أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ فَقَامَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ وَرَكَعَ فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا يَعْنِي الإِمْسَاكَ بِالرُّكَبِ .
It was narrated that Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) taught us the prayer. He stood up and said the takbir, and when he wanted to bow, he put his hands together and put his hands between his knees and bowed." News of that reached Sa'd and he said: "My brother has spoken the truth. We used to do that, then we were commanded to do this," meaning to hold the knees
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا، تو جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو اپنے ہاتھوں کو ملا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ کر لیا، اور رکوع کیا، یہ بات سعد رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: میرے بھائی نے سچ کہا، ہم پہلے ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہمیں اس کا یعنی ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم دیا گیا۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاَةَ .
It was narrated from Abu Humaid As-Sa'idi that:When the Prophet (ﷺ) stood up following two prostrations, he would say the takbir and raise his hands until they were level with his shoulders, as he had done at the beginning of the prayer
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دونوں رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، اور رفع یدین کرتے یہاں تک کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے مونڈھوں کے برابر لے جاتے، جیسے وہ نماز شروع کرتے وقت کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ لاَ يَخَافُ إِلاَّ رَبَّ الْعَالَمِينَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that:The Messenger of Allah (ﷺ) set out from Makkah to Al-Madinah, fearing nothing but the Lord of the worlds, and praying two rak'ahs
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کے لیے نکلے، آپ صرف رب العالمین سے ہی ڈر رہے تھے ۱؎ ( اس کے باوجود ) آپ ( راستہ بھر ) دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The sun and moon do not become eclipsed for death or birth of anyone, rather they are two of the signs of Allah (SWT) the Most High, so when you see that then pray
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند گرہن کسی کے مرنے اور کسی کے پیدا ہونے سے نہیں لگتا ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَرْسَلَنِي فُلاَنٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الاِسْتِسْقَاءِ فَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلاً فَلَمْ يَخْطُبْ نَحْوَ خُطْبَتِكُمْ هَذِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
It was narrated from Hisham bin Ishaq bin Abdullah bin Kinanah that :His father said: "So and so sent me to ask him how the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for rain (Istisqa')." He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) went out beseeching and humble, (dressed) in a state of humility. He did not give a Khutbah like this Khutbah of yours, and he prayed two rak'ahs
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ فلاں نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( استسقاء کی نماز کے لیے ) عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے میں نکلے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔
Narrated by from Zaid bin Thabit
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ صَلاَةِ حُذَيْفَةَ .
Narrated from Zaid bin Thabit:A prayer like that of Hudhaifah was narrated from Zaid bin Thabit from the Prophet (ﷺ)
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کی نماز کے مثل روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ لاَ تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ قَالَتْ بِأَبَا . فَقُلْتُ أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَتْ نَعَمْ بِأَبَا قَالَ " لِيَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ وَيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى " .
It was narrated that Hafsah said:"Umm 'Atiyyah would never mention the Messenger of Allah (ﷺ) without saying: 'May my father be ransomed for him.' I said: 'Did you hear the Messenger of Allah (ﷺ) say such-and-such?' And she said: 'Yes, may my father be ransomed for him.' He said: Let the adolescent girls, women in seclusion and menstruating women come out and attend the 'Eid and supplications of the Muslims, but let the menstruating women keep away from the prayer place
حفصہ بنت سرین کہتی ہیں کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو کہتی تھیں: میرے باپ آپ پر فدا ہوں تو میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ایسا ذکر کرتے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے فرمایا: چاہیئے کہ دوشیزائیں، پردہ والیاں، اور جو حیض سے ہوں ( عید گاہ کو ) نکلیں اور سب عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، البتہ جو حائضہ ہوں وہ صلاۃ گاہ سے الگ رہیں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْمَغْرِبِ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ فَلَمَّا صَلَّى قَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الصَّلاَةِ فِي الْبُيُوتِ " .
It was narrated from Sa'd bin Ishaq bin Ka'b bin Ujrah, from his father, that:His grandfather said: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Maghrib in the masjid of Banu 'Abdul-Ashhal, and when he finished praying some people stood up and offered Nafl prayers. The Prophet (ﷺ) said: 'You should offer this prayer in your houses
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز قبیلہ بنی عبدالاشہل کی مسجد میں پڑھی، جب آپ پڑھ چکے تو کچھ لوگ کھڑے ہو کر سنت پڑھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( سنت ) نماز کو گھروں میں پڑھنے کی پابندی کرو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَلَكِنْ لِيَقُلِ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
It was narrated form Anas that the Messenger of Allah said:"None of you should wish for death because of some harm that befalls him, rather he should say: 'Allahumma ahini ma kanatil-hayatu khairanli wa tawaffani idha kanatil-wafatu khairanli (O Allah, keep me alive so alive so long as life is good for me, and cause me to die when death is good for me)
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز مصیبت کی وجہ سے جو اسے دنیا میں پہنچتی ہے موت کی تمنا نہ کرے ۱؎، بلکہ یہ کہے: «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو ۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ فَقَالَ لَهُمْ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ - وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ - قُلْنَا لَهُ هَذَا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أَجَبْتُكَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي سَائِلُكَ يَا مُحَمَّدُ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلاَ تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ . قَالَ " سَلْ مَا بَدَا لَكَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . فَقَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ . خَالَفَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ .
It was narrated that Anas bin Malik said:"While we were sitting in the Masjid, a man came on a camel and made it keneel in the Masjid, then he hobbled it and said to them: 'Which of you is Muhammad?' The Messenger of Allah was reclining amid his Companions, and we said to him: This white man who is reclining.' The man said to him: 'O son of 'Abdul-Muttalib.' The Messenger of Allah said: ' I have answered you.' The man said; 'O Muhammad, I am going to ask you questions, and I will be harsh in asking; do not get upset.; The man said: 'I adjure you by your Lord and the Lord of those who cam before you, has Allah sent you to all the people?' The Messenger of Allah said: 'By Allah, yes.' He said; 'I adjure you by Allah, has Allah commanded you to offer five prayers each day and night?' The Messenger of Allah said: 'By Allah, yes.; He said: 'I adjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month each year? The Messenger of Allah said: 'By Allah, Yes.' He said: 'I adjure you by Allah, has Allah commanded you to take this charity from our rich and distribute it among our poor?' The Messenger of Allah said. 'By Allah, yes.' The man said: 'I believe in that which you have brought, and I am the envoy of my people who are coming after me. I am Dimam bin Thalabah, the brother of Banu sad bin Bakr."' Yaqub bin Ibrahim contradicted him
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر آیا، اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، ( اور ) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ تو ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں، جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں، آپ کو پکار کر اس شخص نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمہاری بات سن لی“ ( کہو کیا کہنا چاہتے ہو ) اس نے کہا: محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں، ( اور ذرا ) سختی سے پوچھوں گا تو آپ دل میں کچھ محسوس نہ کریں، آپ نے فرمایا: ”پوچھو جو چاہتے ہو“، تو اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے ( جو گزر چکے ہیں ) ان کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! ( میری بات پر گواہ رہنا ) ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: میں اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن اور رات میں پانچ ( وقت کی ) نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں،“ ( پھر ) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالداروں سے زکاۃ لے کر غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، تب ( اس ) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی ( شریعت ) پر ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہیں قاصد ہوں، اور میں قبیلہ بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ یعقوب بن ابراہیم نے حماد بن عیسیٰ کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ، عَنْ أَخِيهِ، زَيْدِ بْنِ سَلاَّمٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الأَشْعَرِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ شَطْرُ الإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانَ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلأُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ وَالصَّلاَةُ نُورٌ وَالزَّكَاةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ " .
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Ghanm that Abu Malik Al-Ash'ari told him that the Messenger of Allah said:"Isbagh Al-Wudu is half of faith; Alhamdu lillah (praise be to Allah) fills the balance; the Tasbih and the Takbir fill the heavens and Earth; the Salah is light; the Zakah is a sign (of sincerity); patience is an illuminating torch; and the Qur'an is proof, either for you or against you
ابو مالک اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامل وضو کرنا آدھا ایمان ہے، الحمدللہ ترازو کو بھر دیتا ہے۔ اور سبحان اللہ اور اللہ اکبر آسمانوں اور زمین کو ( ثواب ) سے بھر دیتے ہیں۔ اور نماز نور ہے، اور زکاۃ دلیل ہے، اور صبر روشنی ہے، اور قرآن حجت ( دلیل ) ہے تیرے حق میں بھی، اور تیرے خلاف بھی“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ سَالِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَزِينٍ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لاَ يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلاَ الْعُمْرَةَ وَلاَ الظَّعْنَ . قَالَ " فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ " .
It was narrated from Abu Razin that he said:"O Messenger of Allah, my fater is an old man and he cannot perform Hajj or 'Umrah, nor can he travel." He said: "Perform Hajj and 'Umrah on behalf of your father."(sahih)
ابورزین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بوڑھے ہیں، نہ حج کر سکتے ہیں نہ عمرہ اور نہ سفر؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے والد کی طرف سے تم حج و عمرہ کر لو“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَسْتَنُّ وَطَرَفُ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ وَهُوَ يَقُولُ " عَأْعَأْ " .
It was narrated that Abu Musa said:"I came to the Messenger of Allah (ﷺ) when he was using the Siwak, and the end of the Siwak was on his toungue, and he was saying, "'A','a
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا سرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر تھا، اور آپ: «عأعأ» کی آواز نکال رہے تھے ۱؎۔
Narrated by It was narrated that Abu Hurairah said
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ قُلْتُ عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ نَعَمْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا .
Narrated It was narrated that Abu Hurairah said:: “The Messenger of Allah said: ‘I have been sent with concise speech and I have been supported with fear. While I was sleeping, the keys to the treasures of the Earth were brought to me and placed in my hands.’” Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah has gone and you are acquiring them.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جامع کلمات ۱؎ دے کر بھیجا گیا ہے اور میری مدد رعب ۲؎ سے کی گئی ہے۔ اس دوران کہ میں سو رہا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں مجھے دی گئیں، اور میرے ہاتھوں میں تھما دی گئیں“، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس دنیا سے ) رخصت ہو گئے لیکن تم ان خزانوں کو نکال کر خرچ کر رہے ہو ۳؎۔
Narrated by Anas
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ .
Narrated Anas:Anas narrated that the Prophet used to go around to his wives in a single night, and at that time he had nine wives
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ایک ہی رات میں جایا کرتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، - وَكَانَ مِنَ الْعَابِدِينَ - عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي نَوْفٍ، عَنْ سَلِيطٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَرَرْتُ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ فَقُلْتُ أَتَتَوَضَّأُ مِنْهَا وَهِيَ يُطْرَحُ فِيهَا مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّتْنِ فَقَالَ " الْمَاءُ لاَ يُنَجِّسُهُ شَىْءٌ " .
It was narrated from Ibn Abi Sa'eed Al-Khudri that his father said:"I passed by the Prophet (ﷺ) when he was performing Wudu' from the well of Buda'ah. I said: 'Are you performing Wudu' from it when garbage is thrown into it?' He said: 'Water is not made impure by anything
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر رہے تھے، میں نے عرض کیا: کیا آپ اس سے وضو کر رہے ہیں حالانکہ اس میں تو ایسی بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں جو ناگوار ہوتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔
أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ سُئِلَ الزُّهْرِيُّ كَيْفَ الطَّلاَقُ لِلْعِدَّةِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ طَلَّقْتُ امْرَأَتِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ حَائِضٌ . فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَقَالَ " لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً وَتَطْهُرَ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَذَاكَ الطَّلاَقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَرَاجَعْتُهَا وَحَسِبْتُ لَهَا التَّطْلِيقَةَ الَّتِي طَلَّقْتُهَا .
