أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَقَطَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ يَعُودُونَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " .
It was narrated from Anas that:The Prophet (ﷺ) fell from a horse onto his right side, and they entered upon him to visit him. The time for prayer came, and when he had finished praying he said: "The Imam is appointed to be followed, so when he bows, then bow, and when he stands up, then stand up, and when he says: 'Sami' Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him)' then say: 'Rabbana wa lakal-hamd (Our Lord, and to You be the praise)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے اپنے داہنے پہلو پر گر پڑے، تو لوگ آپ کی عیادت کرنے آپ کے پاس آئے کہ ( اسی دوران ) نماز کا وقت ہو گیا، ( تو آپ نے انہیں نماز پڑھائی ) جب آپ نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَىٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاعَةٌ آتِيهِ فِيهَا فَإِذَا أَتَيْتُهُ اسْتَأْذَنْتُ إِنْ وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَتَنَحْنَحَ دَخَلْتُ وَإِنْ وَجَدْتُهُ فَارِغًا أَذِنَ لِي .
It was narrated that 'Ali said:"I had certain times when I used to come to the Messenger of Allah (ﷺ). When I came to him I would ask for permission to enter. If I found him praying he would clear his throat and I would enter, and if I found him free he would give me permission (to enter)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے میرے لیے ایک گھڑی ایسی مقرر تھی کہ میں اس میں آپ کے پاس آیا کرتا تھا، جب میں آپ کے پاس آتا تو اجازت مانگتا، اگر میں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تو آپ کھنکھارتے، تو میں اندر داخل ہو جاتا، اگر میں آپ کو خالی پاتا تو آپ مجھے اجازت دیتے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ وَاسْتَوَى عَلَيْهِ اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّى نَزَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاعْتَنَقَهَا فَسَكَتَتْ .
Jabir bin 'Abdullah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) delivered the khutbah, he used to lean against a palm tree trunk that formed one of the pillars of the Masjid. When the Minbar was made and he sat down on it, that pillar made a sound like the groaning of a camel, which the people of the Masjid heard, until the Messenger of Allah (ﷺ) came down and embraced it, then it fell silent
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو مسجد کے ستونوں میں سے کھجور کے ایک تنا سے آپ ٹیک لگاتے تھے، پھر جب منبر بنایا گیا، اور آپ اس پر کھڑے ہوئے تو وہ ستون ( جس سے آپ سہارا لیتے تھے ) بیقرار ہو کر رونے لگا جس طرح اونٹنی روتی ہے، یہاں تک کہ اسے مسجد والوں نے بھی سنا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اس کے پاس گئے، اور اسے گلے سے لگایا تو وہ چپ ہوا۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ وَثَابَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا انْكَشَفَتِ الشَّمْسُ قَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا عِبَادَهُ وَإِنَّهُمَا لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ " . وَذَلِكَ أَنَّ ابْنًا لَهُ مَاتَ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ لَهُ نَاسٌ فِي ذَلِكَ .
It was narrated that Abu Bakrah said:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when the sun became eclipsed. The Messenger of Allah (ﷺ) went out dragging his garment, until he came to the masjid, and the people gathered around him. He led us in praying two rak'ahs and when (the eclipse) ended he said: 'The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT) by means of which Allah (SWT), the Mighty and Sublime, strikes fear into His slaves. They do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that, then pray until Allah (SWT)r relieves you of fear.' That was because his son named Ibrahim had died, and the people suggested to him that (the eclipse) happened because of that
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج گرہن لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد پہنچے، اور لوگ ( بھی ) آپ کی طرف لپکے، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اور یہ دونوں نہ تو کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے پر، تو جب تم انہیں گہنایا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چیز چھٹ جائے جو تم پر آن پڑی ہے ، اور آپ نے یہ اس لیے فرمایا کہ ( اسی روز ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا، تو کچھ لوگوں نے آپ سے یہ بات کہی تھی۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أَضْحَى وَانْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا .
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us on the day of Al-Adha and went to two black and white rams and slaughtered them
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن ہمیں خطبہ دیا، اور ( اس کے بعد ) آپ دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف جھکے اور انہیں ذبح کیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ صَلاَةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ " .
It was narrated from 'Amr bin Aws that he heard Abdullah bin Amr bin Al-'As say:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud, peace be upon him. He used to fast one day and not the next. And the most beloved of prayer to Allah (SWT) is the prayer of Dawud. He used to sleep half the night, spend one-third of the night in prayer and sleep for one-sixth of it
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ آدھی رات تک سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے، پھر چھٹے حصہ میں سو جاتے تھے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ عُمَرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
It was narrated that Ibn Shihab said:"Salim said: 'I heard 'Abdullah bin 'Umar say: 'Umar said: The Messenger of Allah said: The deceased is punished due to his family's weeping for him
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " .
It was narrated form Ibn 'Umar that the Prophet said:"D not fast until you see it , and do not stop fasting until you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then work it out
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( رمضان کے ) روزے نہ رکھو یہاں تک کہ ( چاند ) دیکھ لو اور نہ ہی روزے رکھنا بند کرو یہاں تک کہ ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو ( اور ) اگر آسمان میں بادل ہوں تو اس ( مہینے ) کا حساب لگا لو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلاَ فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
It was narrated that Abu Hurariah said:"The Messenger of Allah said: 'The Muslim does not have to pay Sadaqah on his slave or his horse
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah said:"The people of Al-Madinah should enter into Ihram from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-sham from Al-Juhfah, the people of Najd from Qarn." 'Abdullah said: "And it was conveyed to me, that the Messenger of Allah said: 'And the people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینے والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں، اور اہل شام حجفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں“۔
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ شُمَيْرٍ الرُّعَيْنِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ التُّجِيبِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رَيْحَانَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " حُرِّمَتْ عَيْنٌ عَلَى النَّارِ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
Abu 'Ali At-Tujibi (said) that he heard Abu Raihanah say:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The eye that stays awake in the cause of Allah will be forbidden to the Fire
ابوریحانہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو آنکھ اللہ کے راستے میں جاگی ہو وہ آنکھ جہنم پر حرام ہے“ ۱؎۔
Narrated by Amr bin Shu'aib
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، - وَكَانَ رَجُلاً شَدِيدًا - وَكَانَ يَحْمِلُ الأُسَارَى مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ . قَالَ فَدَعَوْتُ رَجُلاً لأَحْمِلَهُ وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ يُقَالُ لَهَا عَنَاقُ وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ خَرَجَتْ فَرَأَتْ سَوَادِي فِي ظِلِّ الْحَائِطِ فَقَالَتْ مَنْ هَذَا مَرْثَدٌ مَرْحَبًا وَأَهْلاً يَا مَرْثَدُ انْطَلِقِ اللَّيْلَةَ فَبِتْ عِنْدَنَا فِي الرَّحْلِ . قُلْتُ يَا عَنَاقُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّمَ الزِّنَا . قَالَتْ يَا أَهْلَ الْخِيَامِ هَذَا الدُّلْدُلُ هَذَا الَّذِي يَحْمِلُ أُسَرَاءَكُمْ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ . فَسَلَكْتُ الْخَنْدَمَةَ فَطَلَبَنِي ثَمَانِيَةٌ فَجَاءُوا حَتَّى قَامُوا عَلَى رَأْسِي فَبَالُوا فَطَارَ بَوْلُهُمْ عَلَىَّ وَأَعْمَاهُمُ اللَّهُ عَنِّي فَجِئْتُ إِلَى صَاحِبِي فَحَمَلْتُهُ فَلَمَّا انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَى الأَرَاكِ فَكَكْتُ عَنْهُ كَبْلَهُ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحُ عَنَاقَ فَسَكَتَ عَنِّي فَنَزَلَتِ { الزَّانِيَةُ لاَ يَنْكِحُهَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ } فَدَعَانِي فَقَرَأَهَا عَلَىَّ وَقَالَ " لاَ تَنْكِحْهَا " .
