بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
21
5 hadith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَفَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا - قَالَ - إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ الآنَ مَا أَقُولُ لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ وَهَلَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهُمُ الآنَ يَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَتْ قَوْلَهُ ‏{‏ إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى ‏}‏ حَتَّى قَرَأَتِ الآيَةَ ‏.‏
it was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet stood at the well of Badr and said:"Have you found what your Lord promised to be true?" he said: "They can hear what I am saying to them now". Mention of that was made to 'Aishah and she said: "Ibn 'Umar is mistaken. Rather the Messenger of Allah said: "Ibn 'Umar is mistaken. Rather the Messenger of Allah said: 'Now they know that what I used to say to them is the truth.' Then she recited: So verily, you (O Muhammad) cannot make the dead to hear., until she recited the verse
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کنویں پہ کھڑے ہوئے ( اور ) فرمایا: ”کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا؟“ ( پھر ) آپ نے فرمایا: ”اس وقت جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ لوگ سن رہے ہیں“، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) کہا تھا: ”یہ لوگ اب خوب جان رہے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ سچ تھا“، پھر انہوں نے اللہ کا قول پڑھا: «إنك لا تسمع الموتى» ( النمل: ۸۰ ) یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لاَ أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلاَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَلاَ صَامَ شَهْرًا قَطُّ كَامِلاً غَيْرَ رَمَضَانَ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"I do not know that the Messenger of Allah recited the whole Quran in one night, or prayed Qiyam until morning, or ever fasted an entire month, except Ramadan
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ آپ نے کبھی پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ رمضان کے علاوہ آپ نے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ رکھا ہو۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"If the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to sleep while he was Junub, he would perform Wudu' as for prayer before sleeping
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلاً قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَاىَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ وَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلاَ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا فَإِنْ تَرَخَّصَ أَحَدٌ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Shuraih, that he said to Amr bin Sad when he was sending troops in batches to Makkah:"O Commander! Permit me to tell you of a statement that the Messenger of Allah said the day after the Conquest of Makkah, which my ears heard, my hear understood, and my eyes saw, when he said it. He (the Prophet) praised Allah, then he said: 'Makkah has been made sacred by Allah, not by the people. It is not permissible for any man who believes in Allah and the Last Day to shed blood in it, or to cut its trees. If any one seeks permission to fight in it because the Messenger of Allah fought in it, say to him: Allah allowed his Messenger (to fight therein) but He did not allow you. Rather permission was given to me (to fight therein) for a short period one day, and now its sanctity has been restored as it as before. Let those who are present convey (this mews) to those who are absent
ابوشریح سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا، اور وہ ( عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پر حملہ کے لیے ) مکہ پر چڑھائی کے لیے فوج بھیج رہے تھے، امیر ( محترم ) ! آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک ایسی بات بیان کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن کہی تھی اور جسے میرے دونوں کانوں نے سنی ہے میرے دل نے یاد رکھا ہے اور میری دونوں آنکھوں نے دیکھا ہے جس وقت آپ نے اسے زبان سے ادا کیا ہے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، اسے لوگوں نے حرام قرار نہیں دیا ہے، اور آدمی کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ اس میں خونریزی کرے، یا یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال کی وجہ سے اس کی رخصت دے تو اس سے کہو: یہ اجازت اللہ تعالیٰ نے تمہیں نہیں دی ہے صرف اپنے رسول کو دی تھی، دن کے ایک تھوڑے سے حصہ میں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی اجازت دی، پھر اس کی حرمت آج اسی طرح واپس لوٹ آئی جیسے کل تھی، اور چاہیئے کہ جو موجود ہے وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، وَأَبُو عَامِرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ الْحَنَفِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُلَّةُ سِيَرَاءَ فَبَعَثَ بِهَا إِلَىَّ فَلَبِسْتُهَا فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَمَا إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي ‏.‏
Ali said:"A Hullah of Sira' was given to the Messenger of Allah [SAW] and he sent it to me. I put it on, then I saw anger in his face. He said: 'I did not give it to you to wear it.' Then he told me to divide it among my womenfolk