بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
42 hadith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Qatadah said:"I heard Anas narrate that the Prophet (ﷺ) said: "Bow and prostrate properly when you bow and prostrate
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ رَفَعَهَا ‏.‏
It was narrated from Abu Qatadah that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray carrying Umamah. When he prostrated he put her down and when he stood up he picked her up again
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اور نماز کی حالت میں ( اپنی نواسی ) امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ سجدہ میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا لیا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْجُلاَحِ، مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَوْمُ الْجُمُعَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ سَاعَةً لاَ يُوجَدُ فِيهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلاَّ آتَاهُ إِيَّاهُ فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Friday is twelve hours in which there is no Muslim slave who asks Allah (SWT) for something but He will give it to him, so seek it in the last hour after 'Asr
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن بارہ ساعتوں ( گھڑیوں ) پر مشتمل ہے، اس کی ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتے ہوئے پایا جاتا ہے، تو اسے وہ دیتا ہے، تو تم اسے آخری گھڑی میں عصر کے بعد تلاش کرو ۱؎۔
أَخْبَرَنِي نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى طِنْفِسَةٍ لَهُ فَرَأَى قَوْمًا يُسَبِّحُونَ قَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلاَءِ قُلْتُ يُسَبِّحُونَ ‏.‏ قَالَ لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لأَتْمَمْتُهَا صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ لاَ يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ وَأَبَا بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ - رضى الله عنهم - كَذَلِكَ ‏.‏
Eisa bin Hafs bin 'Asim said:"My father told me: 'I was with Ibn Umar on a journey, and he prayed Zuhr and 'Asr with two rak'ahs each, then he went and sat on his carpet. He saw some people offering voluntary prayers and said: What are these people doing? I said: They are offering voluntary prayers. He said: If I had wanted to pray before and after (the obligatory prayer) I would have offered it in full. I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not pray more than two rak'ahs when traveling, and Abu Bakr (did likewise) until he died, as did 'Umar and 'Uthman, may Allah (SWT) be pleased with them all
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو انہوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، پھر اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے، تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے پوچھا: یہ لوگ ( اب ) کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ لوگ سنت پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: اگر میں اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز پڑھنے والا ہوتا تو میں فرض ہی کو پورا کرتا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، ابوبکر کے ساتھ رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی رہا یہ سب لوگ اسی طرح کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ بْنِ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ عِبَادٍ الْعَبْدِيُّ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةً يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ بَيْنَا أَنَا يَوْمًا وَغُلاَمٌ مِنَ الأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ مِنَ الأُفُقِ اسْوَدَّتْ فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا - قَالَ - فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ - قَالَ - فَوَافَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ - قَالَ - فَاسْتَقْدَمَ فَصَلَّى فَقَامَ كَأَطْوَلِ قِيَامٍ قَامَ بِنَا فِي صَلاَةٍ قَطُّ مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ثُمَّ رَكَعَ بِنَا كَأَطْوَلِ رُكُوعٍ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلاَةٍ قَطُّ مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ثُمَّ سَجَدَ بِنَا كَأَطْوَلِ سُجُودٍ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلاَةٍ قَطُّ لاَ نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ - قَالَ - فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسِ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَشَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ‏.‏ مُخْتَصَرٌ ‏.‏
Tha'labah bin 'Abbad Al-'Abdi from the people of Al-Basrah narrated that:He attended a Khutbah one day that was delivered by Samurah bin Jundub. In his Khutbah he mentioned a hadith from the Messenger of Allah (ﷺ). Samurah bin Jundub said: "One day a boy from among the Ansar and I were shooting at two targets of ours, during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), when the sun was at a height of two or three spears as it appears to one who is looking at the horizon. The sun turned black, and we said to one another, let us go to the masjid, for by Allah (SWT) this must herald some event concerning the Messenger of Allah (ﷺ) and his ummah. We went to the masjid and we saw the Messenger of Allah (ﷺ) coming out to the people. He went forward and prayed. He stood for the longest time that he had ever stood in any prayer in which he led us, but we did not hear him saying anything. Then he bowed for the longest time that he had ever bowed in any prayer in which he led us, but we did not hear him saying anything. Then he prostrated for the longest time that he had ever prostrated in any prayer in which he led us, but we did not hear him saying anything. The he did likewise in the second rak'ah. And the eclipse ended as he was sitting at the end of the second rak'ah. The he said the salam, then he praised and glorified Allah (SWT), and bore witness that there is none worthy of worship but Allah (SWT) and he bore witness that he was the slave and Messenger of Allah." Narrated in abridged form
