أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ رُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ .
It was narrated from Al-Bara' bin 'Azib that:The bowing of the Messenger of Allah (ﷺ), and when he raised his head from bowing, and his prostration, and the time between the two prostration, were almost equal in length
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ " . ثُمَّ قَالَ " أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ " . ثَلاَثًا وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلاَةِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلاَةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ . قَالَ " إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قُلْتُ أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ وَاللَّهِ لَوْلاَ دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لأَصْبَحَ مُوثَقًا بِهَا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " .
It was narrated that Abu Ad-Darda' said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stood praying, and we heard him say: 'I seek refuge with Allah from you.' Then he said: 'I curse you with the curse of Allah (SWT),' three times and stretched out his hand as if to take something. When he finished praying we said: 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer that we have never heard you say before, and we saw you stretch out your hand.' He said: 'The enemy of Allah (SWT), Iblis, came with a brand of fire to throw it in my face, so I said: I seek refuge with Allah from you three times, then I wanted to take hold of him. By Allah (SWT), were it not for the prayer of our brother Sulaiman, he would have been tied up this morning for the children of Al-Madinah to play with him
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: «ألعنك بلعنة اللہ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار کہا: میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں، پھر بھی وہ پیچھے نہیں ہٹا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں، اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان ( علیہ السلام ) کی دعا نہ ہوتی، تو وہ صبح کو اس ( کھمبے ) سے بندھا ہوا ہوتا، اور اس سے اہل مدینہ کے بچے کھیل کرتے ۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ لَهُ " أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَارْكَعْ " .
Amr bin Dinar narrated that:He heard Jabir bin 'Abdullah say: "A man came when the Prophet (ﷺ) was on the minbar on a Friday. He said to him: 'Have you prayed two rak'ahs?' He said: 'No.' He said: 'Pray
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تھے، ایک آدمی ( مسجد میں ) آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: تو پڑھ لو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّادٍ، - رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْقَيْسِ - عَنْ سَمُرَةَ، . أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمْ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ لاَ نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا .
It was narrated from Samurah that:The Prophet (ﷺ) led them in prayer during an eclipse of the sun, and we did not hear him say anything
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھائی ( وہ کہتے ہیں ) کہ ہم آپ کی آواز نہیں سن رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَأَخَّرَ الْخُرُوجَ حَتَّى تَعَالَى النَّهَارُ ثُمَّ خَرَجَ فَخَطَبَ فَأَطَالَ الْخُطْبَةَ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ لِلنَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْجُمُعَةَ . فَذُكِرَ ذَلِكَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَصَابَ السُّنَّةَ .
Wahb bin Kaisan said:"Eid and Jumu'ah fell on the same day during the time of Ibn Az-Zubair, so he delayed going out until the sun had risen quite high. Then he went out and delivered a Khutbah, and he made the Khutbah lengthy. Then he came down and prayed, and he did not lead the people in praying jumu'ah that day. Mention of that was made to Ibn 'Abbas and he said: 'He has followed the sunnah
وہب بن کیسان کہتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہم کے دور میں دونوں عیدیں ایک ہی دن میں جمع ہو گئیں، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے نکلنے میں تاخیر کی یہاں تک کہ دن چڑھ آیا، پھر وہ نکلے، اور انہوں نے خطبہ دیا، تو لمبا خطبہ دیا، پھر وہ اترے اور نماز پڑھی۔ اس دن انہوں نے لوگوں کو جمعہ نہیں پڑھایا یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بیان کی گئی تو انہوں نے کہا: انہوں نے سنت پر عمل کیا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ " .
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'On the night on which I was taken on the Night Journey, I passed by Musa, peace be upon him, and he was praying in his grave
سلیمان تیمی روایت کرتے ہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں معراج کی رات میں موسیٰ وضاحت پر سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، - هُوَ ابْنُ زَاذَانَ - عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَرَأَيْتَ رَجُلاً مَاتَ بِخُرَاسَانَ وَنَاحَ أَهْلُهُ عَلَيْهِ هَا هُنَا أَكَانَ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ قَالَ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَذَبْتَ أَنْتَ .
It was narrated that 'Imran bin Husain said:"The deceased is punished due to his family's wailing for him." A man said to him: "A man died in Khurasan and his family wailed for him here; will he be punished due to his family's wailing?" He said: "The Messenger of Allah spoke the truth and you are a liar
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، اس پر ایک شخص نے ان سے کہا: مجھے بتائیے کہ ایک شخص خراسان میں مرے، اور اس کے گھر والے یہاں اس پر نوحہ کریں تو اس پر اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا، ( یہ بات عقل میں آنے والی نہیں ) ؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، اور تو جھوٹا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ قَبْلَهُ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ قَبْلَهُ " .
