بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
40 hadith
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا قَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Salim, from his father, that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to raise his hands until they were in level with his shoulders when he started to pray, and when he raised his head from bowing he did likewise, and when he said: Sami' Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him)" he said: "Rabbana wa lakal-hamd (Our Lord, to You be praise)" and he did not raise his hands between the two prostrations
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو «ربنا لك الحمد» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى ‏"‏ فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet (ﷺ) said: "The Tasbih is for men, and clapping is for women." Ibn Al-Muthanna added: "During the prayer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔ ابن مثنیٰ نے «في الصلاة» کا اضافہ کیا ہے ( یعنی نماز میں ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ الأَذَانَ، كَانَ أَوَّلُ حِينَ يَجْلِسُ الإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمَّا كَانَ فِي خِلاَفَةِ عُثْمَانَ وَكَثُرَ النَّاسُ أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالأَذَانِ الثَّالِثِ فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ فَثَبَتَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ‏.‏
As-Sa'ib bin Yazid narrated that:The first Adhan used to be when the Imam sat on the Minbar on Friday, at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) and Abu Bakr and 'Umar. During the caliphate of 'Uthman, when the number of people increased, 'Uthman commanded that a third Adhan be given on Friday, so that Adhan was given from the top of Az-Zawra, and that is how it remained
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جس وقت امام منبر پر بیٹھتا، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا، اور لوگ بڑھ گئے تو انہوں نے جمعہ کے دن تیسری اذان کا حکم دیا ۱؎، وہ اذان مقام زوراء پر دی گئی، پھر اسی پر معاملہ قائم رہا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلاَلِيِّ، أَنَّ الشَّمْسَ، انْخَسَفَتْ فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِهِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي خَلْقِهِ مَا شَاءَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَجَلَّى لِشَىْءٍ مِنْ خَلْقِهِ يَخْشَعُ لَهُ فَأَيُّهُمَا حَدَثَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ اللَّهُ أَمْرًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Qabisah Al-Hilali:That there was an eclipse of the sun and the Prophet of Allah (ﷺ) prayed two rak'ahs until it ended. Then he said: "The sun and the moon do not become eclipsed for the death of anyone, but they are two of His creations. Allah, the Mighty and Sublime, causes whatever He wants to happen in His creation. If Allah (SWT), the Mighty and Sublime, manifests Himself to any of His creation, it humbles itself before Him, so if either of them (solar or lunar eclipse) happens, pray until it is over or until Allah causes something to happen
قبیصہ الہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سورج گرہن لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ وہ صاف ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: سورج اور چاند کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے دو مخلوق ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے نئی بات پیدا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جب اپنی مخلوق میں سے کسی پر تجلی فرماتا ہے تو وہ اس کے لیے جھک جاتی ہے، لہٰذا جب ان دونوں میں سے کوئی رونما ہو تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چھٹ جائے، یا اللہ تعالیٰ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ وَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيَذْكُرُ اللَّهَ وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا وَصَلاَتُهُ قَصْدًا ‏.‏
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"The Prophet (ﷺ) used to deliver the Khutbah standing, then he would sit down, then he would stand up and recite some verses and remember Allah (SWT). And his Khutbah was moderate in length, and his prayer was moderate in length
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، پھر بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور بعض آیتیں پڑھتے اور اللہ کا ذکر کرتے، اور آپ کا خطبہ اور آپ کی نماز متوسط ( درمیانی ) ہوا کرتی تھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ قُلْتُ وَأَنَا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاللَّهِ لأَرْقُبَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِصَلاَةٍ حَتَّى أَرَى فِعْلَهُ فَلَمَّا صَلَّى صَلاَةَ الْعِشَاءِ - وَهِيَ الْعَتَمَةُ - اضْطَجَعَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَنَظَرَ فِي الأُفُقِ فَقَالَ ‏{‏ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً ‏}‏ حَتَّى بَلَغَ ‏{‏ إِنَّكَ لاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ‏}‏ ‏.‏ ثُمَّ أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى فِرَاشِهِ فَاسْتَلَّ مِنْهُ سِوَاكًا ثُمَّ أَفْرَغَ فِي قَدَحٍ مِنْ إِدَاوَةٍ عِنْدَهُ مَاءً فَاسْتَنَّ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى حَتَّى قُلْتُ قَدْ صَلَّى قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى قُلْتُ قَدْ نَامَ قَدْرَ مَا صَلَّى ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ الْفَجْرِ ‏.‏