ثعلبہ بن عباد العبدی بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک دن سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے اپنے خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ایک حدیث ذکر کی، سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک دن میں اور ایک انصاری لڑکا دونوں تیر سے نشانہ بازی کر رہے تھے، یہاں تک کہ سورج دیکھنے والے کی نظر میں افق سے دو تین نیزے کے برابر اوپر آ چکا تھا کہ اچانک وہ سیاہ ہو گیا، ہم میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا: چلو مسجد چلیں، قسم اللہ کی اس سورج کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی امت میں ضرور کوئی نیا واقعہ رونما کرے گا، پھر ہم مسجد گئے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے وقت میں پایا جب آپ لوگوں کی طرف نکلے، پھر آپ آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی، تو اتنا لمبا قیام کیا کہ ایسا قیام آپ نے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہم آپ کی آواز سن نہیں رہے تھے، پھر آپ نے رکوع کیا تو اتنا لمبا رکوع کیا کہ ایسا رکوع آپ نے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہم آپ کی آواز سن نہیں رہے تھے، پھر آپ نے ہمارے ساتھ سجدہ کیا تو اتنا لمبا سجدہ کیا کہ ایسا سجدہ آپ نے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہم آپ کی آواز سن نہیں رہے تھے، پھر آپ نے ایسے ہی دوسری رکعت میں بھی کیا، دوسری رکعت میں آپ کے بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج صاف ہو گیا، تو آپ نے سلام پھیرا، اور اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی، اور گواہی دی کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور گواہی دی کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، ( یہ حدیث مختصر ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلاَةَ الْخَوْفِ فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وُجُوهُهُمْ قِبَلَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامُوا مَقَامَ الآخَرِينَ وَجَاءَ الآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ‏.‏
Jabir bin 'Abdullah narrated that :The Messenger of Allah (ﷺ) led his companions in offering the fear prayer. One group prayed with him while the other was facing the enemy. He led them in praying two rak'ahs, then they went and took the place of the others, and the others came and he led them in praying two rak'ahs, then he said the taslim
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک گروہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور ایک گروہ کے چہرے دشمن کے مقابل رہے، تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھائی، پھر وہ لوگ اٹھ کر دوسرے لوگوں کی جگہ میں جا کھڑے ہوئے، اور دوسرے ان کی جگہ آ گئے تو آپ نے انہیں ( بھی ) دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ عَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِي عَنِّي قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَلَنْ تُجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Al-Bara' said:"The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us on the day of An-Nahr after the prayer, then he said: 'Whoever prays and offers the sacrifice as we do, his ritual is complete, and whoever offers the sacrifice before the prayer, that is just ordinary meat.' Abu Burdah bin Niyar said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), by Allah, we offered the sacrifice before I came out to the prayer, because I knew that today is the day of eating and drinking, so I hastened to do it and I ate of it and fed it to my family and neighbors.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'That is just a sheep for meat.' He said: 'I have a jadha'ah that is better than two meaty sheep, will that be sufficient (as a sacrifice) for me?' He said: 'Yes, but it will not be sufficient for anyone after you
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا، پھر فرمایا: جس نے ہماری ( طرح ) نماز پڑھی، اور ہماری طرح قربانی کی تو اس نے قربانی کو پا لیا، اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی، تو وہ گوشت کی بکری ہے ۱؎ تو ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا، میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، اس لیے میں نے جلدی کر دی، چنانچہ میں نے ( خود ) کھایا، اور اپنے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گوشت کی بکری ہوئی ( اب قربانی کے طور پر دوسری کرو ) تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو گوشت کی دو بکریوں سے ( بھی ) اچھا ہے، تو کیا وہ میری طرف سے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، مگر تمہارے بعد وہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنَّا نُؤْمَرُ بِالسِّوَاكِ إِذَا قُمْنَا مِنَ اللَّيْلِ ‏.‏
It was narrated that Hudhaifah said:"We were commanded to use the siwak when we got up to pray at night
