أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ الطَّاعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ . قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ مِرَارًا وَرَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that Safwan bin Umayyah said:"The plague, abdominal illness, drowning and dying in childbirth are martyrdom." (One of the narrators) said: Abu 'Uthman narrated this to us several times, and on one occasion he attributed it to the Prophet
صفوان بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں طاعون سے مرنے والا، پیٹ کے مرض میں مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، اور زچگی کی وجہ سے مرنے والی عورت شہید ہے۔ وہ ( تیمی ) کہتے ہیں: ہم سے ابوعثمان نے بارہا بیان کیا، ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مرفوع بیان کیا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَقَالَ " أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ تُطْعِمِينِيهِ " . فَنَقُولُ لاَ . فَيَقُولُ " إِنِّي صَائِمٌ " . ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَتْ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ . فَقَالَ " مَا هِيَ " . قَالَتْ حَيْسٌ . قَالَ " قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا " . فَأَكَلَ .
It was narrated from 'Aishah, the mother of the Believers, that the Prophet used to come to her when he was fasting and say:"Do you have anything this morning that you can give me to eat?" we would say no, and he would say: "I am fasting." Then after that he came and she said: "I have been given a gift." He said: "What is it?" she said: "Hais." He said: "I started the day fasting," but then he ate
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تھے اور آپ روزہ سے ہوتے تھے ( اس کے باوجود ) پوچھتے تھے: ”تمہارے پاس رات کی کوئی چیز ہے جسے تم مجھے کھلا سکو؟“ ہم کہتے نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”میں نے روزہ رکھ لیا“ پھر اس کے بعد ایک بار آپ ان کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس ہدیہ آیا ہوا ہے آپ نے پوچھا: ”کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: حیس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے صبح روزہ کا ارادہ کیا تھا“ پھر آپ نے کھایا۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي خَالَتِي، مَيْمُونَةُ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"My maternal aunt Maimunah told me that she and the Messenger of Allah (ﷺ) used to perform Ghusl from one vessel
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مُحْرِمًا صُرِعَ عَنْ نَاقَتِهِ، فَأُوقِصَ ذُكِرَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ " . ثُمَّ قَالَ عَلَى إِثْرِهِ " خَارِجًا رَأْسُهُ " . قَالَ " وَلاَ تُمِسُّوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " . قَالَ شُعْبَةُ فَسَأَلْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ فَجَاءَ بِالْحَدِيثِ كَمَا كَانَ يَجِيءُ بِهِ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " وَلاَ تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ " .
It was narrated from Ibn Abbas:That a man in Ihram was thrown by his she-camel and his neck was broken. It was said that he had died, so the Prophet said: "Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths." Then he said: "Do not put any perfume on him for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah." Shubah said: "Ten years later, I asked him (the narrator Abu Bishr) anbut that, and he narrated the Hadith as he had the first time, except that he said: 'And do not cover his face and head
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو“، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: ”اس کا سر کفن سے باہر رہے“، فرمایا: ”اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ شعبہ ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے ان سے ( یعنی اپنے استاد ابوبشر سے ) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے ( اس بار اتنا مزید ) کہا کہ ”اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو“۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ " أَهَا هُنَا مِنْ بَنِي فُلاَنٍ أَحَدٌ " . ثَلاَثًا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الأُولَيَيْنِ أَنْ لاَ تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلاَّ بِخَيْرٍ إِنَّ فُلاَنًا - لِرَجُلٍ مِنْهُمْ - مَاتَ مَأْسُورًا بِدَيْنِهِ " .
It was narrated that samurah said:"We were with the Prophet at a funeral, and he said: 'I there anyone from banu so and so here? He said this three times. Then a man stood up, and he said to him: 'What kept you form answering the first two times? I am not going to say anything but good to you, so and so (mentioning the name of a man from among them) has died and he is being detained (from entering Paradise) because of his debt
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The inscription on the ring of the Messenger of Allah [SAW] was: Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah)