بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
45 hadith
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَدَمِي وَلَحْمِي وَعَظْمِي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that:When the Prophet (ﷺ) bowed, he said: "Allahumma laka rak'atu wa bika amantu wa laka aslamtu wa alayka tawwakaltu, anta Rabbi, khasha'a sam'i wa basri wa dammi wa lahmi wa 'azmi wa 'asabi Lillahi Rabbil-'Alamin ( O Allah, to You I have bowed, in You I believe, to You I have submitted and in You I put my trust. You are my Lord. My hearing, my sight, my blood, my flesh, my bones and sinews are humbled before Allah, the Lord of the Worlds)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو اس میں «اللہم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وعليك توكلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ودمي ولحمي وعظمي وعصبي لله رب العالمين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے ہی اپنا سر جھکا دیا، تیرے اوپر ہی ایمان لایا، میں نے اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کر دیا، تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے، میرے کان، میری آنکھ، میرا خون، میرا گوشت، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے نے اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا رب ہے عاجزی کا اظہار کیا ہے پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ يَمِينًا وَشِمَالاً وَلاَ يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to turn to his right and left when praying, but he did not twist his neck to look behind him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے ۱؎ لیکن آپ اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلاَئِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمُ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الصَّلاَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah, who was attributing it to the Prophet (ﷺ):"When Friday comes, at every gate of the masjid there are angels who write down the people's names in the order in which they come, then when the Imam comes out, they roll up the scrolls and listen to the Khutbah. The one who comes early to the prayer is like the one who sacrifices a camel, then the one who comes after him is like the one who sacrifices a cow, then the one who comes after him is like the one who sacrifices a ram" until he mentioned a chicken and an egg
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے لوگوں کو ان کے درجات و مراتب کے مطابق یعنی ترتیب وار لکھتے ہیں، جو پہلے آتا ہے اسے پہلے لکھتے ہیں، جب امام خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو رجسٹر لپیٹ دیے جاتے ہیں، اور فرشتے خطبہ سننے لگتے ہیں، جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک گائے قربان کرنے والے کی طرح ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ہے ، یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے کا ( بھی ) ذکر کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ نُسُكِهِ ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Al-'Ala bin Al-Hadrami said:"The Prophet (ﷺ) said: 'The Muhajir may stay for three days after his rituals
علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجر اپنے نسک ( حج و عمرہ کے ارکان ) پورے کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھر سکتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصَةَ، مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ، لَمَّا كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وَأَمَرَ فَنُودِيَ أَنَّ الصَّلاَةَ جَامِعَةٌ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ فِي صَلاَتِهِ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحَسِبْتُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَةً ثُمَّ جَلَسَ وَجُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ ‏.‏
Abu Hafs, the freed slave of 'Aishah, narrated that 'Aishah told him:"When the sun was eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), he performed wudu' and ordered that the call be given: 'As-salatu jami'ah.' He stood for a long time in prayer," and 'Aishah said: "I thought that he recited Surah Al-Baqarah. Then he bowed for a long time, then he said: Sami' Allahu liman hamidah. Then he bowed, then prostrated. Then he stood up and did the same again, bowing twice and prostrating once. Then he sat and the eclipse ended
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ نے وضو کیا، اور حکم دیا تو ندا دی گئی: «الصلاة جامعة» ( نماز باجماعت ہو گی ) ، پھر آپ ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے، تو آپ نے لمبا قیام کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو مجھے گمان ہوا کہ آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے: «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر آپ نے اسی طرح قیام کیا جیسے پہلے کیا تھا، اور سجدہ نہیں کیا، پھر آپ نے رکوع کیا پھر سجدہ کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے پہلے ہی کی طرح دو رکوع اور ایک سجدہ کیا، پھر آپ بیٹھے، تب سورج سے گرہن چھٹ چکا تھا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ عَنْ عِبَادِهِ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهُ لأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ كَافِرِينَ يَقُولُونَ سُقِينَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If Allah (SWT) were to withhold rain from His slaves for five years and then send it, some of the people would become disbelievers, saying: "We have been given rain by the star of Al-Mijdah
