أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ، رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمُقُهُ وَلاَ يَشْعُرُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ قَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . قَالَ لاَ أَدْرِي فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي . قَالَ " إِذَا أَرَدْتَ الصَّلاَةَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنِ الْوُضُوءَ ثُمَّ قُمْ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ ثُمَّ كَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا فَإِذَا صَنَعْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ صَلاَتَكَ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّمَا تَنْقُصُهُ مِنْ صَلاَتِكَ " .
It was narrated that Rifa'ah bin Rafi'- who had been present at Badr- said:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when a man entered the Masjid and prayed. The Messenger of Allah (ﷺ) watched him without him realizing, then he finished, came to the Messenger of Allah (ﷺ) and greeted him with salam. He returned the salam and said: "Go back and pray, for you have not prayed.'" He (the narrator) said: "I do not know if it was the second or third time,- "(the man) said: 'By the One Who revealed the Book to you, I have tried my best. Teach me and show me.' He said: 'When you want to pray, perform wudu' and do it well, then stand up and face the qiblah. Then say the takbir, then recite, then bow until you are at ease in bowing. Then stand up until you are standing up straight. Then prostrate until you are at ease in prostration, then raise your head until you are at ease in sitting, then prostrate until you are at ease in prostration. If you do that then you will have done your prayer properly, and whatever you failed to do properly is going to detract from your prayer
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے لیکن وہ جان نہیں رہا تھا، وہ نماز سے فارغ ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ کو سلام کیا، تو آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، میں نہیں جان سکا کہ اس نے دوسری بار میں یا تیسری بار میں کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے، میں اپنی کوشش کر چکا، آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیں، اور پڑھ کر دکھا دیں کہ کیسے پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ کھڑے ہو، پھر اللہ اکبر کہو، پھر قرأت کرو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تم رکوع کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، جب تم ایسا کرو گے تو اپنی نماز پوری کر لو گے، اور اس میں جو کمی کرو گے تو اپنی نماز ہی میں کمی کرو گے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ ضَمْضَمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلاَةِ .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined killing the two black ones (snakes and scorpions) while praying
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مارنے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever performs Ghusl as from Janabah on Friday, then comes (to the Masjid), it is as if he sacrificed a camel. Then the one who comes in the second hour, it is as if he sacrificed a cow. Then the one who comes in the third hour, it is as if he sacrificed a ram. Then the one who comes in the fourth hour, it is as if he sacrificed a chicken. Then the one who comes in the fifth hour, it is as if he sacrificed an egg. Then when the Imam comes out, the angels attend to listen to the Khutbah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کے مانند ( خوب اہتمام سے ) غسل کیا، پھر وہ ( جمعہ میں شریک ہونے کے لیے ) پہلی ساعت ( گھڑی ) میں مسجد گیا، تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا، اور جو شخص اس کے بعد والی گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک گائے پیش کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک مینڈھا پیش کیا، اور جو چوتھی گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک مرغی پیش کی، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک انڈا پیش کیا، اور جب امام ( خطبہ دینے کے لیے ) نکل آتا ہے تو فرشتے مسجد کے اندر آ جاتے ہیں، اور خطبہ سننے لگتے ہیں ۱؎۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ زُهَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وَبَرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ لاَ يُصَلِّي قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا . فَقِيلَ لَهُ مَا هَذَا قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ .
Wabarah bin Abdur-Rahman said:"Ibn 'Umar did not offer more than two rak'ahs when traveling, and he did not offer any prayer before or after that. It was said to him: 'What is this?' He said: 'This is what I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing
وبرہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں دو رکعت پر اضافہ نہیں کرتے تھے، نہ تو اس سے پہلے نماز پڑھتے اور نہ ہی اس کے بعد، تو ان سے کہا گیا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، سَبَلاَنُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ وَهُوَ دُونَ السُّجُودِ الأَوَّلِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَفَعَلَ فِيهِمَا مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يَفْعَلُ فِيهِمَا مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى الصَّلاَةِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He stood and led the people in prayer. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he stood for a long time that was shorter than the first time, then he bowed for a long time that was shorter than the first time. Then he prostrated for a long time, then he sat up, then he prostrated for a long time that was shorter than the first time. Then he stood up and bowed twice again, doing the same again. Then he prostrated twice, doing the same again, until he had finished his prayer. Then he said: 'The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT), and they do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that then hasted to remember Allah (SWT) and pray
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ کھڑے ہوئے، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر قیام کیا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا، پھر آپ ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوئے، تو آپ نے دو رکوع کیے، اور ان میں پہلے جیسا ہی کیا، پھر آپ نے دو سجدے کیے، ان دونوں میں اسی طرح کرتے رہے جیسے پہلے کیا تھا یہاں تک کہ اپنی نماز سے فارغ ہو گئے، پھر آپ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے، لہٰذا جب تم انہیں ( گرہن لگا ) دیکھو، تو تم اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف دوڑ پڑو ۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَصَابَ النَّاسُ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا . فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَمِنَ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى فَقَامَ ذَلِكَ الأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ غَيْرَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا . فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا " . فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلاَّ انْفَرَجَتْ حَتَّى صَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلاَّ أَخْبَرَ بِالْجَوْدِ .
