أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، - قَالَ مَرْوَانُ وَكَانَ سَعِيدٌ إِذَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَقَرَّ بِذَلِكَ وَلَمْ يُنْكِرْهُ وَإِذَا حَدَّثَنَا بِهِ هُوَ لَمْ يَرْفَعْهُ - قَالَتْ مَنْ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَنْبَسَةَ شَيْئًا .
It was narrated from Umm Habibah-and when this was narrated to Sa'eed from Umm Habibah from the Prophet (ﷺ), he would approve it and not deny it but when he narrated it to us, he did not attribute it to the Prophet (ﷺ)- she said:"Whoever prays four rak'ahs before Zuhr and four after it, Allah (SWT) will forbid him from the Fire
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، مروان بن محمد کہتے ہیں: اور سعید بن عبدالعزیز پر جب پڑھا گیا کہ ام حبیبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں تو انہوں نے اس کا اقرار کیا، اور انکار نہیں کیا حالانکہ جب انہوں نے اسے ہم سے بیان کیا تو انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا، وہ کہتی ہیں: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں، اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: مکحول نے عنبسہ سے کچھ نہیں سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ - عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ فَقَالَ : " أَىْ عَمِّ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . فَلَمْ يَزَالاَ يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى كَانَ آخِرُ شَىْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ " . فَنَزَلَتْ { مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ } وَنَزَلَتْ { إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ } .
It was narrated from Sa'eed bin Al-Musayyab that his father said:"When Abu Talib was dying, the Prophet came to him and found Abu Jahl and 'Abdullah bin Abi Umayyah with him. He said: 'O uncle, say La ilaha illallah(there is none worthy of worship except Allah), a word with which I will defend you before Allah.' Abu Jahl and 'Abdullah bin Abi Umayyah said: 'O Abu Talib, are you turning away from the religion of 'Abdul-Muttalib.' Then the Prophet said: 'I will keep on asking for Allah's forgiveness for you unless I am forbidden to do so.' Then the following was revealed: It is not (proper) for the Prophet and those who believe to ask Allah's forgiveness for the idolaters. And the following was revealed: Verily, you (O Muhammad) guide not whom you like
مسیب بن حزن رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اور ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں ان کے پاس ( پہلے سے موجود ) تھے، تو آپ نے فرمایا: ”چچا جان! آپ «لا إله إلا اللہ» کا کلمہ کہہ دیجئیے، میں اس کے ذریعہ آپ کے لیے اللہ عزوجل کے پاس جھگڑوں گا“، تو ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں نے ان سے کہا: ابوطالب! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ لو گے؟ پھر وہ دونوں ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ آخری بات جو عبدالمطلب نے ان سے کی وہ یہ تھی کہ ( میں ) عبدالمطلب کے دین پر ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”میں آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا رہوں گا جب تک مجھے روک نہ دیا جائے“، تو یہ آیت اتری ۱؎: «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين» ”نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کریں“ ( التوبہ: ۱۱۳ ) نیز یہ آیت اتری: «إنك لا تهدي من أحببت» ”آپ جسے چاہیں ہدایت کے راستہ پر نہیں لا سکتے“ ( القص: ۵۶ ) ۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتِ اسْتُحِيضَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ أَثَرَ الدَّمِ وَتَوَضَّئِي فَإِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ " . قِيلَ لَهُ فَالْغُسْلُ قَالَ " ذَلِكَ لاَ يَشُكُّ فِيهِ أَحَدٌ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ " وَتَوَضَّئِي " . غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ هِشَامٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ " وَتَوَضَّئِي " .
It was narrated that 'Aishah said:"Fatimah bint Abi Hubaish suffered from Istihadah and she asked the Prophet (ﷺ): 'O Messenger of Allah, I suffer from Istihadah and I do not become pure; should I stop praying?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'That is a vein and is not menstruation. When your period comes, stop praying, and when it goes wash the traces of blood from yourself and perform Wudu'. That is a vein and is not menstruation.'" It was said to him: "What about Ghusl?' He (ﷺ) said: "no one doubts that." Abu 'Abdur-Rahman said: "I do not know anyone who mentioned 'and perform Wudu' in this Hadith except Hammad bin Zaid, for some others have reported it from Hisham, and they did not mention 'and perform Wudu' in it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آیا، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے، حیض نہیں ہے، جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو خون کا دھبہ دھو لو، اور وضو کر لو، کیونکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض کا خون نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: غسل؟ ( یعنی کیا غسل نہ کرے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کسی کو شک نہیں ہے ( یعنی حیض سے پاک ہونے کے بعد تو غسل کرنا ضروری ہے ہی ) ۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ حَمْزَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصُومُ فِي السَّفَرِ فَقَالَ " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .
It was narrated that 'Aishah said:"Hamzah asked the Messenger of Allah: 'O Messenger of Allah, should I fast while then fast and if you wish then do not fast
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لاَ جُنَاحَ فِي قَتْلِهِنَّ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالإِحْرَامِ الْفَأْرَةُ وَالْحِدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
It was narrated from Salim that his father said:"The Prophet said: 'There are five kinds of animals for which there is no sin on the one who kills them, whether he is in Ihram or not: Mice, kites, crows, scorpions and vicious dogs.'" (Sahih) Chpater 89. What The Muhrim May Not Kill
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں اور حالت احرام میں مارنے میں کوئی گناہ نہیں ہے: چوہیا، چیل، کوا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ، عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ .
Abu Mas'us 'Uqbah bin 'Amr said:"The Messenger of Allah forbade the price of a dog, the gift of a female fornicator, and the fee of a fortuneteller
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُزَعْفِرَ الرَّجُلُ جِلْدَهُ .
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade men to use saffron on their skin
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، قَالَ أَحْدَثَ النَّاسُ أَشْرِبَةً مَا أَدْرِي مَا هِيَ وَمَا لِي شَرَابٌ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً إِلاَّ الْمَاءُ وَاللَّبَنُ وَالْعَسَلُ .
It was narrated that 'Abidah said:"The people have invented drinks and I do not know what they are. I have not drunk anything for 20 years except water, milk and honey