بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
22
4 hadith
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَوْصَانِي حَبِيبِي صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثَةٍ لاَ أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَبَدًا أَوْصَانِي بِصَلاَةِ الضُّحَى وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَبِصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏.‏
It was narrated that Abu Dharr said:"My beloved Prophet advised me to do three things which I will never give up, if Allah wills. He advised me to pray Duha, to pray Witr before sleeping, and to fast three days of each month
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے میں انہیں ان شاءاللہ کبھی چھوڑ نہیں سکتا: آپ نے مجھے صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھنے کی وصیت کی، اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ ‏.‏
It was narrated that Ibn Umar joined Hajj and Umrah (Qiran) and he performd on Tawaf and said:"This is what I saw the Messenger of Allah doing
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حج و عمرہ کو ایک ساتھ ملایا، اور ( ان دونوں کے لیے ) ایک ہی طواف کیا، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارٍ، قَالَ عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأُولاَتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ فَانْقَطَعَ عِقْدُهَا مِنْ جَزْعِ ظِفَارِ فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا ذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ حَبَسْتِ النَّاسَ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رُخْصَةَ التَّيَمُّمِ بِالصَّعِيدِ قَالَ فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الأَرْضَ ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَنْفُضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الآبَاطِ ‏.‏
It was narrated that 'Ammar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stopped to rest at the end of the night in Uwlat Al-Jaish. His wife 'Aishah was with him and her necklace of Zifar beads [1] broke and fell. The army was detained looking for that necklace of hers until the break of the light of dawn and the people had no water with them. Abu Bakr got angry with her and said: 'You have detained the people and they do not have any water.' Then Allah the Mighty and Sublime revealed the concession allowing Tayammum with clean earth. So the Muslims got up with the Messenger of Allah (ﷺ) and struck with their hands, then they raised their hands and did not strike them together to knock off any dust, then they wiped their faces and arms up to the shoulders, and from the inner side of their of their arms up to the armpits." [1] Black and white Yemeni beads
عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پچھلے پہر اولات الجیش میں اترے، آپ کے ساتھ آپ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، تو ان کا ظفار کے مونگوں والا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو ان کے اس ہار کی تلاش میں لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ فجر روشن ہو گئی، اور لوگوں کے پاس پانی بالکل نہیں تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہوئے، اور کہنے لگے: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کے پاس پانی بالکل نہیں ہے، تو اللہ عزوجل نے مٹی سے تیمم کرنے کی رخصت نازل فرمائی، عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اور ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر انہیں بغیر جھاڑے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور اپنے ہاتھوں کے نیچے ( کے حصہ پر ) بغل تک مل لیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ فِي بَيْتِي ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ فَجَعَلْتُهُ إِلَى سَهْوَةٍ فِي الْبَيْتِ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ أَخِّرِيهِ عَنِّي ‏"‏ ‏.‏ فَنَزَعْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"In my house there was a cloth on which were images, which I put in a niche of the house, and the Messenger of Allah [SAW] used to pray facing it. Then he said: 'O 'Aishah, take it away from me.' So I took it down and made it into pillows