بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
21
6 hadith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ وَخَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ فَذَكَرُوا أَنَّ رَجُلاً، تُوُفِّيَ مَاتَ بِبَطْنِهِ فَإِذَا هُمَا يَشْتَهِيَانِ أَنْ يَكُونَا شُهَدَاءَ جَنَازَتِهِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ يَقْتُلْهُ بَطْنُهُ فَلَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الآخَرُ بَلَى ‏.‏
Abdullah bin Yasar said:"I was sitting with sulaiman bin Sard and Khalid bin 'Urfutah, and they said that a man had died as a result of abdominal illness. They wanted to attend his funeral, and one of them said to the other: 'Didn't the Messenger of Allah say: Whoever is killed by an abdominal illness, he will not be punished in his grave? The other said: 'Yes
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور ( وہیں ) سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہٰ رضی اللہ عنہما ( بھی ) موجود تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ ایک آدمی اپنے پیٹ کے عارضہ میں وفات پا گیا ہے، تو ان دونوں نے تمنا کی کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوں، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا ہے کہ ”جو پیٹ کے عارضہ میں مرے اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“، تو دوسرے نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے ایسا فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجِيءُ وَيَقُولُ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ غَدَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ فَنَقُولُ لاَ ‏.‏ فَيَقُولُ ‏"‏ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَانَا يَوْمًا وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا نَعَمْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ خَالَفَهُ قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said the Messenger of Allah would come and say:"Do you have any food for breakfast?" and we would say no, so he would say: "I am fasting." One day he came to us and we had been given some Hais. He said: "Do you have anything (to eat)?" and we said: "Yes, we have been given some Hais." He said: "I started the day wanting to fast," but then he ate
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تھے اور پوچھتے تھے: ”کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟“ میں کہتی تھی: نہیں، تو آپ فرماتے تھے: ”میں روزہ سے ہوں“، ایک دن آپ ہمارے پاس تشریف لائے، اس دن ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا تھا، آپ نے کہا: ”کیا تم لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟“ ہم نے کہا: جی ہاں ہے، ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں نے صبح روزہ رکھنے کا ارادہ کیا تھا“، پھر آپ نے ( اسے ) کھایا۔ قاسم بن یزید نے ان کی یعنی ابوبکر حنفی کی مخالفت کی ہے ۱؎، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُنَازِعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الإِنَاءَ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْهُ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"I remember competing over the vessel with the Messenger of Allah (ﷺ), when he and I were using it to perform Ghusl
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( پانی کے ) برتن کے سلسلہ میں جھگڑ رہی ہوں ( میں اپنی طرف برتن کھینچ رہی ہوں اور آپ اپنی طرف کھینچ رہے ہیں ) میں اور آپ ( ہم دونوں ) اسی سے غسل کرتے تھے۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - وَهُوَ الدَّشْتَكِيُّ - قَالَ أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ - عَنِ الزُّبَيْرِ، - وَهُوَ ابْنُ عَدِيٍّ - عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ أَحْرَمْتُ فَكَثُرَ قَمْلُ رَأْسِي فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَانِي وَأَنَا أَطْبُخُ قِدْرًا لأَصْحَابِي فَمَسَّ رَأْسِي بِأُصْبُعِهِ فَقَالَ ‏ "‏ انْطَلِقْ فَاحْلِقْهُ وَتَصَدَّقْ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Kab bin Ujrah said:"I entered Ihram, then I had a severe infestation of head lice. News of that reached Prophet, and he came to me when I was cooking something in a pot for my companions, he touched my head with his finger and said: 'Go and shave it, and give charity to six poor persions
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو میرے سر میں جوئیں بہت ہو گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا پکا رہا تھا، تو آپ نے اپنی انگلی سے میرا سر چھوا اور فرمایا: ”جاؤ، سر منڈا لو اور چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو“۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ اسْتَقْرَضَ مِنِّي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَجَاءَهُ مَالٌ فَدَفَعَهُ إِلَىَّ وَقَالَ ‏ "‏ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْحَمْدُ وَالأَدَاءُ ‏"‏ ‏.‏
it was narrated from Isla'il bin Ibrahim bin 'Abdullah bin Abi Rabi'ah, from his father, that his grandfather said:"The Prophet borrowed forty thousand from me, then some wealth came to him, and he paid me back and said: 'May Allah bless your family and your wealth for you: the reward for lending is praise and repayment
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَجَّاجِ - عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:The Messenger of Allah [SAW] forbade gold rings