أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"When the Prophet (ﷺ) raised his head from bowing, he said: 'Allahumma Rabbana wa lakal-hamd (O Allah, our Lord and to You be the praise)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «اللہم ربنا ولك الحمد» کہتے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet (ﷺ) said: "The tasbih is for men and clapping is for women
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ خَرَجَ الإِمَامُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " . قَالَ شُعْبَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ .
It was narrated that 'Amr bin Dinar said:"I heard Jabir bin 'Abdullah say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If any one of you comes and the Imam has appeared, let him pray two Rak'ahs. Shu'bah (one of the narrators) said: "On Friday
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ( مسجد ) آئے اور امام ( خطبہ کے لیے ) نکل چکا ہو ۱؎ تو چاہیئے کہ وہ دو رکعت پڑھ لے ۔ شعبہ کی روایت میں ہے: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا مُسْتَعْجِلاً إِلَى الْمَسْجِدِ وَقَدِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى حَتَّى انْجَلَتْ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَقُولُونَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْخَسِفَانِ إِلاَّ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الأَرْضِ وَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا خَلِيقَتَانِ مِنْ خَلْقِهِ يُحْدِثُ اللَّهُ فِي خَلْقِهِ مَا يَشَاءُ فَأَيُّهُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ اللَّهُ أَمْرًا " .
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that :The Prophet (ﷺ) came rushing out to the masjid one day when the sun eclipsed, and he prayed until the eclipse ended, then he said: "The people of Jahilliyyah used to say that eclipses of the sun and the moon only happened when some great man on earth died. But eclipses of the sun and the moon do not happen for the death or birth of anyone. Rather they are two of the creations of Allah (SWT) and Allah (SWT) causes to happen in His creation what He wills. Whichever of them becomes eclipsed, pray until it is over or Allah (SWT) causes something to happen
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی جلدی میں گھر سے مسجد کی طرف نکلے، سورج گرہن لگا تھا، آپ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: زمانہ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن زمین والوں میں بڑے لوگوں میں سے کسی بڑے آدمی کے مر جانے کی وجہ سے لگتا ہے۔ حالانکہ سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے پر، بلکہ یہ دونوں اللہ کی مخلوق میں سے دو مخلوق ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں جو نیا واقعہ چاہتا ہے رونما کرتا ہے، تو ان میں سے کوئی ( بھی ) گہنائے تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہو جائے، یا اللہ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا .
It was narrated from Ibn 'Abbas that:The Prophet (ﷺ) went out on the day of 'Eid and prayed two rak'ahs, and he did not pray before or after them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، نہ تو ان سے پہلے کوئی نماز پڑھی، اور نہ ہی ان کے بعد۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَنْ صَلاَتِهِ فَقَالَتْ مَا لَكُمْ وَصَلاَتَهُ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ . ثُمَّ نَعَتَتْ لَهُ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا .
It was narrated from Ya'la bin Mamlak that he asked Umm Salamah, the wife of the Prophet (ﷺ) about the recitation and prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). She said:"What do you want to know about his prayer (I.e., you can never match it)? He used to pray, then sleep for as long as he had prayed, then he would pray as long as he had slept, then he would sleep as long as he had prayed, until dawn came." Then she described to him his recitation, and she described a clear recitation in which every letter was distinct
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اور آپ کی نماز کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے کہا: تمہیں آپ کی نماز سے کیا سروکار؟ ۱؎ آپ نماز پڑھتے تھے، پھر جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر آپ سوتے، پھر جتنی دیر تک سوئے تھے اسی کے بقدر آپ اٹھ کر نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر تک نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر آپ سوتے یہاں تک کہ آپ صبح کرتے، پھر انہوں نے ان سے آپ کی قرآت کی کیفیت بیان کی، تو وہ ایک ایک حرف واضح کر کے بیان کر رہی تھیں۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ ذُكِرَ عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ فَقَالَ عِمْرَانُ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that 'Abdullah bin Subaih said:"I heard Muhammad bin Sirin say: It was mentioned in the presence of 'Imran bin Husain that the deceased is punished due to the weeping of the living.' 'Imran said: "The Messenger of Allah said it
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس ذکر کیا گیا کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ " لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah mentioned Ramadan and said:"Do not fast until you see the crescent, and do not stop fasting until you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then work it out
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: ”تم روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو، اور روزہ رکھنا بند کرو یہاں تک کہ ( چاند ) دیکھ لو، ( اور ) اگر فضا ابر آلود ہو تو اس کا حساب لگا لو“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلاَلٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كِدْتُ أُقْتَلُ بَعْدَكَ فِي عَنَاقٍ أَوْ شَاةٍ مِنَ الصَّدَقَةِ . فَقَالَ " لَوْلاَ أَنَّهَا تُعْطَى فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ مَا أَخَذْتُهَا " .
