أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ " .
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith that:He saw the Prophet (ﷺ) raise his hands when he bowed, and when he raised his head from bowing, until they were in level with the highest part of his ears
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کی لو کے برابر کر لیتے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانَ أَبُو الْعَلاَءِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتِ اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَى الْقِبْلَةِ فَمَشَى عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ يَسَارِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلاَّهُ .
It was narrated that 'Aishah, may Allah (SWT) be pleased with her, said:"I knocked at the door when the Messenger of Allah (ﷺ) was offering a voluntary prayer. The door was in the direction of the Qiblah so he took a few steps to his right or left and opened the door, then he went back to where he was praying
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے دروازہ کھلوانا چاہا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ قبلہ کی طرف پڑ رہا تھا، آپ اپنے دائیں جانب یا بائیں جانب ( چند قدم ) چلے، اور آپ نے دروازہ کھولا، پھر آپ اپنی جگہ پر واپس لوٹ آئے۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَرْجِعُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَىْءٌ يُسْتَظَلُّ بِهِ .
Iyas bin Salamah bin Al-Akwa' narrated that his father said:"We used to pray Jumu'ah with the Messenger of Allah (ﷺ) then we would go back, and the walls had no shadow in which shade could be sought
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم اس حال میں لوٹتے کہ دیواروں کا سایہ نہ ہوتا جس سے سایہ حاصل کیا جا سکے ۱؎۔
وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، أَنَّ جَدَّهُ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ الْوَازِعِ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلاَلِيِّ، قَالَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ وَنَحْنُ إِذْ ذَاكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَهُمَا فَوَافَقَ انْصِرَافُهُ انْجِلاَءَ الشَّمْسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلاَةٍ مَكْتُوبَةٍ صَلَّيْتُمُوهَا " .
It was narrated that Qabisah bin Mukhariq Al-Hilali said:"There was an eclipse of the sun and at the time we were with the Messenger of Allah (ﷺ) in Al-Madinah. He rushed out dragging his garment and prayed two rak'ahs, which he made lengthy. The end of his prayer coincided with the end of the eclipse. He praised and glorified Allah (SWT), then he said: 'The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT), and they do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see anything of that, then pray like the last obligatory prayer you did before that
قبیصہ بن مخارق الہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا، ہم لوگ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں تھے، آپ گھبرائے ہوئے اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اتنا لمبا کیا کہ آپ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج چھٹ چکا تھا، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے، تو جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو اس تازہ فرض نماز کی طرح نماز پڑھو جو تم نے ( گرہن لگنے پہلے ) پڑھی ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لاَ يَتَكَلَّمُ فِيهَا ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ خُطْبَةً أُخْرَى فَمَنْ خَبَّرَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ قَاعِدًا فَلاَ تُصَدِّقْهُ .
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) delivering the Khutbah standing up, then he sat down for a while and did not speak, then he stood up and delivered another Khutbah. Whoever tells you that the Prophet (ﷺ) delivered a Khutbah sitting do not believe him
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے اس میں بولتے نہیں، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے، تو جو شخص تمہیں یہ خبر دے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ دیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَىِّ شَىْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَفْتَتِحُ صَلاَتَهُ قَالَتْ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلاَتَهُ قَالَ " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ " .
Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said:"I asked 'Aishah: 'With what did the Prophet (ﷺ) start his prayer?' She said: 'When he got up to pray at night he would start his prayer with the words: Allahumma Rabba Jibril wa Maika'il wa Israfil; Fatirus-samawati wal-ard, 'alim al-ghaybi wash-shahadah, anta tahkumu bayna 'ibadika fima kanu fihi yakhtalifun, Allahumma ihdini limakktulifa fihi min al-haqq innaka tahdi man tasha'ila siratin mustaqim (O Allah, Lord of Jibril, Mika'il and Israfil, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, You judge between Your slaves concerning wherein they differ. O Allah, guide me to the disputed matters of truth for You are the One Who guides to the Straight Path)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی شروعات کس چیز سے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ جب رات میں اٹھ کر اپنی نماز شروع کرتے تو کہتے: «اللہم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اللہم اهدني لما اختلف فيه من الحق إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» اے اللہ! اے جبرائیل و میکائیل و اسرافیل کے رب، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ جھگڑتے تھے، اے اللہ! جس میں اختلاف کیا گیا ہے اس میں تو میری رہنمائی فرما، تو جس کی چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف رہنمائی فرماتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ - قَالَ - فَجَعَلْتُ أَكْشِفُ عَنْ وَجْهِهِ، وَأَبْكِي، وَالنَّاسُ، يَنْهَوْنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَنْهَانِي وَجَعَلَتْ عَمَّتِي تَبْكِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَبْكِيهِ مَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ " .
It was narrated from Jabir that his father was killed on the day of Uhud. He saide:"I started to uncover his face, weeping. The people told me not to do that but the Messenger of Allah did not forbid me. My paternal aunt started to weep, and the Messenger of Allah said: 'Do not weep, for angels kept on shading him with their wings until you lifted him up
جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد غزوہ احد کے دن قتل کر دیئے گئے، میں ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانے اور رونے لگا، لوگ مجھے روک رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں روک رہے تھے، میری پھوپھی ( بھی ) ان پر رونے لگیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان پر مت روؤ، فرشتے ان پر برابر اپنے پروں سے سایہ کیے رہے یہاں تک کہ تم لوگوں نے اٹھایا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"the Messenger of Allah said: 'Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then count it as thirty (days)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزے رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس ( دن ) پورے کرو“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ثَفِنَةَ، قَالَ اسْتَعْمَلَ ابْنُ عَلْقَمَةَ أَبِي عَلَى عِرَافَةِ قَوْمِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يُصَدِّقَهُمْ، فَبَعَثَنِي أَبِي إِلَى طَائِفَةٍ مِنْهُمْ لآتِيَهُ بِصَدَقَتِهِمْ فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ يُقَالُ لَهُ سَعْرٌ فَقُلْتُ إِنَّ أَبِي بَعَثَنِي إِلَيْكَ لِتُؤَدِّيَ صَدَقَةَ غَنَمِكَ . قَالَ ابْنَ أَخِي وَأَىُّ نَحْوٍ تَأْخُذُونَ قُلْتُ نَخْتَارُ حَتَّى إِنَّا لَنَشْبُرُ ضُرُوعَ الْغَنَمِ . قَالَ ابْنَ أَخِي فَإِنِّي أُحَدِّثُكَ أَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَنَمٍ لِي فَجَاءَنِي رَجُلاَنِ عَلَى بَعِيرٍ فَقَالاَ إِنَّا رَسُولاَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْكَ لِتُؤَدِّيَ صَدَقَةَ غَنَمِكَ . قَالَ قُلْتُ وَمَا عَلَىَّ فِيهَا قَالاَ شَاةٌ . فَأَعْمِدُ إِلَى شَاةٍ قَدْ عَرَفْتُ مَكَانَهَا مُمْتَلِئَةً مَحْضًا وَشَحْمًا فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا فَقَالَ هَذِهِ الشَّافِعُ . وَالشَّافِعُ الْحَائِلُ وَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا قَالَ فَأَعْمِدُ إِلَى عَنَاقٍ مُعْتَاطٍ - وَالْمُعْتَاطُ الَّتِي لَمْ تَلِدْ وَلَدًا وَقَدْ حَانَ وِلاَدُهَا - فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا فَقَالاَ نَاوِلْنَاهَا فَرَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا فَجَعَلاَهَا مَعَهُمَا عَلَى بَعِيرِهِمَا ثُمَّ انْطَلَقَا .