Narrated 'Amr bin Shu'aib:It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that Marthad bin Abi Marthad Al-Ghanawi --a strong man who used to take the prisoners from Makkah to Al-Madinah-- said: "I arranged with a man to bring him (from Makkah to Al-Madinah). There was a prostitute in Makkah who was called 'Anaq, and she was his friend. She came out and saw my shadow on the wall, and said: 'Who is this? Marthad? Welcome, O Marthad, come tonight and stay at our place.' I said: 'O 'Anaq, the Messenger of Allah has forbidden adultery.' She said: 'O people of the tents, this porcupine is the one who is taking your prisoners from Makkah to Al-Madinah!' I headed toward (the mountain of) Al-Khandamah, and eight men came after me. They came and stood over my head, and they urinated, and their urine reached me, but Allah caused them not to see me. Then I went to my companion (the prisoner) and brought him to Al-Arak, where I undid his fetters. Then I came to the Messenger of Allah and said: 'O Messenger of Allah, shall I marry 'Anaq?' He remained silent and did not answer me, then the following was revealed: 'And the adulteress-fornicator, none marries her except an adulterer-fornicator or an idolater.' He called me and recited them to me and said: 'Do not marry her
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ ایک سخت اور زور آور آدمی تھے، قیدیوں کو مکہ سے مدینہ منتقل کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ایک شخص کو بلایا کہ اسے سواری پر ساتھ لیتا جاؤں، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی، وہ ( گھر سے باہر ) نکلی، دیوار کی پرچھائیوں میں میرے وجود کو ( یعنی مجھے ) دیکھا، بولی کون ہے؟ مرثد! خوش آمدید اپنوں میں آ گئے، مرثد! آج رات چلو ہمارے ڈیرے پر ہمارے پاس رات کو سوؤ، میں نے کہا: عناق! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کو حرام قرار دے دیا ہے، اس نے کہا: خیمہ والو! یہ دلدل ہے ۱؎ یہ وہ ( پرندہ ) ہے جو تمہارے قیدیوں کو مکہ سے مدینہ اٹھا لے جائے گا ( یہ سن کر ) میں خندمہ ( پہاڑ ) کی طرف بڑھا ( مجھے پکڑنے کے لیے ) میری طلب و تلاش میں آٹھ آدمی نکلے اور میرے سر پر آ کھڑے ہوئے، انہوں نے وہاں پیشاب کیا جس کے چھینٹے مجھ پر پڑے ( اتنے قریب ہونے کے باوجود وہ مجھے دیکھ نہ سکے کیونکہ ) میرے حق میں اللہ نے انہیں اندھا بنا دیا۔ میں ( وہاں سے بچ کر ) اپنے ( قیدی ) ساتھی کے پاس آیا اور اسے سواری پر چڑھا کر چل پڑا۔ پھر جب میں اراک پہنچا تو میں نے اس کی بیڑی کھول دی، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں؟ تو آپ خاموش رہے پھر آیت: «الزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك» ”زنا کار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور نکاح نہیں کرتی“۔ ( النور: ۳ ) نازل ہوئی، پھر ( اس کے نزول کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، مذکورہ آیت پڑھی پھر فرمایا: ”اس سے شادی نہ کرو“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَزْهَرُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ يَقُولُونَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ لَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ وَمَا أَشْعُرُ فَإِلَى مَنْ أَوْصَى قَالَ الشَّيْخُ أَزْهَرُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ .
It was narrated that 'Aishah said:"They say that the Prophet (ﷺ) made a will for 'Ali,[1] but he called for a basin in which to urinate, then he went flaccid suddenly (and died), so how could he leave a will?!" The Shaikh said: Azhar (one of the narrators) is Ibn Sa'd As-Samman. [1] Meaning, appointing him as the Khalifah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں ) علی رضی اللہ عنہ کو وصی بنایا، حقیقت یہ ہے کہ آپ نے تھال منگوایا کہ اس میں پیشاب کریں، مگر ( اس سے قبل ہی ) آپ کا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔ ( آپ فوت ہو گئے ) مجھے پتہ بھی نہ چلا، تو آپ نے کس کو وصیت کی؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةَ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ - وَقَالَ - لَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ { وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا } لِقَوْلِهِ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاَ " . كُلُّهُ فِي حَدِيثِ عَطَاءٍ .