ابوسنان ابوحصین سے وہ ابووائل شقیق بن سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ہم رات میں بیدار ہوتے تو ہمیں مسواک کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ، قَالَ لَمَّا حُضِرَتْ بِنْتٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَغِيرَةٌ فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَمَّهَا إِلَى صَدْرِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَقَضَتْ وَهِيَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أُمَّ أَيْمَنَ أَتَبْكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ مَا لِي لاَ أَبْكِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَبْكِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي لَسْتُ أَبْكِي وَلَكِنَّهَا رَحْمَةٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"When a young daughter of the Messenger of Allah was dying, the Messenger of Allah picked her up and held her to his chest, then he put his hand on her, and she died in front of the Messenger of Allah. Umm Ayman wept and the Messenger of Allah said 'Oh Umm Ayman, do you weep while the Messenger of Allah is with you?' She said: 'Why shouldn't I weep when the Messenger of Allah is weeping." So the Messenger of Allah said "Verily, I am not weeping. Rather it is compassion.' Then the Messenger of Allah said: 'The believer is fine whatever the situation; even when his soul is being pulled from his body and he praises Allah, the Mighty and Sublime
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چھوٹی بچی کے مرنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اپنی گود میں ) لے کر اپنے سینے سے چمٹا لیا، پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھا، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی مر گئی، ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ام ایمن! تم رو رہی ہو جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس موجود ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( خود ) رو رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں رو نہیں رہا ہوں، البتہ یہ اللہ کی رحمت ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ہر حال میں اچھا ہے، اس کی دونوں پسلیوں کے بیچ سے اس کی جان نکالی جاتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا رہتا ہے ۔
Narrated by Ikramah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، - مِصِّيصِيٌّ - قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مُرْسَلٌ ‏.‏
Narrated 'Ikramah:A similar, Mursal, report was narrated from 'Ikrimah
اس سند سے بھی عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ، قَالَ قَالَ جَرِيرٌ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَأْتِينَا نَاسٌ مِنْ مُصَدِّقِيكَ يَظْلِمُونَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَإِنْ ظَلَمَ قَالَ ‏"‏ أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالُوا وَإِنْ ظَلَمَ قَالَ ‏"‏ أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ جَرِيرٌ فَمَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ وَهُوَ رَاضٍ ‏.‏
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Hilal said:"Jarir said: 'Some Bedouin people came to the Prephet and said: O Messenger of Allah, some of your Zakah collectors come to us and they are unfair. He said: Keep your Zakah collectors happy. They said: Even if they are unfair? He said: Keep your Zakah collectors happy. Then they said: Even if they are unfair. He said: Keep your Zakah collectors happy. Jarir said: No Zakah collector left me, since I heard this from the Messenger of Allah but he was pleased with me
جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دیہات کے لوگ آئے، اور انہوں آپ سے عرض کیا: آپ کے بھیجے ہوئے کچھ محصل زکاۃ ہمارے پاس آتے ہیں جو ہم پر ظلم کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی و مطمئن کرو“، انہوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ ظلم کریں۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو“، انہوں نے پھر عرض کیا: اگرچہ وہ ظلم کریں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو“۔ جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی اسی وقت سے کوئی محصل زکاۃ میرے پاس سے راضی ہوئے بغیر نہیں گیا۔
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا ‏.‏
It was narrated from Hudhifah that the Messenger of Allah (ﷺ)came to some people's garbage dump and urinated while standing
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے کوڑا خانہ پر آئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ ‏ "‏ أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِ أَبِيكَ فَحُجَّ عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Az-Zubair that the Prophet said to a man:"You are the oldest son of your father, so perform Hajj on his behalf
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم اپنے باپ کا بڑے بیٹے ہو تو تم ان کی طرف سے حج کرو“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلاَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا وَلاَ يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The dust in the cause of Allah and the smoke of Hell will never be combined in the lungs of a slave, and the stinginess and faith can never be combined in a slave's heart
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے اور بخل اور ایمان یہ دونوں بھی کسی بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے“۔
Narrated by Abdullah bin Buraidah
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رضى الله عنهما فَاطِمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّهَا صَغِيرَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَخَطَبَهَا عَلِيٌّ فَزَوَّجَهَا مِنْهُ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin Buraidah:It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said: "Abu Bakr and 'Umar, may Allah be pleased with them, proposed marriage to Fatimah but the Messenger of Allah said: 'She is young.' Then 'Ali proposed marriage to her and he married her to him
