أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ، مِنَ اللَّيْلِ بِبِئْرِ بَدْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يُنَادِي " يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَتُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا فَقَالَ " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لاَ يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا " .
It was narrated that Anas said:"During the night, the Muslims heard the Messenger of Allah standing and calling out at the well of badr; 'O Abu Jahl bin Hisham! O Shaaibh bin Rabiah! O 'Utbah bin Rabiah! O Umayyah bin Khalaf! Have you found what your Lord promised to be true? For I have found what my Lord promised me to be true.' They said: 'O Messenger of Allah, are you calling out to people who have turned into rotten corpses?' He said: 'You do not hear what I say any better than they do, but they cannot answer
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے رات کو بدر کے کنویں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے آواز لگاتے سنا: ”اے ابوجہل بن ہشام! اے شیبہ بن ربیعہ! اے عتبہ بن ربیعہ! اور اے امیہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے صحیح پایا؟، میں نے تو اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ان لوگوں کو پکارتے ہیں جو محض بدبودار لاش ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سن سکتے، لیکن ( فرق صرف اتنا ہے کہ ) وہ جواب نہیں دے سکتے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَرْوَانَ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah used to fast until we said: 'He does not want to break his fast.' And he used not to fast until we said: 'He does not want to fast
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور بغیر روزہ کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ - قَالَتْ - غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ .
It was narrated from Abu Salamah that 'Aishah said:"If the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to sleep while he was Junub, he would perform Wudu', and if he wanted to eat or drink," she said: "he would wash his hands and then eat or drink
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے اور آپ جنبی ہوتے تو وضو کرتے، اور جب کھانے یا پینے کا ارادہ کرتے، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر کھاتے یا پیتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَحِلَّ فِيهِ الْقِتَالُ لأَحَدٍ قَبْلِي وَأُحِلَّ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
It was narrated that Ibn Abbas said:"The Messenger of Allah said on the day of the conquest of Makkah: 'Allah, the Might and Sublime, has made this land sacred, and it was not permissible to fight therein for anyone before me. It was permitted for me for a few hours of a day, and it is sacred by the decree of Allah, the Might and Sublime
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”یہ شہر ( مکہ ) حرام ہے اور اسے اللہ عزوجل نے حرام قرار دیا ہے، اس میں لڑائی مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہوئی۔ صرف میرے لیے ذرا سی دیر کے لیے جائز کی گئی، لہٰذا یہ اللہ عزوجل کے حرام قرار دینے کی وجہ سے حرام ( محترم و مقدس ) ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّهُ، رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُرْدَ سِيَرَاءَ وَالسِّيَرَاءُ الْمُضَلَّعُ بِالْقَزِّ .
It was narrated from Anas bin Malik that:He saw Umm Kalthum, the daughter of the Messenger of Allah [SAW], wearing a Burdah of Sira' silk, and Sira' is a fabric with stripes of silk