Ubaid bin 'Umair narrated from 'Aishah, the wife of the Prophet:"The Prophet used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet came to either of us, she would say: 'I detect the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?' He came to one of them and she said that to him. He said: 'No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again.' Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you).' addressing 'Aishah and Hafsah; 'And (remember) when the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his wives.' refers to him saying: "No, rather I drank honey
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ ( کیا بات ہے ) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: ”میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے ( اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے ) تو آئندہ نہ پیوں گا“۔ چنانچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی کی دونوں بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) “۔ ( التحریم: ۴ ) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ”اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی“ ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی ہے، اور یہ ساری تفصیل عطا کی حدیث میں موجود ہے۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَرْبَعَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لِلزُّبَيْرِ وَسَهْمًا لِذِي الْقُرْبَى لِصَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أُمِّ الزُّبَيْرِ وَسَهْمَيْنِ لِلْفَرَسِ .
It was narrated from Yahya bin 'Abbad bin 'Abdullah bin Az-Zubair, from his grandfather, that he used to say:"In the year of Khaibar, the Messenger of Allah allocated four shares to Az-Zubair bin Al-'Awwam: A share of Az-Zubair, a share for the relatives of Safiyyah bint 'Abdul-Muttalib, the mother of Az-Zubair, and two shares for the horse
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ ۔ ( فتح ) خیبر کے سال زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت میں ) چار حصے لگائے۔ ایک حصہ ان کا اپنا اور ایک حصہ قرابت داری کا لحاظ کر کے کیونکہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی ماں تھیں اور دو حصے گھوڑے کے۔
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ اسْمُهُ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ".
It was narrated that 'Amr bin Kharijah said:"The Messenger of Allah said: 'Allah, Mighty is His Name, has given every person who has rights his due, and there is no bequest to an heir
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے، اور کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " .
Abu Isma'il said:"Yahya narrated to us that Abu Salamah narrated to him, from Jabir bin 'Abdullah, from the Prophet of Allah who said: 'A lifelong gift belongs to the one to whom it was given
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اسی کا ہے جس کو دیا گیا“۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَإِنْ شَاءَ مَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حَنِثٍ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet said:"Whoever swears an oath and says: 'If Allah wills', then if he wishes he may go ahead, and if he wishes he may not, without having broken his oath
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قسم کھائے اور ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) کہے تو اگر چاہے تو وہ قسم پوری کرے اور اگر چاہے تو پوری نہ کرے، وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا ۱؎ ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ .
It was narrated that 'Aishah said:"The head of the Messenger of Allah (ﷺ) would rest in the lap of one of us when she was menstruating, and he would recite Qur'an
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر ہم ( بیویوں ) میں سے کسی کی گود میں ہوتا، اور وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن پڑھتے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، قَالَ قَالَ جُنْدَبٌ حَدَّثَنِي فُلاَنٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي فَيَقُولُ قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلاَنٍ " . قَالَ جُنْدَبٌ فَاتَّقِهَا .
It was narrated that Abu 'Imran Al-Jawni said:"Jundab said: 'So and so told me that the Messenger of Allah [SAW] said: The slain will bring his killer on the Day of Resurrection and will say: Ask him why he killed me. He will say: I killed him defending the kingdom of so and so.'" Jundab said: "So be careful
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نِسْوَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ نُبَايِعُهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ لاَ نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ نَسْرِقَ وَلاَ نَزْنِيَ وَلاَ نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلاَ نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ . قَالَ " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ " . قَالَتْ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا هَلُمَّ نُبَايِعْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لاَ أُصَافِحُ النِّسَاءَ إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لاِمْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ أَوْ مِثْلِ قَوْلِي لاِمْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ " .
It was narrated that Umaimah bint Ruqaiqah said:"I came to the Prophet with some other Ansari women to give our pledge. We said: 'O Messenger of Allah, we give you our pledge that we will not associate anything with Allah, we will not steal, we will not have unlawful sexual relations, we will not utter slander, fabricating from between our hands and feet, and we will not disobey you in goodness.' He said: 'As much as you can and are able.' We said: 'Allah and His Messenger are more merciful toward us. Com, let us give you our pledge, O Messenger of Allah! The Messenger of Allah said: 'I do not shake hands with women. Rather my word to a hundred women is like my word to one woman
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ وَمَيَاثِرِ النُّمُورِ .