It was narrated that Anas bin Malik said:"There was a drought during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). While the Messenger of Allah (ﷺ) was giving the Khutbah on the minbar one Friday, a Bedouin stood up and said: 'O Messenger of Allah wealth has been destroyed and our children are hungry; pray to Allah for us.' The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands, and we could not see even a wisp of a cloud in the sky, but by the One in Whose hand is my soul, he did not lower (his hands) before clouds like mountains appeared, and he did not come down from his minbar before we saw the rain dripping from his beard. It rained that day and the next day, and the day after, until the following Friday. Then that Bedouin"- or he said, "Someone else"- "stood up and said: 'O Messenger of Allah, buildings have been destroyed and wealth has drowned; pray to Allah (SWT) for us. The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands and said: 'O Allah, around us and not on us.' He did not point in any direction but the clouds dispersed, until Al-Madinah became like a hole. And the valleys ran with water and no one came from any direction but he told us of the heavy rains
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ۔ ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو قحط سالی سے دو چار ہونا پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک اعرابی ( بدو ) کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! مال ( جانور ) ہلاک ہو گئے، اور بال بچے بھوکے ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، اس وقت ہمیں آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں کو ابھی نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ بادل پہاڑ کے مانند امنڈنے لگا، اور آپ ابھی اپنے منبر سے اترے بھی نہیں کہ میں نے دیکھا بارش کا پانی آپ کی داڑھی سے ٹپک رہا ہے، ہم پر اس دن، دوسرے دن اور اس کے بعد والے دن یہاں تک کہ دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی، تو وہی اعرابی یا کوئی اور شخص کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! عمارتیں منہدم ہو گئیں، اور مال و اسباب ڈوب گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، اور آپ نے یوں دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا» اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور ( اب ) ہم پر نہ برسا چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ سے بادل کی جانب جس طرف سے بھی اشارہ کیا، وہ وہاں سے چھٹ گئے یہاں تک کہ مدینہ ایک گڈھے کی طرح لگنے لگا، اور وادی پانی سے بھر گئی، اور جو بھی کوئی کسی طرف سے آتا یہی بتاتا کہ خوب بارش ہوئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ قَالَ يَقُومُ الإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَتَقُومُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ قِبَلَ الْعَدُوِّ وَوُجُوهُهُمْ إِلَى الْعَدُوِّ فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً وَيَرْكَعُونَ لأَنْفُسِهِمْ وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ وَيَذْهَبُونَ إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ وَيَجِيءُ أُولَئِكَ فَيَرْكَعُ بِهِمْ وَيَسْجُدُ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ فَهِيَ لَهُ ثِنْتَانِ وَلَهُمْ وَاحِدَةٌ ثُمَّ يَرْكَعُونَ رَكْعَةً رَكْعَةً وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ .
It was narrated that Sahl bin Abi Hathmah said concerning the fear prayer:"The imam should stand up facing the Qiblah and some of them should stand with him while the others stand facing the enemy. Then he should pray one rak'ah with them and they should pray another rak'ah by themselves, and prostrate twice where they are. Then they should go to where the others are and the others should come and he should lead them in bowing once and prostrating twice, so it will be two rak'ahs for him and one for them. Then they should bow once and prostrate twice (by themselves, to make up the other rak'ah)
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نماز خوف کے سلسلہ میں کہتے ہیں امام قبلہ رو کھڑا ہو گا، اور اس کے لشکر میں سے ایک گروہ اس کے ساتھ کھڑا ہو گا، اور ایک گروہ دشمن کے سامنے رہے گا، ان کے چہرے دشمن کی طرف ہوں گے، پھر امام ان کے ساتھ ایک رکعت پڑھے گا، اور ایک رکوع اور دو سجدے وہ خود سے اپنی جگہوں پر کریں گے، اور ان لوگوں کی جگہ میں چلے جائیں گے، پھر وہ لوگ آئیں گے، تو امام ان کے ساتھ ( بھی ) ایک رکوع اور دو سجدے کرے گا، تو ( اس طرح ) اس کی دو رکعتیں ہوں گی، اور ان لوگوں کی ایک ہو گی، تو پھر یہ لوگ ایک ایک رکوع اور دو دو سجدے کریں گے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ - قَالَ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ مَنْ هَا هُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ .
It was narrated from Al-Hasan that :Ibn 'Abbas gave a Khutbah in Al-Basrah and said: "Pay the zakah of your fasting." The people started looking at one another. He said: "Whoever there is here from the people of Al-Madinah, get up and teach your brothers, for they do not know that the Messenger of Allah (ﷺ) enjoined sadaqat al-fitr on the young and the old, the free and the slave, the male and the female; half a sa' of wheat or a sa' of dried dates or barley
حسن بصری سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہم نے بصرہ میں خطبہ دیا تو کہا: تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو، تو ( یہ سن کر ) لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، تو انہوں نے کہا: یہاں مدینہ والے کون کون ہیں، تم اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ، اور انہیں سکھاؤ کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۃ الفطر آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جو، چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام، مرد، عورت سب پر فرض کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ .
It was narrated that Hudhaifah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) got up to pray tahajjud at night, he would brush his teeth with the siwak
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ ملتے تھے۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ سُجِّيَ بِثَوْبٍ فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُفِعَ فَلَمَّا رُفِعَ سَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ فَقَالَ " مَنْ هَذِهِ " . فَقَالُوا هَذِهِ بِنْتُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو . قَالَ " فَلاَ تَبْكِي - أَوْ فَلِمَ تَبْكِي - مَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ " .
Jabir said:"My father was brought on the day of Uhud and he had been mutilated. He was placed in front of the Messenger of Allah covered with a cloth. I wanted to uncover him but my people forbade m
جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میرے والد کو اس حال میں لایا گیا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا تھا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا، اور ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا، میں نے ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانا چاہا تو لوگوں نے مجھے روک دیا، ( پھر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( اٹھانے ) کا حکم دیا، انہیں اٹھایا گیا، تو جب وہ اٹھائے گئے تو آپ نے کسی رونے والے کی آواز سنی تو پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ عمرو کی بیٹی یا بہن ہے، آپ نے فرمایا: مت روؤ ، یا فرمایا: کیوں روتی ہو؟ جب تک انہیں اٹھایا نہیں گیا تھا فرشتے انہیں برابر سایہ کئے ہوئے تھے ۔
Narrated by Ikramah
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مُرْسَلٌ .
Narrated 'Ikramah:A similar, Mursal, report was narrated from 'Ikramah
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ قَالَ " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلاَنٍ " . فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .
It was narrated that 'Abdullah bin Abi Awfa said:"When people brought their Zakah to him, the Messenger of Allah would say: 'O Allah, send salah upon the family of so-and-so,' My father brought his Sadaqah to him and he said: 'O Allah, send Salah upon the family of Abu Awfa
عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی قوم اپنا صدقہ لے کر آتی تو آپ فرماتے: ”اے اللہ! فلاں کے آل ( اولاد ) پر رحمت بھیج“ ( چنانچہ ) جب میرے والد اپنا صدقہ لے کر آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! آل ابی اوفی پر رحمت بھیج“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى، - هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْخَلاَءَ فَلاَ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Abi Qatadah that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When any one of you enters Al-Khala' (the toilet), let him not touch his penis with his right hand
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی جگہ میں داخل ہو تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر نہ چھوئے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ - قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ وَإِنْ حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَحُجَّ عَنْ أُمِّكَ " .
