أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ عَطَاءً، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ . قَالَ قَالَ عَطَاءٌ لاَ أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الأَبَدِ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ .
Abdullah bin 'Amr bin Al-As said:"The Prophet heard that I was fasting continually," and he quoted this Hadith. 'Ata said: "I am not sure how he put it, but I think he said: 'There is no fast for one who fats continually." 'Ata said: "someone who heard him told me that Ibn 'Umar (said) that the Prophet said: 'Whoever fasts every day of his life, then he has not fasted
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں، پھر مسلسل روزہ رکھتا ہوں، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عطاء نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے «صیام ابد» کا ذکر کیسے کیا، مگر اتنا یاد ہے کہ انہوں نے یوں کہا: ”اس شخص نے «صیام» ( روزے ) نہیں رکھے جس نے ہمیشہ «صیام» ( روزے ) رکھے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَتِ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَمْ يُشَارِبُوهُنَّ وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى } الآيَةَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَىْءٍ مَا خَلاَ الْجِمَاعَ .
It was narrated that Anas said:"When one of their womenfolk menstruated, the Jews would not eat or drink with them, nor mix with them in their houses. They asked the Prophet of Allah (ﷺ) about that, and Allah the Mighty and Sublime revealed: The ask you concerning menstruation. Say: 'That is an Adha (a harmful thing).'[2] So the Messenger of Allah (ﷺ) commanded them to eat and drink with them (menstruating women) and to mix with them in their houses, and to do everything with them except intercourse. The Jews said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) does not leave anything against it.' Usaid bin Hudair and 'Abbad bin Bishr went and told the Messenger of Allah (ﷺ) and they said: 'Should we have intercourse with them when they are menstruating?' The expression of the Messenger of Allah (ﷺ) changed greatly until we thought that he was angry with them, and they left. Then the Messenger of Allah (ﷺ) received a gift of milk, so he sent someone to bring them back and he gave them some to drink, so they knew that he was not angry with them." [1] Al-Baqarah 2:222. [2] Al-Baqarah 2:
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہوتیں تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں گھروں میں اپنے ساتھ رکھتے، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» ( البقرہ: ۲۲۲ ) لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجئیے: وہ گندگی ہے نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں، پئیں اور انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ وَمَعَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَبِلاَلٌ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَمَكَثَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ خَرَجَ . قَالَ ابْنُ عُمَرَ كَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ بِلاَلاً قُلْتُ أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَا بَيْنَ الأُسْطُوَانَتَيْنِ .
It was narrated that Ibn Umar said:"The Messenger of Allah entered the House, accompanied by Al-Fadl bin abbas, Usmah bin Zaid,. Uthman bin Talhah and Bilal. They shut the door, and he stayed there for as long as Allah willed, then he coame out." Ibn Umar said: "The first one whom I met was Bilal, and I said: "Where did the Prophet pray?' He said: "Between the two columns
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور آپ کے ساتھ فضل بن عباس، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ انہوں نے دروازہ بند کر لیا، اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ اس میں رہے، پھر باہر آئے، تو سب سے پہلے میری جس سے ملاقات ہوئی وہ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: دونوں ستونوں کے درمیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنْ مَخِيلَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَنْظُرْ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated that Muharib said:"I heard Ibn 'Umar narrating that the Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever drags his garment out of vanity, Allah, the Mighty and Sublime, will not look at him on the Day of Resurrection