It was narrated that 'Abdullah bin Hilal Ath-Thaqafi said:"A man came to the Prophet and said: 'I feared that I might be killed after you are gone for the sake of a goat or sheep of the Sadaqah.' He said: 'Were it not that it will be given to the poor Muhajirin I would not have taken it."' (Daif)
عبداللہ بن ہلال ثقفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: ( لوگ اتنے جھگڑالو اور نادہند ہو گئے ہیں کہ ) قریب ہے کہ میں آپ کے بعد زکاۃ کی بکری کے ایک بچے یا ایک بکری کے لیے قتل کر دیا جاؤں گا، تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ فقراء مہاجرین کو نہ دی جاتی ہوتی تو اسے میں نہ لیتا“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لاَ نُرَى إِلاَّ الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَحِلَّ .
Aishah said:"We went out with the Messenger of Allah when there were five days left of Dhul-Qa'dah, with no intention other than to perform Hajj. When we were close to Makkah, the Messenger of Allah commanded those who did not have a Hadi (sacrificial animal) with them to exit Ihram after circumambulating the House
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ذی قعدہ کی پانچ تاریخیں رہ گئی تھیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ سے ) سے نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن کے پاس ہدی ( قربانی کا جانور ) نہیں تھا حکم دیا کہ وہ طواف کر چکیں تو احرام کھول دیں۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ لَحِقَنِي عَبَايَةُ بْنُ رَافِعٍ وَأَنَا مَاشٍ، إِلَى الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَبْشِرْ فَإِنَّ خُطَاكَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ حَرَامٌ عَلَى النَّارِ " .
Yazid bin Abi Mariam said:"Abayah bin Rafi' met me when I was walking to Friday prayers, and he said: 'Rejoice, for these steps you are taking are in the cause of Allah. I heard Abu 'Abs say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Anyone whose feet become dusty in the cause of Allah, he will be forbidden to the Fire
یزید بن ابی مریم کہتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز کے لیے جا رہا تھا کہ ( راستے میں ) مجھے عبایہ بن رافع ملے، کہا: خوش ہو جاؤ! آپ کے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں ( کیونکہ ) میں نے ابوعبس بن جبر انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دونوں قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہو جائیں تو وہ آگ یعنی جہنم کے لیے حرام ہے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ قَالَتْ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَدَحٌ مِنْ عَيْدَانٍ يَبُولُ فِيهِ وَيَضَعُهُ تَحْتَ السَّرِيرِ .
It was narrated that Umaimah bint Ruqaiqah said:"The Prophet (ﷺ) had a vessel made from a date tree in which he would urinate and place it under the bed
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا، جس میں آپ پیشاب کرتے اور اسے تخت کے نیچے رکھ لیتے تھے۔
Narrated by Ma'qil bin Yasar
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَمَنْصِبٍ إِلاَّ أَنَّهَا لاَ تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا فَنَهَاهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَنَهَاهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَنَهَاهُ فَقَالَ " تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ الْوَدُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ " .
Narrated Ma'qil bin Yasar:It was narrated that Ma'qil bin Yasar said: "A man came to the Messenger of Allah and said: 'I have found a woman who is from a good family and of good status, but she does not bear children, should I marry her?' He told him not to. Then he came to him a second time and he told him not to (marry her). Then he came to him a third time and he told him not to (marry her), then he said: 'Marry the one who is fertile and loving, for I will boast of your great numbers
معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ مجھے ایک عورت ملی ہے جو حسب اور مرتبہ والی ہے لیکن اس سے بچے نہیں ہوتے ۱؎، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ نے اسے ( اس سے شادی کرنے سے ) منع فرما دیا۔ پھر دوبارہ آپ کے پاس پوچھنے آیا تو آپ نے پھر اسے روکا۔ پھر تیسری مرتبہ پوچھنے آیا، پھر بھی آپ نے منع کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”زیادہ بچے جننے والی، اور زیادہ محبت کرنے والی عورت سے شادی کرو ۲؎ کیونکہ میں تمہارے ذریعہ کثرت تعداد میں ( دیگر اقوام پر ) غالب آنا چاہتا ہوں ۳؎“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلَىَّ حَرَامًا . قَالَ كَذَبْتَ لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَةِ عِتْقُ رَقَبَةٍ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"A man came to him and said: 'I have made my wife forbidden to myself.' He said: 'You are lying, she is not forbidden to you.' Then he recited this Verse: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' (And he said): 'You have to offer the severest form of expiation: Freeing a slave
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، تو انہوں نے اس سے کہا: تم غلط کہتے ہو وہ تم پر حرام نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ( اور کہا ) تم پر سخت ترین کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَى شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَابَقَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْرَابِيٌّ فَسَبَقَهُ فَكَأَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ " حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يَرْفَعَ شَىْءٌ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا إِلاَّ وَضَعَهُ اللَّهُ " .