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ) فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے لیے پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ چھوٹی ہے“، پھر علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیا تو آپ نے ان کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ، يُحَدِّثُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ يُطَلِّقُهَا ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ آخَرُ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَتَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ قَالَ ‏ "‏ لاَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet said, concerning a man who had a wife and he divorced her, then she married another man who divorced her before consummating the marriage with her, and (it was asked) whether she could go back to her first husband:"No, not until she tastes his sweetness
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آدمی کی بیوی ہوتی ہے وہ اسے طلاق دے دیتا ہے، پھر اس سے دوسرا شخص شادی کر لیتا ہے، پھر وہ دوسرا شخص اس سے جماع کیے بغیر طلاق دے دیتا ہے، تو وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف لوٹ جانا چاہتی ہے؟ تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت ایسا نہیں کر سکتی جب تک کہ اس ( دوسرے شوہر ) کے شہد کو نہ چکھ لے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ سَبَقَ إِلاَّ فِي نَصْلٍ أَوْ خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"There should be no awards (for victory in a competition) except on arrows, camels or horses
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے بڑھنے کی شرط صرف تین چیزوں میں لگانا درست ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں“۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ، اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ سِتَّ بَنَاتٍ وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا فَلَمَّا حَضَرَ جُدَادُ النَّخْلِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ دَيْنًا كَثِيرًا وَإِنِيِّ أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَةٍ ‏"‏‏.‏ فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ كَأَنَّمَا أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ادْعُ أَصْحَابَكَ ‏"‏‏.‏ فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي وَأَنَا رَاضٍ أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي لَمْ تَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً‏.‏
Jabir bin 'Abdullah narrated that his father was martyred on the Day of Uhud, and he left behind six daughters, and some outstanding debts. When the time to pick the dates came, I went to the Messenger of Allah and said:"You know that my father was martyred on the Day of Uhud and he left behind a great deal of debt. I would like the creditors to see you." He said: "Go and pile up the dates in separate heaps." I did that, then I called him. When they saw him, it was as if they started to put pressure on me at that time. When he saw what they were doing, he went around the biggest heap three times, then he sat on it then said: "Call your companions (the creditors)." Then he kept on weighing them out for them, until Allah cleared all my father's debts. I am pleased that Allah cleared my father's debts without even a single date being missed
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ ان کے والد ۱؎ اپنے پیچھے چھ بیٹیاں اور قرض چھوڑ کر جنگ احد میں شہید ہو گئے، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد جنگ احد میں شہید کر دیے گئے ہیں اور وہ بہت زیادہ قرض چھوڑ گئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپ کو ( وہاں موجود ) دیکھیں ( تاکہ مجھ سے وصول کرنے کے سلسلے میں سختی نہ کریں ) آپ نے فرمایا: ”جاؤ اور ہر ڈھیر الگ الگ کر دو“، تو میں نے ( ایسا ہی ) کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، جب ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس گھڑی گویا وہ لوگ مجھ پر اور بھی زیادہ غصہ ہو گئے ۲؎ جب آپ نے ان لوگوں کی حرکتیں جو وہ کر رہے تھے دیکھیں تو آپ نے سب سے بڑے ڈھیر کے اردگرد تین چکر لگائے پھر اسی ڈھیر پر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”اپنے قرض خواہوں کو بلا لاؤ“ جب وہ لوگ آ گئے تو آپ انہیں برابر ( ان کے مطالبے کے بقدر ) ناپ ناپ کر دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کرا دی اور میں اس پر راضی و خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کر دی اور ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ أَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"If one of us was menstruating, the Messenger of Allah (ﷺ) would tell her to put on an Izar (waist wrap) then he would fondle her
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم سے کوئی جب حائضہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس سے چمٹتے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ أَعْمَرَ رَجُلاً عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَدْ قَطَعَ قَوْلُهُ حَقَّهُ وَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَ وَلِعَقِبِهِ ‏"‏ ‏.‏
Al-Laith narrated from Ibn Shihab, from Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman, from Jabir, who said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever gives a life-long gift to a man, it belongs to him and to his heirs; his words (when he gave the gift) put an end to his rights over it, and it belongs to the one to whom it was given on the basis of 'Umra, and to his heirs
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے کوئی چیز یہ کہہ کر عمریٰ کی کہ یہ اس کی ہے اور اس کی اولاد کی ہے تو اس کی اس بات نے اس کے حق کو کاٹ دیا، یعنی ہمیشہ کے لیے اس کا حق ختم ہو گیا، اب وہ چیز ہمیشہ کے لیے اس کی ہو گی جس کو عمریٰ میں دی گئی ہے، اور اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد کی ہو گی“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَدَعْ يَمِينَهُ وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him leave his oath, and do that which is better, and offer expiation for it