Salim bin 'Abdullah bin 'Umar narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:"I divorced my wife during the lifetime of the Messenger of Allah while she was menstruating. 'Umar mentioned that to the Messenger of Allah, and the Messenger of Allah got angry about that and said: 'Let him take her back, then keep her until she has menstruated again and become pure again. Then if he wants to divorce her when she is pure and before he touches her (has intercourse with her), then that is divorce at the prescribed time as Allah, the Mighty and Sublime, has revealed.'" 'Abdullah bin 'Umar said: "So I took her back, but I still counted the divorce that I had issued to her
زبیدی کہتے ہیں امام زہری سے پوچھا گیا: عدت والی طلاق کس طرح ہوتی ہے؟ ( اشارہ ہے قرآن کریم کی آیت: «فطلقوهن لعدتهن» ( الطلاق: 1 ) کی طرف ) تو انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ بن عمر نے انہیں بتایا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی، اس بات کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غصہ ہوئے اور فرمایا: ”اسے رجوع کر لینا چاہیئے، پھر اسے روکے رکھے رہنا چاہیئے یہاں تک کہ ( پھر ) اسے حیض آئے اور وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر اگر اسے طلاق دے دینا ہی مناسب سمجھے تو طہارت کے ایام میں طلاق دیدے ہاتھ لگانے سے پہلے“۔ عدت والی طلاق کا یہی طریقہ ہے جیسا کہ اللہ عزوجل نے آیت نازل فرمائی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اسے لوٹا لیا اور جو طلاق میں اسے دے چکا تھا اسے بھی شمار کر لیا ( کیونکہ ان کے خیال میں وہ طلاق اگرچہ سنت کے خلاف اور حرام تھی پروہ پڑ گئی تھی ) ۔
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَقْبَلَتِ الْحِيضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي " .
It was narrated from 'Aishah that the Prophet (ﷺ) said:"When the time of menstruation comes, stop praying, and when it goes, perform Ghusl
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب بند ہو جائے تو غسل کر لو ( اور نماز پڑھو ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سَتْرٌ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ فِي الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَ لَهُ حَسَنَاتٌ وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا ذَلِكَ فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ آثَارُهَا " . وَفِي حَدِيثِ الْحَارِثِ " وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ تُسْقَى كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ فَهِيَ لَهُ أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي رِقَابِهَا وَلاَ ظُهُورِهَا فَهِيَ لِذَلِكَ سَتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَنِوَاءً لأَهْلِ الإِسْلاَمِ فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ " . وَسُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحَمِيرِ فَقَالَ " لَمْ يَنْزِلْ عَلَىَّ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ هَذِهِ الآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ { فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ } " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"Horses may bring reward to a man, or they may be a means of protection, or they may be a burden (of sin). As for that which brings reward, it is a man who keeps it for the cause of Allah and ties it with a long rope in a pasture or a garden; whatever it eats or drinks in that pasture or garden will count as good deeds for him. If it breaks its rope and jumps over one or two hills, its footsteps" -and according to the Hadith of Al-Harith, "its dung will count as good deeds for him. If it passes by a river and drinks from it, even though (its owner) did not intend to give it water from that river, that will also bring him reward. If a man keeps a horse in order to earn an independent living and avoid asking others for help, and he does not forget his duty toward Allah with regard to their (the horses') necks and backs, then they will be a means of protection for him. If a man keeps horses out of pride, to show off before others and to fight the Muslims, then that will be a burden (of sin) for him." The Prophet was asked about donkeys and he said: "Nothing has been revealed to me concerning them except this Verse which is comprehensive in meaning: 'So whosoever does good equal to the weight of an atom (or a small ant) shall see it. And whosoever does evil equal to the weight of an atom (or a small ant) shall see it
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ گھوڑے ایسے ہیں جو آدمی کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہیں، اور بعض گھوڑے ایسے ہیں جو آدمی کے لیے ستر و حجاب کا ذریعہ ہیں، اور بعض گھوڑے وہ ہیں جو آدمی پر بوجھ ہوتے ہیں، اب رہا وہ آدمی جس کے لیے گھوڑے اجر و ثواب کا باعث ہوتے ہیں تو وہ ایسا آدمی ہے جس نے گھوڑوں کو اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے باندھ کر پالا اور باغ و چراگاہ میں چرنے کے لیے ان کی رسی لمبی کی، تو وہ اس رسی کی درازی کے سبب چراگاہ اور باغ میں جتنی دور بھی چریں گے اس کے لیے ( اسی اعتبار سے ) نیکیاں لکھی جائیں گی اور اگر وہ اپنی رسی توڑ کر آگے پیچھے دوڑنے لگیں اور ( بقدر ) ایک دو منزل بلندیوں پر چڑھ جائیں تو بھی ان کے ہر قدم ( اور حارث کی روایت کے مطابق ) حتیٰ کہ ان کی لید ( گوبر ) پر بھی اسے اجر و ثواب ملے گا اور اگر وہ کسی نہر پر پہنچ جائیں اور اس نہر سے وہ پانی پی لیں اور مالک کا انہیں پانی پلانے کا پہلے سے کوئی ارادہ بھی نہ رہا ہو تو بھی یہ اس کی نیکیوں میں شمار ہوں گی اور اسے اس کا بھی اجر ملے گا۔ اور ( اب رہا دوسرا ) وہ شخص جو گھوڑے پالے شکر کی نعمت اور دوسرے لوگوں سے مانگنے کی محتاجی سے بے نیازی کے اظہار کے لیے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے ان کی گردنوں اور ان کے پٹھوں کے ذریعہ ( یعنی ان کی زکاۃ دے، اور جب اللہ کی راہ میں ان پر سواری کی ضرورت پیش آئے تو انہیں سواری کے لیے پیش کرے ) تو ایسے شخص کے لیے یہ گھوڑے اس کے لیے ( جہنم کے عذاب اور مار سے بچنے کے لیے ) ڈھال بن جائیں گے۔ اور ( اب رہا تیسرا ) وہ شخص جو فخر، ریا و نمود اور اہل اسلام سے دشمنی کی خاطر گھوڑے باندھے تو یہ گھوڑے اس کے لیے بوجھ ( عذاب و مصیبت ) ہیں“۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سلسلے میں ان کے متعلق مجھ پر کچھ نہیں اترا ہے سوائے اس منفرد جامع آیت کے «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره» ”جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی یا بھلائی کرے گا وہ اسے قیامت کے دن دیکھے گا اور جو شخص ذرہ برابر شر ( برائی ) کرے گا وہ اسے دیکھے گا“ ( الزلزال: ۷، ۸ ) ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ، يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا تَرَكَ إِلاَّ بَغْلَتَهُ الشَّهْبَاءَ وَسِلاَحَهُ وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً .
Yunus bin Abi Ishaq narrated that his father said:"I heard 'Amr bin Al-Harith say: 'I saw the Messenger of Allah and he left nothing behind except his white mule, his weapon and some land which he left as a charity
عمرو بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ( آپ نے اپنے انتقال کے موقع پر ) اپنے «شہباء» خچر، ہتھیار اور اپنی زمین کے علاوہ جسے آپ صدقہ کر گئے تھے کچھ نہ چھوڑ کر گئے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ * حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} قَالَ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَإِنَّمَا مَالُكَ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ ".
It was narrated from Mutarrif, from his father, that the Prophet said:"The mutual rivalry (for piling up of worldly things) diverts you, 'Until you visit the graves (i.e. till you die).' The son of Adam says: 'My wealth, my wealth,' but your wealth is what you eat and consume, or what you wear and it wears out, or what you give in charity and send on ahead (for the Hereafter)
شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ألهاكم التكاثر * حتى زرتم المقابر» ( کثرت و زیادتی ) کی چاہت نے تمہیں غفلت میں ڈال دیا یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے“ آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال کہتا ہے؟ ( لیکن حقیقت میں ) تمہارا مال تو صرف وہ ہے جو تم نے کھا ( پی ) کر ختم کر دیا، یا پہن کر بوسیدہ اور پرانا کر دیا یا صدقہ کر کے اسے آخرت کے لیے آگے بھیج دیا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ جَاءَ بِابْنِهِ النُّعْمَانِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا كَانَ لِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَارْجِعْهُ " .
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that his father Bashir bin Sa'd brought An-Nu'man with him and said:"O Messenger of Allah, I have given this son of mine a slave who belonged to me as a present." The Messenger of Allah said: "Have you given a present to all your children?" He said: "No." He said: "Then take (your present) back
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد بشیر بن سعد اپنے بیٹے نعمان کو لے کر آئے اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک غلام اپنے اس بیٹے کو دے دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی دیا ہے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم اسے واپس لے لو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي طَاوُسٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ يَرْفَعَانِ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُعْطِي عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ " .
It was narrated from Ibn 'Umar and Ibn 'Abbas, who attributed the Hadith to the Prophet:"It is not permissible for a man to give a gift and then take it back except a father taking back what he gave to his son. The likeness of the one who gives a gift then takes it back is that of the dog which eats until it is full, then it vomits, and goes back to its vomit
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے لیے حلال نہیں ہے کہ کسی کو کوئی تحفہ دے پھر اسے واپس لے ۱؎ سوائے باپ کے جسے وہ اپنے بیٹے کو دیتا ہے، اس شخص کی مثال جو کوئی عطیہ دیے کر اسے واپس لے لے اس کتے جیسی ہے جس نے ( خوب ) کھا لیا ہو یہاں تک کہ جب وہ آسودہ ہو جائے تو قے کرے پھر اسے چاٹے“
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ طَاوُسٍ، لَعَلَّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لاَ رُقْبَى فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ .
Zakariyya bin Yahya informed us, he said:"Abdul-Jabbar bin Al-'Ala' narrated to us, he said: 'Sufyan narrated to us from Ibn Abi Najih, from Tawus, and perhaps it is from Ibn 'Abbas, who said: There is no Ruqba, and whoever gives a gift on the basis of Ruqba, it is part of his estate
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رقبیٰ ( مصلحتاً جائز ) نہیں ہے ( لیکن اگر کسی نے کر دیا ہے ) تو جسے رقبیٰ کیا گیا ہے اس کے ورثاء کو میراث میں ملے گا، دینے والے کو واپس نہ ہو گا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ .
It was narrated from Zaid bin Thabit that the Prophet ruled that 'Umra (a gift given for life) belongs to the heir
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ کا فیصلہ وارث کے حق میں کیا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ أَرْسَلَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلَى الْجَنَّةِ فَقَالَ انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لأَهْلِهَا فِيهَا . فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَرَجَعَ فَقَالَ وَعِزَّتِكَ لاَ يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلاَّ دَخَلَهَا . فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ فَقَالَ اذْهَبْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لأَهْلِهَا فِيهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ فَقَالَ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لاَ يَدْخُلَهَا أَحَدٌ . قَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَى النَّارِ وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لأَهْلِهَا فِيهَا . فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَرَجَعَ فَقَالَ وَعِزَّتِكَ لاَ يَدْخُلُهَا أَحَدٌ . فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ فَقَالَ ارْجِعْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا . فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ فَرَجَعَ وَقَالَ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لاَ يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلاَّ دَخَلَهَا " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"When Allah created Paradise and Hell, He sent Jibril, peace be upon him, to Paradise and said: 'Look at it and at what I have prepared for its people in it.' He looked at it, then he came back and said: 'By Your Glory, no one will hear of it but he will enter it.' So He commanded that it be surrounded by hardships and said: 'Go and look at it and at what I have prepared for its people in it.' He looked at it and saw that it had been surrounded with hardships. He (Jibril) said: 'By Your Glory, I fear that no one will enter it.' He (Allah) said: 'Go and look at the Fire and at what I have prepared for its people in it.' So he looked at it and parts of it were piled upon other parts. He came back and said: 'By Your Glory, no one will enter it.' So He commanded that it be surrounded with pleasures and said: 'Go and look at it.' So he looked at it and saw that it was surrounded with pleasures. He came back and said: 'By Your Glory, I fear that no one will be saved from it and all will enter it
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جب جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو جبرائیل کو جنت کے پاس بھیجا اور فرمایا: اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چنانچہ انہوں نے اسے دیکھا اور لوٹ کر آئے تو کہا: قسم ہے تیری عزت اور غلبے کی! ۱؎ جو کوئی بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں داخل ہوئے بغیر نہ رہے گا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے مکروہ ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا گیا ۲؎، پھر کہا: جاؤ اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چنانچہ انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دی گئی ہے، انہوں نے کہا: تیری عزت اور غلبے کی قسم! مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو گا، کہا: جاؤ اور جہنم کو اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے پر چڑھا جا رہا ہے ۳؎، وہ لوٹ کر آئے اور بولے: تیری عزت اور غلبے کی قسم! اس میں کوئی داخل نہ ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو وہ دل کو بھانے والی چیزوں سے گھیر دی گئی۔ ( پھر اللہ تعالیٰ نے ) کہا: واپس جا کر اب اسے دیکھو۔ انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ پسندیدہ چیزوں سے گھیر دی گئی ہے۔ وہ لوٹے اور کہا: تیرے غلبے کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں تو کوئی داخل ہونے سے نہ بچ سکے گا ۴؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمْ يَكُنْ شَىْءٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ النِّسَاءِ مِنَ الْخَيْلِ .
It was narrated that Anas bin Malik said:"Nothing was dearer to the Messenger of Allah after women than horses
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عورتوں کے بعد گھوڑوں سے زیادہ کوئی چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب نہ تھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ سَأَلَ مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمُسْلِمِ وَمَالَهُ فَقَالَ مَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَصَلَّى صَلاَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَهُوَ مُسْلِمٌ لَهُ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ .
Maimun bin Siyah asked Anas bin Malik:"O Abu Hamzah, what makes the blood and wealth of a Muslim forbidden?" He said: "Whoever bears witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that Muhammad is the Messenger of Allah [SAW], faces our Qiblah, prays as we pray, and eats our slaughtered animals, he is a Muslim, and has the same rights and obligations as the Muslims
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يُغْتَسَلَ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade urinating into standing water and then performing Ghusl from Janabah in it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے پھر اس میں جنابت کا غسل کیا جائے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُوسَى - قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، - وَهُوَ الْفَزَارِيُّ - عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ كِتَابًا فِيهِ وَقَسْمُ أَبِيكَ لَكَ الْخُمُسُ كُلُّهُ وَإِنَّمَا سَهْمُ أَبِيكَ كَسَهْمِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَفِيهِ حَقُّ اللَّهِ وَحَقُّ الرَّسُولِ وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَمَا أَكْثَرَ خُصَمَاءَ أَبِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَكَيْفَ يَنْجُو مَنْ كَثُرَتْ خُصَمَاؤُهُ وَإِظْهَارُكَ الْمَعَازِفَ وَالْمِزْمَارَ بِدْعَةٌ فِي الإِسْلاَمِ وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ إِلَيْكَ مَنْ يَجُزُّ جُمَّتَكَ جُمَّةَ السُّوءِ .
It was narrated that Al-Awza'i said:"Umar bin 'Abdul-'Aziz wrote a letter to 'Umar bin Al-Walid in which he said: 'The share that your father gave to you was the entire Khumus,[1] but the share that your father is entitled to is the same as that of any man among the Muslims, on which is due the rights of Allah and His Messenger, and of relatives, orphans, the poor and wayfarers. How many will dispute with your father on the Day of Resurrection! How can he be saved who has so many disputants? And your openly allowing musical instruments and wind instruments is an innovation in Islam. I was thinking of sending someone to you who would cut off your evil long hair
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَادَةَ، قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُولَ - أَوْ نَقُومَ - بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لاَ نَخَافُ لَوْمَةَ لاَئِمٍ .
It was narrated that 'Ubadah said:"We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey both in times of hardship and ease, when we felt energetic and when we felt tired, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, that we would speak the truth or stand firm in the way of truth wherever we may be, and that we would not fear the blame of the blamers
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَحَبِيبٌ، وَيُونُسُ، وَقَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فِي الْغُلاَمِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى " .
It was narrated from Salman bin 'Amir Ad-Dabbi that the Messenger of Allah said:"For a boy there shoud be an 'Aqiqah, so shed blood for him, and remove the harm from him
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُعَاذٍ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَمْلَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ بَيْنَا نَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَةَ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً " . قَالَ مُعَاذٌ كَانَ ابْنُ عَوْنٍ يَعْتِرُ أَبْصَرَتْهُ عَيْنِي فِي رَجَبٍ .
Mikhnaf bin Sulaim said:"While we were standing with the Messenger of Allah at 'Arafat, he said: 'O people, it is upon each family to offer a sacrifice (Udhiyah) and an 'Atirah each year." (One of the narrators) Muadh said: "Ibn 'Awn used to offer slaughter the 'Atirah, and I saw that with my own eyes during Rajab." (Daif)
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أُرْسِلُ الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ فَيَأْخُذُ . فَقَالَ " إِذَا أَرْسَلْتَ الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَأَخَذَ فَكُلْ " . قُلْتُ وَإِنْ قَتَلَ قَالَ " وَإِنْ قَتَلَ " . قُلْتُ أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ . قَالَ " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلاَ تَأْكُلْ " .
It was Narrated from 'Adiyy bin Hatim the he asked the Messenger of Allah :"I release my trained dog and he catches (game)." He said: "If you release the trained dog and you say the name of Allah over him, and he catches (something), then eat." I said: "Even if he kills it?" He said: shoot with the Mirad." He said: "If it hits (the game) with its sharp point, then eat, but if it hits it with its broad side, then do not eat
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ الأَحْلاَفِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ، فَدَخَلَتْ أَيَّامُ الْعَشْرِ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَلاَ أَظْفَارِهِ . فَذَكَرْتُهُ لِعِكْرِمَةَ فَقَالَ أَلاَ يَعْتَزِلُ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ .
It was narrated that Sa'eed bin Al-Musayyab said:"Whoever wants to offer a sacrifice when dhul-Hijjah begins, let him not remove anything from his hair or nails." I (the narrator) mentioned that to 'Ikrimah, and he said: "Should he not also keep away from women and perfume?
