أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ قَدِمْتُ الطَّائِفَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَزَعًا فَقُلْتُ إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ . فَقَالَ أَخْبَرَتْنِي أُخْتِي أُمُّ حَبِيبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَلَّى ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالنَّهَارِ أَوْ بِاللَّيْلِ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . خَالَفَهُمْ أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ .
It was narrated that Ya'la bin Umayyah said:"I came to At-Ta'if and entered upon Anbasah bin Abi Sufyan when he was dying. I saw that he was afraid so I said: 'You will be fine.' He said: 'My sister Umm Habibah told me that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever prays twelve rak'ahs by day or by night, Allah, the Mighty and Sublime, will build for him a house in Paradise
یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں طائف آیا، تو عنبسہ بن ابی سفیان کے پاس گیا، اور وہ مرنے کے قریب تھے، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ گھبرائے ہوئے ہیں، میں نے کہا: آپ تو اچھے آدمی ہیں، اس پر انہوں نے کہا مجھے میری بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دن یا رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔ ابویونس قشیری نے ان لوگوں کی جنہوں نے اسے عطا سے روایت کی ہے مخالفت کی ہے، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، مِنْ بَنِي أَسَدِ قُرَيْشٍ أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ فَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَالَ لَهَا " إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي " .
It was narrated from Fatimah bint Qais from Banu Asad Quraish that she came to the Prophet (ﷺ) and mentioned that she suffered from Istihadah (non-menstrual vaginal bleeding). She said that he said to her:"That is (bleeding from) a vein, so when the time of menstruation comes, stop praying, and when it goes, then wash the blood from yourself then pray
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو قریش کے قبیلہ بنو اسد کی خاتون ہیں کہتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا کہ انہیں استحاضہ کا خون آتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے، جب حیض کا خون آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب ختم ہو جائے تو خون دھو لو پھر ( غسل کر کے ) نماز پڑھ لو ۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا يَقُولُ : أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي قَبْرِهِ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
Jabir said:"The Prophet came to 'Abdullah bin Ubayy after he had been placed in his grave, and commanded that he be brought out. He placed him on his knees and blew on him and clothed him in his shirt. And Allah knows best
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کو قبر میں داخل کر دئیے جانے کے بعد آئے، تو آپ نے اسے ( نکالنے کا ) حکم دیا، چنانچہ وہ نکالا گیا، آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر بٹھایا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی، واللہ اعلم ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا يَرَاهُ النَّاسُ ثُمَّ أَفْطَرَ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah traveled during Ramadan and fasted until he reached 'Usfan. Then he called for a vessel and drank during the day when the prople could see him, then he did not fast
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سفر کیا، اور آپ روزہ رکھے ہوئے تھے، یہاں تک کہ عسفان پہنچے تو آپ نے ایک برتن منگایا، تو دن ہی میں پی لیا، لوگ اسے دیکھ رہے تھے، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِوَدَّانَ رَأَى حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ وَقَالَ " إِنَّا حُرُمٌ لاَ نَأْكُلُ الصَّيْدَ " .
It was narrated from As-Sab bin Jaththamah that:the Prophet came, and when he was in Waddan, he saw an onager, but he gave it back to him and said: "'We are in Ihram, we cannot eat game
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ جب ودان پہنچے تو ایک نیل گائے دیکھا ( جسے کسی نے شکار کر کے پیش کیا تھا ) تو آپ نے اسے پیش کرنے والے کو لوٹا دیا، اور فرمایا: ”ہم احرام باندھے ہوئے ہیں، شکار نہیں کھا سکتے“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ وَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah bought some food from a Jew on credit, and he gave him a shield of his as a pledge
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ " .
Abu Hurairah narrated that :The Messenger of Allah [SAW] said: "The Jews and the Christians do not dye their hair, so be different from them
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءِ الزَّبِيبِ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ وَيُنْبَذُ لَهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً وَكَانَ يَغْسِلُ الأَسْقِيَةَ وَلاَ يَجْعَلُ فِيهَا دُرْدِيًّا وَلاَ شَيْئًا . قَالَ نَافِعٌ فَكُنَّا نَشْرَبُهُ مِثْلَ الْعَسَلِ .
It was narrated from Ibn 'Umar that:Nabidh of raisins would be made for him in a water skin in the morning, and he would drink it that night, and it would be made for him in the evening, and he would drink it in the morning. He would wash out the water skins and not leave any pieces or anything in them. Nafi' said: "We used to drink it like honey