أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عَبْسٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَمِعَهُ حِينَ كَبَّرَ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ ذَا الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ " . وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ " . وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ " لِرَبِّي الْحَمْدُ لِرَبِّي الْحَمْدُ " . وَفِي سُجُودِهِ " سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى " . وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ " رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي " . وَكَانَ قِيَامُهُ وَرُكُوعُهُ . وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ .
It was narrated from Hudhaifah that:He prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) one night and he heard him say when he said the takbir: "Allahu Akbara dhal-jabaruti wal-malakuti wal-kibriya'i wal-'azamah (Allah is Most Great, the One Who has all power, sovereignty, magnificence and might.)" When bowing he would say: "Subhana Rabbial-'Azim (Glory be to my Lord Almighty)." When he raised his head from bowing he would say: "Lirabbil-hamd, Lirabbil-hamd (To my Lord be praise, to my Lord be praise)." And when he prostrated (he said): "Subhana Rabbial-A'la (Glory be to my Lord Most High)." And between the two prostrations (he said): "Rabbighfirli, Rabbighfirli (Lord forgive me, Lord forgive me)." His standing, his bowing, when he raised his head from bowing, his prostration and the time between the two prostrations, were almost the same
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر کہی تو انہوں نے آپ کو کہتے سنا:«اللہ أكبر ذا الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» اللہ سب سے بڑا صاحب قدرت و سطوت اور صاحب بزرگی و عظمت ہے ، اور آپ رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو: «لربي الحمد لربي الحمد»، شکر میرے رب کے لیے، شکر میرے رب کے لیے کہتے، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» اے میرے رب! میری مغفرت فرما، اے میرے رب! میری مغفرت فرما کہتے، اور آپ کا قیام کرنا، رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا، اور آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلاَةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ } فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ .
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"We used to speak to each other during the prayer, saying whatever was necessary, at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), until this verse was revealed: Guard strictly (five obligatory) As-Salawat (the prayers) especially the middle Salah (i.e. the best prayer- 'Asr). And stand before Allah with obedience (and do not speak to others during the Salah (prayers)), so we were commanded to be silent
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( شروع میں ) آدمی نماز میں اپنے ساتھ والے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» محافظت کرو نمازوں کی، اور بیچ والی نماز کی، اور اللہ کے لیے خاموش کھڑے رہو نازل ہوئی تو ( اس کے بعد سے ) ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا ( البقرہ: ۲۳۸ ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلاَثَ آيَاتٍ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ } { يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا } { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا } " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا وَلاَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَلاَ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ .
It was narrated from 'Abdullah:"The Prophet (ﷺ) taught us Khutbat Al-Hajah: Alhamduu lillahi nasta'inuhu wa nastagfiruhu, wa na'udhu billahi min shururi anfusina wa sayi'ati a'malina. Man yahdihillahu fala mudilla lahu wa man yudlil fala hadiya lahu. Wa ashhadu an la ilaha illallahu wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu. (Praise be to Allah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge in Allah from the evil of our own souls and from our bad deeds. Whomsoever Allah guides will never be led astray,and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger.) Then he recited the following three verses: O you who believe! Fear Allah as He should be feared, and die not except as Muslims; O Mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person, and from him he created his wife, and from them he created many men and women, and fear Allah through Whom you demand your mutual (rights), and (do not cut the relations of) the wombs (kinship). Surely, Allah is Ever an All-Watcher over you); O you who believe! Keep your duty to Allah and fear Him, and speak (always) the truth
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجة ۱؎ سکھایا، اور وہ یہ ہے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، پھر آپ یہ تین آیتیں پڑھتے: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا کہ اس سے ڈرنا چاہیئے، اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا ( آل عمران: ۱۰۲ ) ۔ «يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا اللہ الذي تساءلون به والأرحام إن اللہ كان عليكم رقيبا» اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے ( الاحزاب: ۷۰ ) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سديدا» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صحیح و درست بات کہو ( النساء: ۱ ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے، نہ ہی عبدالرحمٰن بن عبداللہ ابن مسعود نے، اور نہ ہی عبدالجبار بن وائل بن حجر نے، ( یعنی ان تینوں کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مَخْرَجًا فَخُسِفَ بِالشَّمْسِ فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ فَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا نِسَاءٌ وَأَقْبَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ ضَحْوَةً فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ إِلاَّ أَنَّ قِيَامَهُ وَرُكُوعَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الأُولَى ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ " إِنَّ النَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " . مُخْتَصَرٌ .