It was narrated from Al-Fadl bin 'Abbas that:he was riding behind the Messenger of Allah and a man came and said: "O Messenger of Allah! My mother is an old woman and she cannot sit firmly in the saddle. If I tie her I fear that I may kill her." The Messenger of Allah said: "Don't you think that if your mother owed a debt you would pay it off?" He said: "Yes." Her said: "Then perform Hajj on behalf of your mother."(Shih)
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے تو آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں بہت بوڑھی ہو چکی ہیں، اگر میں انہیں سواری پر چڑھا دوں تو وہ بیٹھی نہیں رہ سکتیں، اور اگر میں انہیں ( سواری پر بٹھا کر ) باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کی جان نہ لے بیٹھوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا خیال ہے اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے؟“ اس نے کہا: جی ہاں ( میں ادا کرتا ) آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنی ماں کی جانب سے حج کرو“۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ وَقَارَبَ وَلاَ يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ مُؤْمِنٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفَيْحُ جَهَنَّمَ وَلاَ يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الإِيمَانُ وَالْحَسَدُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that The Messenger of Allah (ﷺ) said:"Two will never be gathered together in the Fire: A Muslim who killed a disbeliever then tried his best and did not deviate. And two will never be gathered together in the lungs of a believer: Dust in the cause of Allah, and the odor of Hell. And two will never be gathered in the heart of a salve: Faith and envy
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان جس نے کسی کافر کو قتل کر دیا، اور آخر تک ایمان و عقیدہ اور عمل کی درستگی پر قائم رہا تو وہ دونوں ( یعنی مومن قاتل اور کافر مقتول ) جہنم میں اکٹھا نہیں ہو سکتے۔ اور نہ ہی کسی مومن کے سینے میں اللہ کے راستے کا گردوغبار اور جہنم کی آگ کی لپٹ و حرارت اکٹھا ہوں گے ۱؎، اور کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے“ ۲؎۔
Narrated by Jabir
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا جَابِرُ هَلْ أَصَبْتَ امْرَأَةً بَعْدِي " . قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " أَبِكْرًا أَمْ أَيِّمًا " . قُلْتُ أَيِّمًا . قَالَ " فَهَلاَّ بِكْرًا تُلاَعِبُكَ " .
Narrated Jabir:It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah met me and said: 'O Jabir, have you got married to a woman since I last saw you?' I said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'To a virgin or to a previously-married woman?' I said: 'To a previously-married woman.' He said: 'Why not a virgin, so she could play with you?
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم مجھ سے اس سے پہلے ملنے کے بعد بیوی والے ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کیا کسی کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کیوں نہ کہ جو تمہیں کھیل کھلاتی؟“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْغُمَيْصَاءَ، أَوِ الرُّمَيْصَاءَ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَشْتَكِي زَوْجَهَا أَنَّهُ لاَ يَصِلُ إِلَيْهَا فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ زَوْجُهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هِيَ كَاذِبَةٌ وَهُوَ يَصِلُ إِلَيْهَا وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ ذَلِكَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that Al-Ghumaisa or Ar-Rumaisa' came to the Prophet complaining that her husband would not have intercourse with her. It was not long before her husband came and said:"O Messenger of Allah, she is lying; he is having intercourse with her, but she wants to go back to her first husband." The Messenger of Allah said: "She cannot do that until she tastes his sweetness
عبیداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غمیصاء یا رمیصاء نامی عورت اپنے شوہر کی شکایت لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی کہ وہ اس کے پاس نہیں آتا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کا شوہر بھی آ گیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ جھوٹی عورت ہے، وہ اس کے پاس جاتا ہے، لیکن یہ اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی ہے ( اس لیے ایسا کہہ رہی ہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے لیے ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کا شہد چکھ نہ لو“۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ سَبَقَ إِلاَّ فِي نَصْلٍ أَوْ حَافِرٍ أَوْ خُفٍّ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"There should be no awards (for victory in a competition) except for arrows, camels or horses
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف تین چیزوں میں ( انعام و اکرام کی ) شرط لگانا جائز ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَاءَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِي وَلَدٌ إِلاَّ ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ فَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ ". قَالَ فَأُوصِي بِنِصْفِهِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ ". قَالَ فَأُوصِي بِثُلُثِهِ قَالَ " الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ".
It was narrated from Muhammad bin Sa'd, from his father Sa'd bin Malik, that the Prophet came to him when he was sick and he said:"I do not have any children apart from one daughter. Shall I bequeath all my wealth?" The Prophet said: "No." He said: "Shall I bequeath half of it?" The Prophet said: "No." He said: "Shall I bequeath one-third of it?" He said: "One-third, and one-third is much or large
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ بیمار تھے، انہوں نے آپ سے عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) میری کوئی اولاد ( نرینہ ) نہیں ہے، صرف ایک بچی ہے۔ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دیتا ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: آدھے کی وصیت کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: تو میں ایک تہائی مال کی وصیت کرتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کر دو اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَشُدَّ إِزَارَهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) would tell one of us, if she was menstruating, to tie her Izar (waist wrap) tightly then he would fondle her
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم بیویوں میں سے کسی کو جب وہ حائضہ ہوتی حکم دیتے کہ وہ اپنا ازار باندھ لے، پھر آپ اس سے چمٹتے ۱؎۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْمَرَ رَجُلاً عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَهِيَ لَهُ وَلِمَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ مَوْرُوثَةٌ " .
