obligatory - since it has been ordered in the Hadith of the one who prayed incorrectly
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے، آگے راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغَيْلاَنِيُّ، - بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ، وَأَبَا، أُسَيْدٍ يَقُولاَنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdul-Malik bin Sa'eed said:"I heard Abu Humaid and Abu Usaid say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When any one of you enters the Masjid, let him say: 'Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of your mercy). And when he leaves let him say: Allahumma inni as'aluka min fadlik (O Allah, I ask You of Your bounty)
ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: «اللہم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے پڑھے، اور جب نکلے تو: «اللہم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں پڑھے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَتِمُّوا الصَّفَّ الأَوَّلَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ وَإِنْ كَانَ نَقْصٌ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Complete the first row, then the one behind it, and if any row is to be left incomplete let it be the last row
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر جو اس سے قریب ہو، اور اگر کچھ کمی رہے تو پچھلی صف میں رہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏}‏ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ مَنْ قَرَأَ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏}‏ ‏.‏ قَالَ رَجُلٌ أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ قَدْ خَالَجَنِيهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Imran bin Hussain said:"The Prophet (ﷺ) prayed Zuhr and a man behind him recited: Glorify the Name of your Lord, the Most High. When he had finished praying, he said: 'Who recited: Glorify the Name of your Lord, the Most High?" A man said: 'I did.' He said: 'I realized that some of you were disputing with me over it
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی؟ تو اس آدمی نے عرض کیا: میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے ۔