It was narrated that Muslim bin Thafihan said:"Ibn 'Alqamah appointed my father to be in charge of his people, and he commanded him to collect their Sadaqah. My father sent me to a group of them to bring their Sadaqah to him. I set out and came to an old man who was called Sa'r. I said: My father has sent me to collect the Sadaqah of your sheep. 'He said: O son of my brother, how will you decode what you want to take?' I said" 'We choose, and we even measure the sheep's udders.' He said: O son of my brother, I tell you that I was in one of these mountain passes at the time of the Messenger of Allah with some sheep of mine. Two men came on a camel and said: We are the messengers of the Messengers of Allah, we come to take the Sadaqah of your sheep. I said: What do I have to give? They said: A sheep. So I went to a sheep that I knew was filled with milk and was fat, and brought it out to them. He said: This is a Shafi - a sheep that has a child or is pregnant - and the Messenger of Allah forbade us to take a Shafi'. So I went to a Mu'tat she-goat - a Mutat is one that has not given birth before, but has reached the age where it could produce young- and brought it out to them. They said: We will take it. So I lifted it up to them, and they took it with them on their camel and left."' (Daif)
مسلم بن ثفنہ کہتے ہیں کہ ابن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کی عرافت ( نگرانی ) پر مقرر کیا، اور انہیں اس بات کا حکم بھی دیا کہ وہ ان سے زکاۃ وصول کر کے لائیں۔ تو میرے والد نے مجھے ان کے کچھ لوگوں کے پاس بھیجا کہ میں ان سے زکاۃ لے کر آ جاؤں۔ تو میں ( گھر سے ) نکلا یہاں تک کہ ایک بوڑھے بزرگ کے پاس پہنچا انہیں «سعر» کہا جاتا تھا۔ تو میں نے ان سے کہا کہ میرے والد نے مجھے آپ کے پاس آپ کی بکریوں کی زکاۃ لانے کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! تم کس طرح کی زکاۃ لیتے ہو؟ میں نے کہا: ہم چنتے اور چھانٹتے ہیں یہاں تک کہ ہم بکریوں کے تھنوں کو ناپتے و ٹٹولتے ہیں ( یعنی عمدہ مال ڈھونڈ کر لیتے ہیں ) ۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں گھاٹیوں میں سے کسی ایک گھاٹی میں اپنی بکریوں کے ساتھ تھا، میرے پاس ایک اونٹ پر سوار دو شخص آئے، اور انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرستادہ ہیں۔ ہم آپ کے پاس آئے ہیں کہ آپ ہمیں اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کریں۔ میں نے پوچھا: میرے اوپر ان بکریوں میں کتنی زکاۃ ہے؟ تو ان دونوں نے کہا: ایک بکری، میں نے دودھ اور چربی سے بھری ایک ایک موٹی تازی بکری کا قصد کیا جس کی جگہ مجھے معلوم تھی۔ میں اسے ( ریوڑ میں سے ) نکال کر ان کے پاس لایا تو انہوں نے کہا: «شافع» ہے ( «شافع» گابھن بکری کو کہتے ہیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گابھن جانور لینے سے روکا ہے۔ پھر میں نے ایک اور بکری لا کر پیش کرنے کا ارادہ کیا جو اس سے کمتر تھی جس نے ابھی کوئی بچہ نہیں جنا تھا لیکن حمل کے قابل ہو گئی تھی۔ میں نے اسے ( گلّے سے ) نکال کر ان دونوں کو پیش کیا، انہوں نے کہا: ہاں یہ ہمیں قبول ہے۔ پھر ہم نے اسے اٹھا کر انہیں پکڑا دیا۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ اونٹ پر لاد لیا، پھر لے کر چلے گئے۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا مِنْ هَوْدَجٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ " نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"A woman lifted up a child of hers from a howdah (litter) and said: 'O Messenger of Allah, is there Hajj for this one?' He said: 'Yes, and you will be rewarded.'''(sahih)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو ہودج سے اوپر اٹھایا اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا بَهْزٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَشَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا . قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَلَمْ يَذْكُرْ مَنْصُورٌ الْمَسْحَ .
It was narrated from Hudhaifah that the Prophet (ﷺ) went to some people's garbage dump and urinated while standing. In his narration, Sulaiman bin 'Ubaidullah said:"And he wiped over his Khuffs," but Mansur did not mention the wiping. [1] [1]Meaning, in this route, since Shu'bah narrated it from both Sulaiman and Mansur
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ایک کوڑا خانہ پر چل کر آئے تو آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلاَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ وَلاَ يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالإِيمَانُ فِي جَوْفِ عَبْدٍ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The dust in the cause of Allah and the smoke of Hell will never be combined in a slave's lungs, and stinginess and faith can never be combined in a slave's heart
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کی گرد اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں جمع نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی کسی بندے کے سینے میں بخل اور ایمان اکٹھا ہو سکتے ہیں“۔
Narrated by Aishah
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَهُوَ مَوْلًى لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدًا وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلاً فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ ابْنَهُ فَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ { ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ } فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ . مُخْتَصَرٌ .