It was narrated that Ibn Shihaab said:"Humaid bin Abdur-Rahman bin 'Awf told me that a man from among the companions of the Prophet (ﷺ) said: 'I said, when I was on a journey with the Messenger of Allah (ﷺ): By Allah (SWT), I am going to watch the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) and see what he does. When he prayed 'Isha, he lay down for a long time. Then he woke up and looked toward the horizon and said: "Our Lord! You have not created (all) this without purpose" until he reached: "for You never break (Your) Promise." Then the Messenger of Allah (ﷺ) reached across his bed and took a siwak from it, then he poured water from a vessel and cleaned his teeth. Then he stood and prayed until I said: He has prayed for as long as he has slept. Then he lay down until I said: He has slept as long as he prayed. Then he woke up and did the same as he had done the first time and said the same as he had said. The Messenger of Allah (ﷺ) did that three times before Fajr
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں نے اپنے جی میں کہا کہ اللہ کی قسم! میں نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ آپ کے عمل کو دیکھ لوں، تو جب آپ نے عشاء کی نماز پڑھی، اور یہی عتمہ تھی، تو بڑی رات تک سوئے رہے، پھر آپ بیدار ہوئے توافق کی جانب نگاہ اٹھائی، اور فرمایا: «ربنا ما خلقت هذا باطلا» اے ہمارے رب! تو نے اسے بیکار پیدا نہیں کیا ہے ( آل عمران: ۱۹۱ ) یہاں تک کہ آپ «إنك لا تخلف الميعاد» بلاشبہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ( آل عمران: ۱۹۴ ) تک پہنچے، پھر آپ اپنے بچھونے کی طرف جھکے، اور آپ نے اس میں سے ایک مسواک نکالی، پھر ڈول سے جو آپ کے پاس تھا ایک پیالے میں پانی انڈیلا، اور مسواک کی، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھی یہاں تک کہ میں نے ( اپنے دل میں ) کہا: آپ جتنی دیر تک سوئے تھے اتنی ہی دیر تک آپ نے نماز پڑھی ہے، پھر آپ لیٹ گئے یہاں تک کہ میں نے ( اپنے دل میں ) کہا: آپ اتنی ہی دیر تک سوئے ہیں جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ بیدار ہوئے تو آپ نے اسی طرح کیا جس طرح آپ نے پہلی مرتبہ کیا تھا، اور اسی طرح کہا جس طرح پہلے کہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے تین مرتبہ ( اسی طرح ) کیا۔
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ، أَنَّ عَتِيكَ بْنَ الْحَارِثِ، وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَبْرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ قَدْ غُلِبْنَا عَلَيْكَ أَبَا الرَّبِيعِ ‏"‏ ‏.‏ فَصِحْنَ النِّسَاءُ وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلاَ تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الْمَوْتُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتِ ابْنَتُهُ إِنْ كُنْتُ لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا قَدْ كُنْتَ قَضَيْتَ جِهَازَكَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَيْهِ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرَقِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah bin 'Atik that 'Atik bin Al-Harith who was the grandfather of 'Abdullah bin 'Abdullah, his mother's fathr told him that the Jabir bin "Atik told him that:the Prophet came to visit 'Abdullah bin Thabit (when he was sick) and found him very close to death. He called out to him and he did not respond, so the Messenger of Allah said: "Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return," and said: "We wanted you to live but we were overtaken by the decree of Allah, O Abu Ar-Rabi." The women screamed and wept, and Ibn "Atik started telling them to quiet. The Messenger of Allah said: "Leave them; when the inevitable comes, no one should weep." They said: "What is the inevitable, O Messenger of Allah?" He said: "Death." His daughter said: "I had hoped that you would become a martyr, for you had prepared yourself for it." The Messenger of Allah said: "Allah, the Mighty and Sublime, has rewarded him according to his intention. What do you think martyrdom is?" They said: "Being killed for the sake of Allah." The Messenger of Allah said: "Martyrdom is of seven types besides being killed for the sake of Allah. The one who dies of the plague is a martyr; the one who is crushed by a falling building is a martyr; the one who is crusheds by a falling building is a martyr; the one who dies of pleurisy is a martyr; the one who dies of pleurisy is a martyr; the one who is burned to death is a martyr, and the woman who dies in pregnancy is a martyr
جابر بن عتیک انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت ( بیمار پرسی ) کرنے آئے تو دیکھا کہ بیماری ان پر غالب آ گئی ہے، تو آپ نے انہیں زور سے پکارا ( لیکن ) انہوں نے ( کوئی ) جواب نہیں دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اناللہ وانا اليہ راجعون»پڑھا، اور فرمایا: اے ابو ربیع! ہم تم پر مغلوب ہو گئے ( یہ سن کر ) عورتیں چیخ پڑیں، اور رونے لگیں، ابن عتیک انہیں چپ کرانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو لیکن جب واجب ہو جائے تو ہرگز کوئی رونے والی نہ روئے ۔ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ( یہ ) واجب ہونا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: مر جانا ، ان کی بیٹی نے اپنے باپ کو مخاطب کر کے کہا: مجھے امید تھی کہ آپ شہید ہوں گے ( کیونکہ ) آپ نے اپنا سامان جہاد تیار کر لیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی نیت کے حساب سے انہیں اجر و ثواب دے گا، تم لوگ شہادت سے کیا سمجھتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارے جانے کے علاوہ شہادت ( کی ) سات ( قسمیں ) ہیں، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، عمارت سے دب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیہ میں مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، اور جو عورت جننے کے وقت یا جننے کے بعد مر جائے وہ شہید ہے ۔
Narrated by It was narrated that Abu Hurairah said
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا ثَلاَثِينَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated It was narrated that Abu Hurairah said:: "The Messenger of Allah said: 'Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then count it as thirty (days)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، ( اور ) اگر مطلع تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کرو“۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ ثَفِنَةَ، أَنَّ ابْنَ عَلْقَمَةَ، اسْتَعْمَلَ أَبَاهُ عَلَى صَدَقَةِ قَوْمِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
Muslim bin Thafinah narrated that:Ibn 'Alqamah appointed his father to collect the Zakah of his people - and he quoted the same Hadith
مسلم بن ثفنہ کا بیان ہے کہ ابن علقمہ نے ان کے والد کو اپنی قوم سے زکاۃ وصول کرنے کے کام پر لگایا، اور پوری حدیث بیان کی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَفَعَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَبِيًّا فَقَالَتْ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"A woman lifted a child up to the Messenger of Allah and said: 'Is there Hajj for this one?' He said: 'Yes, and you will be rewarded.'''(sahih)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے ایک بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھنے لگی: کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَالَ قَائِمًا فَلاَ تُصَدِّقُوهُ مَا كَانَ يَبُولُ إِلاَّ جَالِسًا ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"Whoever tells you that the Messenger of Allah (ﷺ) urinated standing up, do not believe him, for he would not urinate except while squatting
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جو تم سے یہ بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، تو تم اس کی تصدیق نہ کرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی پیشاب کیا کرتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلاَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَىْ مُسْلِمٍ أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"The dust in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and the smoke of Hell will never be combined in the nostrils of a Muslim
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے نتھنے میں اللہ کے راستے کا غبار، اور جہنم کا دھواں کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے“۔
Narrated by Aishah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ قَالَ يَحْيَى - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - وَأَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - تَبَنَّى سَالِمًا وَهُوَ مَوْلًى لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ سَالِمًا ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ ابْنَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَكَانَتْ هِنْدُ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَى قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ‏{‏ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ‏}‏ رُدَّ كُلُّ أَحَدٍ يَنْتَمِي مِنْ أُولَئِكَ إِلَى أَبِيهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ يُعْلَمُ أَبُوهُ رُدَّ إِلَى مَوَالِيهِ ‏.‏
Narrated 'Aishah:It was narrated from 'Aishah the wife of the Prophet, and Umm Salamah the wife of the Prophet that Abu Hudhaifah bin 'Utbah bin Rabi'ah bin Abd Shams --who was one of those who had been present at Badr with the Messenger of Allah-- adopted Salim --who was the freed slave of an Ansari woman-- as the Messenger of Allah had adopted Zaid bin Harithah. Abu Hudhaifah bin 'Utbah married Salim to his brother's daughter Hind bint Al-Walid bin 'Utbah bin Rabi'ah. Hind bint Al-Walid bin 'Utbah was one of the first Muhajir women, and at that time she was one of the best single women of the Quraish. When Allah, the Mighty and Sublime, revealed the following concerning Zaid bin Harithah: "Call them by (the names of) their fathers, that is more just with Allah. But if you know not their fathers' (names, call them) your brothers in Faith and Mawalikum (your freed slaves).' Each of them went back to being called after his father, and if a person's father was unknown, he was named after his former masters
