بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
45 hadith
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَعِظَامِي وَمُخِّي وَعَصَبِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ali bin Abi Talib that:When the Messenger of Allah (ﷺ) bowed, he said: "Allahumma laka rak`atu was laka aslamtu wa bika amantu, khasha`a laka sam`i wa basri wa `izami wa mukhi wa `asabi (O Allah, to You I have bowed and to You I have submitted and in You I have believed. My hearing, sight, bones, brain and sinews are humbled before You)
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو «اللہم لك ركعت ولك أسلمت وبك آمنت خشع لك سمعي وبصري وعظامي ومخي وعصبي» اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی، اور اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا، اور میں تجھ پر ایمان لایا، میرے کان، میری آنکھیں، میری ہڈیاں، میرے بھیجے اور میرے پٹھوں نے تیرے لیے عاجزی کا اظہار کیا پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلاَتِهِ قُعُودًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ ‏ "‏ إِنْ كُنْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلاَ تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah (ﷺ) was ill, and we prayed behind him while he was sitting, and Abu Bakr repeated his takbirs so that the people could hear them. He turned to us and saw us standing, so he gestured to us to sit down. So we prayed behind him sitting. When he said the salam he said: 'Just now you were doing what the Persians and Romans do for their kings when they are sitting. Do not do that. Follow your Imams: If they pray standing then pray standing, and if they pray sitting then pray sitting
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ زور سے تکبیر کہہ کر لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا رہے تھے، ( نماز میں ) آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے ہمیں دیکھا کہ ہم کھڑے ہیں، آپ نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو ہم بیٹھ گئے، اور ہم نے آپ کی امامت میں بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ابھی ابھی تم لوگ فارس اور روم والوں کی طرح کر رہے تھے، وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں، اور وہ بیٹھے رہتے ہیں، تو تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم کھڑے ہو کر پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھیں بھی بیٹھ کر پڑھو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَتِ الْمَلاَئِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَكَتَبُوا مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ طَوَتِ الْمَلاَئِكَةُ الصُّحُفَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي شَاةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَطَّةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَيْضَةً ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet (ﷺ) said: "When Friday comes, the angels sit at the doors of the Masjid and record who comes to Jumu'ah prayers. Then, when the Imam comes out, the angels roll up their scrolls." The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The one who comes early to Jumu'ah prayers is like one who sacrifices a camel, then like one who sacrifices a cow, then like one who sacrifices a sheep, then like one who sacrifices a duck, then like one who sacrifices a chicken, then like one who sacrifices an egg
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے ( اس دن ) مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں، اور جو جمعہ کے لیے آتا ہے اسے لکھتے ہیں، اور جب امام ( خطبہ دینے کے لیے ) نکلتا ہے تو فرشتے رجسٹر لپیٹ دیتے ہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک بکری کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک بطخ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک مرغی کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏
Al-'Ala bin Al-Hadrami said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Muhajir may stay for three days after completing his rituals
علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجر حج و عمرہ کے ارکان و مناسک پورے کرنے کے بعد ( مکہ میں ) تین دن تک ٹھر سکتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي طُعْمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ ‏.‏ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ مَا سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُجُودًا وَلاَ رَكَعَ رُكُوعًا أَطْوَلَ مِنْهُ ‏.‏ خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"The sun was eclipsed and the Messenger of Allah (ﷺ) bowed twice and prostrated twice, then he stood up and bowed twice and prostrated twice. Then the eclipse ended. 'Aishah used to say: "The Messenger of Allah (ﷺ) never prostrated or bowed for so long as that
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکوع کیے، اور دو سجدے کیے، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکوع اور دو سجدے کیے، پھر سورج سے گرہن چھٹ گیا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی سجدہ اور کوئی رکوع ان سے لمبا نہیں کیا۔ علی بن مبارک نے معاویہ بن سلام کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمُ اللَّيْلَةَ قَالَ مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلاَّ أَصْبَحَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَأَمَّا مَنْ آمَنَ بِي وَحَمِدَنِي عَلَى سُقْيَاىَ فَذَلِكَ الَّذِي آمَنَ بِي وَكَفَرَ بِالْكَوْكَبِ وَمَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَاكَ الَّذِي كَفَرَ بِي وَآمَنَ بِالْكَوْكَبِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said:"It rained during the time of the Prophet (ﷺ) and he said: 'Have you nt heard what your Lord said this night? He said: I have never sent down any blessing upon My slaves but some of them become disbelievers thereby, saying: 'We have been given rain by such and such a star.' As for the one who believes in Me and praises Me for giving rain, that is the one who believes in Me and disbelieves in the stars. But the one who says: 'We have been given rain by such and such a star' he has disbelieved in Me and believed in the stars