Narrated 'Aishah:It was narrated from 'Aishah that Abu Hudhaifah bin 'Utbah bin Rabi'ah bin 'Abd Shams --who was one of those who had been present at Badr with the Messenger of Allah-- adopted Salim and married him to his brother's daughter, Hind bint Al-Walid bin 'Utbah bin Rabi'ah bin 'Abd Shams, and he was a freed slave of an Ansari woman --as the Messenger of Allah had adopted Zaid. During the Jahiliyyah, if a man adopted someone, the people would call him his son, and he would inherit from his legacy, until Allah, the Mighty and Sublime, revealed about that: 'Call them by (the names of) their fathers, that is more just with Allah. But if you know not their fathers' (names, call them) your brothers in Faith and Mawalikum (your freed slaves)." Then if a person's father's name was not known, he would be their freed slave and brother in faith
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا بیٹا بنا لیا، اور ان کی شادی اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس سے کر دی۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو اپنا منہ بولا بیٹا قرار دے لیا تھا، اور زمانہ جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ متبنی کرنے والے کو اس لڑکے کا باپ کہا کرتے تھے اور وہ لڑکا اس کی میراث پاتا تھا اور یہ دستور اس وقت تک چلتا رہا جب تک اللہ پاک نے یہ آیت: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم» ”لے پالکوں کو ان کے ( حقیقی ) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے، پھر اگر تمہیں ان کے حقیقی باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں“ ( الاحزاب: ۵ ) نازل نہ کی، پس جس کا باپ معلوم نہ ہو وہ دینی بھائی اور دوست ہے، ( یہ حدیث ) مختصر ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ .
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah cursed the woman who tattoos and the one tattooed, the woman who fixed hair extensions and the one who had her hair get extended, the consumer of Riba and the one who pays it, and Al-Muhallil and Al-Muhallal Lahu
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے گودنے اور گودانے والی پر اور بالوں کو ( بڑا کرنے کے لیے ) جوڑنے والی اور جوڑوانے والی پر اور سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور حلالہ کرنے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ لاَ تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا فَشَقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ . قَالَ " إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يَرْتَفِعَ مِنَ الدُّنْيَا شَىْءٌ إِلاَّ وَضَعَهُ " .
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah had a she-camel called Al-'Adba' which could not be beaten. One day a Bedouin came on a riding-camel and beat her (in a race). The Muslims were upset by that, and when he saw the expressions on their faces they said: 'O Messenger of Allah, Al-'Adba' has been beaten.' He said: 'It is a right upon Allah that nothing is raised in this world except He lowers it
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عضباء نامی ایک اونٹنی تھی وہ ہارتی نہ تھی، اتفاقاً ایک اعرابی ( دیہاتی ) اپنے جوان اونٹ پر آیا اور وہ مقابلے میں عضباء سے بازی لے گیا، یہ بات ( ہار ) مسلمانوں کو بڑی ناگوار گزری۔ جب آپ نے لوگوں کے چہروں کی ناگواری و رنجیدگی دیکھی تو لوگ خود بول پڑے: اللہ کے رسول! عضباء شکست کھا گئی ( اور ہمیں اس کا رنج ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اللہ کے حق ( و اختیار ) کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی چیز بہت بلند ہو جاتی اور بڑھ جاتی ہے تو اللہ اسے پست کر دیتا اور نیچے گرا دیتا ہے“ ( اس لیے کبیدہ خاطر ہونا ٹھیک نہیں ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ - قَالَ - وَتَرَكَ دَيْنًا فَاسْتَشْفَعْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ شَيْئًا فَطَلَبَ إِلَيْهِمْ فَأَبَوْا فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ وَعَذْقَ ابْنِ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ وَأَصْنَافَهُ ثُمَّ ابْعَثْ إِلَىَّ ". قَالَ فَفَعَلْتُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَلَسَ فِي أَعْلاَهُ أَوْ فِي أَوْسَطِهِ ثُمَّ قَالَ " كِلْ لِلْقَوْمِ ". قَالَ فَكِلْتُ لَهُمْ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمْ ثُمَّ بَقِيَ تَمْرِي كَأَنْ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَىْءٌ.