It was narrated from Hisham bin 'Urwah, from his father, from 'Abdullah bin Az-Zubair, that the Messenger of Allah said:"Any man who gives a lifelong gift to another man, it belongs to him (the recipient) and to his descendants, and to those who inherit from him
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے کسی آدمی کو یہ کہہ کر کوئی چیز عمریٰ کی کہ یہ اس کی ہے، اور اس کے اولاد کی ہے تو وہ اس کی ہو گی، اور اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد میں سے جو اس کا وارث ہو گا اس کی ہو گی“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ " .
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better and offer expiation for his oath
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَنِّي قُلْنَا بَلَى . قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَبَسَطَ إِزَارَهُ عَلَى فِرَاشِهِ وَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي فَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي وَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ انْحَرَفَ وَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ وَلَيْسَ إِلاَّ أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ " مَا لَكِ يَا عَائِشُ رَابِيَةً " . قَالَ سُلَيْمَانُ حَسِبْتُهُ قَالَ حَشْيَا قَالَ " لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ قَالَ " أَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي " . قُلْتُ نَعَمْ - قَالَتْ - فَلَهَدَنِي لَهْدَةً فِي صَدْرِي أَوْجَعَتْنِي . قَالَ " أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ " . قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ " نَعَمْ - قَالَ - فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ وَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ " . خَالَفَهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَقَالَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ .
Aishah said:"Shall I not tell you about the Prophet and I?" We said: "Yes." She said: "When it was my night, he came in, placed his shoes by his feet, lay down his Rida' (upper garment), and spread his Izar (lower garment) on his bed. As soon as he thought that I had gone to sleep, he put his shoes on slowly and picked up his Rida' slowly. Then he opened the door slowly, went out and shut it slowly. I put my garment over my head, covered myself and put on my Izar (lower garment), and I set out after him until he came to Al-Baqi', raised his hands three times and stood there for a long time. Then he left and I left, he hurried and I hurried, he ran and I ran, and I got there before him and entered (the house). I had only just laid down when he came in and said: 'O 'Aishah, why are you out of breath?' (one of the reporters) Sulaiman said: I thought he (Ibn Wahb) said: 'short of breath.' He said: 'Either you tell me or the All-Aware, All-Knowing will tell me.' I said: 'O Messenger of Allah, may my father and mother be sacrificed for you;' and I told him the story. He said: 'You were the black shape I saw in front of me?' I said: 'Yes.'" She said: "He gave me a shove in the chest that hurt me and said: 'You thought that Allah and His Messenger would be unfair to you.' She said: 'Whatever people conceal, Allah, the Mighty and Sublime, knows it.' He said: 'Yes.' He said: 'Jibril came to me when you saw (me leave) but he did not enter upon you because you have taken off your garments. So he called me but he concealed himself from you, and I answered him but I concealed it from you. I thought that you had gone to sleep and I did not want to wake you and I was afraid that you would feel lonely. He told me to go to Al-Baqi' and pray for forgiveness for them.'" Hajjaj bin Muhammad contradicted him (Ibn Wahb), he said: "From Ibn Juraij, from Ibn Abi Mulaikah, from Muhammad bin Qais