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ اس نے فرمایا: میں نے جب بھی بارش کی نعمت اپنے بندوں پر کی تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ کہتا رہا: فلاں و فلاں نچھتر کے سبب ہم پر بارش ہوئی، تو رہا وہ شخص جو مجھ پر ایمان لایا، اور میرے بارش برسانے پر اس نے میری تعریف کی، تو یہ وہی شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا، اور ستاروں کا انکار کیا، اور جس نے کہا: ہم فلاں فلاں نچھتر کے سبب بارش دیئے گئے، تو یہ وہ شخص ہے جس نے میرے ساتھ کفر کیا، اور ستاروں پر ایمان رکھا ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعُسْفَانَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الظُّهْرِ وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لَقَدْ أَصَبْنَا مِنْهُمْ غِرَّةً وَلَقَدْ أَصَبْنَا مِنْهُمْ غَفْلَةً ‏.‏ فَنَزَلَتْ - يَعْنِي صَلاَةَ الْخَوْفِ - بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْعَصْرِ فَفَرَّقَنَا فِرْقَتَيْنِ فِرْقَةً تُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفِرْقَةً يَحْرُسُونَهُ فَكَبَّرَ بِالَّذِينَ يَلُونَهُ وَالَّذِينَ يَحْرُسُونَهُمْ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ هَؤُلاَءِ وَأُولَئِكَ جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَتَأَخَّرَ هَؤُلاَءِ وَالَّذِينَ يَلُونَهُ وَتَقَدَّمَ الآخَرُونَ فَسَجَدُوا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ بِهِمْ جَمِيعًا الثَّانِيَةَ بِالَّذِينَ يَلُونَهُ وَبِالَّذِينَ يَحْرُسُونَهُ ثُمَّ سَجَدَ بِالَّذِينَ يَلُونَهُ ثُمَّ تَأَخَّرُوا فَقَامُوا فِي مَصَافِّ أَصْحَابِهِمْ وَتَقَدَّمَ الآخَرُونَ فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَكَانَتْ لِكُلِّهِمْ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ مَعَ إِمَامِهِمْ وَصَلَّى مَرَّةً بِأَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ ‏.‏
It was narrated that Abu 'Ayyash Al-Zuraqi said:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in 'Usfan and the Messenger of Allah (ﷺ) led us in praying Zuhr. The idolaters were led that day by Khalid bin Al-Walid, and the idolaters said: 'We have caught them unawares.' Then the fear prayer was revealed between Zuhr and 'Asr. The Messenger of Allah (ﷺ) led us in praying 'Asr and divided us into two groups, a group that prayed with the Prophet (ﷺ) and a group that guarded him. He said takbir with those who were closest to him and those who were guarding them, then he bowed and both groups bowed with him. Then those who were closest to him prostrated. Then they moved back and the others moved forward and prostrated. Then he stood and led them all in bowing, those who were closest to him and those who were guarding him. Then he led those who were closest to him in prostrating, then they moved back and took the place of their companions and the others came forward and prostrated. Then he said the taslim so each group had prayed two rak'ahs with their imam. And he offered the fear prayer once in the land of Banu Sulaym
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، اس وقت مشرکین کی کمان خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، مشرکوں نے ( آپ سے میں ) کہا: ہم نے انہیں دھوکہ دینے اور انہیں غفلت میں ( دبوچنے کا ) موقع پا لیا ہے، تو ظہر اور عصر کے درمیان خوف کی نماز نازل ہوئی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی تو ہم دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگا، اور ایک گروہ ان کی حفاظت کرتا رہا، آپ نے جو آپ کے ساتھ کھڑے تھے، اور جو آپ کی حفاظت میں لگے تھے سبھوں کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا، تو ان لوگوں نے اور ان لوگوں نے سبھوں نے ایک ساتھ رکوع کیا، پھر جو آپ کے قریب تھے ان لوگوں نے سجدہ کیا، اور سجدہ کر کے وہ پیچھے ہٹ گئے اور پیچھے والے آگے بڑھ آئے، پھر انہوں نے سجدہ کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، پھر جو آپ کے قریب تھے اور جو آپ کی حفاظت کر رہے تھے سبھوں کے ساتھ مل کر آپ نے دوسرا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنے پاس والوں کے ساتھ سجدہ کیا، پھر وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے، اور اپنے ساتھیوں کی صف میں کھڑے ہو گئے اور پیچھے والے آگے بڑھ آئے اور انہوں نے سجدہ کیا، پھر آپ نے ان پر سلام پھیرا، تو ان میں سے ہر ایک کی امام کے ساتھ دو دو رکعت ہو گئی، اور ایک بار آپ نے بنی سلیم کی سر زمین میں ( بھی ) خوف کی نماز پڑھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If you say to your companion: 'Be quiet and listen' when the imam is delivering the Khutbah, you have engaged in idle speech
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو حرکت کی ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَحْوَلِ، - يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ - عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ حَقٌّ وَوَعْدُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَبِكَ آمَنْتُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ قُتَيْبَةُ كَلِمَةً مَعْنَاهَا ‏"‏ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"When the Prophet (ﷺ) got up at night to pray Tahajjud, he said: Allahumma, lakal-hamdu anta nurus-samawati wal-ardi wa man fihinna wa lakal-hamdu anta qayyamus-samawati wal ardi wa man fihinna wa lakal-hamdu, anta haqqun wa wa'duka haqqun wal jannatu haqqun wan-nuru haqqun wan-nabiyyuna haqqun wa Muhammadan haqqun, laka aslant wa 'alaika tawakkaltu wa bika amant. ( O Allah, to You be praise, You are the Light of the heavens and earth and whoever is in them. To You be praise, You are the Sustainer of the Heavens and the earth and whoever is in them. To You be praise, You are the Sovereign of the heavens and earth and whoever is in them. To You be praise; You are True, Your promise is true, Paradise is true, Hell is true, the Hour is true, the Prophets are true and Muhammad is true. To You have I submitted, in You I put my trust and in You I have believed.'" Then (one of the narrators) Qutaibah mentioned some words the meaning of which was: "Wa bika khasamtu wa ilaika hakamtu, ighfirli ma quadrate wa ma akhkhartu wa ma a'lantu antal-muqaddimu wa antal-mu'khkhir, la ilaha illa anta wa la hawla wa la quwwata illa billah (And with Your help I argue [with my opponents, the non-believers], and I take You as a judge [to judge between us]. Forgive me my past and future sins and those that I commit openly. You are the One who puts [some people] back and bring [others] forward. There is no God but You and there is no power and no strength except with Allah