It was narrated that Al-Miqdam bin Ma di Karib said:"The Messenger of Allah forbade silk, gold and saddlecloths (Miyathir) made of leopard skin
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتِ اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَدَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ أَوِ الْحَائِطِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ وَسَائِرِ جَسَدِهِ .
It was narrated that Maimunah, the wife of the Prophet (ﷺ), said:"The Prophet (ﷺ) performed Ghusl from Janabah; he washed his private part then rubbed his hand on the ground or the wall, then he performed Wudu' as for prayer, then he poured water over his head and the rest of his body
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت کا غسل کیا، تو آپ نے اپنی شرمگاہ کو دھویا، اور زمین یا دیوار پر اپنا ہاتھ رگڑا، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر اور پورے جسم پر پانی بہایا ۱؎۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ وَالْكَلْبِ إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحَدِيثُ حَجَّاجٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ لَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ .
It was narrated from Jabir that:the Prophet forbade the price of cats and dogs, except hunting. (Da if) Abu Abdur-Rahman (An-Nasa I) said: The Hadith of Hajjaj from Hammad bin Salamah is not authentic:
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَنَشْتَرِكُ فِيهَا .
It was narrated that Jabir said:"We would make Tamattu' when the Prophet was with us, and we would sacrifice a cow on behalf of seven people, sharing it among ourselves." (Sahih)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا أَوْ يَأْخُذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنَ الْبَيْعِ مَا هَوِيَ وَيَتَخَايَرَانِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ " .
It was narrated from Al_Hasan, from Samurah, that the Prophet of Allah said:"Two trades have the choice as long as until they reach a deal that suits both of them and they confirm it three times
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ " .
It was narrated that Samurah said:"The Prophet said: 'Whoever kills his slave, we will kill him, and whoever mutilates his slave, we will mutilate him
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ نَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ صَلاَةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ . قَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هِيَ صَلاَةُ الْعَصْرِ " .
It was narrated that 'Irak bin Malik said:"I heard Nawfal bin Mu'awiyah say: 'There is a prayer which if a person misses it, it is as of he has been robbed of his family and his wealth.'" Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is 'Asr prayer
نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہو جائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عصر کی نماز ہے ۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَهُ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَلَمَّا كَلَّمَهُ تَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " . فَقَالَ لَهُ أُسَامَةُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ إِنَّمَا هَلَكَ النَّاسُ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ " . ثُمَّ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ قَطَعْتُ يَدَهَا " .
It was narrated from 'Aishah that:a woman stole at the time of the Messenger of Allah, during the Conquest, and she was brought to the Messenger of Allah. Usamah bin Zaid spoke to him concerning her. But when he spoke to him, the face of the Messenger of Allah changed color, and the Messenger of Allah said: "Are you interceding concerning one of the Hadd punishment decreed by Allah?" Isa,aj said to him: "O Messenger of Allah ask Allah to forgive me!" When evening came, the Messenger of Allah stood up and praised and glorified Allah, the mighty and sublime, as He deserves, then he said: "The people who came before you were destroyed because whenever a noble person among them stole, they would let him go. But if one who was weak stole, they would carry out the Hadd punishment on him." Then he said: "By the One in whose hand is my soul, if Fatimah bint Muhammad were to steal, I would cut off her hand
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ حُسَيْنٍ وَهُوَ الْمُعَلِّمُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنْ الْخَيْرِ
It was narrated from Anas that :The Messenger of Allah [SAW] said: "By the One in Whose hand is the soul of Muhammad, none of you has believed until he loves for his brother what he loves for himself of goodness
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى، - وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ - عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ تَصْبُغُ فَخَالِفُوهُمْ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet [SAW] said: "The Jews and Christians do not dye their hair, so be different from them
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ حِينَ مَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ فَىْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ جَاءَهُ لِلْعَصْرِ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ . ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ جَاءَهُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فَصَلاَّهَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَاءً ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ الشَّفَقُ جَاءَهُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ . فَقَامَ فَصَلاَّهَا ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ فِي الصُّبْحِ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ . فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَىْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ . فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ حِينَ كَانَ فَىْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ . فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزُلْ عَنْهُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ . فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعِشَاءِ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ . فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَهُ لِلصُّبْحِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ . فَصَلَّى الصُّبْحَ فَقَالَ " مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ كُلُّهُ " .
