أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فَقَالَ " صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " . وَاسْتَزَادَهُ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا فَزَادَهُ قَالَ " صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " . فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا " . فَمَا كَادَ أَنْ يَزِيدَهُ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
It was narrated from Abu Nawfal bin Abi 'Aqrab, from his father, that he asked the Prophet about fasting and he said:"Fast one day of each month." He asked him for more, saying: "May my father and mother be ransomed for you, I am able." He said: "Fast two days of each month." He said" May my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah, I am able." The Messenger of Allah said: "I am able, I am able." He did not want to increase it, but when I insisted, the Messenger of Allah said: "Fast three days of each month." (Sahih) The end of what the Shaikh had about fasting, all praise is due to Allah the Lord of the worlds
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، انہوں نے مزید کی درخواست کی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو آپ نے اس میں اضافہ فرما دیا، فرمایا: ”ہر مہینہ دو دن رکھ لیا کرو“، تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میری بات ) ”میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی، آپ اضافہ کرنے والے نہ تھے، مگر جب انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر مہینہ تین دن رکھ لیا کرو“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَافَ سَبْعًا رَمَلَ ثَلاَثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ قَرَأَ { وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى } فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ وَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ " إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " .
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah performed Tawaf, walking rapidly (Raml) for three circuits, and walking at a normal pace for four. Then he recited:"And take you the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer." And prayed two Rak`ahs with the Maqam between him and the Ka`bah. Then he touched the Corner, then he went out and said: 'As-Safa and Al-Marwah are two of the symbols of Allah. We will start with that with which Allah started
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف میں کعبہ کے سات پھیرے لگائے، تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اس کے بعد مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر نکلے اور آیت کریمہ: «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“ پڑھی تو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا، اسی سے تم بھی شروع کرو“۔