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتے تو کہتے: «‏اللہم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت ملك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت حق ووعدك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق لك أسلمت وعليك توكلت وبك آمنت» اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو ان میں ہیں سب کا روشن کرنے والا ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو ان میں ہیں سب کا قائم و برقرار رکھنے والا ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور جوان میں ہیں سب کا بادشاہ ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، انبیاء حق ہیں، اور محمد حق ہیں، میں نے تیری ہی فرمانبرداری کی، اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا، اور تجھی پر ایمان لایا ، پھر قتیبہ نے ایک بات ذکر کی اس کا مفہوم ہے ( کہ آپ یہ بھی کہتے: ) «وبك خاصمت وإليك حاكمت اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اور تیرے ہی لیے میں نے جھگڑا کیا، تیری ہی طرف میں فیصلہ کے لیے آیا، بخش دے میرے اگلے پچھلے، چھپے اور کھلے گناہ، تو ہی آگے اور پیچھے کرنے والا ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود مگر تو ہی، اور نہ ہی کسی میں زور و طاقت ہے سوائے اللہ کے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، قَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مَيِّتٌ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah:that Abu Bakr kissed the Prophet between the eyes when he had died
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں کے بیچ بوسہ لیا، اور آپ انتقال فرما چکے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ - قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ - قَالَ - فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتَهَلَّ عَلَىَّ هِلاَلُ رَمَضَانَ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْتُ الْهِلاَلَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلاَلَ فَقَالَ مَتَى رَأَيْتُمْ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ‏.‏ قَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ قُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ فَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ ‏.‏ قَالَ لَكِنْ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلاَ نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلاَثِينَ يَوْمًا أَوْ نَرَاهُ ‏.‏ فَقُلْتُ أَوَلاَ تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَأَصْحَابِهِ قَالَ لاَ هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Kuraib narrated that Umm Al-Fadl sent him to Muawiyah in Ash-Sham. He said:"I came to Ash-Sham. He said: "I came to Ash-Sham and complete her errand. Then the new crescent of Ramadan was sighted while I was in Ash-Sham. I saw the new crescent on the night of Friday, then I came to Al-Madinah at the end of the month. 'Abdullah bin 'Abbas asked me about the sighting of the moon and said: ' When did you see it?' I said: 'We saw it on the night of Friday.' He said; 'You saw it on the ninth of Friday?' I said: 'Yes, and the people saw it and started fasting, and so did Muawiyah. He said: 'But we saw it on the night of Saturday, so we will continue fasting until we have completed thirty days or we see it.' I said: 'Will you not be content with the sighting of Muawiyah and his companions? He said; 'No; this is what the Messenger of Allah enjoined upon us
کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں: ام فضل رضی اللہ عنہا نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور میں شام ( ہی ) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینہ کے آخری ( ایام ) میں مدینہ آ گیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے ( حال چال ) پوچھا، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا، ( اور مجھ سے ) پوچھا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا؟ تو میں نے جواب دیا: ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انہوں نے ( تاکیداً ) پوچھا: تم نے ( بھی ) اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں ( میں نے بھی دیکھا تھا ) اور لوگوں نے بھی دیکھا، تو لوگوں نے ( بھی ) روزے رکھے، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی، ( تو ) انہوں نے کہا: لیکن ہم لوگوں نے ہفتے ( سنیچر ) کی رات کو دیکھا تھا، ( لہٰذا ) ہم برابر روزہ رکھیں گے یہاں تک کہ ہم ( گنتی کے ) تیس دن پورے کر لیں، یا ہم ( اپنا چاند ) دیکھ لیں، تو میں نے کہا: کیا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا چاند دیکھنا کافی نہیں ہے؟ کہا: نہیں! ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلاَ يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّبْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Ayyub Al-Ansari said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When any one of you goes to defecate, let him not face toward the Qiblah, rather let him face towards the east or the west
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف کرے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلاَ بَقَرٍ وَلاَ غَنَمٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا كُلَّمَا نَفَذَتْ أُخْرَاهَا أَعَادَتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Dharr said:"The Messenger of Allah said: There is no owner of camels, cattle or sheep who does not give Zakah on them, but they will come on the Day of Resurrection as big and fast as they ever were, and will gore him with their horns and trample him with their hooves. Every time the last of them has run over him the first of them will come back to him, until judgment is passed among the people
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اونٹ گائے اور بکریاں رکھتا ہو اور ان کی زکاۃ نہ دے تو وہ دنیا میں جیسے تھے اس سے بڑے اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے، اور وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے، اور اپنی کھروں سے روندیں گے، جب آخری جانور مار چکے گا تو پھر پہلا جانور لوٹا دیا جائے گا، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے“۔