It was narrated that Jabir said:"Abdullah bin 'Amr bin Haram died, leaving behind debts. I asked the Messenger of Allah to intercede with his creditors so that they would waive part of the debt. He asked them to do that but they refused. The Prophet said to me: 'Go and sort your dates into their different kinds: The 'Ajwah on one side, the cluster of Ibn Zaid on another side, and so on. Then send for me.' I did that, then the Messenger of Allah came and sat at the head or in the middle of the heaps. Then he said: 'Measure them out for the people.' So I measured them out for them until I had paid them all off, and my dates were left as if nothing had been taken from them
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( ان کے والد ) عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ انتقال فرما کر گئے اور ( اپنے ذمہ لوگوں کا ) قرض چھوڑ گئے تو میں نے ان کے قرض خواہوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرض میں کچھ کمی کر دینے کی سفارش کرائی تو آپ نے ان سے کم کرانے کی گزارش کی، لیکن وہ نہ مانے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جاؤ اور ہر قسم کی کھجوروں کو الگ الگ کر دو، عجوہ کو علیحدہ رکھو اور عذق بن زید اور دوسری قسموں کو الگ الگ کرے کے رکھو۔ پھر مجھے بلاؤ“، تو میں نے ایسا ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور سب سے اونچی والی ڈھیر پر یا بیچ والی ڈھیر پر بیٹھ گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”لوگوں کو ناپ ناپ کر دو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں انہیں ناپ ناپ کر دینے لگا یہاں تک کہ میں نے سبھی کو پورا پورا دے دیا پھر بھی میری کھجوریں بچی رہیں، ایسا لگتا تھا کہ میری کھجوروں میں کچھ بھی کمی نہیں آئی ہے۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ رَجُلاً عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي أُعْمِرَهَا يَرِثُهَا مِنْ صَاحِبِهَا الَّذِي أَعْطَاهَا مَا وَقَعَ مِنْ مَوَارِيثِ اللَّهِ وَحَقِّهِ .
Shua'ib narrated from Az-Zuhri, who said:"Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman narrated to me, that Jabir told him: 'The Messenger of Allah ruled that whoever gives a lifelong gift to a man, it belongs to him and to his heirs. It belongs to the one to whom it was given, on the basis of 'Umra. It will be inherited from its recipient according to Allah's (injunctions on) inheritance and its rights
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ جس شخص نے کسی کو کوئی چیز یہ کہہ کر عمریٰ کیا کہ اس کا اور اس کی اولاد کا ہے تو یہ اسی کا ہو گا جسے اس نے عمریٰ کیا ہے، اور اس کے ساتھی سے جسے اس نے دیا ہے اللہ کے مقرر کئے ہوئے حصوں اور اس کے حق کے مطابق اس کے ورثاء وارث ہوں گے ( دینے والے کو کچھ نہیں لوٹے گا ) ۔
أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَاللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَبِيبٍ، مَوْلَى عُرْوَةَ عَنْ بُدَيَّةَ، - وَكَانَ اللَّيْثُ يَقُولُ نَدَبَةَ - مَوْلاَةِ مَيْمُونَةَ عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ تَحْتَجِزُ بِهِ .