محمد بن قیس سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنا ایک واقعہ نہ بیان کروں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ وہ بولیں: جس رات میری باری تھی، آپ عشاء سے لوٹے اور جوتے اپنے پیروں کے پاس رکھ لیے، اپنی چادر رکھی اور بستر پر اپنا تہبند بچھایا، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی، جب آپ کو اندازہ ہوا کہ میں سو چکی ہوں، تو آپ نے آہستہ سے جوتے پہنے اور آہستہ سے چادر لی پھر دھیرے سے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر دھیرے سے بند کر دیا۔ میں نے بھی اوڑھنی اپنے سر پر ڈالی، چادر اوڑھی اور پھر تہبند پہن کر آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، تو آپ نے اپنے ہاتھ تین بار اٹھائے، قیام کو طویل کیا پھر پلٹے تو میں بھی پلٹی، اور تیزی سے چلے، میں بھی تیزی سے چلی، پھر آپ نے رفتار کچھ اور تیز کر دی تو میں نے بھی تیز کر دی پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی، میں آپ سے آگے نکل گئی اور اندر داخل ہو گئی اور اب میں لیٹی ہی تھی کہ آپ اندر آ گئے اور فرمایا: ”کیا بات ہے عائشہ! سانس کیوں پھولی ہے؟ ( سلیمان بن داود نے کہا: میرا خیال ہے کہ میرے شیخ نے یوں فرمایا: «حشیا»، یعنی ) تمہاری سانسیں کیوں پھول رہی ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”بتاؤ ورنہ مجھے لطیف و خبیر یعنی اللہ بتا دے گا“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر انہوں نے آپ کو پورا واقعہ بتایا، آپ نے فرمایا: ”تو تمہارا ہی سایہ تھا جو میں نے اپنے آگے دیکھا؟“ میں نے کہا: ہاں، پھر آپ نے میرے سینے پر ایک ایسی تھپکی ماری کہ مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا: ”کیا تم سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی بات چاہے لوگوں سے کتنی ہی مخفی رہے، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے بخوبی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، پھر فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے جب تم نے مجھے دیکھا، لیکن وہ اندر تمہارے سامنے نہیں آ سکتے تھے کہ تم اپنے کپڑے اتار چکی تھیں، انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا اور میں نے اسے تم سے چھپایا ( یعنی دھیرے سے کہا ) اور میں سمجھا کہ تم سو چکی ہو، تو میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ تمہیں جگاؤں۔ اور مجھے ڈر تھا کہ تم تنہائی میں وحشت نہ کھاؤ، تو انہوں ( جبرائیل ) نے مجھے حکم دیا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے استغفار کروں“۔ حجاج بن محمد نے سند اس کے برعکس یوں بیان کی «عن ابن جریج، عن ابن ابی ملیکۃ، عن محمد بن قیس» ۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ، - ثِقَةٌ - حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا " .
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Killing a believer is more grievous before Allah than the extinction of the whole world
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاَءِ بْنِ زَبْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الضَّمْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ، قَالَ وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ أَصْحَابِي فَقَضَى حَاجَتَهُمْ وَكُنْتُ آخِرَهُمْ دُخُولاً فَقَالَ " حَاجَتُكَ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْكُفَّارُ " .
It was narrated that 'Abdullah bin As-Sa'di said:"We came in a delegation to the Messenger of Allah and my companions entered and asked their questions. I was the last of them to enter, and he said: 'What is you question?' I said: 'O Messenger of Allah, when will emigration end?' The Messenger of Allah said: 'Emigration will not cease so long as the disbelievers are being fought
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ اغْتَسَلَ ثُمَّ يُخَلِّلُ بِيَدِهِ شَعْرَهُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ .
It was narrated that 'Aishah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) performed Ghusl from Janabah, he would wash his hands, then perform Wudu' as for prayer, then he would perform Ghusl, then run his fingers through his hair to be sure that the water pour water over his head three times, then wash the rest of his body
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے، پھر ہاتھ سے اپنے بال کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ جان لیتے کہ اپنی کھال تر کر لی ہے تو اس پر تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر اپنے تمام جسم کو دھوتے۔
أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ذَكَاةُ الْمَيْتَةِ دِبَاغُهَا " .
It was narrated from 'Aishah that the Prophet said:"The dead animal is purified by tanning it
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah said:"Whoever keeps a dog. Except a dog for hunting or herding livestock, two Qirats will be deducted from his reward each day
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ . قَالَ أَنَسٌ وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ .
It was narrated form Anas that:the Messenger of Allah used to sacrifice two rams. And Anas said: "And I sacrifice two rams
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَفْتَرِقَا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ خِيَارًا " . قَالَ نَافِعٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ فَارَقَ صَاحِبَهُ .