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پانچ سال تک بارش روکے رکھے، پھر اسے چھوڑے تو بھی لوگوں میں سے ایک گروہ کافر ہی رہے گا، کہے گا: ہم تو مجدح ستارے کے سبب برسائے گئے ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِالْقَوْمِ فِي الْخَوْفِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى بِالْقَوْمِ الآخَرِينَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَصَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعًا ‏.‏
It was narrated from Abu Bakrah that:The Messenger of Allah (ﷺ) led the people in offering the fear prayer, two rak'ahs. Then he said the taslim and led others in offering the fear prayer, then he said the taslim. So the Prophet (ﷺ) had prayed four rak'ahs
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو خوف کی نماز دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر آپ نے دوسرے لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعت پڑھی ( اور لوگوں نے دو دو رکعت ) ۔
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَأَحْسَنَ الْهَدْىِ هَدْىُ مُحَمَّدٍ وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ وَكُلَّ ضَلاَلَةٍ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَعَلاَ صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ يَقُولُ ‏"‏ صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضِيَاعًا فَإِلَىَّ أَوْ عَلَىَّ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"In his Khutbah the Messenger of Allah (ﷺ) used to praise Allah as He deserves to be praised, then he would say: 'Whomsoever Allah (SWT) guides, none can lead him astray, and whomsoever Allah sends astray, none can guide. The truest of word is the Book of Allah and best of guidance is the guidance of Muhammad. The worst of things are those that are newly invented; every newly-invented thing is an innovation and every innovation is going astray, and every going astray is in the Fire.' Then he said: 'The Hour and I have been sent like these two.' Whenever he mentioned the Hour, his cheeks would turn red, and he would raise his voice and become angry, as if he were warning of an approaching army and saying: 'An army is coming to attack you in the morning, or in the evening!' (Then he said): 'Whoever leaves behind wealth, it is for his family, and whoever leaves behind a debt or dependents, then these are my responsibility, and I am the most entitled to take care of the believers
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے جو اس کی شایان شان ہوتی، پھر آپ فرماتے: جسے اللہ راہ دکھائے تو کوئی اسے گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے تو اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور بدترین کام نئے کام ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ، پھر آپ فرماتے: میں اور قیامت دونوں اس قدر نزدیک ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہیں ، اور جب آپ قیامت کا ذکر کرتے تو آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو جاتے، اور آواز بلند ہو جاتی، اور آپ کا غصہ بڑھ جاتا جیسے آپ کسی لشکر کو ڈرا رہے ہوں، اور کہہ رہے ہوں: ( ہوشیار رہو! دشمن ) تم پر صبح میں حملہ کرنے والا ہے، یا شام میں، پھر آپ فرماتے: جو ( مرنے کے بعد ) مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کا ہے، اور جو قرض چھوڑے یا بال بچے چھوڑ کر مرے تو وہ میری طرف یا میرے ذمہ ہیں، اور میں مومنوں کا ولی ہوں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - وَهِيَ خَالَتُهُ - فَاضْطَجَعَ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ قَلِيلاً أَوْ بَعْدَهُ قَلِيلاً اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِيمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Kuraib that 'Abdullah bin 'Abbas told him:He slept at the house of Maimunah the wife of the Prophet (ﷺ), who was his maternal aunt. He said: "I laid down across the mattress an the Messenger of Allah (ﷺ) and his wife lay along it. The Prophet (ﷺ) slept until midnight, or a little before or a little after. The Prophet (ﷺ) woke up and began to rub the sleep from his face with his hand. Then he recited the last ten verses of Surah Al Imran. Then he got up and went to a water skin that was hanging up and performed wudu from it, and he performed wudu well, then he stood up and prayed." Abdullah bin 'Abbas said: "I stood up and did what he had done, then I went and stood beside him. The Messenger of Allah (ﷺ) put his right hand on my neck, and took old of my right hand and tweaked it. Then he prayed two rak'ahs, then two rak'ahs, then two rak'ahs, then two rak'ahs, then two rak'ahs, then two rak'ahs, then he prayed witr.Then he lay down until the Mu'adhdhin came to him and he prayed two brief rak'ahs