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر بات پائے تو اپنی قسم کو ترک کر دے اور وہی کرے جو بہتر ہو، اور قسم کا کفارہ ادا کرے ۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلَّمٍ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تُحَدِّثُ قَالَتْ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا بَلَى ‏.‏ قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي هُوَ عِنْدِي تَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي فَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلاَّ أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ حَشْيَا رَابِيَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُهُ أَمَامِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ - قَالَتْ - فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ - قَالَ - فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُ مِنْكِ فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ رَوَاهُ عَاصِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَائِشَةَ عَلَى غَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ ‏.‏
Aishah said:"Shall I not tell you about the Prophet and I?" We said: "Yes." She said: "When it was my night when he" -meaning the Prophet- "was with me, he came in, placed his shoes by his feet, lay down his Rida' (upper garment), and spread the edge of his Izar (lower garment) on his bed. As soon as he thought that I had gone to sleep, he put his shoes on slowly, and picked up his Rida' slowly. Then he opened the door slowly, went out and shut it slowly. I put my garment over my head, covered myself and put on my Izar (lower garment), and I set out after him until he came to Al-Baqi', raised his hands three times and stood there for a long time. Then he left and I left, he hurried and I hurried, he ran and I ran, and I got there before him and entered (the house). I had only just laid down when he came in and said: 'O 'Aishah, why are you out of breath?' She said: 'No.' He said: 'Either you tell me or Allah, the All-Aware, All-Knowing, will tell me.' I said: 'O Messenger of Allah, may my father and mother be sacrificed for you;' and I told him the story. He said: 'You were the black shape I saw in front of me?' I said: 'Yes.'" She said: "He gave me a shove in the chest that hurt me and said: 'You thought that Allah and His Messenger would be unfair to you.' She said: 'Whatever people conceal, Allah knows it.' He said: 'Yes.' He said: 'Jibril came to me when you saw (me leave) but he did not enter upon you because you have taken off your garments. So he called me but he concealed himself from you, and I answered him, but I concealed it from you. I thought that you had gone to sleep and I did not want to wake you, and I was afraid that you would feel lonely. He told me to go to Al-Baqi' and pray for forgiveness for them.'" 'Asim reported it from 'Abdullah bin 'Amir, from 'Aishah, with a wording different from this
محمد بن قیس بن مخرمہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: کیا میں تم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنا ایک واقعہ نہ بیان کروں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ وہ بولیں: جس رات میری باری تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تھے، آپ عشاء سے لوٹے اور جوتے اپنے پیروں کے پاس رکھ لیے، اپنی چادر رکھی اور بستر پر تہبند بچھایا، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی جب آپ کو اندازہ ہوا کہ میں سو چکی ہوں، آپ نے آہستہ سے جوتے پہنے اور آہستہ سے چادر لی پھر دھیرے سے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر دھیرے سے بھیڑ دیا، میں نے بھی اوڑھنی اپنے سر پر ڈالی، چادر اوڑھی، پھر تہبند پہن کر آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، تو آپ نے اپنے ہاتھ تین بار اٹھائے، قیام کو طویل کیا پھر پلٹے تو میں بھی پلٹی، اور تیزی سے چلے، میں بھی تیزی سے چلی، پھر آپ نے رفتار کچھ اور تیز کر دی تو میں نے بھی رفتار تیز کر دی پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی اور میں آپ سے آگے نکل گئی اور اندر داخل ہو گئی اور اب میں لیٹی ہی تھی کہ آپ اندر آ گئے اور فرمایا: ”کیا بات ہے عائشہ! پیٹ کیسا پھولا ہے، تمہاری سانسیں کیوں پھول رہی ہیں؟ بتاؤ ورنہ مجھے لطیف و خبیر یعنی اللہ تعالیٰ بتا دے گا“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر انہوں نے آپ کو پورا واقعہ بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہارا ہی سایہ تھا جو میں نے اپنے آگے دیکھا؟“ میں نے کہا: ہاں، پھر آپ نے میرے سینے پر ایک ایسی تھپکی ماری کہ مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا: ”کیا تم سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا؟“ انہوں نے کہا: کوئی بات چاہے لوگوں سے کتنی ہی مخفی رہے، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے جان ہی لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ( اور ) کہا: جبرائیل میرے پاس آئے جب تم نے مجھے دیکھا، لیکن وہ اندر تمہارے سامنے نہیں آ سکتے تھے کہ تم اپنے کپڑے اتار چکی تھیں۔ انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا اور میں نے اسے تم سے چھپایا ( یعنی دھیرے سے کہا ) اور میں سمجھا کہ تم سو چکی ہو، اور مجھے ڈر تھا کہ تم تنہائی میں وحشت نہ کھاؤ، تو انہوں ( جبرائیل ) نے مجھے حکم دیا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے استغفار کروں۔ عاصم نے یہ حدیث دوسرے الفاظ کے ساتھ عبداللہ بن عامر سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا سَرِيعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ الْخَصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلاَةُ وَأَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'The first thing concerning which a person will be brought to account will be the Salah, and the first thing concerning which scores will be settled among the people, will be bloodshed