امہات المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان لوگوں میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا لے پالک بنا لیا تھا۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا لے پالک بنایا تھا۔ ابوحذیفہ بن عتبہ نے سالم کا نکاح اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا تھا اور یہ ہند بنت ولید بن عتبہ شروع شروع کی مہاجرہ عورتوں میں سے تھیں، وہ قریش کی بیوہ عورتوں میں اس وقت سب سے افضل و برتر عورت تھیں۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے زید بن حارثہ ( غلام ) کے تعلق سے آیت: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ» ”لے پالکوں کو ان کے ( حقیقی ) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے“ نازل فرمائی تو ہر ایک لے پالک اپنے اصل باپ کے نام سے پکارا جانے لگا، اور جن کے باپ نہ جانے جاتے انہیں ان کے آقاؤں کی طرف منسوب کر کے پکارتے۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الَّتِي، اسْتَعَاذَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْكِلاَبِيَّةَ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that when the Kilabi woman entered upon the Prophet she said:"I seek refuge with Allah from you." The Messenger of Allah said: "You have sought refuge with One Who is Great. Go back to your family
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بچنے کے لیے، اللہ کی ) پناہ مانگی تھی تو انہوں نے کہا: عروہ نے مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت بیان کی ہے کہ کلابیہ ( فاطمہ بنت ضحاک بن سفیان ) جب ( منکوحہ کی حیثیت سے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئی اور ( اپنی سادہ لوحی سے دوسری ازواج کے سکھا پڑھا دینے کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ) کہہ بیٹھی «أعوذباللہ منک» ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فوراً ) کہا تم نے تو بہت بڑی ذات گرامی کی پناہ مانگ لی ہے، جاؤ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ( یہ کہہ کر گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی ) ۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ، - مَوْلًى لِبَنِي لَيْثٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ سَبَقَ إِلاَّ فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"There should be no awards (for victory in a competition) except over camels or horses
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں اور گھوڑوں کے آگے بڑھنے کے مقابلوں کے سوا اور کہیں شرط لگانا درست نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، - حَرَمِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ لِيَهُودِيٍّ عَلَى أَبِي تَمْرٌ فَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ حَدِيقَتَيْنِ وَتَمْرُ الْيَهُودِيِّ يَسْتَوْعِبُ مَا فِي الْحَدِيقَتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْعَامَ نِصْفَهُ وَتُؤَخِّرَ نِصْفَهُ ‏"‏‏.‏ فَأَبَى الْيَهُودِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْجُدَادَ ‏"‏‏.‏ فَآذِنِّي فَآذَنْتُهُ فَجَاءَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ فَجَعَلَ يُجَدُّ وَيُكَالُ مِنْ أَسْفَلِ النَّخْلِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو بِالْبَرَكَةِ حَتَّى وَفَيْنَاهُ جَمِيعَ حَقِّهِ مِنْ أَصْغَرِ الْحَدِيقَتَيْنِ - فِيمَا يَحْسِبُ عَمَّارٌ - ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ ‏"‏‏.‏
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"My father owed some dates to a Jew. He was killed on the Day of Uhud and he left behind two gardens. The dates owed to the Jew would take up everything in the two gardens. The Prophet said: 'Can you take half this year and half next year?' But the Jew refused. The Prophet said: 'When the time to pick the dates comes, call me.' So I called him and he came, accompanied by Abu Bakr. The dates were picked and weighed from the lowest part of the palm trees, and the Messenger of Allah was praying for blessing, until we paid off everything that we owed him from the smaller of the two gardens, as calculated by 'Ammar. Then I brought them some fresh dates and water and they ate and drank, then he said: 'This is part of the blessing concerning which you will be questioned
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کے ذمہ ایک یہودی کی کھجوریں تھیں، اور وہ جنگ احد میں قتل کر دیے گئے اور کھجوروں کے دو باغ چھوڑ گئے، یہودی کی کھجوریں دو باغوں کی کھجوریں ملا کر پوری پڑ رہی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہودی سے ) فرمایا: ”کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تم اس سال اپنے قرض کا آدھا لے لو اور آدھا دیر کر کے ( اگلے سال ) لے لو؟“، یہودی نے ( ایسا کرنے سے ) انکار کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ سے فرمایا: ) ”کیا تم پھل توڑتے وقت مجھے خبر کر سکتے ہو؟“، تو میں نے آپ کو پھل توڑتے وقت خبر کر دی تو آپ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ( کھجور کے ) نیچے سے نکال کر الگ کرنے اور ناپ ناپ کر دینے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برکت کی دعا فرماتے رہے یہاں تک کہ چھوٹے باغ ہی کے پھلوں سے اس کے پورے قرض کی ادائیگی کر دی، پھر میں ان دونوں حضرات کے پاس ( بطور تواضع ) تازہ کھجوریں اور پانی لے کر آیا، تو ان لوگوں نے کھایا پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے متعلق تم لوگوں سے پوچھ تاچھ ہو گی“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِيمَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَهِيَ لَهُ بَتْلَةٌ لاَ يَجُوزُ لِلْمُعْطِي مِنْهَا شَرْطٌ وَلاَ ثُنْيَا ‏.‏ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ لأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ فَقَطَعَتِ الْمَوَارِيثُ شَرْطَهُ ‏.‏