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری ( وہ ان کی خالہ تھیں ) تو وہ تکیہ کے چوڑان میں لیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ دونوں اس کی لمبان میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی، یا اس سے کچھ پہلے، یا اس کے کچھ بعد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، چہرہ سے نیند بھگانے کے لیے اپنے ہاتھ سے آنکھ ملتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئے، پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، پھر آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھے، اور اس سے وضو کیا تو خوب اچھی طرح سے وضو کیا، پھر آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: میں بھی اٹھا، اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے آپ نے کیا، پھر میں گیا، اور آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا کان پکڑ کر اسے ملنے لگے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر آپ نے وتر پڑھی ۱؎ پھر آپ لیٹے یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آیا تو آپ نے پھر ہلکی دو رکعتیں پڑھیں۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، قَبَّلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مَيِّتٌ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas and Aishah:that Abu Bakr kissed the Prophet when he had died
عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا، اور آپ انتقال فرما چکے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَأَيْتُ الْهِلاَلَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَتَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَنَادَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنْ صُومُوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said; "A Bedouin came to the Prphet and said:'I have sighted the crescent.' He said: 'Do you bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and that Muhammad is His slave and Messenger?' He said: 'Yes.' So the Prophet gave the call saying: 'Fast
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور ) کہنے لگا: میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے کہا: ”کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:"I climbed on the roof of our house and saw the Messenger of Allah (ﷺ) on two bricks, facing toward Bait Al-Maqdis (jerusalem), relieving himself
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھے دیکھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ فِي عَهْدِي أَنْ لاَ نَأْخُذَ رَاضِعَ لَبَنٍ وَلاَ نَجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ نُفَرِّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ كَوْمَاءَ فَقَالَ ‏"‏ خُذْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَبَى
It was narrated that Suwaid bin Ghafalah said:"The Zakah collector of the prophet came to us, and I went to him, sat with him, and heard him say: In my contract it says that we should not take any sucking young, nor combine what is separate, nor separate what is combined.' A man brought a she-camel with a big hump to him and said: 'Take it, but he refused." (Daif)
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محصل ( زکاۃ ) ہمارے پاس آیا، میں آ کر اس کے پاس بیٹھا تو میں نے اسے کہتے ہوئے سنا کہ میرے عہد و قرار میں یہ بات شامل ہے کہ ہم دودھ پلانے والے جانور نہ لیں۔ اور نہ الگ الگ مال کو یکجا کریں، اور نہ یکجا مال کو الگ الگ کریں۔ پھر ان کے پاس ایک آدمی اونچی کوہان کی ایک اونٹنی لے کر آیا، اور کہنے لگا: اسے لے لو، تو اس نے انکار کیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ وَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas:"Al-Fadl bin 'Abbas was riding behind the Messenger of Allah when a woman from Khath'am came and asked him a question. Al-Fadl started looking at her and she at him, and the Messenger of Allah turned Al-Fadl's face to the other side. She said: 'O Messenger of Allah! The command of Allah has come for His slaves to perform Hajj, but my father is an old man and cannot sit firmly in the saddle; should I perform Hajj on his behalf ?, He said: 'Yes That happened during the Farwell Pilgrimage.''(Shih)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھے، تو قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے آئی، تو فضل اسے دیکھنے لگے، اور وہ فضل کو دیکھنے لگی، اور آپ فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے، تو اس عورت نے پوچھا: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر اللہ کے عائد کردہ فریضہ حج نے میرے باپ کو اس حال میں پایا: انتہائی بوڑھے ہو چکے ہیں، سواری پر ٹک نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں کر لو“، یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لاَ يَبْكِي أَحَدٌ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ فَتَطْعَمَهُ النَّارُ حَتَّى يُرَدَّ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ وَلاَ يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَىْ مُسْلِمٍ أَبَدًا ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"No man who weeps for fear of Allah will be touched by the Fire until the milk goes back into the udders. And the dust (of Jihad) in the cause of Allah and the smoke of Hell, will never be combined in the nostrils of a Muslim
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے خوف سے رونے والے کو جہنم کی آگ اس وقت تک لقمہ نہیں بنا سکتی جب تک کہ ( تھن سے نکلا ہوا ) دودھ تھن میں واپس نہ پہنچا دیا جائے ۱؎، اور کسی مسلمان کے نتھنے میں جہاد کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے ۲؎۔
Narrated by Abu Hurairah
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُمُ الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الأَدَاءَ وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: "There are three who are promised the help of Allah: The Mukatab who wants to buy his freedom, the one who gets married seeking to keep himself chaste, and the Mujahid who fights in the cause of Allah." *Mukatab: the slave who has made a contract of manumission
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین ( طرح کے لوگ ) ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم و ضروری کر لیا ہے: ( ایک ) وہ مکاتب ۱؎ جو مقررہ رقم ادا کر کے آزادی حاصل کر لینے کے لیے کوشاں ہو۔ ( دوسرا ) ایسا نکاح کرنے والا جو شادی کر کے عفت و پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہو ( تیسرا ) وہ مجاہد جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلا ہو“۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي فَأَبَتَّ طَلاَقِي وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَمَا مَعَهُ إِلاَّ مِثْلَ هُدْبَةِ الثَّوْبِ ‏.‏ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏ "‏ لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The wife of Rifa'ah came to the Messenger of Allah and said: 'My husband divorced me and made it irrevocable. After that I married 'Abdur-Rahman bin Az-Zabir and what he has is like the fringe of a garment.' The Messenger of Allah smiled and said: 'Perhaps you want to go back to Rifa'ah? No, not until he tastes your sweetness and you taste his sweetness
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور ( آپ سے ) کہا کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور طلاق بھی بتہ دی ( کہ وہ رجوع نہیں کر سکتے ) تو اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، لیکن ان کے پاس تو اس کپڑے کے جھالر جیسے کے سوا کچھ نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”لگتا ہے رفاعہ سے تم دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہو؟ ( سن لو ) تو رفاعہ کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک کہ وہ ( یعنی دوسرا شوہر ) تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے اور تم اس کے شہد کا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to perform Ghusl with a Mudd and Ghusl with a Sa
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد سے وضو، اور ایک صاع سے غسل کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ يُرْسِلُهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ وَكَانَ أَمَدُهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah organized a horse race and sent them from Al-Hafya' and its finish line was Thaniyyat Al-Wada'; and he organized a race for horses that had not been made lean, and the course stretched from Ath-Thaniyyah to the Masjid of Banu Zuraiq
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک ) گھوڑوں کی دوڑ کرائی ( کہ کون گھوڑا آگے نکلتا ہے ) ۱؎ حفیاء سے روانہ کرتے ( دوڑاتے ) اور ثنیۃ الوداع آخری حد تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں میں بھی دوڑ کرائی جو محنت و مشقت کے عادی نہ تھے ( جو سدھائے اور تربیت یافتہ نہ تھے ) اور ان کے دوڑ کی حد ثنیۃ سے مسجد بنی زریق تک تھی ۲؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى سَعْدًا يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِثُلُثَىْ مَالِي قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَأُوصِي بِالنِّصْفِ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَأُوصِي بِالثُّلُثِ قَالَ ‏"‏ نَعَمِ الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ فُقَرَاءَ يَتَكَفَّفُونَ ‏"‏‏.‏
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah came to visit Sa'd (when he was sick). Sa'd said to him:"O Messenger of Allah, shall I bequeath two-thirds of my wealth?" He said: "No." He said: "Shall I bequeath half?" He said: "No." He said: "Shall I bequeath one-third?" He said: "Yes, one-third, and one-third is much or large. If you leave your heirs independent of means that is better than if you leave them poor, holding out their hands
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس آئے، سعد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنے مال کے دو تہائی حصے اللہ کی راہ میں دے دینے کا حکم ( یعنی اجازت ) دے دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: تو پھر ایک تہائی کی وصیت کر دیتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک تہائی ہو سکتا ہے، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے، ( آپ نے مزید فرمایا ) اگر تم اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر ( اس دنیا سے ) جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں فقیر بنا کر جاؤ کہ وہ ( دوسروں کے سامنے ) ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا قَالَتْ، بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَفِسْتِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ ‏.‏ وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ‏.‏
