أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ " . قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ " فِي خَمْسَةِ أَيَّامٍ " . وَقَالَ " صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ " . قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ " صُمْ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَوْمَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"The Messenger of Allah said to me: 'Read the Qur'an in a month.' I said: 'I am able to do more than that. ' And I kept asking him until he said: 'In five days.' And he said: 'Fast three days a month.' I said: 'I am able to do more than that.' And 'Observe thhe most beloved of fasting to Allah, the Mighty and Sublime, the fast one day and not the next." (Suahih)
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قرآن ایک مہینہ میں پڑھا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، اور پھر میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”پانچ دن میں پڑھا کرو، اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کا روزہ رکھو، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے“۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْكَعْبَةِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ .
It was narrated that Aishah said:"The Messenger of Allah performed Tawaf around the Kabah during the farewell pilgrimeage on a camel, touching the Corner with his crooked-ended stick." (Sahih) Chpater 141. Tawaf For The One Who Is Performing Hajj Al-Ifrad
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر کعبہ کے گرد طواف کیا، آپ اپنی خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام ( چھونا ) کر رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ ذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَتَى النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ - رضى الله عنه - فَقَالُوا أَلاَ تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ . فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ - رضى الله عنه - وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَمَا مَنَعَنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ . فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ . قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ .
It was narrated that 'Aishah said:"We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on one of his journeys, and when we were in Al-Baida' or Dhat Al-Jaish, a necklace of mine broke and fell. The Messenger of Allah (ﷺ) stayed there looking for it and the people stayed with him. There was no water near them, and they did not have water with them. The people came to Abu Bakr, may Allah be pleased with him, and said: 'Do you see what 'Aishah has done? She has made the Messenger of Allah (ﷺ) and the people stop and they are not near any water and they do not have water with them.' Abu Bakr, may Allah be pleased with him, came while the Messenger of Allah (ﷺ) was resting his head on my thigh and had gone to sleep. He said: 'You have detained the Messenger of Allah (ﷺ) and the people, and they are not near any water and they do not have any water with them.'" 'Aishah said: "Abu Bakr rebuked me and said whatever Allah willed he would say. He started poking me on my hip, and the only thing that prevented me from moving was the fact that the Messenger of Allah (ﷺ) was resting on my thigh. The Messenger of Allah (ﷺ) slept until morning when he woke up without any water. Then Allah, the Mighty and Sublime revealed the verse of Tayammum. Usaid bin Hudair said: 'This is not the first time we have been blessed because of you, O family of Abu Bakr!'" She said: "Then we made the camel that I had been riding stand up, and we found the necklace beneath it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، یہاں تک کہ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے، تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تلاش کرنے کے لیے ٹھہر گئے، آپ کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے، نہ وہاں پانی تھا اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی تھا، تو لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے کہنے لگے کہ عائشہ نے جو کیا ہے کیا آپ اسے دیکھ نہیں رہے ہیں؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایک ایسی جگہ ٹھہرا دیا جہاں پانی نہیں ہے، اور نہ ان کے پاس ہی پانی ہے، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے، تو وہ کہنے لگے: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا جہاں پانی نہیں ہے، نہ ہی ان کے پاس پانی ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری سرزنش کی، اور اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کہلوانا چاہا انہوں نے کہا، اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، میں صرف اس وجہ سے نہیں ہلی کہ میری ران پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے یہاں تک کہ بغیر پانی کے صبح ہو گئی، پھر اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے آل ابوبکر! یہ آپ کی پہلی ہی برکت نہیں، پھر ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا، تو ہمیں ہار اسی کے نیچے ملا۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ " . قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ قُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلاَنِيِّ أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّورَةِ يَوْمَ الأَوَّلِ قَالَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ يَقُولُ " إِلاَّ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ " .
It was narrated from Abu Talhah that:The Messenger of Allah [SAW] said: "The angels do not enter any house in which there is an image." Busr said: "Then Zaid fell sick and we went to visit him, and on his door there was a curtain on which there was an image. I said to 'Ubaidullah Al-Khawlani: 'Didn't Zaid tell us about images yesterday?' 'Ubaidullah said: 'Didn't you hear him say: Except for patterns on fabrics?