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لاَ يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَإِنْ شَدَدْتُهُ خَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ مُجْزِئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ ‏"‏ ‏.‏
(It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that:a man asked the Prophet "The command of ) Hajj has come while my father is an old man and cannot sit firmly in his saddle; if I tie him (to the saddle) I fear that he will die. Can I perform Hajj on his behalf?" He said: "don't you think that if your father owed a debt and you paid it off, that would be good enough?" He said: "Yes." He said: "Then perform Hajj on behalf of your father
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے باپ کو ( فریضہ ) حج نے اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اپنی سواری پر ٹک نہیں سکتے، اگر میں انہیں سواری پر بٹھا کر باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں مر نہ جائیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو اسے ادا کرتے، تو وہ کافی ہو جاتا“؟ اس نے کہا: ہاں ( کافی ہو جاتا ) آپ نے فرمایا: ”پھر اپنے باپ کی طرف سے حج کرو“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ تَبُوكَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلاً عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ أَوْ عَلَى قَدَمِهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلاً فَاجِرًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لاَ يَرْعَوِي إِلَى شَىْءٍ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"in the year of Tabuk, the Messenger of Allah (ﷺ) addressed the people, while leaning against his mount. He said: 'Shall I not tell you of the best of the people and the worst of the people? Among the best of the people is a man who strives in the cause of Allah on the back of his horse, or on the back of his camel, or on his own two feet, until death comes to him. And among the worst of the people, is an immoral man (Fajir) who reads the Book of Allah but he does not refrain from doing anything bad because of it
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے پیٹھ لگائے خطبہ دے رہے تھے، آپ نے کہا: ”کیا میں تمہیں اچھے آدمی اور برے آدمی کی پہچان نہ بتاؤں؟ بہترین آدمی وہ ہے جو پوری زندگی اللہ کے راستے میں گھوڑے یا اونٹ کی پیٹھ پر سوار ہو کر یا اپنے قدموں سے چل کر کام کرے۔ اور لوگوں میں برا وہ فاجر شخص ہے جو کتاب اللہ ( قرآن ) تو پڑھتا ہے لیکن کتاب اللہ ( قرآن ) کی کسی چیز کا خیال نہیں کرتا“ ۱؎۔
Narrated by Anas
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ بَعْضُهُمْ لاَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ آكُلُ اللَّحْمَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَصُومُ فَلاَ أُفْطِرُ ‏.‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ‏"‏ ‏.‏
Narrated Anas:It was narrated from Anas that there was a group of the Companions of the Prophet, one of whom said: "I will not marry women." Another said: "I will not eat meat." Another said: "I will not sleep on a bed." Another said: "I will fast and not break my fast." News of that reached the Messenger of Allah and he praised Allah then said: "What is the matter with people who say such and such? But I pray and I sleep, I fast and I break my fast, and I marry women. Whoever turns away from my Sunnah is not of me
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں سے بعض نے کہا: میں نکاح ( شادی بیاہ ) نہیں کروں گا، بعض نے کہا: میں گوشت نہ کھاؤں گا، بعض نے کہا: میں بستر پر نہ سوؤں گا، بعض نے کہا: میں مسلسل روزے رکھوں گا، کھاؤں پیوں گا نہیں، یہ خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ( لوگوں کے سامنے ) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ ( مجھے دیکھو ) میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، اور عورتوں سے شادیاں بھی کرتا ہوں۔ ( سن لو ) جو شخص میری سنت سے اعراض کرے ( میرے طریقے پر نہ چلے ) سمجھ لو وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لأَيُّوبَ هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا قَالَ فِي أَمْرِكِ بِيَدِكِ أَنَّهَا ثَلاَثٌ غَيْرَ الْحَسَنِ فَقَالَ لاَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ غَفْرًا إِلاَّ مَا حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثٌ ‏"‏ ‏.‏ فَلَقِيتُ كَثِيرًا فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ فَرَجَعْتُ إِلَى قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ نَسِيَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ‏.‏
Hammad bin Zaid said:"I said to Ayyub: 'Do you know anyone who said concerning the phrase 'It is up to you' that it is equivalent to three (divorces) except Al-Hasan?' He said: 'No.' Then he said: 'O Allah! Grant forgiveness, sorry.'" Qatadah narrated to me from Kathir the freed slave of Ibn Samurah, from Abu Salamah, from Abu Hurairah, that the Prophet said: "Three." I met Kathir and asked him, and he did not know of it. I went back to Qatadah and told him, and he said: "He forgot
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے کہا: کیا آپ حسن کے سوا کسی کو جانتے ہیں؟ جو «أمرک بیدک» کہنے سے تین طلاقیں لاگو کرتا ہو؟ انہوں نے کہا نہیں ( میں کسی کو بھی نہیں جانتا ) پھر انہوں نے کہا: اللہ انہیں بخش دے اب رہی قتادہ کی حدیث جو انہوں نے مجھ سے کثیر مولی ابن سمرۃ سے روایت کی ہے اور کثیر نے ابوسلمہ سے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تین طلاقیں ہوتی ہیں“ تو ( اس کا حال یہ ہے کہ ) میری ملاقات کثیر سے ہوئی میں نے ان سے ( اس حدیث کے متعلق ) پوچھا تو انہوں نے اسے پہچانا ہی نہیں ( کہ میں نے ایسی کوئی روایت کی ہے ) میں لوٹ کر قتادہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی ( کہ وہ ایسا کہتے ہیں ) تو قتادہ نے کہا کہ وہ بھول گئے ( انہوں نے ایسی بات کہی ہے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَوَضَّأُ بِمُدٍّ وَيَغْتَسِلُ بِنَحْوِ الصَّاعِ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) used to perform Ghusl with a Mudd and Ghusl with approximately a Sa