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ " .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah said: 'The best (most pure) food that a man eats is that which he has earned himself, and his child (and his child's wealth) is part of his earning
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُتِيتُ بِدَابَّةٍ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ خَطْوُهَا عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهَا فَرَكِبْتُ وَمَعِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسِرْتُ فَقَالَ انْزِلْ فَصَلِّ . فَفَعَلْتُ فَقَالَ أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ صَلَّيْتَ بِطَيْبَةَ وَإِلَيْهَا الْمُهَاجَرُ ثُمَّ قَالَ انْزِلْ فَصَلِّ . فَصَلَّيْتُ فَقَالَ أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ صَلَّيْتَ بِطُورِ سَيْنَاءَ حَيْثُ كَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ قَالَ انْزِلْ فَصَلِّ . فَنَزَلْتُ فَصَلَّيْتُ فَقَالَ أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ صَلَّيْتَ بِبَيْتِ لَحْمٍ حَيْثُ وُلِدَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ . ثُمَّ دَخَلْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَجُمِعَ لِيَ الأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ فَقَدَّمَنِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَمَمْتُهُمْ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَإِذَا فِيهَا آدَمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَإِذَا فِيهَا ابْنَا الْخَالَةِ عِيسَى وَيَحْيَى عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَإِذَا فِيهَا يُوسُفُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَإِذَا فِيهَا هَارُونُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ فَإِذَا فِيهَا إِدْرِيسُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَإِذَا فِيهَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَإِذَا فِيهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي فَوْقَ سَبْعِ سَمَوَاتٍ فَأَتَيْنَا سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى فَغَشِيَتْنِي ضَبَابَةٌ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا فَقِيلَ لِي إِنِّي يَوْمَ خَلَقْتُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فَرَضْتُ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَّتِكَ خَمْسِينَ صَلاَةً فَقُمْ بِهَا أَنْتَ وَأُمَّتُكَ . فَرَجَعْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَلَمْ يَسْأَلْنِي عَنْ شَىْءٍ ثُمَّ أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى فَقَالَ كَمْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ خَمْسِينَ صَلاَةً . قَالَ فَإِنَّكَ لاَ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَقُومَ بِهَا أَنْتَ وَلاَ أُمَّتُكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ . فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي فَخَفَّفَ عَنِّي عَشْرًا ثُمَّ أَتَيْتُ مُوسَى فَأَمَرَنِي بِالرُّجُوعِ فَرَجَعْتُ فَخَفَّفَ عَنِّي عَشْرًا ثُمَّ رُدَّتْ إِلَى خَمْسِ صَلَوَاتٍ . قَالَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّهُ فَرَضَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ صَلاَتَيْنِ فَمَا قَامُوا بِهِمَا . فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَسَأَلْتُهُ التَّخْفِيفَ فَقَالَ إِنِّي يَوْمَ خَلَقْتُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فَرَضْتُ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَّتِكَ خَمْسِينَ صَلاَةً فَخَمْسٌ بِخَمْسِينَ فَقُمْ بِهَا أَنْتَ وَأُمَّتُكَ . فَعَرَفْتُ أَنَّهَا مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى صِرَّى فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ ارْجِعْ فَعَرَفْتُ أَنَّهَا مِنَ اللَّهِ صِرَّى - أَىْ حَتْمٌ - فَلَمْ أَرْجِعْ .
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"I was brought an animal that was larger than a donkey and smaller than a mule, whose stride could reach as far as it could see. I mounted it, and Jibril was with me, and I set off. Then he said: 'Dismount and pray,' so I did that. He said: 'Do you know where you have prayed? You have prayed in Taibah, which will be the place of the emigration.' Then he said: 'Dismount and pray,' so I prayed. He said: 'Do you know where you have prayed? You have prayed in Mount Sinai, where Allah, the Mighty and Sublime, spoke to Musa, peace be upon him.' So I dismounted and prayed, and he said: 'Do you know where you have prayed? You have prayed in Bethlehem, where 'Eisa, peace be upon him, was born.' Then I entered Bait Al-Maqdis (Jerusalem) where the Prophets, peace be upon them, were assembled for me, and Jibril brought me forward to lead them in prayer. Then I was taken up to the first heaven, where I saw Adam, peace be upon him. Then I was taken up to the second heaven where I saw the maternal cousins 'Eisa and Yahya, peace be upon them. Then I was taken up to the third heaven where I saw Yusuf, peace be upon him. Then I was taken up to the fourth heaven where I saw Harun, peace be upon him. Then I was taken up to the fifth heaven where I saw Idris, peace be upon him. Then I was taken up to the sixth heaven where I saw Musa, peace be upon him. Then I was taken up to the seventh heaven where I saw Ibrahim, peace be upon him. Then I was taken up above seven heavens and we came to Sidrah Al-Muntaha and I was covered with fog. I fell down prostrate and it was said to me: '(Indeed) The day I created the heavens and the Earth, I enjoined upon you and your Ummah fifty prayers, so establish them, you and your Ummah.' I came back to Ibrahim and he did not ask me about anything, then I came to Musa and he said: 'How much did your Lord enjoin upon you and your Ummah?' I said: 'Fifty prayers.' He said: 'You will not be able to establish them, neither you nor your Ummah. Go back to your Lord and ask Him to reduce it.' So I went back to my Lord and He reduced it by ten. Then I came to Musa and he told me to go back, so I went back and He reduced it by ten. Then I came to Musa and he told me to go back, so I went back and He reduced it by ten. Then it was reduced it by ten. Then it was reduced to five prayers. He (Musa) said: 'Go back to you Lord and ask Him to reduce it, for two prayers were enjoined upon the Children of Israel but they did not establish them.' So I went back to my Lord and asked Him to reduce it, but He said: 'The day I created the heavens and the Earth, I enjoined fifty prayers upon you and your Ummah. Five is for fifty, so establish them, you and your Ummah.' I knew that this was what Allah, the Mighty and Sublime, had determined so I went back to Musa, peace be upon him, and he said: 'Go back.' But I knew that it was what Allah had determined, so I did not go back
یزید بن ابی مالک کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ایک جانور لایا گیا، اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی تھی، تو میں سوار ہو گیا، اور میرے ہمراہ جبرائیل علیہ السلام تھے، میں چلا، پھر جبرائیل نے کہا: اتر کر نماز پڑھ لیجئیے، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طیبہ میں نماز پڑھی ہے، اور اسی کی طرف ہجرت ہو گی، پھر انہوں نے کہا: اتر کر نماز پڑھئے، تو میں نے نماز پڑھی، انہوں نے کہا: کیا جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طور سینا پر نماز پڑھی ہے، جہاں اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تھا، پھر کہا: اتر کر نماز پڑھئے، میں نے اتر کر نماز پڑھی، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے بیت اللحم میں نماز پڑھی ہے، جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی، پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا، تو وہاں میرے لیے انبیاء علیہم السلام کو اکٹھا کیا گیا، جبرائیل نے مجھے آگے بڑھایا یہاں تک کہ میں نے ان کی امامت کی، پھر مجھے لے کر جبرائیل آسمان دنیا پر چڑھے، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں آدم علیہ السلام موجود ہیں، پھر وہ مجھے لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے، تو دیکھتا ہوں کہ وہاں دونوں خالہ زاد بھائی عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام موجود ہیں، پھر تیسرے آسمان پر چڑھے، تو دیکھتا ہوں کہ وہاں یوسف علیہ السلام موجود ہیں، پھر چوتھے آسمان پر چڑھے تو وہاں ہارون علیہ السلام ملے، پھر پانچویں آسمان پر چڑھے تو وہاں ادریس علیہ السلام موجود تھے، پھر چھٹے آسمان پر چڑھے وہاں موسیٰ علیہ السلام ملے، پھر ساتویں آسمان پر چڑھے وہاں ابراہیم علیہ السلام ملے، پھر ساتویں آسمان کے اوپر چڑھے اور ہم سدرۃ المنتہیٰ تک آئے، وہاں مجھے بدلی نے ڈھانپ لیا، اور میں سجدے میں گر پڑا، تو مجھ سے کہا گیا: جس دن میں نے زمین و آسمان کی تخلیق کی تم پر اور تمہاری امت پر میں نے پچاس نمازیں فرض کیں، تو تم اور تمہاری امت انہیں ادا کرو، پھر میں لوٹ کر ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا، میں پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: تم پر اور تمہاری امت پر کتنی ( نمازیں ) فرض کی گئیں؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں، تو انہوں نے کہا: نہ آپ اسے انجام دے سکیں گے اور نہ ہی آپ کی امت، تو اپنے رب کے پاس واپس جایئے اور اس سے تخفیف کی درخواست کیجئے، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے دس نمازیں تخفیف کر دیں، پھر میں موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھے پھر واپس جانے کا حکم دیا، چنانچہ میں پھر واپس گیا تو اس نے ( پھر ) دس نمازیں تخفیف کر دیں، میں پھر موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس آیا انہوں نے مجھے پھر واپس جانے کا حکم دیا، چنانچہ میں واپس گیا، تو اس نے مجھ سے دس نمازیں تخفیف کر دیں، پھر ( باربار درخواست کرنے سے ) پانچ نمازیں کر دی گئیں، ( اس پر بھی ) موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کہا: اپنے رب کے حضور واپس جایئے اور تخفیف کی گزارش کیجئے، اس لیے کہ بنی اسرائیل پر دو نمازیں فرض کی گئیں تھیں، تو وہ اسے ادا نہیں کر سکے، چنانچہ میں اپنے رب کے حضور واپس آیا، اور میں نے اس سے تخفیف کی گزارش کی، تو اس نے فرمایا: جس دن میں نے زمین و آسمان پیدا کیا، اسی دن میں نے تم پر اور تمہاری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو اب یہ پانچ پچاس کے برابر ہیں، انہیں تم ادا کرو، اور تمہاری امت ( بھی ) ، تو میں نے جان لیا کہ یہ اللہ عزوجل کا قطعی حکم ہے، چنانچہ میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: پھر جایئے، لیکن میں نے جان لیا تھا کہ یہ اللہ کا قطعی یعنی حتمی فیصلہ ہے، چنانچہ میں پھر واپس نہیں گیا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَقَضَى بِهَا بَيْنَ أُنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى يَهُودِ خَيْبَرَ . خَالَفَهُمَا مَعْمَرٌ .
it was narrated from Abu Salamah and Sulaiman bin Yasar, from some of the Companions of the Messenger of Allah, that:Qasamah existed during the Jahiliyyah and the Messenger of Allah approved of it as it had been during the Jahiliyyah, and he ruled accordingly among some of the Ansar concerning a victim whom they claimed the Jews of Khaibar had Killed. (Sahih) Ma'mar contradicted the two of them
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ - عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَذَكَرَ رَابِعَةً فَنَسِيتُهَا فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ خَلَعَ رِبْقَةَ الإِسْلاَمِ مِنْ عُنُقِهِ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"No one who commits Zina is a believer at the moment when he is committing Zina; no one who steals is a believer at the moment when he is stealing; no one who drinks wine is a believer at the moment when he is drinking it." - And he mentioned a fourth but I (the narrator) have forgotten it - "When he does that the yoke of Islam is shed from his neck, but if he repents, Allah accepts his repentance
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ صَلاَةَ الظُّهْرِ .
It was narrated from Az-Zuhri he said:"Anas told me that the Messenger of Allah (ﷺ) went out when the sun had passed its zenith, and led them in Zuhr prayer
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد نکلے اور آپ نے انہیں ظہر پڑھائی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ وَطَعْمَهُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ فِي اللَّهِ وَأَنْ يُبْغِضَ فِي اللَّهِ وَأَنْ تُوقَدَ نَارٌ عَظِيمَةٌ فَيَقَعُ فِيهَا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا " .
It was narrated that Anas bin Malik said:"The messenger of Allah [SAW] said: 'There are three things, whoever attains them will find therein the sweetness of faith: When Allah [SWT], the Mighty and Sublime, and His Messenger [SAW] are dearer to him than all else; when he loves for the sake of Allah [SWT] and hates for the sake of Allah [SWT]; and when a huge fire be lit and he fall into it, than associate anything with Allah [SWT]
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، قَالَ عَشْرَةٌ مِنَ السُّنَّةِ السِّوَاكُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَالْمَضْمَضَةُ وَالاِسْتِنْشَاقُ وَتَوْفِيرُ اللِّحْيَةِ وَقَصُّ الأَظْفَارِ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَالْخِتَانُ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَغَسْلُ الدُّبُرِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَجَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ وَمُصْعَبٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ .
It was narrated that Talq bin Habib said:"Ten things are from the Sunnah: Using the Siwak, trimming the mustache, rinsing the mouth, rinsing the nose, letting the beard grow, trimming the nails, plucking the armpit hairs, circumcision, shaving the pubes and washing one's backside
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ، {بْنِ} مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ ".