Ibn Abi Dhi'b narrated from Ibn Shihab, from Abu Salamah, from Jabir, that the Messenger of Allah ruled -concerning a person who has been given a lifelong gift ('Umra)- that it belongs to him and to his descendants:"It is undoubtedly his, and it is not permissible for the giver to stipulate any conditions or exceptions." Abu Salamah said: "Because he gave it as a gift and thus, it is subject to the same ruling as the estate, and the condition (that it will revert to the giver on the death of recipient) has become invalid
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جسے کوئی چیز عمری کی گئی ہو کہ یہ اس کا اور اس کی اولاد کا ہے فیصلہ صادر فرمایا کہ دینے والے کو اس میں کوئی شرط لگانا اور کوئی استثناء کرنا جائز و درست نہیں ہے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں میراث کا قانون ہو گیا اور اس کی شرط کو باطل کر دیا ( یعنی وہ شرط لغو قرار دے دی ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ هَلْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا وَهِيَ طَامِثٌ قَالَتْ نَعَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُونِي فَآكُلُ مَعَهُ وَأَنَا عَارِكٌ كَانَ يَأْخُذُ الْعَرْقَ فَيُقْسِمُ عَلَىَّ فِيهِ فَأَعْتَرِقُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَعْتَرِقُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْعَرْقِ وَيَدْعُو بِالشَّرَابِ فَيُقْسِمُ عَلَىَّ فِيهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهُ فَآخُذُهُ فَأَشْرَبُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَشْرَبُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْقَدَحِ ‏.‏
It was narrated from Shuraih that he asked 'Aishah:"Can a woman eat with her husband while she is menstruating?' She said: 'Yes. The Messenger of Allah (ﷺ) would call me to eat with him while I was menstruating. He would take a piece of bone on which some bits of meat were left and insist that I take it first, so I would nibble a little from it, then put it down. Then he would take it and nibble from it, and he would put his mouth where mine had been on the bone. Then he would call for a drink and insist that I take it first before he drank from it. So I would take it and drink from it, then put it down, then he would take it and drink from it, putting his mouth where mine had been on the cup
شریح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا عورت اپنے شوہر کے ساتھ کھا سکتی ہے جب کہ وہ حائضہ ہو؟، تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے، تو میں آپ کے ساتھ کھاتی، اور میں حائضہ ہوتی، آپ ہڈی لیتے تو مجھے اس کے سلسلہ میں قسم دلاتے، تو میں اس سے اپنے دانتوں سے نوچتی پھر رکھ دیتی، تو آپ اسے اٹھا لیتے، اور اس سے اپنے دانتوں سے نوچتے، آپ ہڈی پر اسی جگہ منہ رکھتے جہاں میں اپنا منہ رکھے ہوتی، اور آپ پانی مانگتے تو پینے سے پہلے مجھے اس کے سلسلہ میں قسم دلاتے، تو میں اسے اٹھا لیتی اور اس میں سے پیتی، پھر اسے رکھ دیتی، تو آپ اسے اٹھا لیتے اور اس میں سے پیتے، آپ پیالہ میں اسی جگہ اپنا منہ رکھتے جہاں میں اپنا منہ رکھے ہوتی۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا آلَيْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Samurah said:"The Prophet said to me: 'If you swear an oath, and you see something that is better, then do that which is better and offer expiation for your oath
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چیز کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah said:"The first matter concerning which scores will be settled among the people on the Day of Resurrection will be bloodshed
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي نُخَيْلَةَ الْبَجَلِيِّ، قَالَ قَالَ جَرِيرٌ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُبَايِعُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ وَاشْتَرِطْ عَلَىَّ فَأَنْتَ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتُنَاصِحَ الْمُسْلِمِينَ وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ ‏"‏ ‏.‏
Jarir said:"I came to the Prophet when he was accepting (the people's) pledge, and said: 'O Messenger of Allah, extend you hand so that I may give you my pledge, and state your terms, for you know best.' He said: 'I accept you pledge that you will worship Allah, establish Salah, pay the Zakah, be sincere toward the Muslims, and forsake the idolaters
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ دَعَا بِشَىْءٍ نَحْوِ الْحِلاَبِ فَأَخَذَ بِكَفِّهِ بَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ الأَيْسَرِ ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) performed Ghusl from Janabah, he would call for something like a vessel used for milking a she-camel, then he would take (some water) in his hand and start with the right side of his head, then the left, then take (some water) in his hands and start pouring it on his head
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو دودھ دوہنے کے برتن ۱؎ کی طرح ایک برتن منگاتے، اور اس سے اپنے لپ سے پانی لیتے اور اپنے سر کے داہنے حصہ سے شروع کرتے، پھر بائیں سے، پھر اپنے دونوں لپ سے پانی لیتے، اور انہیں سے اپنے سر پر ڈالتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ كَتَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنْ لاَ تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلاَ عَصَبٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that'Abdullah bin 'Ukaim said:"The Messenger of Allah wrote to us: 'Do not make use of the skins and sinew of dead animals