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو، اور ایک صاع کے برابر پانی سے غسل کرتے تھے۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا لِوَعْدِ اللَّهِ كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَبَوْلُهُ وَرَوْثُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"Whoever keeps a horse for the cause of Allah out of faith in Allah and believing the promise of Allah, its feed, water, urine and dung will all count as Hasanat in the balance of his deeds
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے گھوڑا پالے اور اللہ پر اس کا پورا ایمان ہو اور اللہ کے وعدوں پر اسے پختہ یقین ہو تو اس گھوڑے کی آسودگی، اس کی سیرابی، اس کا پیشاب اور اس کا گوبر سب نیکیاں بنا کر اس کے میزان میں رکھ دی جائیں گی“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَادَهُ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَالشَّطْرَ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَالثُّلُثَ قَالَ ‏"‏ الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ ‏"‏‏.‏
It was narrated from Sa'd that the Prophet visited him when he was sick, and he said:"O Messenger of Allah, shall I bequeath all of my wealth?" He said: "No." He said: "Half?" He said: "No." He said: "One-third?" He said: "One-third, and one-third is much or large
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیماری میں ان کی عیادت کی، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، کہا: آدھے کی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، کہا: تہائی کی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کی کر دو، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas from the Prophet (ﷺ) concerning a man who has had intercourse with his wife while she was menstruating:"Let him give a Dinar or half a Dinar in charity
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جو آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے ۱؎ اور وہ حائضہ ہو تو وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے ۲؎۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ ‏"‏ ‏.‏
Al-Awza'i narrated from Az-Zuhri, from 'Urwah, from Jabir, who said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever is given something on the basis of 'Umra, it belongs to him and to his descendants, and is inherited by those who inherit from him
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو کوئی چیز عمر بھر کے لیے دی گئی تو وہ چیز اسی کی ہو گی اور اس کی اولاد کی ہو گی، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے، وہی اس کے بھی وارث ہوں گے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَنْظُرِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ فَلْيَأْتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Samurah that the Messenger of Allah said:"If any one of you swears an oath, then he sees something better than it, let him offer expiation for his oath, and look at what is better and do it
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو چاہیئے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور دیکھے کہ کون سی بات بہتر ہے تو وہی کرے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، - هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتِ الْتَمَسْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَدْخَلْتُ يَدِي فى شَعْرِهِ فَقَالَ ‏"‏ قَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ أَمَا لَكَ شَيْطَانٌ فَقَالَ ‏"‏ بَلَى وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Ubadah bin Al-Walid bin 'Ubadah bin As-Samit that 'Aishah said:"I looked for the Messenger of Allah and I put my hand on his hair." He said: "Your Shaitan has come to you." I said: "Don't you have a Shaitan?" He said: "Yes, but Allah helped me with him, so he submitted
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفتیش کر رہی تھی چنانچہ میں نے اپنا ہاتھ آپ کے بالوں میں داخل کیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے پاس تمہارا شیطان آ گیا ہے“۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ کا شیطان نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اللہ کی قسم، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے محفوظ رکھا ہے لہٰذا میں اس سے محفوظ رہتا ہوں“۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that:The Prophet [SAW] said: "The extinction of the whole world is less significant before Allah than killing a Muslim man
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ لأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا ‏‏.‏‏ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ فَقَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا ‏‏.‏‏
It was narrated from Ibrahim bin Muhammad bin Al-Muntashir that his father said:"I heard Ibn 'Umar say: 'I would rather wake up in the morning covered in tar than wake up and enter Ihram with the smell of perfume coming from me.' I entered upon 'Aishah and told her what he had said, and she said: 'I put perfume on the Messenger of Allah (ﷺ) and he went round to all his wives, then in the morning he entered Ihram
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں ( اپنے جسم پر ) تارکول مل لوں یہ میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس حال میں احرام باندھوں کہ میرے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہو، تو ( محمد بن منتشر کہتے ہیں ) میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور میں نے انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی یہ بات بتائی تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی، اور آپ نے اپنی بیویوں کا چکر لگایا ۱؎ آپ نے محرم ہو کر صبح کی ( اس وقت آپ کے جسم پر خوشبو کا اثر باقی تھا ) ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ ‏ "‏ لاَ هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said on the Day of the Conquest (of Makkah): "There is no more emigration (Hijrah), rather there is Jihad and intention. When you are called to moblize (for Jihad) then do so