Aishah said:"The Prophet (ﷺ) went out and the sun became eclipsed. We went out to the apartment and some women gathered around us. The Messenger of Allah (ﷺ) turned to us, and that was at the time of the forenoon. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he raised his head and stood for a shorter time than the first, then he bowed for a shorter time than the first, then he prostrated. Then he stood up again and did the same, except that he stood and bowed for a shorter time than in the first rak'ah. Then he prostrated and the eclipse ended. When he had finished he sat on the minbar and among the things he said was : 'The people will be tried in their graves like the trial of the Dajjal
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے کہ سورج کو گرہن لگ گیا، تو ہم حجرے کی طرف چلے، اور کچھ اور عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور یہ چاشت کا وقت تھا، ( آپ نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑے ہوئے، تو آپ نے ایک لمبا قیام کیا، پھر ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو بھی ایسے ہی کیا، مگر آپ کا یہ قیام اور رکوع پہلی والی رکعت کے قیام اور رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہو گیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو منبر پر بیٹھے، اور منبر پر جو باتیں آپ نے کہیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ لوگوں کو ان کی قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمایا جائے گا ، یہ حدیث مختصر ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ دَخَلَ عُمَرُ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ رضى الله عنه فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ فَإِنَّمَا هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"Umar came in when the Ethiopians were playing in the masjid. Umar, may Allah (SWT) be pleased with him, rebuked them, but the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Let them be there, O Umar, for they are Banu Arfidah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ( مسجد میں ) داخل ہوئے، حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے تو آپ انہیں ڈانٹنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑو ( کھیلنے دو ) یہ بنو ارفدہ ہی تو ہیں ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي وَبَقِيَّةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ، قَدْ شَهِدَ بَدْرًا
It was narrated from 'Abdullah bin Khabbab bin Al-Aratt, from his father who had been present at Badr with the Messenger of Allah (ﷺ), that:He watched the Messenger of Allah (ﷺ) one night when he prayed all night until Fajr time. When the Messenger of Allah (ﷺ) said the taslim at the end of his prayer, Khabbab said to him: 'May my father and mother be ransomed for you O Messenger of Allah, last night you offered a prayer the like of which I have never seen you offer." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Yes indeed. This is a prayer of hope and fear in which I asked my Lord, the Mighty and Sublime, for three things, of which He gave me two and did not grant me one. I asked my Lord not to destroy us with which he destroyed the nations before us, and He granted me that. And I asked my Lord not to let an enemy from without prevail over us, and He granted me that. And I asked my Lord not to divide us into warring factions and He did not grant me that
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (وہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے) کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری رات نماز پڑھتے دیکھا یہاں تک کہ فجر ہو گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز سے سلام پھیرا، تو خباب رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے آج رات ایسی نماز پڑھی کہ اس طرح میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ رغبت اور خوف کی نماز تھی، میں نے اپنے رب سے اس میں تین باتوں کی درخواست کی، تو اس نے دو مجھے دے دیں اور ایک نہیں دی، میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہمیں اس چیز کے ذریعہ ہلاک نہ کرے جس کے ذریعہ اس نے ہم سے پہلے کی امتوں کو ہلاک کیا، تو اس نے یہ مجھے دے دی، اور میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ کسی دشمن کو جو ہم میں سے نہ ہو ہم پر غالب نہ کرے، تو اسے بھی اس نے مجھے دے دیا، اور میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہم میں پھوٹ نہ ڈالے، اور ہم گروہ در گروہ نہ ہوں، تو اس نے میری یہ درخواست قبول نہیں کی ۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ لَمَّا هَلَكَتْ أُمُّ أَبَانَ حَضَرْتُ مَعَ النَّاسِ فَجَلَسْتُ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فَبَكَيْنَ النِّسَاءُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَلاَ تَنْهَى هَؤُلاَءِ عَنِ الْبُكَاءِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ رَأَى رَكْبًا تَحْتَ شَجَرَةٍ فَقَالَ انْظُرْ مَنِ الرَّكْبُ فَذَهَبْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ . فَقَالَ عَلَىَّ بِصُهَيْبٍ . فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ أُصِيبَ عُمَرُ فَجَلَسَ صُهَيْبٌ يَبْكِي عِنْدَهُ يَقُولُ وَاأُخَيَّاهُ وَاأُخَيَّاهُ . فَقَالَ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ لاَ تَبْكِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ أَمَا وَاللَّهِ مَا تُحَدِّثُونَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَاذِبَيْنِ مُكَذَّبَيْنِ وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرْآنِ لَمَا يَشْفِيكُمْ { أَلاَّ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى } وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
