أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ مُطَرِّفًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " صِيَامٌ حَسَنٌ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ " .
Uthman bin Abi Al-As said:"I heard the Messenger of Allah say: 'It is a good fast to fast three days of each month
عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر مہینے کے تین دن کے روزہ بہترین روزہ ہیں“۔
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ ثُمَّ مَضَى عَلَى يَمِينِهِ فَرَمَلَ ثَلاَثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَى الْمَقَامَ فَقَالَ " { وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى } " . فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَالْمَقَامُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا .
It was narrated that Jabir said:"When the Messenger of Allah came to Makkah he entered the Masjid and touched the Stone, then he moved to his right and walked rapidly for three (rounds) and then walked (at a regular pace) for four. Then he came to the Maqam and said: 'And take you (people) the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer and prayed two Rakahs with the Maqam between him and the House. Then he came to the Hosue after praying those two Rakahs and touched the Stone, then he went out to As-Safa." (Sahih) Chpater 150. In How Many Rounds Should Be Quick?
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو مسجد الحرام میں گئے، اور حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر اس کے داہنے جانب ( باب کعبہ کی طرف ) چلے، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار پھیروں میں معمول کی چال چلے، پھر مقام ابراہیم پر آئے اور آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی پھر دو رکعت نماز پڑھی، اور مقام ابراہیم آپ کے اور کعبہ کے بیچ میں تھا۔ پھر دونوں رکعت پڑھ کر بیت اللہ کے پاس آئے، اور حجر اسود کا استلام کیا، پھر آپ صفا کی طرف نکل گئے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً مُعْتَزِلاً لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ " يَا فُلاَنُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلاَ مَاءَ . قَالَ " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ " .
It was narrated that Abu Raja' said:"I heard 'Imran bin Husain (say) that the Prophet (ﷺ) saw a man who was by himself and did not pray with the people. He said: 'O So and so, what kept you from praying with the people?' He said: 'O Messenger of Allah, I have become Junub and there is no water.' He said: 'You should use earth for that will suffice you
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو الگ تھلگ بیٹھا دیکھا، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے اور پانی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( پانی نہ ملنے پر ) مٹی کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تمہارے لیے کافی ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ الَّذِينَ يَصْنَعُونَهَا يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that:The Prophet [SAW] said: "The makers of these images will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them: 'Breathe life into that which you have created