It was narrated from Yahya bin Sa 'eed who said:"I heard Nafi narrating from Ibn 'Umar, form the Messenger of Allah 'the two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated unless they have chosen to conclude the transaction. " Nafi said: ''When 'Abdullah bought something he like, he would leave straightaway
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا فَقَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ فَآذِنِّي { حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى } فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَىَّ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَصَلاَةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ . ثُمَّ قَالَتْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that Abu Yunus, the freed slave of 'Aishah the wife of the Prophet (ﷺ), said:"Aishah told me to copy a Mushaf for her, and she said: 'When you reach this verse, call my attention: Guard strictly the Salawat especially the middle (Al-Wusta) Salah. [1] When I reached it, I called her attention and she dictated to me: 'Guard strictly the Salawat expecially the middle (Al-Wusta) Salah and the 'Asr prayer, and stand before Allah with obedience.' Then she said: 'I heard it from the Messenger of Allah (ﷺ).'" [1] Al-Baqarah 2:
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں، اور کہا: جب اس آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» ( البقرہ: ۲۸۳ ) پر پہنچنا تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا، تو انہوں نے مجھے املا کرایا «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» پھر انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اعْفُ عَنْهُ " . فَأَبَى فَقَالَ " خُذِ الدِّيَةَ " . فَأَبَى قَالَ " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلَهُ " . فَذَهَبَ فَلُحِقَ الرَّجُلُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلَهُ " . فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَمَرَّ بِيَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ .
It was narrated from Ans bin Malik that a man brought the killer of his kinsman to the Messenger of Allah and the Prophet said:"Forgive him." But he refused. He said: "Take the Diyah," but he refused. He said: "Go and kill him then, for you are just like him." So he went away, but some people caught up with the man and told him that the Messenger of Allah had said: "Messenger of Allah had said: "Kill him for you are just like him." So he let him go, and the man passed by me dragging his string
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قَالَ كَانَتْ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ مَتَاعًا وَتَجْحَدُهُ فَرُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُلِّمَ فِيهَا فَقَالَ " لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " . قِيلَ لِسُفْيَانَ مَنْ ذَكَرَهُ قَالَ أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى .
Sufyan said:"There was a Makhzumi woman who used to borrow things then deny that. She was brought to the Messenger of Allah and he was told about her. He said: 'If it were Fatimah (who stole), I would cut off her hand."' It was said to Sufyan: "Who told you that?" He said: "Ayyub bin Musa, from Az-Zuhri, from 'Urwah, from 'Aishah, if Allah the mighty and Sublime, wills
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَغَيَّرَهُ بِيَدِهِ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَغَيَّرَهُ بِلِسَانِهِ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِلِسَانِهِ فَغَيَّرَهُ بِقَلْبِهِ فَقَدْ بَرِئَ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ " .
It was narrated that Tariq bin Shihab said:"Abu Sa'eed Al-Khudri said: 'I heard the Messenger of Allah [SAW] say: Whoever among you sees an evil and changes it with his hand, then he has done his duty. Whoever is unable to do that, but changes it with his tongue, then he has done his duty. Whoever is unable to do that, but changes it with his heart, then he has done his duty, and that is the weakest of Faith
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ كَيْفَ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بَعْدَ مَا قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً وَإِنَّ زَيْدًا مَعَ الْغِلْمَانِ لَهُ ذُؤَابَتَانِ .
It was narrated that Abu Wa'il said:"Ibn Mas'ud addressed us and said: 'How do you want me to recite? According to the recitation of Zaid bin Thabit, when I learned seventy-odd Surahs from the mouth of the Messenger of Allah [SAW] while Zaid was with the other boys with two braids?