Abbul-Jabbar bin Al-Ward narrated:"I heard Ibn Abi Mulaikah say: 'When Umm Aban died, I attended with the people. I sat in front of 'Abdullah bin 'Umar and Ibn 'Abbas, and the women wept. Ibn 'Umar said: 'Why don't you tell them not to weep? For I heard the Messenger of Allah say: The deceased is punished due to some of his family's weeping for him."' Ibn 'Abbas said: "Umar used to narrate something like that. I went out with 'Umar and when we got to on uninhabited area, he saw a caravan beneath a tree. He said: 'See whose caravan this is.' I went and I found Suhaib and his family. I came back to him and said: 'O Commander of the Believers! This is Suhaib and his family.' He said: 'Bring Suhaib to me.' When we entered Al-Madinah, 'Umar was attacked and Suhaib sat by him, weeping and saying, 'O my brother, O my brother.' 'Umar said: 'O Suhaib, do not weep, for I heard the Messenger of Allah say: The deceased is punished due to some of the weeping of his family for him. He said: I mentioned that to 'Aishah and she said: 'By Allah you are not narrating this Hadith from two liars who have disbelieved, but sometimes you mishear. And no bearer of burdens shall bear another's burden. And the Messenger of Allah said: 'Allah increases the punishment of the disbeliever because of his family's weeping for him
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب ام ابان مر گئیں تو میں ( بھی ) لوگوں کے ساتھ ( تعزیت میں ) آیا، اور عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے بیچ میں بیٹھ گیا، عورتیں رونے لگیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم انہیں رونے سے روکو گے نہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کہتے تھے، ( ایک بار ) میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم بیداء پہنچے، تو انہوں نے ایک درخت کے نیچے کچھ سواروں کو دیکھا تو ( مجھ سے ) کہا: دیکھو ( یہ ) سوار کون ہیں؟ چنانچہ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں، لوٹ کر ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: امیر المؤمنین! وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں، تو انہوں نے کہا: صہیب رضی اللہ عنہ کو میرے پاس لاؤ، پھر جب ہم مدینہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دئیے گئے، صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس روتے ہوئے بیٹھے ( اور ) وہ کہہ رہے تھے: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے بھائی! تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! روؤ مت، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ( ابن عباس ) کہتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! تم یہ حدیث نہ جھوٹوں سے روایت کر رہے ہو، اور نہ ایسوں سے جنہیں جھٹلایا گیا ہو، البتہ سننے ( میں ) غلط فہمی ہوئی ہے، اور قرآن میں ( ایسی بات موجود ہے ) جس سے تمہیں تسکین ہو: «ألا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) فرمایا تھا: اللہ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ صُومُوا لِلرُّؤْيَةِ وَأَفْطِرُوا لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلاَثِينَ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: "The Messenger of Allah said: Do not fast before Ramadan. Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if clouds prevent you from seeing it, then complete Thirty (Days)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور ( چاند ) دیکھ کر ( روزہ ) بند کرو، ( پس ) اگر چاند سے ورے بادل حائل ہو جائے تو تیس ( دن ) پورے کرو“۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ " .
It was narrated from Abu Sa 'eed Al-Khudri that he heard the Messenger of Allah say:"No Sadaqah is due on less than five Awsaq[2] of dates, no Sadaqah is due on less than five Awaq of silver, and no Sadagah is due on less than five Dhawd (head) of camels
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔ اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے“۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَثْرُودٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ بَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَيْدَاءَ وَصَلَّى فِي مَسْجِدِهَا .
Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Umar narrated that his father said:"The Messenger of Allah stayed overnight in dhul-Hulaifah, where he started his Hajj with this action, and he prayed in the Masjid there.''(sahih)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے شروع ہونے کی جگہ میں رات گزاری اور اس کی مسجد میں نماز پڑھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَذَكَرَ، آخَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً إِلاَّ تَعَجَّلُوا ثُلُثَىْ أَجْرِهِمْ مِنَ الآخِرَةِ وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ " .
Abdullah bin 'Amr said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'There is no raiding party that goes out in the cause of Allah and acquires some spoils of war, but they have been given two-thirds of their reward in this world instead of in the Hereafter, and there remains one-third (in the Hereafter). And if they do not acquire any spoils of war, then all of their reward (will come in the Hereafter)
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، اور مال غنیمت پاتے ہیں، تو وہ اپنی آخرت کے اجر کا دو حصہ پہلے پا لیتے ہیں ۱؎، اور آخرت میں پانے کے لیے صرف ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے، اور اگر غنیمت نہیں پاتے ہیں تو ان کا پورا اجر ( آخرت میں ) محفوظ رہتا ہے“۔
Narrated by Urwah
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ فَأَىُّ نِسَائِهِ كَانَتْ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي
Narrated 'Urwah:It was narrated from 'Urwah, that 'Aishah said: "The Messenger of Allah married me in Shawwal and my marriage was consummated in Shawwal." --'Aishah liked for her women's marriages to be consummated in Shawwal --"and which of his wives was more beloved to him than me?
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ( عید کے مہینے ) شوال میں شادی کی، اور میری رخصتی بھی شوال کے مہینے میں ہوئی۔ ( عروہ کہتے ہیں ) عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی تھیں کہ مسلمان بیویوں کے پاس ( عید کے مہینے ) شوال میں جایا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے مجھ سے زیادہ آپ سے نزدیک اور فائدہ اٹھانے والی کوئی دوسری بیوی کون تھیں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبْنَاءُ، قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ عُرِضُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَمَنْ كَانَ مُحْتَلِمًا أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مُحْتَلِمًا أَوْ لَمْ تَنْبُتْ عَانَتُهُ تُرِكَ .
It was narrated that Kathir bin As-Sa'ib said:"The sons of Quraizah told me that they were presented to the Messenger of Allah on the Day of Quraizah, and whoever (among them) had reached puberty, or had grown pubic hair, was killed, and whoever had not reached puberty and had not grown pubic hair was left (alive)
قریظہ رضی الله عنہ کے دونوں بیٹے روایت کرتے ہیں کہ وہ سب ( یعنی بنو قریظہ کے نوجوان ) قریظہ کے ( فیصلے کے ) دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے گئے، تو جسے احتلام ہونے لگا تھا، یا جس کی ناف کے نیچے کے بال اگ آئے تھے اسے ( جوان قرار دے کر ) قتل کر دیا گیا۔ اور جسے ابھی احتلام ہونا شروع نہیں ہوا تھا یا جس کی ناف کے نیچے کے بال نہیں آئے تھے اسے چھوڑ دیا اور قتل نہیں کیا گیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلاَّ مِنْ ثَلاَثَةٍ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ وَعِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ وَوَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ ".
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"When a man dies all his good deeds come to an end except three: Ongoing charity (Sadaqah Jariyah), beneficial knowledge and a righteous son who prays for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی ختم ہو جاتا ہے سوائے تین عمل کے ( جن سے اسے مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچتا ہے ) ایک صدقہ جاریہ، ۱؎ دوسرا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں ۲؎، تیسرا نیک اور صالح بیٹا جو اس کے لیے دعا کرتا رہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"I was thinking of not accepting gifts except from a Quraishi, an Ansari, a Thaqafi or a Dawsi
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کر لیا ہے تھا کہ قریشی، انصاری، ثقفی، دوسی کو چھوڑ کر کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں ۱؎“۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ " إِنَّهُ لاَ يَأْتِي بِخَيْرٍ إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah forbade vows and said:"They do not bring any good; they are just a means of taking wealth from the miserly
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ( ماننے ) سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ، - وَهُوَ ابْنُ عِيَاضٍ - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ .
It was narrated from 'Aishah:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to put his head out of the Masjid while he was performing I'tikaf, and I would wash it, while I was menstruating
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مسجد سے نکالتے اور آپ معتکف ہوتے تو میں اسے دھوتی، اور میں حائضہ ہوتی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا } الآيَةُ كُلُّهَا بَعْدَ الآيَةِ الَّتِي نَزَلَتْ فِي الْفُرْقَانِ بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي الزِّنَادِ .
It was narrated that Zaid bin Thabit said:"This Verse - 'And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell' - was revealed six months after the Verse which was revealed in Surat Al-Furqan
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ إِنَّ صَاحِبَكُمْ لَيُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ . قَالَ أَجَلْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا أَوْ نَكْتَفِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ .
It was narrated that Salman said, that a man said to him:"Your companion (meaning, the Prophet(ﷺ)) even teaches you how to go to the toilet!" He said: "Yes, he forbade us from facing the Qiblah when defecating or urinating, or cleaning ourselves with out right hands, or to use less than three stones
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ( حقارت کے انداز میں ) ان سے کہا: تمہارے نبی تمہیں ( سب کچھ ) سکھاتے ہیں یہاں تک کہ پاخانہ کرنا ( بھی ) ؟ تو انہوں نے ( فخریہ انداز میں ) کہا: ہاں! آپ نے ہمیں پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور ( استنجاء کے لیے ) تین پتھر سے کم پر اکتفا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَلَقَّنَنِي " فِيمَا اسْتَطَعْتَ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
It was narrated that Jarir bin 'Abdullah said:"I gave my pledge to the Prophet to hear and obey, and he told me to add the words.' In as much as you can, and to be since toward every Muslim"'. (Sahih)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَمْقُلْهُ " .
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Prophet said:"If a fly falls into the vessel of one of you, let him dip it in
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَلاَّلُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ، - وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ فَلْيَأْكُلْهُ إِلاَّ أَنْ يُنْتِنَ .
It was narrated from Abu Tha'labah from the Prophet that:the one who catches up with the game (he shot) after three days may eat from it, unless it has turned rotten
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تَذَاكَرَ عَلِيٌّ وَالْمِقْدَادُ وَعَمَّارٌ فَقَالَ عَلِيٌّ إِنِّي امْرَؤٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَكَانِ ابْنَتِهِ مِنِّي فَيَسْأَلُهُ أَحَدُكُمَا فَذَكَرَ لِي أَنَّ أَحَدَهُمَا وَنَسِيتُهُ سَأَلَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ذَاكَ الْمَذْىُ إِذَا وَجَدَهُ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْسِلْ ذَلِكَ مِنْهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ أَوْ كَوُضُوءِ الصَّلاَةِ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"Ali, Al-Miqdad and 'Ammar were talking. 'Ali said: 'I am a man who emits a lot of Madhi but I am too shy to ask the Messenger of Allah (ﷺ) about that because of his daughter's position with me, so let one of you ask him.' He told me that one of them - but I forgot who - asked him, and the Prophet (ﷺ) said: 'That is Madhi. If any one of you notices that, let him wash it off himself and perform Wudu' as for prayer or similar to the Wudu' of prayer
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ علی، مقداد اور عمار رضی اللہ عنہم نے آپس میں بات کی، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے بہت مذی آتی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے بارے میں ) پوچھنے سے شرماتا ہوں، اس لیے کہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، تو تم دونوں میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے ( عطاء کہتے ہیں: ) ابن عباس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان دونوں میں سے ایک نے ( میں اس کا نام بھول گیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مذی ہے، جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے اپنے جسم سے دھو لے، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے ، راوی کو شک ہے «وضوئه للصلاة» کہا یا «كوضوء الصلاة» کہا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي فَآخُذُ الصَّيْدَ فَلاَ أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ فَأَذْبَحُهُ بِالْمَرْوَةِ وَبِالْعَصَا . قَالَ " أَنْهِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:"I said: 'O Messenger of Allah, I release my dog and I catch the game, but I cannot find anything to slaughter it with, so I slaughter it with a Marwah or a stick,; He said: 'Shed the blood with whatever you wish, and say the name of Allah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ ابْتَاعَ مُحَفَّلَةً أَوْ مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ إِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لاَ سَمْرَاءَ " .
Abu Hurairah said:Abu Al- Qasim said: "Whoever buys a Musarrah, he has the choice (of annulling the deal) for three days. If the wishes ti keep it, he may keep it, and if he wishes to return it, he may return it, along with a Sa of daters, not wheat." (Sahih)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الأَعْرَجِ، عَنِ الأَشْتَرِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ إِنَّ النَّاسَ قَدْ تَفَشَّغَ بِهِمْ مَا يَسْمَعُونَ فَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَهِدَ إِلَيْكَ عَهْدًا فَحَدِّثْنَا بِهِ . قَالَ مَا عَهِدَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَهْدًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ غَيْرَ أَنَّ فِي قِرَابِ سَيْفِي صَحِيفَةً فَإِذَا فِيهَا " الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ لاَ يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلاَ ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ " . مُخْتَصَرٌ .