It was narrated that Maimunah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) would fondle one of his wives when she was menstruating, if she wore and Izar (waist wrap) that reached halfway down her thighs or to her knees
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حائضہ بیوی سے چمٹتے جب وہ تہبند باندھے ہوتی جو کبھی اس کے دونوں رانوں کے نصف تک پہنچتا، اور کبھی گھٹنوں تک۔ لیث کی روایت میں ہے: وہ اسے اپنی کمر پر باندھے ہوتی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ ابْنَ عَمٍّ لِي أَتَيْتُهُ أَسْأَلُهُ فَلاَ يُعْطِينِي وَلاَ يَصِلُنِي ثُمَّ يَحْتَاجُ إِلَىَّ فَيَأْتِينِي فَيَسْأَلُنِي وَقَدْ حَلَفْتُ أَنْ لاَ أُعْطِيَهُ وَلاَ أَصِلَهُ فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَأُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِي .
It was narrated from Abu Al-Ahwas that his father said:"I said: 'O Messenger of Allah, I have a cousin, and I come to him and ask him (for help) but he does not give me anything, and he does not uphold the ties of kinship with me. Then, when he needs me, he comes to me and asks me (for help). I swore that I would not give him anything, nor uphold the ties of kinship with him.' He commanded me to do that which is better and to offer expiation for my oath
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے میرے چچا زاد بھائی کو دیکھا؟ میں اس کے پاس اس سے کچھ مانگنے آتا ہوں تو وہ مجھے نہیں دیتا اور مجھ سے صلہ رحمی نہیں کرتا ہے ۱؎، پھر اسے میری ضرورت پڑتی ہے تو وہ میرے پاس مجھ سے مانگنے آتا ہے، میں نے قسم کھا لی ہے کہ میں نہ اسے دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا، تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں وہی کروں جو بہتر ہو اور میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ .
It was narrated from 'Abdullah that:The Messenger of Allah [SAW] said: "The first matter concerning which scores will be settled among the people on the Day of Resurrection will be bloodshed
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي نُخَيْلَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
It was narrated that Jarir said:"I came to the Messenger of Allah" and he mentioned something similar
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ يُخَلِّلُ رَأْسَهُ بِأَصَابِعِهِ حَتَّى إِذَا خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدِ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ غَرَفَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ .
It was narrated that 'Aishah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ0 performed Ghusl from Janabah, he would wash his hands, then perform Wudu' as for prayer, then run his fingers through his hair until he was sure the water had reached the scalp, then he would pour water over his head three times, then wash the rest of his body)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ جب آپ کو یہ محسوس ہو جاتا کہ سر کی پوری جلد تک پانی پہنچا لیا ہے، تو اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر پورے جسم کو دھوتے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا غُلاَمٌ شَابٌّ " أَنْ لاَ تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلاَ عَصَبٍ " .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Ukaim said:"The letter of the Messenger of Allah was read to us when I was a young boy: 'Do not make use of the skins and sinew of dead animals
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ وَلاَ مَاشِيَةٍ وَلاَ أَرْضٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"Whoever keeps a dog that is not a dog used for hunting, herding livestock or guarding land, two qirats will be deducted from his reward each day
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أَضْحَى وَانْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا . مُخْتَصَرٌ .
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenge of Allah addressed us on the Day of Sacrifice, and he went toward two Amlah rams and sacrificed them." An abridgment. (Sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَلاَ بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلاَّ بَيْعَ الْخِيَارِ " .
It was narrated from Ibn Al-Had, from 'Abdullah bin Dinar, from 'Abdullah bin 'Umar, that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:"When two people meet to engage in trade, the transaction between them is not binding until they separate, unless they have chosen to conclude the transaction
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الآيَاتِ الَّتِي، فِي الْمَائِدَةِ الَّتِي قَالَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ } إِلَى { الْمُقْسِطِينَ } إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي الدِّيَةِ بَيْنَ النَّضِيرِ وَبَيْنَ قُرَيْظَةَ وَذَلِكَ أَنَّ قَتْلَى النَّضِيرِ كَانَ لَهُمْ شَرَفٌ يُودَوْنَ الدِّيَةَ كَامِلَةً وَأَنَّ بَنِي قُرَيْظَةَ كَانُوا يُودَوْنَ نِصْفَ الدِّيَةِ فَتَحَاكَمُوا فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَلِكَ فِيهِمْ فَحَمَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحَقِّ فِي ذَلِكَ فَجَعَلَ الدِّيَةَ سَوَاءً .