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ‏"‏ أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Salim bin 'Abdullah that his father said:"The Messenger of Allah said: "Whoever keeps a dog, except a dog for herding livestock or a dog for hunting, one Qirat will be deducted from his reward each day." 'Abdullah said: "Abu Hurairah said: 'Or a dog for farming
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ثُمَّ انْصَرَفَ - كَأَنَّهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا وَإِلَى جُذَيْعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا ‏.‏
It was narrated from 'Adbur-Rahman bin Abi Bakrah that his father said:"Then he" meaning the Prophet on the Day of Sacrifice - "Went toward two Amlah rams and sacrificed them, then (he went toward) a small flock of sheep and distributed them among us." (Sahih)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُّ بَيِّعَيْنِ لاَ بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلاَّ بَيْعَ الْخِيَارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Sufyan, from 'Amr bin Dinar, from Ibn 'Umar, who said:the Messenger of Allah said: "When two people meet to engage in trade, the transaction between them is not binding until they separate, unless they have chosen to concluded the transaction
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالأَشْتَرُ، إِلَى عَلِيٍّ رضى الله عنه فَقُلْنَا هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً قَالَ لاَ إِلاَّ مَا كَانَ فِي كِتَابِي هَذَا ‏.‏ فَأَخْرَجَ كِتَابًا مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ فَإِذَا فِيهِ ‏ "‏ الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلاَ لاَ يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلاَ ذُو عَهْدٍ بِعَهْدِهِ مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَى نَفْسِهِ أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Qais bin 'Ubad said:"Al-Ashtar and I went to 'Ali, may Allah be pleased with him, and said: Did the Prophet of Allah tell you anything that he did not tell to all the people?' He said: 'No, except what is in this letter of mine.' He brought out a letter from the sheath of his sword and it said therein: "The lives of the believers are equal in value, and they are one against others, and they hasten to support the asylum granted by the least of them. But no believer may be killed in return for a disbeliever, nor one with a covenant while his convenant is in effect. Whoever commits an offense then the blame is on himself, and whoever gives sanctuary to an offender, then upon him will be the curse of Allah, the angels and all the people
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُومُ فِي الظُّهْرِ فَيَقْرَأُ قَدْرَ ثَلاَثِينَ آيَةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثُمَّ يَقُومُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً ‏.‏
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to stand in Zuhr and recite the equivalent of thirty verses in each Rak'ah, then in the first two Rak'ahs of 'Asr he would stand for the equivalent of fifteen verses
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں قیام کرتے تھے تو ہر رکعت میں تیس آیت کے بقدر پڑھتے تھے، پھر عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں پندرہ آیت پڑھنے کے بقدر قیام کرتے۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ عَلَى أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ - وَهِيَ لاَ تُعْرَفُ - حُلِيًّا فَبَاعَتْهُ وَأَخَذَتْ ثَمَنَهُ فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَعَى أَهْلُهَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُكَلِّمُهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَشْفَعُ إِلَىَّ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أُسَامَةُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشِيَّتَئِذٍ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّمَا هَلَكَ النَّاسُ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ الشَّرِيفُ فِيهِمْ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ فِيهِمْ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَطَعَ تِلْكَ الْمَرْأَةَ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"A woman borrowed some jewelry, saying that other people whose names were known but hers was not then she sold it and kept the money. She was brought to the Messenger of Allah, and her people went to Usamah bin Zaid, who spoke to the Messenger of Allah concerning her. The face of ht Messenger of Allah changed color while he was speaking to him. Then the Messenger of Allah said to him: 'Are you interceding with me concerning one of ht Hadd punishments decreed by Allah?' Usamah said: 'Pray for forgiveness for me, O Messenger of Allah! Then the Messenger of Allah stood up that evening, he praised and glorified Allah, the mighty and sublime, as he deserves, then he said: 'The people who came before you were destroyed because, whenever a noble person among them stole, they let him go. But if a low-class person stole, they would carry out the punishment on him. By the One in whose hand is the soul of Muhammad, if Fatimah bint Muhammad were to steal, I would cut off her hand.' Then he cut off that woman
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