It was narrataed from Al-Ashtar that he said to 'Ali:"What the people have been hearing from you has become widespread. If the Messenger of Allah told you anything, then tell us," He said: "The Messenger of Allah did not tell me anything that he did not tell the people, except that in the sheath of my sword there is a sheet, in which it says: 'The lives of the believers are equal in value, and they hasten to support the asylum granted by the least of them. But no believer may be killed in return for a disbeliever, nor one with a covenant while his covenant is in effect."' It is an abridgement of it
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا - شَكَّ سُفْيَانُ - وَصُرِفَ إِلَى الْقِبْلَةِ .
It was narrated that Al-Bara' said:"We prayed toward Bait Al-Maqdis (Jerusalem) with the Messenger of Allah (ﷺ) for sixteen or seventeen months - Safwan was not sure - then it was changed to the Qiblah
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، یہ شک سفیان کی طرف سے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ ( خانہ کعبہ ) کی طرف پھیر دئیے گئے۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَطَعَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ .
It was narrated from Ibn 'Umar that:the Messenger of Allah cut off (a thief's hand) for a shield that was worth three Dirhams
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
It was narrated from Abu Hurairah that :The Prophet [SAW] said: "Whoever stands (in the voluntary night prayer of) Ramadan out of faith and in hope of reward, his previous sins will be forgiven
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ " . خَالَفَهُ الْجُرَيْرِيُّ وَكَهْمَسٌ .
It was narrated that Abu Dharr said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'The best things with which you can change gray hair are Henna and Katam
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَبِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Were it not that I would impose too much difficulty on my Ummah, I would have commanded them to delay 'Isha' and to use the Siwak for every prayer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے شاق نہ سمجھتا تو انہیں عشاء کو مؤخر کرنے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ " .
It was narrated from Abu Umamah that :The Messenger of Allah [SAW] said: "Whoever seizes the wealth of a Muslim unlawfully by means of his (false) oath, Allah makes the Fire required for him, Paradise unlawful for him." A man said to him: "O Messenger of Allah, even if it is something small?" He said: "Even if it is a twig of an Arak tree
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Allahumma inni a'udhu bika minal-ju'I, fa innahu bi'sad-daji'u, wa a'udhu bika minal-khiyanati, fa innahu bi'satil-bitanah (O Allah, I seek refuge in You from hunger, for it is a bad companion, and I seek refuge with You from treachery, for it is a bad thing to hide in one's heart)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ زَكَرِيَّا، وَأَبِي، حَيَّانَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ الْعِنَبِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I heard 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, on the Minbar of the Messenger of Allah [SAW], say: 'The prohibition of Khamr was revealed when it was made from five things: From grapes, wheat, barley, dates and honey
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةِ الْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلاَةِ وَيُصَلِّي فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلاَةَ يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ " .
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Your Lord is pleased with a shepherd high in the mountains who calls the Adhan for the prayer and prays. Allah says: 'Look at this slave of Mine; he calls the Adhan and Iqamah for the prayer and fears Me. I have forgiven My slave and admitted him to Paradise
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تمہارا رب اس بکری کے چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی کے کنارے پر اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، یہ مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے ( اس ) بندے کو بخش دیا، اور اسے جنت میں داخل کر دیا ہے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَحْسَنَ هَذَا " .
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) saw some sputum in the Qiblah of the Masjid, and he became so angry that his face turned red. Then a woman from the Ansar went and scratched off, and put some perfume in its place. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'How good this is
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو غضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، انصار کی ایک عورت نے اٹھ کر اسے کھرچ کر صاف کر دیا، اور اس جگہ پر خلوق خوشبو مل دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کیا ہی اچھا کیا ۔
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي عَلَى الصَّفِّ الأَوَّلِ ثَلاَثًا وَعَلَى الثَّانِي وَاحِدَةً .
It was narrated from Al'Irbad bin Sariyah that the Messenger of Allah (ﷺ) used to send Salah on the first row three times and on the second row once
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار دعا فرماتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي } قَالَ السَّبْعُ الطُّوَلُ .
It was narrated that Ibn Abbas said:Concerning the words of Allah, the Mighty and Sublime: "Seven of Al-Mathani (seven repeatedly-recited): "The seven long ones
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے اللہ عزوجل کے قول: «سبعا من المثاني» کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد سات لمبی سورتیں ہیں۔