أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ { يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ } قَالَ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ يُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ وَدِينِي دِينُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَذَلِكَ قَوْلُهُ { يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ } .
It was narrated form Al Bara bin Azib that the Prophet said:"Allah will keep firm those who believe, with the world that stands firm in this world, and in the Hereafter. This was revelated concerning the torment in the grave. It will be said to him (the deceased: 'Who is your Lord?' and he will say: 'My Lord is Allah and my Prophet is Muhammad. That is what is (the meaning of) His saying: Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world, and in the Hereafter
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت ( دونوں میں ) ٹھیک بات پر قائم رکھے گا“۔ عذاب قبر کے سلسلے میں اتری ہے۔ میت سے پوچھا جائے گا: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا: میرا رب اللہ ہے، میرا دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے۔ اللہ کے قول: «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» سے یہی مراد ہے“۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَ " هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ " . نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَدْ رَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ .
It was narrated from Mujahid and Umm Kulthum that:the Messenger of Allah entered upon 'Aishah and said: "Do you have any food?" a similar report
مجاہد اور ام کلثوم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، اور ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ آگے اسی طرح ہے جیسے اس سے پہلی روایت میں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اور اسے سماک بن حرب نے بھی روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے روایت کی اور اس نے عائشہ بنت طلحہ سے روایت کی ہے ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ حَتَّى يَقُولَ " دَعِي لِي " . وَأَقُولُ أَنَا دَعْ لِي . قَالَ سُوَيْدٌ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ فَأَقُولُ دَعْ لِي دَعْ لِي .
It was narrated that 'Aishah said:"I used to perform Ghusl - the Messenger of Allah (ﷺ) and I - from one vessel. He would compete with me and I would with him until he would say: 'Leave me some' and I would say: 'Leave me some
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ( کبھی ) آپ مجھ سے سبقت کر جاتے، اور کبھی میں آپ سے سبقت کر جاتی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: میرے لیے چھوڑ دو ، اور میں کہتی: میرے لیے چھوڑ دیجئیے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ، - يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ - عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّهُ لَفَظَهُ بَعِيرُهُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُغَسَّلُ وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلاَ يُغَطَّى رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ فَإِنَّهُ يَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
It was narrated from Ibn Abbas that:a man was performing Hajj with the Messenger of Allah and his she-camel threw him and he died. The Messenger of Allah said: "Wash him and shroud him in two garments, and do not cover his head of his face, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting Talbiyah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کر رہا تھا کہ اس کے اونٹ نے اسے گرا دیا جس سے وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غسل دیا جائے، اور دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دیا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ وَالظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'If one of you is referred to a rich man (to help repay a debt), he should accept that referral, and (wrongdoing) is when a rich man takes a long time to repay a debt
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ وَفَصُّهُ حَبَشِيٌّ .
It was narrated from Anas that:The Messenger of Allah [SAW] put on a ring of silver with an Ethiopian stone (Fass)