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَالشَّعْبِيِّ، قَالاَ قَالَ جَرِيرٌ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَهُ أُبَايِعُكَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا أَحْبَبْتُ وَفِيمَا كَرِهْتُ ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَوَتَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَا جَرِيرُ أَوَتُطِيقُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُلْ فِيمَا اسْتَطَعْتُ ‏"‏ ‏.‏ فَبَايَعَنِي وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ‏.‏
Jarir said:"I came to the Prophet and said to him: 'I pledge to you to hear and obey in what I like and what I dislike.' The Prophet said: 'Can you do that, O Jarir,' or, 'Are you able for that?' He said: Say: As much as I can.' So he accepted my pledge (for that), and that I be sincere toward every Muslim
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَقَالَ بِوَاسِطٍ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Prophet (ﷺ) used to like to start with the right as much as he could when purifying himself, putting on sandals and combing his hair" - and he (the narrator) said in Wasit (a place in Iraq): "And in all his affairs
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طہارت میں، جوتا پہننے میں، اور کنگھا کرنے میں جہاں تک ہو سکتا تھا داہنے کو پسند فرماتے۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ذَكَاةُ الْمَيْتَةِ دِبَاغُهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Prophet said: 'The dead animal is purified by tanning it
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ أَوْ زَرْعٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Mughaffal that the Prophet said:"Whoever keeps a dog, except a dog for hunting, herding livestock or farming, one Qurat will be deducted from his reward each day
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ‏.‏
It was narrated that Ans said:"The Messenger of Allah sacrificed two Amlah rams
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْمُتَبَايِعَانِ لاَ بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلاَّ بَيْعَ الْخِيَارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Yahya bin Sa 'eed , who said:"Nafi narrated to us from Ibn 'Umar, who said: 'The Messenger of Allah said: There is no transaction between the two parties until they separate, unless they have chosen to conclude the transaction."" (Sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Ali (ﷺ) that the Prophet (ﷺ) said:"They distracted us from Salatul-Wusta (the middle prayer) until the sun went down
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جنگ خندق کے موقع پر ) فرمایا: ان لوگوں ( کافروں ) نے ہمیں بیچ والی نماز سے مشغول کر دیا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا ۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَتَلَ أَخِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ كَمَا قَتَلَ أَخَاكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ اتَّقِ اللَّهَ وَاعْفُ عَنِّي فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لأَجْرِكَ وَخَيْرٌ لَكَ وَلأَخِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏.‏ قَالَ فَخَلَّى عَنْهُ قَالَ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ لَهُ قَالَ فَأَعْنَفَهُ ‏"‏ أَمَا إِنَّهُ كَانَ خَيْرًا مِمَّا هُوَ صَانِعٌ بِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah, from the father, that a man came to the Prophet and said:"This man killed my brother." He said: "Go and kill him as he killed your brother." The man said to him: "Fear Allah and let me go, for that will bring you a greater reward and will be better for you and your brother on the Day of Resurrection." So he let him go. The Prophet was told about that, so he asked him about it, and he told him what he had said. He said: "Pardoning him would be better for you than what he would have done for you on the Day of Resurrection when he said: 'O Lord, ask him why he killed me
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ أَنْ يَكُونَ أُسَامَةَ فَكَلَّمُوا أُسَامَةَ فَكَلَّمَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا أُسَامَةُ إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ كَانُوا إِذَا أَصَابَ الشَّرِيفُ فِيهِمُ الْحَدَّ تَرَكُوهُ وَلَمْ يُقِيمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا أَصَابَ الْوَضِيعُ أَقَامُوا عَلَيْهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from `A'ishah that:A woman stole (something) and she was brought to the Prophet. They said: "Who would dare to speak to the Messenger of Allah except Usamah." So they spoke to Usamah and he spoke to (the Prophet). The Prophet said: "O Usamah, the Children of Israel were destroyed because whenever a noble person among them committed a crime, for which a Hadd punishment was deserved, they would let him go. But if a low-class person among them committed such a crime, they would carry out the punishment on him. If Fatimah bint Muhammad were to steal, I would cut off her hand
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً مِنْ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ قَالَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمْ النَّارَ قَالَ فَيَقُولُ اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ مِنْهُمْ قَالَ فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا قَالَ وَيَقُولُ أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنْ الْإِيمَانِ ثُمَّ قَالَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّى يَقُولَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ إِلَى عَظِيمًا