Umm Salamah narrated:"While I was lying down with the Messenger of Allah (ﷺ) under a blanket, my period came so I slipped away and put on the clothes I used to wear when I was menstruating. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Are you menstruating?' I said: 'Yes.' Then he called me to lie down with him under the blanket." This is the wording of 'Ubaidullah bin Sa'eed.[1] [1] That is, one of the narrators in one of the chains, as the author reported it through different chains, as he did when it preceded, see No
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی کہ اسی دوران مجھے حیض آ گیا، تو میں چپکے سے کھسک آئی، اور جا کر میں نے اپنے حیض کا کپڑا لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم حائضہ ہو گئی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ نے مجھے بلایا، تو میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی، یہ الفاظ عبیداللہ بن سعید کے ہیں۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا هِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ ‏"‏ ‏.‏
(A different chain) from Abu 'Amr, from Ibn Shihab, from Abu Salamah, from Jabir, who said:"The Messenger of Allah said: 'Umra (a lifelong gift) belongs to the one to whom it was given; it belongs to him and to his heirs, and is inherited by those among his descendants who inherit from him
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اس شخص کا ہے جس کے لیے عمریٰ کیا گیا، پھر اس کے بعد اس کی اولاد کا ہے، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس چیز کے بھی وارث ہوں گے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ثُمَّ ائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏
Abdur-Rahman bin Samurah said:"The Messenger of Allah said: 'If you swear an oath, offer expiation for your oath, then do that which is better
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم قسم کھاؤ تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو پھر وہ کام کرو جو بہتر ہو ۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَجَسَّسْتُهُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ ‏ "‏ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ وَإِنِّي لَفِي شَأْنٍ آخَرَ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"I noticed that the Messenger of Allah was not there one night, and I thought that he had gone to one of his other wives, so I reached out for him, and found him bowing or prostrating, and saying: 'Subhanaka wa bi hamdika la ilaha illa anta (Glory and praise be to You, there is none worthy of worship but You).' I said: 'May my father and mother be sacrificed for you; you were doing one thing, and I was thinking of something else
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، مجھے گمان ہوا کہ آپ کسی بیوی کے پاس گئے ہوں گے۔ میں آپ کو تلاش کرنے لگی، دیکھا کہ آپ رکوع یا سجدہ میں ہیں اور کہہ رہے ہیں: «سبحانك و بحمدك لا إله إلا أنت» ”پاک ہے تیری ذات، تیری ہی تعریف ہے اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں“۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کچھ کر رہے ہیں اور میں کچھ اور ہی گمان کر رہی تھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"Killing a believer is more grievous before Allah than the extinction of the whole world
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated that Nu'aim bin Dijajah said:"I heard 'Umar bin Al-Khattab say: 'There is no more emigration (Hijrah) after the death of the Messenger of Allah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ غَيْرَ رِجْلَيْهِ وَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثُمَّ نَحَّى رِجْلَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ‏‏.‏‏ قَالَتْ هَذِهِ غِسْلَةٌ لِلْجَنَابَةِ ‏‏.‏‏
It was narrated that Maimunah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) performed Wudu' as for prayer, but did not wash his feet, and he washed his private part and whatever had got onto it, then he poured water over himself, then he moved his feet and washed them." She said: "This is Ghusl from Janabah
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، البتہ اپنے دونوں پاؤں نہیں دھوئے، اور ( وضو سے پہلے ) آپ نے اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی گندگی دھوئی، پھر اپنے جسم پر پانی بہایا، پھر اپنے دونوں پاؤں کو ہٹایا اور انہیں دھویا، یہی ( آپ کے ) غسل جنابت کا طریقہ تھا۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ فَقَالَ ‏ "‏ دِبَاغُهَا طَهُورُهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Prophet was asked about the hides of dead animals." He said: "Tanning it purifies it
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِجِ بْنِ خَالِدٍ السَّعْدِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ خُصَيْفَةَ - قَالَ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنَائِيُّ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لاَ يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلاَ ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا سُفْيَانُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ ‏.‏
As-Saib bin Yazid narrated that Surfyan bin Abi Zuhair Ash-Shanai I came to visit them and said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever keeps a dog which he does not need for farming or livestock, one Qirt will be deducted from his (good) deeds each day.' It was said to him: 'did you hear this from the Messenger of Allah He said: 'Yes, by the Lord of this Masjid
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنِ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الأَضْحَى فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَشْتَرِي الْمُسِنَّةَ بِالْجَذَعَتَيْنِ وَالثَّلاَثَةِ فَقَالَ لَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ هَذَا الْيَوْمُ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطْلُبُ الْمُسِنَّةَ بِالْجَذَعَتَيْنِ وَالثَّلاَثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْجَذَعَ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Asim bin Kulaib that his father said:"We were on a journey and the day of Al-adha came, so we started to by sheep, a Musinnah for two or three Jadh'ahs. A man from Muzainah said to us: 'We were with the Messenger of Allah on a journey when this came, and we stated to look for sheep, (offering to buy) aMusinnah for two or three Jadh'ahs. Then the Messenger of Allah said: "A Jadh'ah is sufficient for that for which a Thani is sufficient
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ ‏"‏ ‏.‏ وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ ‏"‏ أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ اخْتَرْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Al-Laith from Nafi from Ibn 'Umar who said:"The Messenger of Allah said: 'The two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated or they have chosen to conclude the transaction.' Or perhaps Nafi said: "Or one of them has said to the other: 'Decide! (Sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْهَاجِرَةِ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى إِلَى الْبَطْحَاءِ - فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ ‏.‏
It was narrated that Al-Hakam bin 'Utaibah said:"I heard Abu Juhaifah say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) set off at midday, during the time of intense heat' - (One of the narrators) Ibn Al-Muthanna said, to Al-Batha' - and he performed Wudu', and prayed Zuhr, two Rak'ahs, and 'Asr, two Rak'ahs, with a short spear ('Anzah) in front of him
حکم بن عتیبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر میں نکلے ( ابن مثنی کی روایت میں ہے: بطحاء کی طرف نکلے ) تو آپ نے وضو کیا، اور ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، اور عصر کی دو رکعت پڑھی، اور آپ کے سامنے نیزہ ( بطور سترہ ) تھا۔
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated from Simak bin Harb that 'Alqamah bin Wa'il told him that his father said:"I was sitting with the Messenger of Allah when a man came leading another" (and he narrated) a similar report
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ اسْتَعَارَتْ حُلِيًّا عَلَى لِسَانِ أُنَاسٍ فَجَحَدَتْهَا فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقُطِعَتْ ‏.‏
It was narrated from Saeed bin AL-Musayyab that:a woman from Banu Makhzum borrowed some jewelry, asking on behalf of others, then she denied (having done) that, and the Prophet ordered that her hand be cut off
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shurahbil,:That one of the Companions of the Prophet [SAW] said: "The Messenger of Allah [SAW] said: 'Ammar's heart overflows with Faith
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، قَالَ مَا رَأَيْتُ رَجُلاً أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ وَرَأَيْتُ لَهُ لِمَّةً تَضْرِبُ قَرِيبًا مِنْ مَنْكِبَيْهِ ‏.‏
Al-Bara' said:"I have never seen any man more handsome in a red Hullah than the Messenger of Allah [SAW]." He said: "And I saw his long hair, coming almost to his shoulders
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ أَوَّلَ سَجْدَةٍ مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلاَتَهُ وَإِذَا أَدْرَكَ أَوَّلَ سَجْدَةٍ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلاَتَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"If any one of you catches the first prostration of 'Asr prayer before the sun sets, let him complete his prayer, and if he catches up with the first prostration of Fajr prayer before the sub rises, let him complete his prayer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج ڈوبنے سے پہلے جب تم میں سے کوئی نماز عصر کا پہلا سجدہ پا لے تو اپنی نماز مکمل کر لے، اور جب سورج نکلنے سے پہلے نماز فجر کا پہلا سجدہ پا لے تو اپنی نماز مکمل کر لے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَىَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلاَ يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Umm Salamah that:The Messenger of Allah [SAW] said: "You refer your disputes to me, but I am only human, and some of you may be more eloquent in arguing their case than others. If I pass judgment in favor of one of you, against his brother's rights, let him not take it, for it is a piece of fire that I am giving him