It was narrated from Ribii bin Hirash, from Hudhaifah bin Al-Yaman, that the Messenger of Allah said:"Do not anticipate the month until you see the crescent before it, or you complete the number of days. Then fast until you see the new moon, or you complete the number of days
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو ۱؎ یہاں تک کہ ( روزہ رکھنے سے ) پہلے چاند دیکھ لو، یا ( شعبان کی ) تیس کی تعداد پوری کر لو، پھر روزہ رکھو، یہاں تک کہ ( عید الفطر کا ) چاند دیکھ لو، یا اس سے پہلے رمضان کی تیس کی تعداد پوری کر لو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلاَ فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"The Muslim does not have to pay Sadaqah on his slave or his horse
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " . وَذُكِرَ لِي وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّهُ قَالَ " وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " .
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet said:"The people of Al-Madinah should enter into Ihram from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-sham from Al-Juhfah, the people of Najd from Qarn." And it was mentioned to me, although I did not hear him say it: "And the people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam.;
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں گے، شام والے حجفہ سے، اور نجد والے قرن ( المنازل ) سے“، اور میں نے تو نہیں سنا ہے لیکن مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں گے“۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَفْدُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلاَثَةٌ الْغَازِي وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ " .
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The guests of Allah, the Mighty and Sublime, are three: The warrior, the pilgrim performing Hajj, and the pilgrim performing 'Umrah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے وفد میں تین ( طرح کے لوگ شامل ) ہیں ( ایک ) مجاہد ( دوسرا ) حاجی، ( تیسرا ) عمرہ کرنے والا“ ۱؎۔
Narrated by Abdullah bin 'Amr bin Al-'As
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَذَكَرَ، آخَرَ أَنْبَأَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الدُّنْيَا كُلَّهَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ " .
Narrated 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As:It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As that the Messenger of Allah said: "This world is all temporary conveniences, and the best temporary convenience of this world is a righteous woman
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا ساری کی ساری پونجی ہے ( برتنے کی چیز ہے ) ۱؎ لیکن ساری دنیا میں سب سے بہترین ( قیمتی ) چیز نیک و صالح عورت ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبًا، يُحَدِّثُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِلَى صَاحِبَىَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ أُطَلِّقُ امْرَأَتِي أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ لاَ بَلْ تَعْتَزِلُهَا وَلاَ تَقْرَبْهَا . فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي فِيهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . فَلَحِقَتْ بِهِمْ . خَالَفَهُ مَعْمَرٌ .
It was narrated from Ma'qil, from Az-Zuhri who said:"Abdur-Rahman bin 'Abdullah bin Ka'b narrated that his paternal uncle 'Ubaidullah bin Ka'b said: 'I heard my father Ka'b say: The Messenger of Allah sent word to me and my two companions saying: The Messenger of Allah commands you to keep away from your wives. I said to the envoy: Should I divorce my wife, or what should I do? He said: No, just keep away from her and do not come near her. I said to my wife: Go to your family and stay with them until Allah, the Mighty and Sublime, decides (concerning me). So she went to them
عبیداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے دونوں ( پیچھے رہ جانے والے ) ساتھیوں کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم لوگ اپنی بیویوں سے جدا ہو جاؤ، میں نے پیغام لانے والے سے کہا: میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، طلاق نہ دو، بلکہ اس سے الگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ، ( یہ سن کر ) میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور جب تک اللہ عزوجل فیصلہ نہ کر دے انہیں لوگوں میں رہو، تو بیوی انہیں لوگوں کے پاس جا کر رہنے لگی۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں ) معمر نے معقل کے خلاف ذکر کیا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لاَ أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا فَاطِمَةُ سَلِينِي مَا شِئْتِ لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ".