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ دَعَا بِمَاءٍ مِنْ عِنْدِ امْرَأَةٍ قَالَتْ مَا عِنْدِي إِلاَّ فِي قِرْبَةٍ لِي مَيْتَةٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ قَدْ دَبَغْتِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ دِبَاغَهَا ذَكَاتُهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Salamah bin Al-Muhabbaq that:during the campaign of Tabuk, the Prophet of Allah called for water from a woman. She said: "I only have a waterskin of mine made from an (unslaughtered) dead animal." He said: "Didn't you tan it?" She said: "Of course." He said: "Then it's tanning is its slaughter". (Daif)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - عَنْ حَنْظَلَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ إِلاَّ ضَارِيًا أَوْ صَاحِبَ مَاشِيَةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn'Umar said:"The Messenger of Allah said: 'whoever keeps a dog, two Qirats will be detracted from his reward each day, except a trained hunting dog, or a dog for herding livestock
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ ‏.‏
it was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said:'We sacrificed a Jadh'ah sheep with the Messenger of Allah
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ ‏"‏ ‏.‏ وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ ‏"‏ أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ اخْتَرْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ayyub, from Nafi from Ibn 'Umar, who said:"The Messenger of Allah said: 'The two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated or chosen to conclude the transaction." Or perhaps Nafi said: "Or one of them has said to the other: 'Decide! "(Sahih)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسًا، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Ibn Al-Munkadir and Ibrahim bin Maisarah, that they heard Anas say:"I prayed Zuhr with the Prophet (ﷺ) in Al-Madinah, four Rak'ahs and 'Asr in Dhul-Hulaifah, two Rak'ahs
ابن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی، اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ سِمَاكٍ، ذَكَرَ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَتَلَ هَذَا أَخِي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَقَتَلْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ قَتَلْتُهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ قَتَلْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي إِلاَّ فَأْسِي وَكِسَائِي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتُرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ ‏.‏ فَرَمَى بِالنِّسْعَةِ إِلَى الرَّجُلِ فَقَالَ ‏"‏ دُونَكَ صَاحِبَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَدْرَكُوا الرَّجُلَ فَقَالُوا وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ ‏"‏ إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ ‏"‏ ‏.‏ وَهَلْ أَخَذْتُهُ إِلاَّ بِأَمْرِكَ فَقَالَ ‏"‏ مَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنْ ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ذَلِكَ كَذَلِكَ ‏.‏
Alqamah bin Wa'il narrated from his father that he was sitting with the Messenger of Allah when a man came leading another man by a string. He said:"O Messenger of Allah, this man killed my brother." The Messenger of Allah said to him: "Did you kill him?" He said: "O Messenger of Allah even if he did not confess I would have brought proof against him." He said: "Yes, I killed him." He said: "How did you kill him?" He said: "He and I were chopping firewood from a tree and he insulted me, so I got angry and struck him with the ax on the forehead." The Messenger of Allah said: "Do you have any wealth with which you can pay the Diyah to save yourself?" He said: "O Messenger of Allah, I do not have anything but my ax and my clothes." The Messenger of Allah said to him: "Do you think your people will pay to save you?" He said: "I am too insignificant to them for that." He threw the string to the man and said: "Here, thank him." When he turned to go, the Messenger of Allah said: "If he kills him, he will be like him. "They caught up with the man, and said: "Woe to you! The Messenger of Allah said: 'If he kills him, he will be like him. "So he went back to the Messenger of Allah and said: "O Messenger of Allah, I have been told that you said: 'if he kills him, he will be like him. 'But I only took him because you told me to. He said: 'Don't you want him to carry your sin and the sin of your companion (the victim)?' He said: 'Yes, if that is the case.' He said: 'And that is how it is
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَعَاذَتْ بِأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقُطِعَتْ يَدُهَا ‏.‏
It was narrated from Jabir that:a woman from Banu Makhzum stole (something), and she was brought to the Prophet. She sought the protection of Umm Salamah, but the Prophet said: "If Fatimah bint Muhammad were to steal, I would cut off her hand." And he ordered that her hand be cut off
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet [SAW] said: "Modesty (Al-Haya') is a branch of Faith
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The hair of the Messenger of Allah [SAW] came halfway down his ears
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَوْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَدْ أَدْرَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"Whoever catches up with one Rak'ah of 'Asr prayer before the sun sets, or catches up with one Rak'ah of Fajr before the sun rises, has caught it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی یا سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی اس نے ( پوری نماز ) پالی ۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتْ مُلُوكٌ بَعْدَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ بَدَّلُوا التَّوْرَاةَ وَالإِنْجِيلَ وَكَانَ فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ قِيلَ لِمُلُوكِهِمْ مَا نَجِدُ شَتْمًا أَشَدَّ مِنْ شَتْمٍ يَشْتِمُونَّا هَؤُلاَءِ إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ ‏{‏وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ‏}‏ وَهَؤُلاَءِ الآيَاتِ مَعَ مَا يَعِيبُونَّا بِهِ فِي أَعْمَالِنَا فِي قِرَاءَتِهِمْ فَادْعُهُمْ فَلْيَقْرَءُوا كَمَا نَقْرَأُ وَلْيُؤْمِنُوا كَمَا آمَنَّا‏.