It was narrated from Qatadah that:He heard Anas say: "The Messenger of Allah [SAW] said: 'None of you has believed until I am dearer to him than his son, his father and all the people
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:The Messenger of Allah [SAW] forbade plucking gray hairs
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ الأَزْدِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - قَالَ شُعْبَةُ كَانَ قَتَادَةُ يَرْفَعُهُ أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا لاَ يَرْفَعُهُ - قَالَ ‏ "‏ وَقْتُ صَلاَةِ الظُّهْرِ مَا لَمْ تَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ وَوَقْتُ الْعِشَاءِ مَا لَمْ يَنْتَصِفِ اللَّيْلُ وَوَقْتُ الصُّبْحِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr - and (one of the narrators) Shu'bah said:"Sometimes he (Qatadah, his teacher) narrated it as a Marfu' report and sometimes he did not" - "The time for Zuhr prayer is until 'Asr comes, and the time for 'Asr prayer is until the sun turns yellow. the time for Maghrib is until the twilight disappears, and the time for 'Isha' is until the night is halfway through, and the time for Subh is until the sun rises
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے (شعبہ کہتے ہیں: قتادہ اسے کبھی مرفوع کرتے تھے اور کبھی مرفوع نہیں کرتے تھے ۱؎) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک عصر کا وقت نہ آ جائے، اور عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج زرد نہ ہو جائے، اور مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک شفق کی سرخی چلی نہ جائے، اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے، اور فجر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج نکل نہ جائے۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ كَانَا يَسْقِيَانِ بِهِ كِلاَهُمَا النَّخْلَ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ عَلَيْهِ ‏.‏ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ‏"‏ ‏.‏ فَاسْتَوْفَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ بِرَأْىٍ فِيهِ السَّعَةُ لَهُ وَلِلأَنْصَارِيِّ فَلَمَّا أَحْفَظَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأَنْصَارِيُّ اسْتَوْفَى لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ ‏.‏ قَالَ الزُّبَيْرُ لاَ أَحْسَبُ هَذِهِ الآيَةَ أُنْزِلَتْ إِلاَّ فِي ذَلِكَ ‏{‏ فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ‏}‏ وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ فِي الْقِصَّةِ ‏.‏
It was narrated from Az-Zubair bin Al-'Awwam that:He disputed with a man among Ansar who had been present at Badr with the Messenger of Allah [SAW], concerning a stream in Al-Harrah from which they both used to water their date palm trees. The Ansari said: "Let the water flow." But he (Az-Zubair) refused. The Messenger of Allah [SAW] said: "Irrigate (your land), O Zubair! Then let the water flow to your neighbor." The Ansari became angry and said, "O Messenger of Allah, is it because he is your cousin?" The face of the Messenger of Allah [SAW] changed color (because of anger) and he said: "O Zubair! Irrigate (your land) then block the water, until it flows back to the walls." So the Messenger of Allah [SAW] allowed Az-Zubair to take his rights in full, although before that he had suggested to Az-Zubair a middle way that benefited both him and the Ansari. But when the Ansari made the Messenger of Allah [SAW] angry, he gave Az-Zubair his rights in full, as stated clearly in his ruling. Az-Zubair said: "I think that this Verse was revealed concerning this matter: 'But no, by your Lord, they can have no faith, until they make you (O Muhammad) judge in all disputes between them
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَنْتَفِعُ بِهِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ قُلِ اللَّهُمَّ عَافِنِي مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَبَصَرِي وَلِسَانِي وَقَلْبِي وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي ذَكَرَهُ ‏.‏
It was narrated from Shutair bin Shakal bin Humaid, that his father said:"I said: 'O Messenger of Allah, teach me a supplication from which I may benefit.' He said: 'Say: Allahumma 'afini min sharri sam'i, wa basari, wa lisani, wa qalbi, wa min sharri mani (O Allah, protect me from the evil of my hearing, my seeing, my tongue and my heart, and from the evil of my sperm.)'" - Meaning sexual organ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ وَخَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَقَالَ ‏ "‏ لِتَنْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ فِي الأَسْقِيَةِ الَّتِي يُلاَثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا ‏"‏ ‏.‏
Yahya narrated that 'Abdullah bin Abi Qatadah said to him from his father, that:The Prophet [SAW] forbade mixing Az-Zahuw and dried dates, and mixing Al-Busr and dried dates, and he said: "Soak each one of them on its own in vessels that are tied shut
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَذَّنَ بِالصَّلاَةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ فَقَالَ أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ ذَاتُ مَطَرٍ يَقُولُ أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ‏.‏