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah stood up when the following was revealed to him: 'And warn your tribe (O Muhammad) of near kindred,' and said: 'O Quraish! Buy your souls from your Lord, I cannot avail you anything before Allah. O Banu 'Abd Manaf! I cannot avail you anything before Allah. O 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib! I cannot avail you anything before Allah. O Safiyyah, paternal aunt of the Messenger of Allah! I cannot avail you anything before Allah. O Fatimah! Ask me for whatever you want, I cannot avail you anything before Allah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اے محمد! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے قریش کے لوگو! اپنی جانوں کو اللہ سے ( اس کی اطاعت کے بدلے ) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے بنی عبد مناف! میں اللہ کے یہاں تمہارے کچھ بھی کام نہ آ سکوں گا، اے عباس بن عبدالمطلب! اللہ کے یہاں میں تمہارے بھی کچھ کام نہ آ سکوں گا، اے صفیہ! ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ) ، میں اللہ کے یہاں تمہیں بھی کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا، اے فاطمہ! تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہے مجھ سے مانگو، لیکن میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا“۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، وَقَبِيصَةُ، قَالاَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"A man passed by the Prophet (ﷺ) when he was urinating and greeted him with Salam, but he did not return his greeting
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَأَلَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ عَنِ الْعُمْرَى، فَقُلْتُ حَدَّثَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ . قَالَ قَتَادَةُ وَقُلْتُ حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " . قَالَ قَتَادَةُ وَقُلْتُ كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ . قَالَ قَتَادَةُ فَقَالَ الزُّهْرِيُّ إِنَّمَا الْعُمْرَى إِذَا أُعْمِرَ وَعَقِبَهُ مِنْ بَعْدِهِ فَإِذَا لَمْ يَجْعَلْ عَقِبَهُ مِنْ بَعْدِهِ كَانَ لِلَّذِي يَجْعَلُ شَرْطُهُ . قَالَ قَتَادَةُ فَسُئِلَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " . قَالَ قَتَادَةُ فَقَالَ الزُّهْرِيُّ كَانَ الْخُلَفَاءُ لاَ يَقْضُونَ بِهَذَا . قَالَ عَطَاءٌ قَضَى بِهَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ .
It was narrated that Qatadah said:"Sulaiman bin Hisham asked me about a lifelong gift. I said: 'Muhammad bin Sirin narrated that Shuraih said: "The Prophet of Allah ruled that a lifelong gift is permissible."'" Qatadah said: "I said: 'And An-Nadr bin Anas narrated to me, from Bashir bin Nahik, from Abu Hurairah, that the Prophet of Allah said: "A lifelong gift is permissible."'" Qatadah said: "I said: 'Al-Hasan used to say: "A lifelong gift is permissible."'" Qatadah said: "Az-Zuhri said: 'A lifelong gift is when it is stipulated that it is for the one to whom it is given and his descendants, but if his descendants were not mentioned then the condition is valid (and it reverts to the one who gave it).'" Qatadah said: "So 'Ata' bin Abi Rabah was asked, and he said: 'Jabir bin Abdullah narrated to me that Allah's Messenger said: "Umra is permissible."'" Qatadah said: "Az-Zuhri said: 'The Caliphs (Khulafa') did not rule according to this.'" 'Ata' said: "Abdul-Malik bin Marwan ruled according to this
قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ہشام نے عمریٰ کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا: محمد بن سیرین نے شریح سے یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ عمریٰ نافذ ہو گا۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن نضر بن انس نے بسند بشر بن نہیک بسند ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”عمریٰ نافذ ہو گا“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا: حسن بصری کہتے تھے کہ عمریٰ نافذ ہو گا ( جس کے لیے عمریٰ کیا جاتا ہے وہ چیز اسی کی ہمیشہ کے لیے ہو جاتی ہے ) ۔ قتادہ کہتے ہیں: زہری نے کہا کہ جب عمریٰ کسی کو زندگی بھر کے لیے اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے دیا جائے ( تو وہ دینے والے کو نہ ملے گا ) اور جب دینے والے نے اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے نہ کہا ہو تو وہ اس کے نہ رہنے کے بعد اس کو ملے گا جس کی شرط دینے والے نے لگا دی ہو۔ قتادہ کہتے ہیں: عطاء بن ابی رباح سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے جابر بن عبداللہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“، قتادہ کہتے ہیں کہ زہری نے کہا: خلفاء اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تھے، تو عطاء نے کہا: اس کے مطابق عبدالملک بن مروان نے فیصلہ کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَبِيعُ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنِ اسْمِنَا فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوا بَيْعَكُمْ بِالصَّدَقَةِ " .