‏ فَدَعَاهُمْ فَجَمَعَهُمْ وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلَ أَوْ يَتْرُكُوا قِرَاءَةَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ إِلاَّ مَا بَدَّلُوا مِنْهَا فَقَالُوا مَا تُرِيدُونَ إِلَى ذَلِكَ دَعُونَا‏.‏ فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمُ ابْنُوا لَنَا أُسْطُوَانَةً ثُمَّ ارْفَعُونَا إِلَيْهَا ثُمَّ اعْطُونَا شَيْئًا نَرْفَعُ بِهِ طَعَامَنَا وَشَرَابَنَا فَلاَ نَرِدُ عَلَيْكُمْ‏.‏ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ دَعُونَا نَسِيحُ فِي الأَرْضِ وَنَهِيمُ وَنَشْرَبُ كَمَا يَشْرَبُ الْوَحْشُ فَإِنْ قَدَرْتُمْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِكُمْ فَاقْتُلُونَا‏.‏ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمُ ابْنُوا لَنَا دُورًا فِي الْفَيَافِي وَنَحْتَفِرُ الآبَارَ وَنَحْتَرِثُ الْبُقُولَ فَلاَ نَرِدُ عَلَيْكُمْ وَلاَ نَمُرُّ بِكُمْ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَبَائِلِ إِلاَّ وَلَهُ حَمِيمٌ فِيهِمْ‏.‏ قَالَ فَفَعَلُوا ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلاَّ ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا‏}‏ وَالآخَرُونَ قَالُوا نَتَعَبَّدُ كَمَا تَعَبَّدَ فُلاَنٌ وَنَسِيحُ كَمَا سَاحَ فُلاَنٌ وَنَتَّخِذُ دُورًا كَمَا اتَّخَذَ فُلاَنٌ‏.‏ وَهُمْ عَلَى شِرْكِهِمْ لاَ عِلْمَ لَهُمْ بِإِيمَانِ الَّذِينَ اقْتَدَوْا بِهِ فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلاَّ قَلِيلٌ انْحَطَّ رَجُلٌ مِنْ صَوْمَعَتِهِ وَجَاءَ سَائِحٌ مِنْ سِيَاحَتِهِ وَصَاحِبُ الدَّيْرِ مِنْ دَيْرِهِ فَآمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ‏}‏ أَجْرَيْنِ بِإِيمَانِهِمْ بِعِيسَى وَبِالتَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَبِإِيمَانِهِمْ بِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَتَصْدِيقِهِمْ قَالَ ‏{‏يَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ‏}‏ الْقُرْآنَ وَاتِّبَاعَهُمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏{‏لِئَلاَّ يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ‏}‏ يَتَشَبَّهُونَ بِكُمْ ‏{‏أَنْ لاَ يَقْدِرُونَ عَلَى شَىْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ‏}‏ الآيَةَ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"There were kings after 'Isa bin Mariam who altered the Tawrah and the Injil, but there were among them believers who read the Tawrah. It was said to their kings: 'We have never heard of any slander worse than that of those (believers) who slander us and recite: "And whosoever does not judge by what Allah has revealed, such are the disbelievers." In these Verses, they are criticizing us for our deeds when they recite them.' So he called them together and gave them the choice between being put to death, or giving up reading the Tawrah and Injil, except for what had been altered. They said: 'Why do you want us to change? Leave us alone.' Some of them said: 'Build us a tower and let us go up there, and give us something to lift up our food and drink so we do not have to mix with you.' Others said: 'Let us go and wander throughout the land, and we will drink as the wild animals drink, and if you capture us in your land, you may kill us.' Others said: 'Build houses for us in the wilderness, and we will dig wells and grow vegetables, and we will not mix with you or pass by you, for there is no one of the tribes among whom we do not have close relatives.' So they did that, and Allah revealed the words: 'But the monasticism which they invented for themselves, We did not prescribe for them, but (they sought it) only to please Allah therewith, but that they did not observe it with the right observance.' Then others said: 'We will worship as so-and-so worshipped, and we will wander as so-and-so wandered, and we will adopt houses (in the wilderness) as so-and-so did.' But they were still following their Shirk with no knowledge of the faith of those whom they claimed to be following. When Allah sent the Prophet [SAW], and they were only a few of them left, a man came down from his cell, and a wanderer came from his travels, and a monk came from his monastery, and they believed in him. And Allah said: 'O you who believe! Fear Allah, and believe in His Messenger (Muhammad), He will give you a double portion of His mercy - meaning, two rewards, because of their having believed in 'Isa and in the Tawrah and Injil, and for having believing in Muhammad [SAW]; and He will give you a light by which you shall walk (straight), - meaning, the Qur'an, and their following the Prophet [SAW]; and He said: 'So that the people of the Scripture (Jews and Christians) may know that they have no power whatsoever over the Grace of Allah
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَوَاتٌ لاَ يَدَعُهُنَّ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah [SAW] had supplications that he never omitted to recite. He used to say: 'Allahumma inni a'udhu bika minal-hammi, wal-hazani, wal-'ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wa ghalabatar-rijal (O Allah, I seek refuge with You from worry, grief, incapacity, laziness, miserliness, cowardice and being overpowered by (other) men
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَنْبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ وَلاَ تَنْبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا ‏"‏‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Abi Qatadah, from his father, that:The Prophet [SAW] said: "Do not soak Az-Zahuw and ripe dates, and do not soak ripe dates and raisins together
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سَلْمَانَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ كُنْتُ أُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنْتُ أَقُولُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ الأَوَّلِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏
It was narrated that Abu Mahdhurah said:"I used to call the Adhan for the Messenger of Allah (S.A.W) and in the first Adhan of Fajr I used to Say: 'Hayya 'ala al-falah, as-salatu khairun minan-nawm, as-salatu khairun minan-nawm, Allahu Akbar Allahu Akbar, la ilaha illallah (Come to prosperity, prayer is better than sleep, prayer is better than sleep, Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, there is none worthy of worship except Allah)