It was narrated from Nafi' that Ibn 'Umar gave a call to prayer on a cold and windy night, and he said:"Pray where you are, for the Prophet (S.A.W)used to order the Mu'adhdhin, if it was a cold and rainy night, to say: 'Pray in your dwellings
نافع روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ایک سرد اور ہوا والی رات میں نماز کے لیے اذان دی، تو انہوں نے کہا: «ألا صلوا في الرحال» لوگو سنو! ( اپنے ) گھروں میں نماز پڑھ لو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سرد بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تو وہ کہتا: «ألا صلوا في الرحال» لوگو سنو! ( اپنے ) گھروں میں نماز پڑھ لو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ مَرَّ عُمَرُ بِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ أَنْشَدْتُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏.‏
It was narrated that Sa'eed bin Al-Musayyab said:"Umar passed by Hassan bin Thabit while he was reciting poetry in the Masjid, and glared at him. He said: 'I recited poetry when there was someone better than you in the Masjid.' Then he turned to Abu Hurairah and said: 'Did you not hear the Messenger of Allah (ﷺ) when he said: "Answer back on my behalf. O Allah, help him with the Holy Spirit!'" He said: 'Yes, by Allah
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے، تو عمران رضی اللہ عنہ کی طرف گھورنے لگے، تو انہوں نے کہا: میں نے ( مسجد میں ) شعر پڑھا ہے، اور اس میں ایسی ہستی موجود ہوتی تھی جو آپ سے بہتر تھی، پھر وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( مجھ سے ) یہ کہتے نہیں سنا کہ تم میری طرف سے ( کافروں کو ) جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید فرما! ، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا! ہاں ( سنا ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، زُغْبَةُ عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Uqbah bin Amir said:"A silken Farruj was presented to the Messenger of Allah (ﷺ) and he put it on and offered the prayer in it, then when he had finished the prayer he tore it off as if he disliked it and said:'This is not befitting for those who have Taqwa
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی قباء ہدیے میں دی گئی، تو آپ نے اسے پہنا، پھر اس میں نماز پڑھی، پھر جب آپ نماز پڑھ چکے تو اسے زور سے اتار پھینکا جیسے آپ اسے ناپسند کر رہے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل تقویٰ کے لیے یہ مناسب نہیں ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّى بِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَالْمَرْأَةُ خَلْفَنَا ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led me and a woman from my family in prayer. He made me to stand on his right and the woman to stand behind us
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میرے گھر کی ایک عورت کو نماز پڑھائی، تو آپ نے مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کیا، اور عورت ہمارے پیچھے تھی۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ بَيْنَمَا ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا - يُرِيدُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا لَهُ مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نَزَلَتْ عَلَىَّ آنِفًا سُورَةُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ‏{‏ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ * إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ آنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْكَوَاكِبِ تَرِدُهُ عَلَىَّ أُمَّتِي فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي ‏.‏ فَيَقُولُ لِي إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas in Malik said:"One day when he-the Prophet (ﷺ)- was still among us, he took a nap, then he raised his head, smiling. We said to him: 'Why are you smiling, O Messenger of Allah?' He said: 'Just now this Surah was revealed to me: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. Verily, We have granted you (O Muahmmad) Al-Kawthar. Therefore turn in prayer to your Lord and sacrifice (to Him only). For he who hates you, he will be cut off.' Then he said: 'Do you know what Al-Kawthar is?' We said: 'Allah and His Messenger know best.' He said: 'It is a river that my Lord has promised me in Paradise. Its vessels are more than the number of the stars. My Ummah will come to me, then a man among them will be pulled away and I will say: "O Lord, he is one of my Ummah" and He will say to me: 'You do not know what he did after you were gone
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ یکایک آپ کو جھپکی سی آئی، پھر مسکراتے ہوئے نے اپنا سر اٹھایا، تو ہم نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت اتری ہے«‏‏‏‏بسم اللہ الرحمن الرحيم ‏* إنا أعطيناك الكوثر * فصل لربك وانحر * إن شانئك هو الأبتر» شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے، یقیناً ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی، تو آپ اپنے رب کے لیے صلاۃ پڑھیں، اور قربانی کریں، یقیناً آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے وعدہ کیا ہے، جس کے آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، میری امت اس حوض پر میرے پاس آئے گی، ان میں سے ایک شخص کھینچ لیا جائے گا تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میری امت میں سے ہے؟ تو اللہ تعالیٰ مجھ سے فرمائے گا: تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی ہیں ۔