It was narrated from Dawud hin Al-Husain, from 'Ikrimah, from Ibn 'Abbas, that the Verses in AL-Ma'idah, in which Allah, the Mighty and Sublime, says:"Either judge between them, or turn away from them. If you turn away from then up to: those who act justly."[1] - were revealed concerning the matter of blood money between An-Nadir and Quraizah. That was because the slain of An-Nadir were of noble status, so the blood money would be paid in full for them, but for Banu Quraizah only half of the blood money would be paid. They referred the matter to the Messenger of Allah for judgment, then Allah, the Mighty and Sublime, revealed that concerning them, so the Messenger of Allah told them to do the right thing and he made the blood money equal
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نَحْزُرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلاَثِينَ آيَةً قَدْرَ سُورَةِ السَّجْدَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ وَفِي الأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ .
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"We used to estimate how long the Messenger of Allah (ﷺ) stood when praying in Zuhr and 'Asr. We estimated that he stood in Zuhr for as long as it take to recite thirty verses, as long as Surat As-Sajadah in the fits two Rak'ahs, and half that in the last two. And we estimated that he stood for as long in the fits two Rak'ahs, and half that in the last two. And we estimated that he stood for as long in the first two Rak'ahs of 'Asr as he stood in the last two Rak'ahs of Zuhr, and we estimated that he stood half as long as that in the last two Rak'ahs of 'Asr
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، تو ہم نے ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ سورۃ السجدہ کی تیس آیتوں کے بقدر لگایا، اور آخر کی دونوں رکعتوں میں اس کا آدھا، اور ہم نے عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر لگایا، اور عصر کی آخری دونوں رکعتوں کا اندازہ اس کا آدھا لگایا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَرَقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا مَا نُكَلِّمُهُ فِيهَا مَا مِنْ أَحَدٍ يُكَلِّمُهُ إِلاَّ حِبُّهُ أُسَامَةُ . فَكَلَّمَهُ فَقَالَ " يَا أُسَامَةُ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ هَلَكُوا بِمِثْلِ هَذَا كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِنْ سَرَقَ فِيهِمُ الدُّونُ قَطَعُوهُ وَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُهَا " .
It was narrated from 'Aishah that:a woman stole at the time of Messenger of Allah and they said: "We cannot speak to him concerning her; there is no one who can speak to him except his beloved, Usamah." So he spoke to him, and he said"O Usamah, the Children of Israel were destroyed for such a thing. Whenever a noble person among them stole, they would let him go, but if a low-class person among them stole, they would cut off his hand. If it were Fatimah bint Muhammad (who stole), I would cut off her hand
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا قَالَ أَيُّ آيَةٍ قَالَ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ وَالْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ
It was narrated that Tariq bin Shihab said:"A Jewish man came to 'Umar bin Al-Khattab and said: 'O Commander of the Believers! There is a Verse in your Book which you recite; if it had been revealed to us Jews we would have taken that day as a festival.' He said: 'Which Verse is that?' He said: 'This day, I have perfected your religion for you, completed My favor upon you, and have chosen for you Islam as your religion.' 'Umar said: 'I know the place where it was revealed and the day on which it was revealed. It was revealed to the Messenger of Allah [SAW] at 'Arafat, on a Friday
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، وَذَكَرَ، آخَرَ قَبْلَهُ عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، أَنَّ شُيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رُوَيْفِعَ بْنَ ثَابِتٍ، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا رُوَيْفِعُ لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّةٍ أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا بَرِيءٌ مِنْهُ " .
Ruwaifi' bin Thabit said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'O Ruwaifi', you may live for a long time after me, so tell the people that whoever ties up his beard, or twists it, or hangs an amulet, or cleans himself (after relieving himself) with animal dung or bones, Muhammad has nothing to do with him
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ قَالَ " إِنَّ هَذِهِ الصَّلاَةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا وَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ " . وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ .
It was narrated that Abu Basrah Al-Ghifari said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led us in praying 'Asr in Al-Mukhammas. He said: 'This prayer was enjoined upon those who came before you, but they neglected it. Whoever prays it regularly will have a two-fold reward, and there is no prayer after it until the Shahid appears." And the Shahid is "the star." [1] [1] This is a statement of one of the narrators, and Allah knows best
ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مخمص ۱؎ میں عصر پڑھائی، اور فرمایا: یہ نماز تم سے پہلے جو لوگ گزرے ان پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا، جو اس پر محافظت کرے گا اسے دہرا اجر ملے گا، اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ «شاہد» طلوع ہو جائے ۲؎،«شاہد» ستارہ ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ كَتَبَ أَبِي وَكَتَبْتُ لَهُ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضِي سِجِسْتَانَ أَنْ لاَ، تَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ " .
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Abi Bakrah said:"My father wrote to 'Ubaidullah bin Abi Bakrah - who was the judge of Sijistan - saying: 'Do not pass judgment between two people when you are angry, for I heard the Messenger of Allah [SAW] say: No one should pass judgment between two people when he is angry
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي بِلاَلُ بْنُ يَحْيَى، أَنَّ شُتَيْرَ بْنَ شَكَلٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي ثُمَّ قَالَ " قُلْ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَشَرِّ بَصَرِي وَشَرِّ لِسَانِي وَشَرِّ قَلْبِي وَشَرِّ مَنِيِّي " . قَالَ حَتَّى حَفِظْتُهَا قَالَ سَعْدٌ وَالْمَنِيُّ مَاؤُهُ . خَالَفَهُ وَكِيعٌ فِي لَفْظِهِ .
It was narrated that Shakal bin Humaid said:"I came to the Prophet [SAW] and said: 'O Prophet of Allah, teach me words by which I may seek refuge (with Allah).' He took me by the hand then said: 'Say: A'udhu bika min sharri sam'i, wa sharri basari, wa sharri lisani, wa sharri qalbi, wa sharri mani (I seek refuge in You from the evil of my hearing, the evil of my seeing, the evil of my tongue, the evil of my heart, and the evil of my sperm),' until I had memorized it." Waki' contradicted him in the wordings
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَنْبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا وَلاَ الْبُسْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا وَانْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ " .
It was narrated from Abu Qatadah that:The Messenger of Allah [SAW] said: "Do not soak Az-Zahuw and ripe dates together, nor Al-Busr and raisins together. Soak each one of them on its own
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، يَقُولُ أَنْبَأَنَا رَجُلٌ، مِنْ ثَقِيفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُنَادِيَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم يَعْنِي فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ فِي السَّفَرِ يَقُولُ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ .
It was narrated that 'Amr bin Aws said:"A man of Thaqif told us that he heard the caller of the Messenger of Allah (S.A.W) on a rainy night during a journey saying: 'Hayya 'ala as-salah, Hayya 'ala al'falah, sallu fi rihalikum (Come to prayer, come to prosperity, pray in your dwellings)
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ ہمیں قبیلہ ثقیف کے ایک شخص نے خبر دی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو سفر میں بارش کی رات میں «حى على الصلاة، حى على الفلاح، صلوا في رحالكم» نماز کے لیے آؤ، فلاح ( کامیابی ) کے لیے آؤ، اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو کہتے سنا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ تَنَاشُدِ الأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) forbade reciting poetry in the Masjid
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَىْءٌ " .
It was narrated that Abu Huraira said:"The Messenger of Allah(ﷺ)said: 'No one of you should pray in a single garment with no part of it on his shoulder
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس کا کوئی حصہ اس کے کندھے پر نہ ہو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ قَزَعَةَ، مَوْلًى لِعَبْدِ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُصَلِّي مَعَهُ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"I prayed beside the Prophet (ﷺ) and Ayesha was behind us praying with us, and I was beside the Prophet (ﷺ) praying with him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہی تھیں، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رضى الله عنهما - فَافْتَتَحُوا بِـ { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ }
It was narrated from Anas:"I prayed with the Prophet (ﷺ) and with Abu Bakr and Umar, may Allah be pleased with them both, and they started with "All the praise and thanks be to Allah, the Lord of all that exists
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی تو ان لوگوں نے «الحمد لله رب العالمين» سے قرآت شروع کی۔