Jabir bin 'Abdullah said:"Jibril, peace be upon him, came to the Prophet (ﷺ) when the sun had passed its zenith and said: 'Get up, O Muhammad, and pray Zuhr when the sun has passed its zenith.' Then he waited until a man's shadow was equal to his height. Then he came to him for 'Asr and said: 'Get up, O Muhammad, and pray 'Asr.' Then he waited until the sunset, then he came to him and said: 'Get up, O Muhammad, and pray Maghrib.' So he got up and prayed it when the sun had set. Then he waited until the twilight disappeared, then he came to him and said: 'Get up, O Muhammad, and pray 'Isha'.' So he got up and prayed it. Then he came to him when dawn broke and said: 'Get up, O Muhammad, and pray.' So he got up and prayed Subh.' So he got up and prayed Subh. Then he came to him the next day when a man's shadow was equal to his height, and said: 'Get up, O Muhammad, and pray.' So he prayed Zuhr. Then Jibril came to him when a man's shadow was equal to twice his length and said: 'Get up, O Muhammad, and pray.' So he prayed 'Asr. Then he came to him for Maghrib when the sun set, at exactly the same time as the day before, and said: 'Get up, O Muhammad, and pray.' So he prayed Maghrib. Then he came to him for 'Isha' when the first third of the night had passed, and said: 'Get up and pray.' So he prayed 'Isha'. Then he came to him for Subh when it had become very bright, and said: 'Get up and pray.' So he prayed Subh. Then he said: 'The times of prayer one between those two (limits)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل گیا، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور جا کر جس وقت سورج ڈھل جائے ظہر پڑھیں، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب آدمی کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، تو وہ آپ کے پاس عصر کے لیے آئے اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور عصر پڑھیں، پھر وہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا، تو پھر آپ کے پاس آئے اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور مغرب پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر جس وقت سورج اچھی طرح ڈوب گیا مغرب پڑھی، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب شفق ختم ہو گئی تو جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: اٹھیں اور عشاء پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر عشاء کی نماز پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس صبح میں آئے جس وقت فجر روشن ہو گئی، اور کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا فرمائی، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، اور کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز پڑھیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مغرب کے لیے اس وقت آئے جس وقت سورج ڈوب گیا جس وقت پہلے روز آئے تھے، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس عشاء کے لیے آئے جس وقت رات کا پہلا تہائی حصہ ختم ہو گیا، اور کہا: اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس آئے جس وقت خوب اجالا ہو گیا، اور کہا: اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا کی، پھر انہوں نے کہا: ان دونوں کے بیچ میں پورا وقت ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَشِبْلٍ، قَالُوا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلاَّ مَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ . فَقَامَ خَصْمُهُ - وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ - فَقَالَ صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ . قَالَ " قُلْ " . قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ - وَكَأَنَّهُ أُخْبِرَ أَنَّ عَلَى ابْنِهِ الرَّجْمَ فَافْتَدَى مِنْهُ - ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالاً مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَمَّا الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ اغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا " . فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا .
It was narrated that Abu Hurairah, Zaid bin Khalid and Shibl said:"We were with the Prophet [SAW] when a man stood up and said: 'I adjure you, by Allah, pass judgment between us according to the Book of Allah.' His opponent, who was wiser than him, stood up and said: 'He is right, pass judgment between us according to the Book of Allah.' He said: 'Speak.' He said: 'My son was a laborer serving this man, and he committed Zina with his wife. I ransomed him with one hundred sheep and a servant.' It is as if he was told that his son was to be stoned to death but he ransomed him from that. 'Then I asked some knowledgeable men and they told me that my son was to be given one hundred lashes and exiled for a year.' The Messenger of Allah [SAW] said to him: 'By the One in Whose hand is my soul, I will pass judgment between you according to the Book of Allah, the Mighty and Sublime. As for the one hundred sheep and the servant, take them back, and your son is to be given one hundred lashes and exiled for a year. O Unais, go tomorrow to the wife of this man and if she confesses, then stone her to death.' She did confess, so he stoned her to death
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ " . خَالَفَهُ الأَوْزَاعِيُّ .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah [SAW] used to say: "Allahumma, inni a'udhu bika minal-faqri wa a'udhu bika min al-qillati wadh-dhillati, wa a'udhu bika an azlima aw uzlam (O Allah, I seek refuge with you from poverty, I seek refuge with You from want and humiliation, and I seek refuge with You from wronging others or being wronged.)" Al-Awza'I contradicted him
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، - يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ وَقَالَ " انْتَبِذُوا الزَّبِيبَ فَرْدًا وَالتَّمْرَ فَرْدًا وَالْبُسْرَ فَرْدًا " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو كَثِيرٍ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ .
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that:The Prophet [SAW] forbade soaking dried dates and raisins, and dried dates and Al-Busr, and he said: "Soak raisins on their own, and dried dates on their own, and Al-Busr on their own
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةِ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ .
It was narrated from Sa'eed bin Jubair that he prayed Maghrib and 'Isha' in Jam' (Muzdalifah) with one Iqamah, then he narrated that Ibn 'Umar had done that, and Ibn 'Umar narrated that the Prophet (S.A.W) had done that
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک اقامت سے پڑھی، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ( بھی ) ایسے ہی کیا تھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
It was narrated that Sulaiman said:"I heard Ibrahim (narrate) from 'Alqamah and Al-Aswad from 'Abdullah," and he narrated something similar
اس سند سے علقمہ اور اسود نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث ذکر کی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ رَأَيْتُ جَرِيرًا بَالَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ مِثْلَ هَذَا .
It was narrated that Hammam said:"I saw Jarir urinate, then he called for water and performed wudhu, and wiped over his Khuffs, then he stood up and prayed. He was asked about that and he said: 'I saw the Prophet(ﷺ) do exactly like this
ہمام کہتے ہیں کہ میں نے جریر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے پیشاب کیا پھر پانی منگایا، اور وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر وہ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی، تو اس کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَقُمْنَا فَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلاَّهُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَانْصَرَفَ فَقَالَ لَنَا " مَكَانَكُمْ " . فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا قَدِ اغْتَسَلَ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً فَكَبَّرَ وَصَلَّى .
Abu Salamah bin 'Abdur Rahman narrated that he heard Abu Hurairah say:"The Iqamah for prayer was said, and we stood up and the rows were straightened, before the Messenger of Allah (ﷺ) came out to us. Then the Messenger of Allah (ﷺ) came to us and stood in the place where he prayed, before he said the Takbir he paused and said to us: 'Stay where you are.' So we stayed there, waiting for him, until he came out to us; he had performed Ghusl and his head was dripping with water. Then he said the Takbir and prayed
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو ہم کھڑے ہوئے، اور صفیں اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلیں درست کر لی گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے یہاں تک کہ جب آپ اپنی نماز پڑھانے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہو گئے تو اس سے پہلے کہ کے آپ تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہیں ہماری طرف پلٹے، اور فرمایا: تم لوگ اپنی جگہوں پہ رہو ، تو ہم برابر کھڑے آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ہماری طرف آئے، آپ غسل کئے ہوئے تھے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، تو آپ نے تکبیر ( تحریمہ ) کہی، اور صلاۃ پڑھائی۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو نُعَامَةَ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ إِذَا سَمِعَ أَحَدَنَا، يَقْرَأُ { بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ } يَقُولُ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَخَلْفَ عُمَرَ رضى الله عنهما فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ .
Ibn Abdullah bin Mughaffal said:"If Abdullah bin Mughaffal heard any one of us recite: 'In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful', he would say: 'I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) and behind Abu Bakr and behind Umar-may Allah be pleased with them both- and I did not hear any of them recite: 'In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
عبداللہ بن مغفل کے بیٹے کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ جب ہم میں سے کسی سے «بسم اللہ الرحمن الرحيم» پڑھتے ہوئے سنتے تو کہتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، اور عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی «بسم اللہ الرحمن الرحيم» پڑھتے نہیں سنا ۱؎۔