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said:"At the time of the Messenger of Allah we used to be called Samasir (brokers). The Messenger of Allah came to us when we were selling and called us by a name that was better than that. He said: 'O merchants (Tujjar), this selling involves lies and (false) oaths, so mix some charity with it
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ ہمیں «سماسر» ( دلال ) کہا جاتا تھا، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم خرید و فروخت کر رہے تھے تو آپ نے ہمیں ہمارے نام سے بہتر ایک نام دیا، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں قسم اور جھوٹ ۱؎ بھی شامل ہو جاتی ہیں تو تم اپنی خرید و فروخت میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ، { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمْ يَنْسَخْهَا شَىْءٌ . وَعَنْ هَذِهِ الآيَةِ { وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ } قَالَ نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ .
It was narrated that Sa'eed bin Jubair said:"Abdur-Rahman bin Abi Laila told me to ask Ibn 'Abbas about two Verses: 'And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell.' I asked him and he said: 'Nothing of this has been abrogated.' (And I asked him about the Verse): 'And those who invoke not any other ilah (god) along with Allah, or kill such person as Allah has forbidden, except by right,' he said: 'This was revealed concerning the people of Shirk
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الإِسْلاَمِ فَأَصَابَ الأَعْرَابِيَّ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ فَجَاءَ الأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي . فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي . فَأَبَى فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا " .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that:a Bedouin pledged Islam to the Messenger of Allah, then the Bedouin was stricken with the fever in Al-Madinah. So he came to the Messenger of Allah and said: "O Messenger of Allah, cancel my pledge," but he refused. Then he came to him again and said: "Cancel my pledge," but he refused. Then he came to him again and said: "Cancel my pledge," but he refused. Then the Bedouin left (Al-Madinah) and the Messenger of Allah sadi: "Al-Madinah his like the bellows; it expels its dross and brightness its good
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً، وَقَعَتْ، فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ " .
It was narrated from Ibn 'Abbas, form Maimunah, that:a mouse fell into some cooking fat and died. The Prophet was asked (about that) and he said: "Throw it away, and whatever is around it, and eat (the rest)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّيْدِ فَقَالَ " إِذَا أَرْسَلْتَ سَهْمَكَ وَكَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ سَهْمُكَ فَكُلْ " . قَالَ فَإِنْ بَاتَ عَنِّي لَيْلَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " إِنْ وَجَدْتَ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ شَىْءٍ غَيْرَهُ فَكُلْ وَإِنْ وَقَعَ فِي الْمَاءِ فَلاَ تَأْكُلْ " .
It was narrated from 'Adiyy bin Hatim that he asked the Messenger of Allah about hunting and he said:"When you release your arrow or your dog, mention the name of Allah, and when your arrow kills (the game), then eat." He said: "What if it gets away from me for a night, O Messenger of Allah?" He said: "If you find your arrow and you do not find the mark of anything else, then eat it. But if it falls into the water, do not eat it
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا سَيَّارٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي الصَّلاَةُ يُصَلِّي وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَمْ يُعْطَ نَبِيٌّ قَبْلِي وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً " .
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I have been given five things that were not given to anyone before me: I have been supported with fear being struck into the hearts of my enemy for a distance of one month's travel; the earth has been made a place of prostration and a means of purification for me, so wherever a man of my Ummah is when the time for prayer comes, let him pray; I have been given the intercession which was not given to any Prophet before me; and I have been sent to all of mankind whereas the Prophets before me were sent to their own people
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ۱؎: ایک مہینہ کی مسافت پر رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ۲؎، میرے لیے پوری روئے زمین مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، تو میری امت کا کوئی فرد جہاں بھی نماز کا وقت پا لے، نماز پڑھ لے، اور مجھے شفاعت ( عظمیٰ ) عطا کی گئی ہے، یہ چیز مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، اور میں سارے انسانوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا گیا ہوں، اور ( مجھ سے پہلے ) نبی خاص اپنی قوم کے لیے بھیجے جاتے تھے ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعِيدَ . قَالَ عِنْدِي عَنَاقُ جَذَعَةٍ هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ . قَالَ " اذْبَحْهَا " . فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي لاَ أَجِدُ إِلاَّ جَذَعَةً . فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْبَحَ .
It was narrated from Abu Burdah bin Niyar that he slaughtered (his sacrifice) before the Prophet and the Prophet told him to repeat it. He said:"I have a Jadh'ah she-goat that is dearer to me than two Muslinnahs." He said: "Sacrifice it," According to the Hadith of: Ubaidullah, he said: "I cannot find anything but a Jadh'ah," and he told him to slaughter it. (Sahih)
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ كَانَ يُبَايِعُ وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ احْجُرْ عَلَيْهِ . فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَهَاهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ . قَالَ " إِذَا بِعْتَ فَقُلْ لاَ خِلاَبَةَ " .
It was narrated from Anas that:there was a man whose mental faculties were lacking, and he used to buy and sell. His family came to the Prophet and said: "O Prophet of Allah stop him." So the Prophet of Allah called him, and told him not to do that. He said: "O Prophet of Allah, I cannot bear to be away from business," He said "If you engaged in a deal then say: 'There is no intention to deceive. "' (Sahih)
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا مِنَ الْحُلِيِّ فَأُدْرِكَتْ وَبِهَا رَمَقٌ فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَنْ قَتَلَكِ فُلاَنٌ " . قَالَتْ بِرَأْسِهَا لاَ . قَالَ " فُلاَنٌ " . قَالَ حَتَّى سَمَّى الْيَهُودِيَّ قَالَتْ بِرَأْسِهَا نَعَمْ فَأُخِذَ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ .
It was narrated that Anas bin Malik said:"A girl went out wearing some jewelry and a Jew caught her, crushed her head between two rocks and took the jewelry that she was wearing. She was found as she was breathing her last, and she was brought to the Messenger of Allah who said: 'Who killed you? Was it so and so?' She gestured no with her head, and he continued asking until he named the Jew, and she gestured yes with her head. He was caught and he confessed (to his crime), then the Messenger of Allah ordered that his head be crushed between two rocks
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ صَلَّى بِجَمْعٍ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلاَثًا ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ فِي هَذَا الْمَكَانِ .
Salamah bin Kuhail narrated:"I heard Sa'eed bin Jubair say: 'I saw 'Abdullah bin 'Umar pray in Jam'; he made the Iqamah and prayed Maghrib, three Rak'ahs, then he prayed 'Isha', two Rak'ahs, then he said: 'This is what I saw the Messenger of Allah (ﷺ) do in this place
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کو مزدلفہ میں نماز پڑھتے دیکھا، انہوں نے اقامت کہی، اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر ( دوسری اقامت سے ) عشاء کی دو رکعت پڑھی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ . كَذَا قَالَ .
Abdullah bin 'Amr said:"The Messenger of Allah cut off (a thief's hand) for a shield which was worth five Durham's." This is how he (the narrator) said it. (Daif)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آيَةُ النِّفَاقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
It was narrated from Abu Hurairah that :The Messenger of Allah [SAW] said: "The signs of the hypocrite are three: When he speaks, he lies; when he makes a promise he breaks it; and when he is entrusted with something, he betrays (that trust)
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غَيِّرُوا هَذَا بِشَىْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ " .
It was narrated that Jabir said:"Abu Quhafah was brought on the Day of the Conquest of Makkah, and his hair and beard were white like the Thaghamah. The Messenger of Allah [SAW] said: 'Change this with something, but avoid black
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي، عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي أَخْبِرْنَا كَيْفَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ قَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ قَالَ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ قَالَ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ تُؤَخَّرَ صَلاَةُ الْعِشَاءِ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ قَالَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ .
Sayyar bin Salamah said:"My father and I entered upon Abu Barzah, and my father said to him: 'How did the Messenger of Allah (ﷺ) pray the prescribed prayers?' He said: He used to pray Zuhr, which you call Al-Uala (the first) when the sun passed its zenith; he used to pray 'Asr then one of us could go back to his home in the farthest part of Al-Madinah when the sun was still bright.'" - He said: "I forgot what he said to me about Maghrib." - "And he used to like to delay 'Isha', which you call Al-'Atamah, and he did not like to sleep before it nor speak after it. And he used to finish the Al-Ghadah (Fajr) prayer when a man could recognize his neighbor, and he used to recite between sixty and one hundred verses
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد دونوں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو میرے والد نے ان سے پوچھا: ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے ( یعنی کب ) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے پھر ہم میں سے ایک آدمی ( نماز پڑھ کر ) مدینہ کے آخری کونے پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا، اور سورج تیز اور بلند ہوتا، اور انہوں نے مغرب کے بارے میں جو کہا میں ( اسے ) بھول گیا، اور کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہوتا خیر سے پڑھنے کو پسند کرتے تھے، اور اس سے قبل سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلٍ، قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ جَاءَ بِالْقَاتِلِ يَقُودُهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي نِسْعَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ " أَتَعْفُو " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَتَقْتُلُهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " اذْهَبْ بِهِ " . فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ فَقَالَ " أَتَعْفُو " . قَالَ لاَ قَالَ " فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَتَقْتُلُهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " اذْهَبْ بِهِ " . فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ فَقَالَ " أَتَعْفُو " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَتَقْتُلُهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " اذْهَبْ بِهِ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ " أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ " . فَعَفَا عَنْهُ وَتَرَكَهُ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ .
It was narrated that Wa'il said:"I saw the Messenger of Allah [SAW] when a killer was brought by the heir of the victim by a string. The Messenger of Allah [SAW] said to the heir of the victim: 'Will you forgive him?' He said: 'No.' He said: 'Will you accept the Diyah?' He said: 'No.' He said: 'Will you kill him?' He said: 'Yes.' He said: 'Take him away.' When he went and turned away from him, he called him back and said: 'Will you forgive him?' He said: 'No.' He said: 'Will you accept the Diyah?' He said: 'No.' He said: 'Will you kill him?' He said: 'Yes.' He said: 'Take him away.' When he went and turned away from him, he called him back and said: 'Will you forgive him?' He said: 'No.' He said: 'Will you accept the Diyah?' He said: 'No.' He said: 'Will you kill him?' He said: 'Yes.' He said: 'Take him away.' At that point the Messenger of Allah [SAW] said: 'But if you forgive him, he will carry his own sin and the sin of your companion.' So he forgave him, and I saw him dragging his string
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ شَيْبَةَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عِيَاضٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ وَأَنْ تَظْلِمَ أَوْ تُظْلَمَ " .
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah [SAW] said: "Seek refuge with Allah from poverty, want and humiliation, and from wronging others or being wronged
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ السَّكَرُ خَمْرٌ .
It was narrated that Sa'eed bin Jubair said:"Strong drink is Khamr
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ .
It was narrated that Abu 'Ubaidah said:"Abdullah said: 'The idolaters kept the Prophet (S.A.W) from (offering) four prayers on the day of Al-Khandaq, so he commanded Bilal to call the Adhan, then he said the Iqamah and prayed Zuhr, then he said the Iqamah and prayed 'Asr, then he said the Iqamah and prayed the Maghrib, then he said the Iqamah and prayed 'Isha
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ خندق ( احزاب ) کے دن مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار نمازوں سے روکے رکھا، چنانچہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے عشاء پڑھی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى " .
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) saw some sputum on the Qiblah wall. He scrapped it off then he turned to the people and said:"When any one of you is praying, let him not spit in front of him, for Allah is in front of him when he prays
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ والی دیوار پر تھوک دیکھا تو اسے رگڑ دیا، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے چہرہ کی جانب ہرگز نہ تھوکے، کیونکہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے چہرہ کے سامنے ہوتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " اسْتَوُوا اسْتَوُوا اسْتَوُوا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَىَّ " .
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) used to say:"Make your rows straight, make your rows straight, make your rows straight. By the One in Whose Hand is my soul! I can see you behind me as I can see you in front of me
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: برابر ہو جاؤ، برابر ہو جاؤ، برابر ہو جاؤ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح تمہیں اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِذْ سَمِعَ نَقِيضًا فَوْقَهُ فَرَفَعَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ هَذَا بَابٌ قَدْ فُتِحَ مِنَ السَّمَاءِ مَا فُتِحَ قَطُّ . قَالَ فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَمْ تَقْرَأْ حَرْفًا مِنْهُمَا إِلاَّ أُعْطِيتَهُ .
It was narrated that Ibn Abbas said:"When Jibril was with the Messenger of Allah (ﷺ), he heard a sound from above like a door opening. Jibril, peace be upon him, looked up toward the sky and said: 'This is a gate in Heaven that has been opened, but it was never opened before." He said: "An Angel came down from it and came to the Prophet (ﷺ) and said: 'Receive the glad tidings of two lights that have been given to you and were never given to any prophet before you: The Opening of the Book (Al-Fatihah) and the last verses of Surat Al-Baqarah. You will never recite a single letter of them but you will be granted it
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ السلام ایک ساتھ ہی تھے کہ اچانک جبرائیل علیہ السلام نے آسمان کے اوپر دروازہ کھلنے کی آواز سنی، تو نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا: یہ آسمان کا ایک دروازہ کھلا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا، پھر اس سے ایک فرشتہ اترا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے کہا: مبارک ہو! آپ کو دو نور دیا گیا ہے جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا، سورۃ فاتحہ اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں، ان دونوں میں سے ایک حرف بھی تم پڑھو گے تو ( اس کا ثواب ) تمہیں ضرور دیا جائے گا۔