أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَنْبَأَنِي قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلاَئِكَةِ وَالرُّوحِ " .
It was narrated that Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to say when bowing: 'Subbuhun Quddusun Rabbul-mala'ikati war-ruh (Perfect, Most Holy, is the Lord of the angels and the spirit)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» فرشتوں اور جبرائیل امین کا رب ہر نقص و عیب سے پاک اور تمام آلائشوں سے منزہ ہے ، پڑھتے تھے۔
Narrated by from 'Aishah
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
Narrated from 'Aishah:A similar report was also narrated from 'Aishah, from the Prophet (ﷺ)
اس سند سے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَالسِّوَاكَ وَأَنْ يَمَسَّ مِنَ الطِّيبِ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ " .
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Abi Sa'eed, from his father, that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Ghusl should be performed on Friday by everyone who has reached the age of puberty, and using the siwak, and he should put on whatever he is able of using perfume
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، اور خوشبو لگانا جس پر وہ قادر ہو، ہر بالغ شخص پر واجب ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَكَانَ يُصَلِّي بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا . قُلْتُ هَلْ أَقَامَ بِمَكَّةَ قَالَ نَعَمْ أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا .
It was narrated from Yahya bin Abi Ishaq that :Anas bin Malik said: " We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) from Al-Madinah to Makkah and he used to lead us in praying two rak'ahs until we came back." I (Yahya) said: "Did he stay in Makkah?" He (Anas) said: "Yes, we stayed there for ten days
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلے، تو آپ ہمیں دو رکعت پڑھاتے رہے یہاں تک کہ ہم واپس لوٹ آئے، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے مکہ میں قیام کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے وہاں دس دن قیام کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ وَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ كَانُوا يَقُولُونَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَخْسِفَانِ إِلاَّ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَائِهِمْ وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا فَإِذَا انْخَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ .
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) on a very hot day. The Messenger of Allah (ﷺ) led his companions in prayer, and he stood for so long that they started to fall over. Then he bowed for a long time, then he stood up (and remained standing) for a long time. Then he bowed again for a long time, then he stood up (again) and (remained standing) for a long time. Then he prostrated twice, then he stood up and did the same again. He started to move forward, then he started to step back. He bowed four times and prostrated four times. They used to say that eclipses of the sun and moon only happened when one of their great men died, but they are two of the signs of Allah (SWT) that He shows to you, so when an eclipse happens, pray until it is over
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، اور لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ ( بیہوش ہو ہو کر ) گرنے لگے، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو آپ نے لمبا قیام کیا، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو لمبا قیام کیا، پھر دو سجدے کیے، پھر آپ کھڑے ہوئے تو آپ نے پھر اسی طرح کیا، نیز آپ آگے بڑھے پھر پیچھے ہٹنے لگے، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، لوگ کہتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن ان کے بڑے آدمیوں میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے لگتا ہے، حالانکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تمہیں دکھاتا ہے، تو جب گرہن لگے تو نماز پڑھو جب تک کہ وہ چھٹ نہ جائے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أُمْطِرَ قَالَ " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا نَافِعًا " .
It was narrated from 'Aishah that:When it rained the Messenger of Allah would say: "Allahummaj'alhu Sayyiban nafi`a. (O Allah, make it beneficial rain)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش ہوتی تو کہتے: «اللہم اجعله صيبا نافعا» اے اللہ! خوب برسا اور اسے فائدہ مند بنا ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَخْلٍ وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبَّرُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَالآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الآخَرُونَ مَكَانَهُمُ الَّذِينَ كَانُوا فِيهِ ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلاَءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاَءِ فَرَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا سَجَدُوا وَجَلَسُوا سَجَدَ الآخَرُونَ مَكَانَهُمْ ثُمَّ سَلَّمَ . قَالَ جَابِرٌ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكُمْ .
It was narrated that Jabir said:"We were with the Prophet (ﷺ) in a palm grove and the enemy was between us and the Qiblah. The Messenger of Allah (ﷺ) said the takbir and we all said the takbir. Then he bowed and we all bowed. Then the Prophet (ﷺ) and the row that was closest to him prostrated, while the others remained standing, guarding us. When we stood up, the others prostrated where we were, then they moved forward and he bowed and they all bowed, then he stood up and they all stood up. Then the Prophet (ﷺ) and the row that was closest to him prostrated, and the others remained standing, guarding them. When they had prostrated and were sitting, the others prostrated where they were, then he said the salam." Jabir said: "As your leaders do
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ کھجور کے باغات میں تھے، اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی، تو سبھوں نے تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا، تو سبھوں نے رکوع کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس صف نے جو آپ سے قریب تھی سجدہ کیا، اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے، پھر جب وہ کھڑے ہو گئے تو دوسروں نے بھی اپنی جگہوں پر جہاں وہ تھے سجدہ کیا، پھر وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آگے آ گئے ۱؎ پھر آپ نے رکوع کیا، تو سبھوں نے ایک ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے ( رکوع سے سر ) اٹھایا تو سبھوں نے سر اٹھایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، اور اس صف نے جو آپ سے قریب تھی، اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی پہریداری کرتے رہے، پھر جب وہ لوگ سجدہ کر چکے اور ( سجدہ کے بعد ) بیٹھ گئے، تو دوسروں نے بھی اپنی جگہوں میں سجدہ کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس طرح تمہارے امراء کرتے ہیں، ( یعنی سلام پھیرتے ہیں ) ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ شَهِدْتُ الصَّلاَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلاَلٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ ثُمَّ مَالَ وَمَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ حَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ ثُمَّ قَالَ " تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ " . فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سَفِلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " . فَجَعَلْنَ يَنْزِعْنَ قَلاَئِدَهُنَّ وَأَقْرُطَهُنَّ وَخَوَاتِيمَهُنَّ يَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ يَتَصَدَّقْنَ بِهِ .
It was narrated that Jabir said:"I attended the prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of 'Eid. He started with the prayer before the Khutbah, with no Adhan and no Iqamah. When he finished the prayer, he stood leaning on Bilal, and he praised and glorified Allah (SWT) and exhorted the people, reminding them and urging them to obey Allah (SWT). Then he moved away and went to the women, and Bilal was with him. He commanded them to fear Allah (SWT) and exhorted them and reminded them. He praised and glorified Allah, then he urged them to obey Allah, then he said: 'Give charity, for most of you are the fuel of Hell.' A lowly woman with dark cheeks said: 'Why, O Messenger of Allah?' He said: 'You complain a great deal and are ungrateful to your husbands.' They started taking off their necklaces, earrings and rings, throwing them into Bilal's garment, giving them in charity
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عید کے دن نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، آپ نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور بغیر اقامت کے نماز پڑھی، پھر جب نماز پوری کر لی، تو آپ بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، لوگوں کو نصیحتیں کیں، اور انہیں ( آخرت کی ) یاد دلائی، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا، پھر آپ مڑے اور عورتوں کی طرف چلے، بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ نے انہیں ( بھی ) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا، اور انہیں نصیحت کی اور ( آخرت کی ) یاد دلائی، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا، پھر فرمایا: تم صدقہ کیا کرو کیونکہ عورتیں ہی زیادہ تر جہنم کا ایندھن ہوں گی، تو ایک عام درجہ کی ہلکے کالے رنگ کے گالوں والی عورت نے پوچھا: کس سبب سے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ( کیونکہ ) وہ شکوے اور گلے بہت کرتی ہیں، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہیں ، عورتوں نے یہ سنا تو وہ اپنے ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں، وہ انہیں صدقہ میں دے رہی تھیں۔
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَفْتِحُ قِيَامَ اللَّيْلِ قَالَتْ لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَىْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكَبِّرُ عَشْرًا وَيَحْمَدُ عَشْرًا وَيُسَبِّحُ عَشْرًا وَيُهَلِّلُ عَشْرًا وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا وَيَقُولُ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated that 'Asim bin Humaid said:"I asked 'Aishah with what did he- meaning the Prophet (ﷺ)- start Qiyam Al-Lail? She said: 'You have asked me something which no one before you has asked. The Messenger of Allah (ﷺ) used to say the takbir ten times, the tahmid ten times, the tasbih ten times, and the tahlil ten times, and pray for forgiveness ten times, and say: Allahummaghfirli, wahdini, warzuqni wa 'afini. A'udhu billahi min diqil-maqami yawmal-qiyamah (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and good health. I seek refuge with Allah from the difficulty of standing on the Day of Resurrection)
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے قیام کی شروعات کس سے کرتے تھے؟ تو وہ کہنے لگیں، تو نے مجھ سے ایک ایسی چیز پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس بار «اللہ اکبر»، دس بار «الحمد للہ»، دس بار «سبحان اللہ» اور دس بار «لا الٰہ الا اللہ» اور دس بار «استغفر اللہ» کہتے تھے، اور «اللہم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني أعوذ باللہ من ضيق المقام يوم القيامة» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے راہ دکھا، مجھے رزق عطا فرما، اور میری حفاظت فرما، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں قیامت کے روز جگہ کی تنگی سے کہتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .
It was narrated that 'Ubadah bin As-Samit said:"The Messenger of Allah said: 'whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah, hates to meet him
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، وَاللَّفْظُ، لَهُ عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ، وَهُوَ بِمِصْرَ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَايِيسِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَلاَ يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ يَسْتَدْبِرْهَا " .
It was narrated from Rafi' bin Ishaq that he heard Abu Ayyub Al-Ansari say - when he was in Egypt:"By Allah, I do not know what I should do with these Karais (toilets). The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When any one of you goes to defecate or urinate, let him not face toward the Qiblah, nor turn his back towards it
رافع بن اسحاق سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو مصر میں ان کے قیام کے دوران کہتے سنا: اللہ کی قسم! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کھڈیوں کو کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: جب تم میں سے کوئی پاخانے یا پیشاب کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُهَلَّبُ بْنُ أَبِي حَبِيبَةَ، ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ صُمْتُ رَمَضَانَ وَلاَ قُمْتُهُ كُلَّهُ " . وَلاَ أَدْرِي كَرِهَ التَّزْكِيَةَ أَوْ قَالَ لاَ بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ وَرَقْدَةٍ اللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ .
It was narrated from abu Bakrah that the Prophet said; 'None of you should say:'I fasted Ramadan' or 'I prayed Qiyam throughout the whole month."' I do not know whether he dislike self-praise or he said: "Inevitably there will be heedlessness and sleep." (Da 'if)
ابوبکرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کوئی ہرگز یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور اس کی پوری راتوں میں قیام کیا“ ( راوی کہتے ہیں ) میں نہیں جانتا کہ آپ نے آپ اپنی تعریف کرنے کو ناپسند کیا، یا آپ نے سمجھا ضرور کوئی نہ کوئی غفلت اور لاپرواہی ہوئی ہو گی ( پھر یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان میں عبادت کی کہاں صحیح ہوا ) یہ الفاظ عبیداللہ کے ہیں۔
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلاَ بَقَرٍ وَلاَ غَنَمٍ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلاَّ وُقِفَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ ذَاتُ الأَظْلاَفِ بِأَظْلاَفِهَا وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقُرُونِ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلاَ مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَاذَا حَقُّهَا قَالَ " إِطْرَاقُ فَحْلِهَا وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ صَاحِبِ مَالٍ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهُ إِلاَّ يُخَيَّلُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ يَقُولُ لَهُ هَذَا كَنْزُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لاَ بُدَّ لَهُ مِنْهُ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .
It was narrated that Jabir bin Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'There is no owner of camels or cattle or sheep who does not give what is due on them, but he will be made to stand for them on the Day of Resurrection in a flat arena, and those with hooves will trample him with their hooves, and those with horns will gore him with their horns. And on that day there will be none that are hornless or have broken horns.' We said: 'O Messenger of Allah, what is due on them?' He said: Lending males for breeding, lending their buckets, and giving them to people to ride in the cause of Allah. And there is no owner of wealth who does not give what is due on it but a bald-headed Shujaa[1]will appear to him on the Day of Resurrection; its owner will flee from it and it will chase him and say to him: This is your treasure which you used to hoard. When he realizes that he cannot escape it he will put his hand in its mouth and it will start to bite it as a stallion bites
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اونٹ، گائے اور بکری والا ان کا حق ادا نہیں کرے گا، ( یعنی زکاۃ نہیں ادا کرے گا ) تو اسے قیامت کے دن ایک کشادہ ہموار میدان میں کھڑا کیا جائے گا، کھر والے جانور اپنے کھروں سے اسے روندیں گے، اور سینگ والے اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے۔ اس دن ان میں کوئی ایسا نہ ہو گا جس کے سینگ ہی نہ ہو اور نہ ہی کسی کی سینگ ٹوٹی ہوئی ہو گی“، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان پر نر کودوانا، ان کے ڈول کو منگنی دینا اور اللہ کی راہ میں ان پر بوجھ اور سواری لادنا، اور جو صاحب مال اپنے مال کا حق ادا نہ کرے گا وہ مال قیامت کے دن ایک گنجے ( زہریلے ) سانپ کی شکل میں اسے دکھائی پڑے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، اور وہ اس کا پیچھا کرے گا، اور اس سے کہے گا: یہ تو تیرا وہ خزانہ ہے جس کے ساتھ تو بخل کرتا تھا، جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو ( لاچار ہو کر ) اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا، اور وہ اس کو اس طرح چبائے گا جس طرح اونٹ چباتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لاَ يَسْتَطِيعُ الرُّكُوبَ وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ فَهَلْ يُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ " آنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيهِ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَحُجَّ عَنْهُ " .