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان دیتا تھا، اور میں فجر کی پہلی اذان ۲؎ میں کہتا تھا: «حى على الفلاح، الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم، اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ‏» آؤ کامیابی کی طرف، نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَأَمَرَ فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ خِبَاءَهَا أَمَرَتْ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ آلْبِرَّ تُرِدْنَ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to observe I'tikaf, [2] he would pray Fajr then enter the place where he wnated to observe I'tikaf. He wanted to observe I'tikaf during the last ten days of Ramadan, so he commanded that a Khiba' (tent) be pitched for him. Then Hafsah ordered that a Khiba' be pitched for her, and when Zainab saw her tent she ordered that a Khiba' be pitched for her too. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw that he said: 'Is it righteousness that you seek?' And he did not observe I'tikaf in Ramadan, and observed I'tikaf for ten days in Shawwal (instead)." [1] Al-Khiba': "One of the house of the Bedouins made of Wabir (camel or goat fur) or wool, not of hair (from other pelts). And it would have two or three posts." (An-Nihayah) [2] Seclusion in the Masjid for the sake of devotion to Allah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر پڑھتے، پھر آپ اس جگہ میں داخل ہو جاتے جہاں آپ اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے، چنانچہ آپ نے ایک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا، تو آپ نے ( خیمہ لگانے کا ) حکم دیا تو آپ کے لیے خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، پھر جب ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیمے دیکھے تو فرمایا: کیا تم لوگ اس سے نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ ۱؎، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سال ) رمضان میں اعتکاف نہیں کیا ( اور اس کے بدلے ) شوال میں دس دنوں کا اعتکاف کیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَائِلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ ‏ "‏ أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that someone asked the Messenger of Allah(ﷺ) about praying in a single garment, and he said:"Does everyone of you have two garments?
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟ ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى - قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُنَا ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led us in Zuhr prayer and Abu Bakr was behind him. When the Messenger of Allah (ﷺ) said the Takbir, Abu Bakr said the Takbir so that the people could hear
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اکبر کہتے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی اللہ اکبر کہتے، وہ ہمیں ( آپ کی تکبیر ) سنا رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ لاَ يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لاَ يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلاَّ أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ali, may Allah be pleased with him, that:When the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray, he would say Takbir, then say: "Wajahtu wajhi lilladhi fataras-samawatiwal-arda hanifan wa ma ana minal-mushrikin. Inna salati wa nusuki wa mahyaya wa mamati lillahi rabbil-alamin, la sharika lahu, wa bidhalika umirtu wa ana min al-muslimin. Allahumma! Antal-maliku la ilaha illa ant, ana abduka zalamtu nafsi wa'taraftu bidhanbi faghfirli dhunubi jami'an, la yaghfirudhunuba illa anta, wahdini lihasanil-ahklaqi, la yahdi li ahsaniha illa anta wasrif anni sayy'aha la yasrifu anni sayy'aha illa anta, labaika wa sa'daika, wal-khairu kulluhu fi yadaika wash-sharru laisa ilaika ana bika wa ilaika ana bika wa ilaika tabarkta wa ta'alaita astaghfiruka wa atubu ilaik. (Verily, I have turned my face toward Him who created the Heavens and the Earth hanifa (worhsipping none but Allah Alone), and I am not of the idolaters. Verily, my salah, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of the all that exists. He has no partner. And of this I have been commanded, and I am one of the Muslims. O Allah, You are the Sovereign and there is none worthy of worship but You. I am Your slave, I have wronged myself and I acknowledge my sin. Forgive me all my sins for no one forgives sins but You. Guide me to the best of manners for none can guide to the best of them but You. Protect me from bad manners for none can protect against them but You. I am at Your service, all goodness is in Your hands, and evil is not attributed to You. I rely on You and turn to You, blessed and exalted are You, I seek Your forgiveness and repent to You
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللہم أنت الملك لا إله إلا أنت أنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك» میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی جانب کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساجھی بنانے والوں میں سے نہیں ہوں، یقیناً میری صلاۃ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں، اے اللہ! تو صاحب قوت و اقتدار ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تیرا غلام ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، اور میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کوئی نہیں کر سکتا، اور مجھے حسن اخلاق کی توفیق دے، تیرے سوا کوئی اس کی توفیق نہیں دے سکتا، اور مجھ سے برے اخلاق پھیر دے، تیرے سوا اس کی برائی مجھ سے کوئی پھیر نہیں سکتا، میں تیری تابعداری کے لیے باربار حاضر ہوں، اور ہر طرح کی خیر تیرے ہاتھ میں ہے، اور شر سے تیرا کوئی علاقہ نہیں ۲؎، میں تیری وجہ سے ہوں، اور مجھے تیری ہی طرف پلٹنا ہے، تو صاحب برکت اور صاحب علو ہے، میں تجھ سے مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور تجھ سے اپنے گناہوں کی توبہ کرتا ہوں ۔