بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
21
5 hadith
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَلَسَ يَجْلِسُ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ لَهُ ابْنٌ صَغِيرٌ يَأْتِيهِ مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَيُقْعِدُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَهَلَكَ فَامْتَنَعَ الرَّجُلُ أَنْ يَحْضُرَ الْحَلْقَةَ لِذِكْرِ ابْنِهِ فَحَزِنَ عَلَيْهِ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا لِي لاَ أَرَى فُلاَنًا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ بُنَيَّهُ الَّذِي رَأَيْتَهُ هَلَكَ ‏.‏ فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ بُنَيِّهِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ هَلَكَ فَعَزَّاهُ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا فُلاَنُ أَيُّمَا كَانَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ تَمَتَّعَ بِهِ عُمْرَكَ أَوْ لاَ تَأْتِي غَدًا إِلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلاَّ وَجَدْتَهُ قَدْ سَبَقَكَ إِلَيْهِ يَفْتَحُهُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَلْ يَسْبِقُنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُهَا لِي لَهُوَ أَحَبُّ إِلَىَّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَاكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏
Mu 'awiyah bin Qurrah narrated that his father said:"When the Prophet of Allah sat, some of his Companions would sit with him. Among them was a man who had a little son who used to come to him from behind, and he would make him sit in front of him. He (the child) died, and the man stopped attending the circle because it reminded him of his son, and made him feel sad. The Prophet missed him and said: 'Why do I not see so-and-so?' They said: O Messenger of Allah, his son whom you saw has died.' The Prophet met him and asked him about his son, and he told him that he had died. He offered his condolences and said: 'O son-and-so, which would you like better, to enjoy his company all you life, or to come to any of the gates of Paradise on the Day of Resurrection, and find that he arrived there before you, and he is opening the gate for you?' he said: 'O Prophet of Allah! For him to get to the gate of Paradise before me and open it for me is dearer to me.' He said: 'You will have that
قرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تو آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے پاس بیٹھتی، ان میں ایک ایسے آدمی بھی ہوتے جن کا ایک چھوٹا بچہ ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آتا، تو وہ اسے اپنے سامنے ( گود میں ) بٹھا لیتے ( چنانچہ کچھ دنوں بعد ) وہ بچہ مر گیا، تو اس آدمی نے اپنے بچے کی یاد میں محفل میں آنا بند کر دیا، اور رنجیدہ رہنے لگا، تو ( جب ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں پایا تو پوچھا: ”کیا بات ہے؟ میں فلاں کو نہیں دیکھ رہا ہوں؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ننھا بچہ جسے آپ نے دیکھا تھا مر گیا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ملاقات کی، ( اور ) اس کے بچے کے بارے میں پوچھا، تو اس نے بتایا کہ وہ مر گیا، تو آپ نے اس کی ( موت کی خبر ) پر اس کی تعزیت کی، پھر فرمایا: ”اے فلاں! تجھ کو کون سی بات زیادہ پسند ہے؟ یہ کہ تم اس سے عمر بھر فائدہ اٹھاتے یا یہ کہ ( جب ) تم قیامت کے دن جنت کے کسی دروازے پر جاؤ تو اسے اپنے سے پہلے پہنچا ہوا پائے، وہ تمہارے لیے اسے کھول رہا ہو؟“ تو اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ جنت کے دروازے پر مجھ سے پہلے پہنچے، اور میرے لیے دروازہ کھول رہا ہو، آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے ایسا ( ہی ) ہو گا“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَحَرَّى صِيَامَ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ‏.‏
It was narrate from Jubair bin Nufair that 'Aishah said:"The Messenger of Allah used to be keen to fast on Mondays and Thursday
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو شنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے روزہ کا اہتمام فرماتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ إِذْ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ نَاوِلِينِي الثَّوْبَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ إِنِّي لاَ أُصَلِّي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِكِ ‏"‏ ‏.‏ فَنَاوَلَتْهُ ‏.‏
Abu Hurairah said:"While the Messenger of Allah (ﷺ) was in the Masjid, he said: 'O 'Aishah, hand me the garment.' She said: 'I am not praying.' He said: 'It is not in your hand.' So she gave it to him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! مجھے کپڑا دے دو ، کہا: میں نماز نہیں پڑھتی ہوں ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑا دیا ۲؎۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Urwah that Aishah said:"The Messenger of Allah said: "There are five animals all of which are vermin and may be killed inside the sanctuary: Crow, kites, vicious dogs, mice and scorpions
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانوروں میں پانچ ایسے ہیں جو سب کے سب فاسق ( موذی ) ہیں وہ حرم میں ( بھی ) مارے جا سکتے ہیں: کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا، چوہیا اور بچھو“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْخَصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قُمُصِ حَرِيرٍ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا ‏.‏
It was narrated from Anas that:The Messenger of Allah [SAW] granted a concession to 'Abdur-Rahman bin 'Awf and Az-Zubair bin Al-'Awwam allowing them to wear silken shirts because of scabies that they were suffering from