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah raced with a Bedouin and (the latter) won. It was as if the Companions of the Messenger of Allah were upset by this, so he said: 'It is a right upon Allah that there is nothing that raises itself in this world except that He lowers it
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اونٹنی کی ) دوڑ کا مقابلہ کیا تو وہ آگے نکل گیا، اس سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملال ہوا اور آپ سے ان کے اس چیز ( رنج و ملال ) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اپنے آپ کو دنیا میں بہت بڑا سمجھنے لگے اللہ کا حق اور اس کی ایک طرح کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے نیچا کر دے تاکہ اس کا غرور ٹوٹ جائے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنَّ ابْنَ غَنْمٍ، ذَكَرَ أَنَّ ابْنَ خَارِجَةَ، ذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَإِنَّهَا لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَإِنَّ لُعَابَهَا لَيَسِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي خُطْبَتِهِ " إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَسَّمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ قِسْمَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ فَلاَ تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ ".
It was narrated from Shahr bin Hawshab that Ibn Ghanm mentioned that Ibn Kharijah told him that he saw the Messenger of Allah addressing the people from atop his mount, which was chewing its cud and its saliva was dripping down. The Messenger of Allah said in his Khutbah:"Allah has given each person a share of the inheritance, and it is not permissible to give bequests to an heir
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ نے ذکر کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خطبہ میں موجود تھے جو آپ اپنی سواری پر بیٹھ کر دے رہے تھے، سواری جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب بہہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میراث سے ہر انسان کا حصہ تقسیم فرما دیا ہے تو کسی وارث کے لیے وصیت کرنا درست اور جائز نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " .
Hisham said:"Yahya bin Abi Kathir narrated to us, he said: 'Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman narrated to me, he said: "I heard Jabir say: 'The Messenger of Allah said: "A lifelong gift belongs to the one to whom it was given
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اسی کا ہے جس کو دیا گیا“۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ نَذْرَ وَلاَ يَمِينَ فِيمَا لاَ تَمْلِكُ وَلاَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلاَ قَطِيعَةِ رَحِمٍ " .
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah said:"There is no vow and no oath concerning that which one does not possess, nor to commit sin, nor to sever the ties of kinship
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے ۱؎
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَشْرَبُ مِنَ الْقَدَحِ وَأَنَا حَائِضٌ، فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ فَيَشْرَبُ مِنْهُ وَأَتَعَرَّقُ مِنَ الْعَرْقِ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ .
It was narrated that 'Aishah said:"I would drink when I was menstruating, then I would hand it to the Prophet (ﷺ), and he would put his mouth where mine had been and drink. And I would nibble at a bone on which some bits of meat were left when I was menstruating, then I would give it to the Prophet (ﷺ) and he would put his mouth where my mouth had been
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں پیالہ سے پانی پیتی اور میں حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ رکھتے اور اس سے پیتے، اور میں ہڈی سے اپنے دانت سے گوشت نوچتی اور حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی، تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھتے۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَجِيءُ الرَّجُلُ آخِذًا بِيَدِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ هَذَا قَتَلَنِي . فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ لِمَ قَتَلْتَهُ فَيَقُولُ قَتَلْتُهُ لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لَكَ . فَيَقُولُ فَإِنَّهَا لِي . وَيَجِيءُ الرَّجُلُ آخِذًا بِيَدِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ إِنَّ هَذَا قَتَلَنِي . فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ لِمَ قَتَلْتَهُ فَيَقُولُ لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لِفُلاَنٍ فَيَقُولُ إِنَّهَا لَيْسَتْ لِفُلاَنٍ فَيَبُوءُ بِإِثْمِهِ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Mas'ud that:The Prophet [SAW] said: "A man will come, holding another man's hand, and will say: 'O Lord, this man killed me.' Allah will say to him: 'Why did you kill him?' He will say: 'I killed him so that the glory would be to you.' He will say: 'It is to Me.' Then (another) man will come holding another man's hand, and will say: 'This man killed me.' Allah will say to him: 'Why did you kill him?' He will say: 'So that the glory would be to so and so.' He will say: 'It is not to so and so,' and the burden of sin will be upon him
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْعَةَ عَلَى أَنْ لاَ نَنُوحَ .