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'If a judge passes judgment and strives to reach the right conclusion and gets it right, he will have two rewards; if he strives to reach the right conclusion but gets it wrong, he will still have one reward
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أَقُودُ، بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَاحِلَتَهُ فِي غَزْوَةٍ إِذْ قَالَ " يَا عُقْبَةُ قُلْ " . فَاسْتَمَعْتُ ثُمَّ قَالَ " يَا عُقْبَةُ قُلْ " . فَاسْتَمَعْتُ فَقَالَهَا الثَّالِثَةَ فَقُلْتُ مَا أَقُولُ فَقَالَ " { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } " . فَقَرَأَ السُّورَةَ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ قَرَأَ { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } وَقَرَأْتُ مَعَهُ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ قَرَأَ { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ } فَقَرَأْتُ مَعَهُ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ قَالَ " مَا تَعَوَّذَ بِمِثْلِهِنَّ أَحَدٌ " .
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir Al-Juhani said:"While I was leading the Messenger of Allah [SAW] on his mount on a military campaign, he said: 'O 'Uqbah, say!' I listened, then he said: 'O 'Uqbah, say!' I listened, then he said it a third time. I said: 'What should I say?' He said: 'Say: He is Allah, (the) One...' and he recited the Surah to the end. Then he recited: 'Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak...' and I recited it with him until the end. Then he recited: 'Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind...' and I recited it with him until the end. Then he said: 'No one ever sought refuge (with Allah) by means of anything like them
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَأُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ وَأَبَا دُجَانَةَ فِي رَهْطٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فَقَالَ حَدَثَ خَبَرٌ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ. فَكَفَأْنَا. قَالَ وَمَا هِيَ يَوْمَئِذٍ إِلاَّ الْفَضِيخُ خَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ. قَالَ وَقَالَ أَنَسٌ لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَإِنَّ عَامَّةَ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخُ.
It was narrated that Anas said:"I was pouring (wine) for Abu Talhah, Ubayy bin Ka'b and Abu Dujanah among a group of Ansar when a man came in and said: 'Something new has happened; the prohibition of Khamr has been revealed.' So we poured it away." He said: "The only intoxicant in those days was Fadikh, a mixture of unripe dates and dried dates." And Anas said: "Khamr was forbidden, and most of their Khamr in those days was Fadikh
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ الأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَثْنَى مَثْنَى وَالإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً إِلاَّ أَنَّكَ تَقُولُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"At the time of the Messenger of Allah (S.A.W) the phrases of the Adhan were said twice and the phrases of the Iqamah were said once, except that you should say: 'Qad Qamatis-Salah, Qad Qamatis-Salah (prayer is about to begin, prayer is about to begin)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عہدرسالت میں اذان دہری اور اقامت اکہری تھی، البتہ تم «قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة » ( دو بار ) کہو۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أَبِي الْقُرْآنَ فِي السِّكَّةِ فَإِذَا قَرَأْتُ السَّجْدَةَ سَجَدَ فَقُلْتُ يَا أَبَتِ أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلاً قَالَ " الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ " . قُلْتُ ثُمَّ أَىُّ قَالَ " الْمَسْجِدُ الأَقْصَى " . قُلْتُ وَكَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ " أَرْبَعُونَ عَامًا وَالأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ فَحَيْثُمَا أَدْرَكْتَ الصَّلاَةَ فَصَلِّ " .
It was narrated that Ibrahim said:"I used to recite Qur'an to my father on the road, and if I recited a verse in which prostration was required, he would prostrate. I said: 'O my father, do you prostrate on the street?' He said: 'I heard Abu Dharr say: "I asked the Messenger of Allah (ﷺ): 'Which Masjid was built first?' He said: 'Al-Masjid Al-Haram.' [1] I said: 'Then which?' He said: 'Al-Masjid Al-Aqsa.' [2] I said: 'How long was there between them?' He said: 'Forty years. And the earth is a Masjid (or a place of prostration) for you, so wherever you are when the time for prayer comes, pray.'" [1] In Makkah. [2] "Furthest Masjid", meaning the Masjid in Jerulsalem
ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ گلی میں راستہ چلتے ہوئے میں اپنے والد ( یزید بن شریک ) کو قرآن سنا رہا تھا، جب میں نے آیت سجدہ پڑھی تو انہوں نے سجدہ کیا، میں نے کہا: ابا محترم! کیا آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں؟ کہا: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الحرام ، میں نے عرض کیا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الاقصیٰ ۱؎ میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال کا، اور پوری روئے زمین تمہارے لیے سجدہ گاہ ہے، تو تم جہاں کہیں نماز کا وقت پا جاؤ نماز پڑھ لو ۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَىِّ وَجْهٍ تَوَجَّهُ بِهِ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ .
It was narrated that Abdullah said:"The messenger of Allah (peace be upon him) used to pray atop his mount while traveling, facing whatever direction it was facing, and he would pray witr atop it, but he did not pray the prescribed prayers atop it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نماز پڑھتے خواہ وہ کسی بھی طرف آپ کو لے کر متوجہ ہوتی، وتر بھی اسی پر پڑھتے تھے، البتہ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلاَةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا وَصَلُّوا مَعَهُمْ وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً " .
It was narrated that 'Abdullih said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'You may live to meet people who will be offering the prayer outside its (prayer) time. If you meet them, then offer the prayer on time, then pray with them and make that a voluntary prayer
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم کچھ ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو نماز کو بے وقت کر کے پڑھیں گے، تو اگر تم ایسے لوگوں کو پاؤ تو تم اپنی نماز وقت پر پڑھ لیا کرو، اور ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کرو ۱؎ اور اسے سنت ( نفل ) بنا لو ۲؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ وَقَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " . وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ .
It was narrated from Abdullah bin Umar :that when the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray, he would raise his hands in level with his shoulders, and when he bowed and when he raised his head from bowing, he would raise them likewise and say "Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd (Allah hears those who praise Him, our Lord, to You be praise." And he did not do that when he prostrated)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ان دونوں کو اسی طرح اٹھاتے، اور «سمع اللہ لمن حمده»، «ربنا ولك الحمد» کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