بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
20
8 hadith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَلَّى فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Umm Habibah that:The Prophet (ﷺ) said: "Whoever prays twelve rak'ahs during the day and night, a house will be built for him in Paradise
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا ۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ أَنْبَأَنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ، رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِقَبْرٍ مُنْتَبِذٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفَّ أَصْحَابَهُ خَلْفَهُ ‏.‏ قِيلَ ‏:‏ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ ‏:‏ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏.‏
Ash-Shaibani narrated that Ash-Sha'bi said:"Someone who saw the Prophet pass by an isolated grave told me that he offered the funeral prayer there and his Companions formed rows behind him." It was said: "Who told you this?" He said: "Ibn 'Abbas
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرے، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اپنے پیچھے اپنے اصحاب کی صف بندی کی، پوچھا گیا: آپ سے کس نے بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"Umm Habibah bint Jahsh consulted the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, I suffer from Istihadah (non-menstrual vaginal bleeding).' He said: 'That is a vein, so perform Ghusl and pray.' And she used to perform Ghusl for every prayer
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے ( اس حالت میں کیا کروں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے، تم غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو، چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں ۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ قَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Hamzah said:"I asked the Messenger of Allah about fasting while traveling. He said: 'If you wish to fast then fast, and if you wish not to fast then do not fast
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ انْطَلَقَ أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِي ضَحِكَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ فَطَعَنْتُهُ فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ فَطَلَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرَفِّعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا فَلَقِيتُ رَجُلاً مِنْ غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ أَيْنَ تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ تَرَكْتُهُ وَهُوَ قَائِلٌ بِالسُّقْيَا ‏.‏ فَلَحِقْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ فَانْتَظِرْهُمْ فَانْتَظَرَهُمْ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِي مِنْهُ فَقَالَ لِلْقَوْمِ ‏ "‏ كُلُوا ‏"‏ ‏.‏ وَهُمْ مُحْرِمُونَ ‏.‏
It was narrated that Abdullah bin Abi Qatadah said:"My father set out with the Messenger of Allah in the year of Al-Hudaybiyah, and his companions entered Ihram, but he did not. (He said:) 'While I was with my companions, some of them laughed at others. I looked and saw an onager. I stabbed it then asked them to help, but they refused to help me. We ate from its meat, and we were afraid that we would be intercepted (by the enemy) so I followed the Messenger of Allah, sometimes making my horse gallop and sometimes traveling at a regular place. I met a man from Ghifar at midnight and said: Where did you leave the Messenger of Allah? He said: I left him when he was napping in As-Suqya. I caught up with him and said: O messenger of Allah! Your Companions convey their greetings of Salam to you, and the mercy of Allah and His blessings. They were afraid that they may be intercepted and cut off from you, so wait for them. Then I said: O Messenger of Allah, I caught an onager and I have some of it. He said to the People: Eat, and they were I Ihram
عبداللہ بن ابی قتادہ کہتے ہیں کہ میرے والد صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا لیکن انہوں نے نہیں باندھا، ( ان کا بیان ہے ) کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ تھا کہ اسی دوران ہمارے اصحاب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسے، میں نے نظر اٹھائی تو اچانک ایک نیل گائے مجھے دکھائی پڑا، میں نے اسے نیزہ مارا اور ( اسے پکڑنے اور ذبح کرنے کے لیے ) ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کیا پھر ہم سب نے اس کا گوشت کھایا، اور ہمیں ڈر ہوا کہ ہم کہیں لوٹ نہ لیے جائیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ پکڑنا چاہا کبھی میں اپنا گھوڑا تیز بھگاتا اور کبھی عام رفتار سے چلتا تو میری ملاقات کافی رات گئے قبیلہ غفار کے ایک شخص سے ہوئی میں نے اس سے پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں چھوڑا ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو مقام سقیا میں قیلولہ کرتے ہوئے چھوڑا ہے، چنانچہ میں جا کر آپ سے مل گیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور آپ کے لیے اللہ کی رحمت کی دعا کرتے ہیں اور وہ ڈر رہے ہیں کہ وہ کہیں آپ سے پیچھے رہ جانے پر لوٹ نہ لیے جائیں، تو آپ ذرا ٹھہر کر ان کا انتظار کر لیجئیے تو آپ نے ان کا انتظار کیا۔ پھر میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ( راستے میں ) میں نے ایک نیل گائے کا شکار کیا اور میرے پاس اس کا کچھ گوشت موجود ہے، تو آپ نے لوگوں سے کہا: ”کھاؤ“ اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلاَؤُكِ ‏.‏ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَمَنِ اشْتَرَطَ شَيْئًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ وَشَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from'Aishah that Barirah came to 'Aishah asking her to help her with her contract of manumission.' Aishah said:"Go back to your masters, and if they agree to let me pay off your contract of manumission, and let your loyalty be to me, then I will do it" Barirah told her masters about that, but they refused and said: "If she wants to seek reward (with Allah) by freeing you, let her do so, but your loyalty will be to us." She told the Messenger of Allah about that , and the Messenger of Allah said to her; "Buy her and set her free, and loyalty belongs to the one who set the slave free," Then the Messenger of Allah said: "What is the matter with people who stipulate conditions that are not in the Book of Allah? Whoever stipulates something that is not in the Book of Allah, it is not valid even if he stipulates one hundred conditions? The condition of Allah is more deserving of being followed and is more hinting
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا وَأَخَذَ كُبَّةً مِنْ شَعْرٍ قَالَ مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلاَّ الْيَهُودَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ ‏.‏
It was narrated that Sa'eed bin Al-Musayyab said:"Mu'awiyah came to Al-Madinah and addressed us. He took hold of a hairpiece and said: 'I never used to see anyone do this except the Jews. The Messenger of Allah [SAW] heard of it and he called it "giving a false impression
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ فِي النَّبِيذِ خَمْرُهُ دُرْدِيُّهُ ‏.‏
It was narrated that Sa'eed bin Al-Musayyab said concerning Nabidh:"The dregs are what intoxicates