It was narrated that Umm 'Atiyyah said:"The Messenger of Allah accepted our pledge that we would not wail (for the dead)
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ .
It was narrated from Abu Al-Malih, from his father, that:the Prophet forbade (the use of) the hides of Predators. (Hassan)
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهُورِ قَالَ " خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا " . قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا قَالَ " تَوَضَّئِي بِهَا " . قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا قَالَتْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبَّحَ وَأَعْرَضَ عَنْهَا فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ فَأَخَذْتُهَا وَجَبَذْتُهَا إِلَىَّ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated from 'Aishah:"A woman asked the Prophet (ﷺ): 'O Messenger of Allah, how should I perform Ghusl when I become pure?' He said: 'Take a piece of cotton wool scented with musk and clean yourself with it.' She said: 'How should I clean myself with it?' He said: 'Clean yourself with it.' She said: "How should I clean myself with it?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Subhan Allah!' and turned away from her." 'Aishah understood what the Messenger of Allah (ﷺ) meant, and said: "So I pulled her toward me and told her what the Messenger of Allah (ﷺ) meant
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں طہارت کے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مشک کا ایک پھاہا لو، اور اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے کہا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے ( پھر ) عرض کیا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان اللہ کہا، اور اس سے اپنا رخ مبارک پھیر لیا، عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو سمجھ گئیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتانا چاہ رہے تھے، آپ کہتی ہیں: تو میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہ رہے تھے اسے بتایا ۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " شَرُّ الْكَسْبِ مَهْرُ الْبَغِيِّ وَثَمَنُ الْكَلْبِ وَكَسْبُ الْحَجَّامِ " .
It was narrated that Waqi bin Khadij said:"The Messenger of Allah said: 'The worst of earnings arte the gift of a female fornicator, the price of a dog and the earnings of a cupper
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ، - يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ - عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ النَّحْرُ فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَعِيرِ عَنْ عَشْرَةٍ وَالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"We were with the Mesenger of Allah on a journey, when the Day of Sacrifice came, so we shared a camel among ten men, and a cow among seven
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ " .
It was narrated from Sufyan, from 'Abdullah bin Dinar, from Ibn 'Umar, from the Prophet who said:"Two traders have the choice as long as they have not separated, or, they have chosen to conclude the transaction
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ " .
It was narrated from Samurah that the Prophet said:"Whoever kills his slave, we will kill him, and whoever mutilates his slave, we will mutilate him
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، زُغْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ نَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مِنَ الصَّلاَةِ صَلاَةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " هِيَ صَلاَةُ الْعَصْرِ " . خَالَفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ .
It was narrated from 'Irak bin Malik that he heard that Nawfal bin Mu'awiyah said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Among the prayers is a prayer which, if a person misses it, it is as if he has robbed of his family and his wealth." Ibn 'Umar said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'It is 'Asr prayer.'" Muhammad bin Ishaq contradicted him. [1] [1] That is, Muhammad bin Ishaq narrated it from Yazid bin Abi Habib with the following chain and wording, which differs with this narration, reported by Al-Laith from Yazid
نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہو جائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ عصر کی نماز ہے ۔ محمد بن اسحاق نے ( آنے والی روایت میں ) لیث کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا، أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا قَالُوا مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلاَّ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ سَرَقَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " .
It was narrated from 'Aishah the Quraish were worried about the case of the Makhzumi woman who stole, and they said:"Who will speak concerning her?" They said: "Who would dare to do that except Usamah bin Zaid, the beloved of the Messenger of Allah?" said: "Those who came before you were destroyed because whenever a noble person among them stole they would let him go. But if a person who was weak stole, they would carry out the Hadd punishment. By Allah, if Fatimah, the daughter of Muhammad, were to steal, I would ct off her hand
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَأَنْبَأَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
It was narrated that Qatadah said:"I heard Anas say: 'The Messenger of Allah [SAW] said (Humaid bin Mas'dah said in his Hadith: 'The Prophet of Allah [SAW] said): None of you has believed until he loves for his brother what he loves for himself
أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ تَصْبُغُ فَخَالِفُوا عَلَيْهِمْ فَاصْبُغُوا " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'The Jews and the Christians do not dye their hair, so be different from them and dye your hair
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ حَدَّثَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَرْزَةَ فَسَأَلَهُ أَبِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ قَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ حِينَ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ .
Sayyar bin Salamah said:"I entered upon Abu Barzah, and my fatehr asked him: 'How did the Messenger of Allah (ﷺ) pray the prescribed prayers?' He said: 'He used to pray Zuhr, which you call Al-Uula (the first) when the sun passed its zenith; he used to pray 'Asr when one of us could go back to his hoome in the farthest part of Al-Madinah while the sun was still bright.' I forgot what he said about Maghrib. 'And he used to like to delay 'Isha', which you call Al-'Atamah, and he did not like to sleep before it nor talk after it. And he used to finish the Al-Ghadah (Fajr) prayer when a man could recognize his neighbor, and he used to recite (in it) between sixty and one hundred verses
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میرے والد نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے ( یعنی کب ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا، اور عصر پڑھتے جب ہم میں سے مدینہ کے آخری کونے پر رہنے والا آدمی اپنے گھر لوٹ کر آتا، تو سورج تیز اور بلند ہوتا، مغرب کے سلسلہ میں جو انہوں نے کہا میں اسے بھول گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کو جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہو مؤخر کرنا پسند کرتے تھے، اور اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد گفتگو کرنا ناپسند فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، اور آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَحَدُهُمَا اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ . وَقَالَ الآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا . أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَائْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ . قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ " . وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الآخَرِ " فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا " . فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا .
It was narrated from Abu Hurairah and Zaid bin Khalid Al-Juhani that:Two men referred a dispute to the Messenger of Allah [SAW]. One of them said: "O Messenger of Allah, pass judgment between us according to the Book of Allah." The other, who was wiser, said: "Yes, O Messenger of Allah, and allow me to speak." He said: "My son was a laborer serving this man, and he committed Zina with his wife. They told me that my son was to be stoned to death, but I ransomed him with one hundred sheep and a slave girl of mine. Then I asked the people of knowledge, who told me that my son was to be given one hundred lashes and exiled for a year, and that his (the man's) wife was to be stoned to death." The Messenger of Allah [SAW] said: "By the One in Whose hand is my soul, I will pass judgment between you according to the Book of Allah. As for your sheep and your slave girl, take them back." Then he gave his son one hundred lashes, and exiled him for one year, and he ordered Unais to go to the wife of the other man and if she confessed, to stone her to death. She did confess, so he stoned her to death
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
It was narrated from Anas that:The Prophet of Allah [SAW] said: "Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, wa fitnatil-mahya wal-mamat (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave and the trials of life and death)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُخْلَطَ الْبُسْرُ وَالزَّبِيبُ وَالْبُسْرُ وَالتَّمْرُ وَقَالَ " انْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ " .
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade mixing Al-Busr and raisins, and Al-Busr and dried dates, and he said: 'Soak each one of them on its own
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا مَعَهُ بِجَمْعٍ فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ قَالَ الصَّلاَةَ . فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ مَا هَذِهِ الصَّلاَةُ قَالَ هَكَذَا صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَكَانِ .
It was narrated that Sa'eed bin Jubair said concerning Ibn 'Umar:"We were with him (Ibn 'Umar) in Jam' (Muzdalifah), and he called the Adhan, then the Iqamah, then he led us in praying Maghrib. Then he said: 'The prayer,' and he led us in praying 'Isha', two Rak'ahs. I said: 'What is this prayer?' He said: 'This is how I prayed with the Messenger of Allah (S.A.W) in this place
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں تھے، تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی، اور ہمیں مغرب پڑھائی، پھر کہا: عشاء بھی پڑھ لی جائے، پھر انہوں نے عشاء دو رکعت پڑھائی، میں نے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ ایسی ہی نماز پڑھی ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ، عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَنَا أَصَلَّى هَؤُلاَءِ قُلْنَا لاَ . قَالَ قُومُوا فَصَلُّوا . فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ فَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ فَجَعَلَ إِذَا رَكَعَ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَجَعَلَهَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَ .
It was narrated that Al-Aswad said:"Alqamah and I entered upon 'Abdullah bin Mas'ud and he said to us: 'Have these people prayed?' We said: 'No.' He said: 'Get up and pray.' So we went to stand behind him, and he put one of us on his right and the other on his left, and he prayed with no Adhan and no Iqamah. When he bowed he interlaced his fingers and placed his hands between his knees, and he said: 'I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing that
اسود کہتے ہیں کہ میں اور علقمہ دونوں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو آپ نے ہم سے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، تو آپ نے کہا: اٹھو نماز پڑھو، ہم چلے تاکہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوں، تو آپ نے ہم میں سے ایک کو اپنی داہنی طرف، اور دوسرے کو اپنی بائیں طرف کر لیا، پھر بغیر کسی اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر لیتے، اور دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں کے بیچ کر لیتے ۱؎، اور ( نماز کے بعد ) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ خِلاَسَ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم أَبُو الْقَاسِمِ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ، طَامِثٌ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَىْءٌ غَسَلَ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ وَصَلَّى فِيهِ ثُمَّ يَعُودُ مَعِي فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَىْءٌ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ لَمْ يَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ .
Khilas bin 'Amr said:"I heard Aisha (ra) say: 'The Messenger of Allah (ﷺ), Abii Al-Qbim, and I were beneath a single blanket, and I was menstruating. If something got on him from me, he would wash whatever had got on him and he did not wash anywhere else, and he prayed in it then came back to me.And if anything got on him from me,he would do exactly the same and he did not wash anywhere else
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اکرم ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جسم سے لگے ایک ہی کپڑے میں سوتے اور میں حائضہ ہوتی، اگر مجھ سے آپ کو کچھ ( خون ) لگ جاتا تو آپ جتنی جگہ میں لگتا اسی کو دھو لیتے اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے، پھر واپس آ کر میرے ساتھ لیٹتے، اگر پھر مجھ سے کچھ ( خون ) لگ جاتا تو آپ پھر ویسے ہی کرتے، اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ أَخْبَرَنِي التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ بَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ، فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ فَجَبَذَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَبْذَةً فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي فَوَاللَّهِ مَا عَقَلْتُ صَلاَتِي فَلَمَّا انْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ يَا فَتَى لاَ يَسُؤْكَ اللَّهُ إِنَّ هَذَا عَهْدٌ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْنَا أَنْ نَلِيَهُ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ هَلَكَ أَهْلُ الْعُقَدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا عَلَيْهِمْ آسَى وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ أَضَلُّوا . قُلْتُ يَا أَبَا يَعْقُوبَ مَا يَعْنِي بِأَهْلِ الْعُقَدِ قَالَ الأُمَرَاءُ .
It was narrated that Qais bin 'Ubad said:"While I was in the Masjid in the first row, a man pulled me from behind and moved me aside, and took my place. By Allah, I could not focus on my prayer, then when he left I saw that it was Ubayy bin Ka'b. He said: '0 boy, may Allah protect you from harm. This is what the Prophet instructed us to do, to stand directly behind him.' Then he (Ubayy) turned to face the Qiblah and said: 'Doomed are Ah1 Al-'Uqd, by the Lord of the Ka'bah! - three times.'Then he said: 'By Allah, I am not sad for them, but I am sad for the people whom they have misled.' I said: '0 Abu Ya'qub, what do you mean by Ah1 Al-'Uqd?' He said: 'The rulers
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں مسجد میں اگلی صف میں تھا کہ اسی دوران مجھے میرے پیچھے سے ایک شخص نے زور سے کھینچا، اور مجھے ہٹا کر میری جگہ خود کھڑا ہو گیا، تو قسم اللہ کی غصہ کے مارے مجھے اپنی نماز کا ہوش نہیں رہا، جب وہ ( سلام پھیر کر ) پلٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا: اے نوجوان! اللہ تجھے رنج و مصیبت سے بچائے! حقیقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا میثاق ( عہد ) ہے کہ ہم ان سے قریب رہیں، پھر وہ قبلہ رخ ہوئے، اور انہوں نے تین بار کہا: رب کعبہ کی قسم! تباہ ہو گئے اہل عقد، پھر انہوں نے کہا: لیکن ہمیں ان پر غم نہیں ہے، بلکہ غم ان پر ہے جو بھٹک گئے ہیں، میں نے پوچھا: اے ابو یعقوب! اہل عقد سے آپ کا کیا مطلب؟ تو انہوں نے کہا: امراء ( حکام ) مراد ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ - رضى الله عنهم - فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَجْهَرُ بِـ { بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ } .
It was narrated that Anas said:"I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, Umar and Uthman, may Allah be pleased with them, and I did not hear any of them say out loud: In the Name of Allah, The Most Gracious, The Most Merciful
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی«بسم اللہ الرحمن الرحيم» زور سے پڑھتے نہیں سنا۔