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدِّهِ، مُعَاذٍ أَنَّهُ طَافَ مَعَ مُعَاذِ ابْنِ عَفْرَاءَ فَلَمْ يُصَلِّ فَقُلْتُ أَلاَ تُصَلِّي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ صَلاَةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ وَلاَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
It was narrated from Nasr bin 'Abdur-Rahman, from his grandfather Mu'adh, that he performed Tawaf with Mu'adh bin 'Afra' but he did not pray. "I said:'Are you not going to pray?' He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There is no prayer after 'Asr until the sun has set, nor after Subh until the sun has risen
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا، تو انہوں نے نماز ( طواف کی دو رکعت ) نہیں پڑھی، تو میں نے پوچھا: کیا آپ نماز نہیں پڑھیں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ۱؎ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اور فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک سورج نکل آئے ۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا صَبِيَّانِ لَهُمَا فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ وَلَدَهَا فَأَصْبَحَتَا تَخْتَصِمَانِ فِي الصَّبِيِّ الْبَاقِي إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ فَقَالَ كَيْفَ أَمْرُكُمَا فَقَصَّتَا عَلَيْهِ فَقَالَ ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّ الْغُلاَمَ بَيْنَهُمَا . فَقَالَتِ الصُّغْرَى أَتَشُقُّهُ قَالَ نَعَمْ . فَقَالَتْ لاَ تَفْعَلْ حَظِّي مِنْهُ لَهَا . قَالَ . هُوَ ابْنُكِ . فَقَضَى بِهِ لَهَا " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah [SAW] said: "Two women went out with two children of theirs, and the wolf attacked one of them and took her child. The next day they referred their dispute over the remaining child to Dawud, peace be upon him, and he ruled that (the child) belonged to the older woman. Then they passed by Sulaiman and he said: 'What is your story?' So they told him. He said: 'Bring me a knife and I will cut him in half (to be shared) between you.' The younger one said: 'Will you cut him in half?' He said: 'Yes.' She said: 'Do not do that; I will give my share of him to her.' He said: 'He is your child' and he ruled that he belonged to her
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
It was narrated from Anas that:The Prophet [SAW] used to say: "Allahumma inni a'udhu bika minal-'ajzi, wal-kasali, wal-harami, wal-bukhli, wal-jubni, wa 'audhu bika min 'adhabil-qabri, wa min fitnatil-mahya wal-mamati (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, old age, miserliness and cowardice, and I seek refuge in You from the torment of the grave, and from the trials of life and death)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، قَالَ شَهِدْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أُتِيَ بِبُسْرٍ مُذَنَّبٍ فَجَعَلَ يَقْطَعُهُ مِنْهُ .
It was narrated that Abu Idris said:"I saw Anas bin Malik when some Busr which had extra bits were brought to him, and he started to cut them off
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ كَانَ آخِرُ أَذَانِ بِلاَلٍ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ .
It was narrated that Al-Aswad said:"The final words of the Adhan of Bilal were: 'Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, there is none worthy of worship except Allah)
اسود کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے آخری کلمات یہ تھے «اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ»۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْلاً قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَرُبِطَ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ . مُخْتَصَرٌ .
It was narrated from Sa'eed bin Abi Sa'eed that he heard Abu Hurairah say:"The Messenger of Allah (ﷺ) sent some horsemen toward Najd, and they brought back a man from Banu Hanifah who was called Thumamah bin Uthal, the chief of the people of Al-Yamamah. Then he was tied to one of the pillars of the Masjid
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو قبیلہ نجد کی جانب بھیجا، تو وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو ( گرفتار کر کے ) لائے، جو اہل یمامہ کا سردار تھا، اسے مسجد کے کھمبے سے باندھ دیا گیا، یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَاقِدِينَ أُزْرَهُمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ لاَ تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا .
It was narrated that Sahl bin Sa'd said:"Some men used to pray with Messenger of Allah(ﷺ) tying their lower garments tight like children, it was said to the women: 'Do not raise your heads until the men have sat up completely
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بچوں کی طرح اپنا تہبند باندھے نماز پڑھ رہے تھے، تو عورتوں سے ( جو مردوں کے پیچھے پڑھ رہی تھیں ) کہا گیا کہ جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں تم اپنے سروں کو نہ اٹھاؤ ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ، مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ قَدْ صَنَعَتْهُ لَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ " قُومُوا فَلأُصَلِّيَ لَكُمْ " . قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ .
It was narrated from Anas bin Malik, that his grandmother Mulaikah invited the Messenger of Allah (ﷺ) to come and eat some food that she had prepared for him. Then he said:"Get up and I will lead you in prayer." Anas said: "So I got up and brought a reed mat of ours that had turned black from long use, and spreaded some water on it. The Messenger of Allah (ﷺ) stood and the orphan and I stood in a row behind him, and the old woman stood behind us, and he led us in praying two Rak'ahs, then he left
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی ملیکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر مدعو کیا جسے انہوں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا، پھر فرمایا: اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں اٹھ کر اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا جو کافی دنوں سے پڑی رہنے کی وجہ سے کالی ہو گئی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑکا، اور اسے آپ کے پاس لا کر بچھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، اور بڑھیا ہمارے پیچھے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر واپس تشریف لے گئے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ قَالَ " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ " .
It was narrated that Abu Sa'eed said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray, he would say: 'Subhanakallahumma, wa bihamdika tabarakasmuka wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk (Glory and praise be to You, O Allah. Blessed be Your name and exalted be Your majesty, there is none worthy of worship except You)
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سبحانك اللہم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» اے اللہ! تو ( تمام عیبوں سے ) پاک ہے، اور لائق حمد تو ہی ہے، اور بابرکت ہے تیرا نام، اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