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَوَاتٌ لاَ يَدَعُهُنَّ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا الصَّوَابُ وَحَدِيثُ ابْنِ فُضَيْلٍ خَطَأٌ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah [SAW] had supplications that he never neglected. He used to say: 'Allahumma inni a'udhu bika minal-hammi, wal-hazani, wal-'ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wad-daini, wa ghalabatar-rijal (O Allah, I seek refuge with You from worry, grief, incapacity, laziness, miserliness, cowardice, debt, and being overpowered by (other) men
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الزَّبِيبُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا‏.‏
It was narrated from Jabir that :The Messenger of Allah [SAW] forbade soaking raisins and Al-Busr together, and he forbade soaking Al-Busr and ripe dates together
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلَيْسَ بِأَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ ‏.‏
Sufyan narrated a similar report with the same chain. (One of the narrators) (Abu) 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said:"It is not Abu Ja'far Al-Farra
اس سند سے بھی سفیان سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ رَمْيَةً فِي الأَكْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"Sa'd was wounded on the day of Al-Khandaq [1] when a man of Quraish shot him in the medial arm vein. The Messenger of Allah (ﷺ) pitched a tent (Khaimah) for him in the Masjid so that he could visit him close at hand." [1] Al-Khandaq means the trench. This indicates the battle of the trench which took place during the fifth year after Hijrah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: غزوہ خندق ( غزوہ احزاب ) کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلہ قریش کے ایک شخص نے ان کے ہاتھ کی رگ ۱؎ میں تیر مارا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔
Narrated by Umar bin Abi Salamah
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ ‏.‏
Narrated Umar bin Abi Salamah:It was narrated from Umar bin Abi Salamah that he saw Messenger of Allah(ﷺ)praying in a single garment in the house of Umm Salamah, putting the ends of it on his shoulders
عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں کندھوں پر رکھے ہوئے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالاَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ نِصْفَ النَّهَارِ فَقَالَ إِنَّهُ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَشْتَغِلُونَ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةَ فَصَلُّوا لِوَقْتِهَا ‏.‏ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَ ‏.‏
It was narrated that Al-Aswad and 'Alqamah said:"We entered upon 'Abdullah at midday and he said: 'There will be rulers who would be distracted from praying on time, so pray on time.' Then he stood up and prayed between him and I, and said: 'This is what I saw the Messenger of Allah (ﷺ) do
اسود اور علقمہ دونوں کہتے ہیں کہ ہم دوپہر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: عنقریب امراء نماز کے وقت سے غافل ہو جائیں گے، تو تم لوگ نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنا، پھر وہ اٹھے اور میرے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھائی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَذَكَرَ، آخَرَ قَبْلَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا قَالَ ‏ "‏ اللَّهُ أَكْبَرُ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ يَقْرَأُ ‏.‏
It was narrated from Muhammad bin Maslamah that:When the Messenger of Allah (ﷺ) stood to offer a voluntary prayer he would say: " Allahu Akbar Wajahtu wajhi lilladhi fataras-samawatiwal-arda hanifan musliman wa ma ana minal-mushrikin. Inna salati wa nusuki wa mahyaya wa mamati lillahi rabbil-alamin, la sharika lahu, wa bidhalika umirtu wa ana awwalul-muslimin. Allahumma antal-maliku la ilaha illa anta subhanaka wa bihamdik (Allah is Most Great. Verily, I have turned my face toward Him who created the Heavens and the Earth hanifa (worhsipping none but Allah Alone), as a Muslim, and I am not of the idolaters. Verily, my Salah, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of the all that exists. He has no partner. And of this I have been commanded, and I am the first of the Muslims. O Allah, You are the Sovereign and there is none worthy of worship but You, glory and praise be to You.)" Then he would recite
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو کہتے: «اللہ أكبر وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللہم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك وبحمدك» اللہ بہت بڑا ہے، میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی جانب کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں اللہ کے ساتھ ساجھی بنانے والوں میں سے نہیں ہوں، یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ( پالنہار ) ہے جس کا کوئی ساجھی نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ! تو صاحب قدرت و اقتدار ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تیری ذات تمام عیوب سے پاک ہے، اور تو لائق حمد وثناء ہے ) ، پھر قرآت فرماتے ۔