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'No one of you disputes more intensely for something that is rightly his in this world, than the believers will dispute with their Lord for their brothers who have entered the Fire. They will say: 'Our Lord, our brothers used to pray with us and fast with us, and perform Hajj with us, and you have caused them to enter the Fire?' He will say: 'Go and bring forth whomever you recognize among them.' So they will go to them, and will recognize them by their appearances. Among them will be those who have been seized by the Fire up to the middle of their shins, and some among them those whom it has taken up to his ankles. They will bring them forth, then they will say: 'Our Lord, we have brought forth those whom You commanded us (to bring forth).' He will say: 'Bring forth everyone in whose heart is faith the weight of a Dinar.' Then He will say: 'Everyone in whose heart is faith the weight of half a Dinar,' until He will say: 'In whose heart is faith the weight of the smallest speck.'" Abu Sa'eed said: "Whoever does not believe this, let him read the Verse: 'Verily, Allah forgives not that partners should be set up with Him (in worship), but He forgives except that (anything else) to whom He wills up to a tremendous (sin)
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِ الْعُرُوقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الأَغَرِّ بْنِ حُصَيْنٍ النَّهْشَلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي، زِيَادُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ادْنُ مِنِّي ‏"‏ ‏.‏ فَدَنَا مِنْهُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى ذُؤَابَتِهِ ثُمَّ أَجْرَى يَدَهُ وَسَمَّتَ عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُ ‏.‏
Ziyad bin Al-Husain narrated that his father said:"When he came to the Prophet [SAW] in Al-Madinah, the Messenger of Allah [SAW] said to him: 'Come closer to me.' So he came closer to him, and he put his hand on his braid and wiped his head and prayed for him
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ أَقِمْ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ عِنْدَ الْفَجْرِ فَصَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ رَأَى الشَّمْسَ بَيْضَاءَ فَأَقَامَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ وَقَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَمَرَهُ مِنَ الْغَدِ فَنَوَّرَ بِالْفَجْرِ ثُمَّ أَبْرَدَ بِالظُّهْرِ وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ وَأَخَّرَ عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَصَلاَّهَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ وَقْتُ صَلاَتِكُمْ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said:"A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and asked him about the times of prayer. He said: 'Stay with us for these two days.' Then he told Bilal to say the Iqamah at dawn and he prayed Fajr. Then he told him to do that when the sun had passed its zenith and he prayed Zuhr. Then he told him to do that when the sun was still bright, and he said the Iqamah for 'Asr. Then he told him to do that when the last part of the sun had dissapeared, and he said the Iqamah for Maghrib. Then he told him to do that when the twilight had disappeared and he said the Iqamah for 'Isha'. The following day, he prayed Fajr when there was light, then he delayed Zuhr until it was cooler, and waited until it was much cooler before praying 'Asr but the sun was still clear, so he prayed 'Asr later than on the first day. Then he prayed Maghrib before the twilight disappeared. Then he told him to say the Iqamah for 'Isha' when one-third of the night had passed, and he prayed, then he said: 'Where is the one who was asking about the times of prayer? The times of your prayer are between the times you have seen
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: تم یہ دو دن ہمارے ساتھ قیام کرو ، آپ نے بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے فجر طلوع ہوتے ہی اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، پھر آپ نے جس وقت سورج ڈھل گیا، انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر جس وقت دیکھا کہ سورج ابھی سفید ہے ۱؎ آپ نے انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا، تو انہوں نے عصر کی تکبیر کہی، پھر جب سورج کا کنارہ ڈوب ہو گیا، تو آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق ۲؎ غائب ہو گئی، تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر دوسرے دن انہیں حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت خوب اجالا ہو جانے پر کہی، پھر ظہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب ٹھنڈا کر کے پڑھا، پھر عصر پڑھائی جب کہ سورج سفید ( روشن ) تھا، لیکن پہلے دن سے کچھ دیر ہو گئی تھی، پھر مغرب شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی، پھر بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب تہائی رات گزر گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھائی، پھر فرمایا: نماز کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟ تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا ۔
أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا وَلَدَاهُمَا فَأَخَذَ الذِّئْبُ أَحَدَهُمَا فَاخْتَصَمَتَا فِي الْوَلَدِ إِلَى دَاوُدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا قَالَتْ قَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى ‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ أَقْطَعُهُ بِنِصْفَيْنِ لِهَذِهِ نِصْفٌ وَلِهَذِهِ نِصْفٌ ‏.‏ قَالَتِ الْكُبْرَى نَعَمِ اقْطَعُوهُ ‏.‏ فَقَالَتِ الصُّغْرَى لاَ تَقْطَعْهُ هُوَ وَلَدُهَا ‏.‏ فَقَضَى بِهِ لِلَّتِي أَبَتْ أَنْ يَقْطَعَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that :The Prophet [SAW] said: "Two women went out with their two children, and the wolf took one of the children from them. They referred their dispute to Prophet Dawud, peace be upon him, and he ruled that (the remaining child) belonged to the older woman. Then they passed by Sulaiman, peace be upon him, and he said: 'How did he judge between you?' She said: 'He ruled that (the child) belongs to the older woman.' Sulaiman said: 'Cut him in half, and give half to one and half to the other.' The older woman said: 'Yes, cut him in half.' The younger woman said: 'Do not cut him, he is her child.' So he ruled that the child belonged to the woman who refused to let him be cut
أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ السِّجِسْتَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَعَا قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ شَيْخٌ ضَعِيفٌ وَإِنَّمَا أَخْرَجْنَاهُ لِلزِّيَادَةِ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik, that :When the Messenger of Allah [SAW] supplicated, he would say: "Allahumma inni a'udhu bika minal-hammi, wal-hazani, wal-'ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wad-dala'id-daini, wa ghalabatir-rijal (O Allah, I seek refuge with You from worry, grief, incapacity, laziness, miserliness, cowardice, difficult debt and being overpowered by men)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
(Another chain) from Ibrahim, from Al-Aswad, with similar narration
اس سند سے بھی اسود سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) performed Tawaf during the Farewell Pilgrimage atop a camel, touching the Rukn [1] with a stick that was bent at the top. [1] The corner of the Ka'bah in which the Black Stone is situated
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر بیٹھ کر طواف کیا، آپ ایک چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ، قَالَ لَمَّا رَجَعَ قَوْمِي مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا إِنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قِرَاءَةً لِلْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَدَعَوْنِي فَعَلَّمُونِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ وَكَانَتْ عَلَىَّ بُرْدَةٌ مَفْتُوقَةٌ فَكَانُوا يَقُولُونَ لأَبِي أَلاَ تُغَطِّي عَنَّا اسْتَ ابْنِكَ ‏.‏
It was narrated that 'Amr bin Salamah said:"When my people came back from the Prophet (ﷺ)they said that he had said: 'Let the one who recites the Quran most lead you in prayer.' So they called me and taught me how to bow and prostrate, and I used to lead them in prayer, wearing a torn cloak, and they used to say to my father: 'Will you not conceal your son's backside from us?
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میرے قبیلہ کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوٹ کر آئے تو کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرائے ، تو ان لوگوں نے مجھے بلا بھیجا، اور مجھے رکوع اور سجدہ کرنا سکھایا تو میں ان لوگوں کو نماز پڑھاتا تھا، میرے جسم پر ایک پھٹی چادر ہوتی، تو وہ لوگ میرے والد سے کہتے تھے کہ تم ہم سے اپنے بیٹے کی سرین کیوں نہیں ڈھانپ دیتے؟۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا هُوَ إِلاَّ أَنَا وَأُمِّي وَالْيَتِيمُ وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي فَقَالَ ‏ "‏ قُومُوا فَلأُصَلِّيَ بِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلاَةٍ - قَالَ - فَصَلَّى بِنَا ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon us and the only people present were myself, my mother, the orphan and Umm Harh, my maternal aunt. He said: 'Stand up and I will lead you in prayer.' It was not the time for a (prescribed) prayer. And he led us in prayer
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، اور اس وقت وہاں صرف میں، میری ماں، ایک یتیم، اور میری خالہ ام حرام تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ، ( یہ کسی نماز کا وقت نہ تھا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ‏.‏ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ قَالَ ‏"‏ أَيُّكُمُ الَّذِي تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ ‏"‏ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَىْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) was leading us in prayer when a man came and entered the masjid, and he was out of breath. He said: 'Allahu Akbar, al-hamdulillahi hamdan kathiran tayiban mubarakan fih. (Allah is Most Great, praise be to Allah, much good and blessed praise.)' When the Messenger of Allah (ﷺ) had finished his prayer he said: 'Which of you is the one who spoke these words?' The people kept quiet. He said: 'He did not say anything bad.' The man said: 'I did, O Messenger of Allah. I came and I was out of breath, and I said it.' The Prophet (ﷺ) said: 'I saw twelve angels rushing to see which of them would take it up
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا، اور مسجد میں داخل ہوا اس کی سانس پھول گئی تھی، تو اس نے «اللہ أكبر الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» اللہ بہت بڑا ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں ایسی تعریف جو پاکیزہ بابرکت ہو کہا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو پوچھا: یہ کلمے کس نے کہے تھے؟ لوگ خاموش رہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کوئی قابل حرج بات نہیں کہی ، تو اس شخص نے کہا: میں نے اے اللہ کے رسول! میں آیا اور میری سانس پھول رہی تھی تو میں نے یہ کلمات کہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا سب جھپٹ رہے تھے کہ اسے کون اوپر لے جائے ۔