It was narrated that 'Abdullah bin Az-Zubair said:"A man from Khath'am came to the Messenger of Allah and said: 'My father is an old man who cannot ride, and the command of Allah to perform Hajj has come. Will it be good enough if I perform Hajj on his behalf?' He said: 'Are you the oldest of his children?' He said: 'Yes.' He said: 'Don't you think that if he owed a debt you would pay it off?, He' said: 'Yes.' He said: 'then perform Hajj on his behalf.'''(Daif)
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ سواری پر چڑھ نہیں سکتے، اور حج کا فریضہ ان پر عائد ہو چکا ہے، میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ان کے بڑے بیٹے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں ( میں ان کا بڑا بیٹا ہوں ) آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے؟“ اس نے کہا: ہاں ( میں ادا کرتا ) آپ نے فرمایا: ”تو تم ان کی طرف سے حج ادا کرو“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَبِيهِ، طَلْحَةَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ . فَقَالَ " هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا " .
It was narrated from Mu'awiyah bin Jahimah As-Sulami, that Jahimah came to the Prophet (ﷺ) and said:"O Messenger of Allah! I want to go out and fight (in Jihad) and I have come to ask your advice." He said: "Do you have a mother?" He said: "Yes." He said: "Then stay with her, for Paradise is beneath her feet
معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان سے ) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے“ ۱؎۔
Narrated by Abu Salamah
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ قَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي الْعَنَتَ وَلاَ أَجِدُ طَوْلاً أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ أَفَأَخْتَصِي فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى قَالَ ثَلاَثًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لاَقٍ فَاخْتَصِ عَلَى ذَلِكَ أَوْ دَعْ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَوْزَاعِيُّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ قَدْ رَوَاهُ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ .
Narrated Abu Salamah:It was narrated from Abu Salamah that Abu Hurairah said: "I said: 'O Messenger of Allah, I am a young man and I fear hardship for myself, but I cannot afford to marry; should I castrate myself?'" The Prophet turned away from him until he said it three times. Then the Prophet said: "O Abu Hurairah, the pen is dried concerning what you are going to face, so (it is up to you whether) you castrate yourself or not." Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Al-Awzai did not hear this narration from Az-Zuhri, and this hadith is sahih, Yunus reported it from Az-Zuhri
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں جوان آدمی ہوں اور اپنے بارے میں ہلاکت میں پڑ جانے سے ڈرتا ہوں، اور عورتوں سے شادی کر لینے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا، تو کیا میں خصی ہو جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے انہوں نے اپنی یہی بات تین بار کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! جس سے تم کو دوچار ہونا ہے اس سے تو تم دوچار ہو کر رہو گے اسے لکھ کر قلم ( بہت پہلے ) خشک ہو چکا ہے، اب چاہو تو تم خصی ہو جاؤ یا نہ ہو“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اوزاعی نے ( ابن شہاب ) زہری سے اس حدیث کو نہیں سنا ہے، لیکن یہ حدیث اپنی جگہ صحیح ہے کیونکہ اس حدیث کو یونس نے ( ابن شہاب ) زہری سے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَكَحْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ إِلاَّ مِثْلَ هَذِهِ الْهُدْبَةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " .
It was narrated that 'Aishah said:"The wife of Rifa'ah Al-Qurazi came to the Messenger of Allah and said: 'O Messenger of Allah! I got married to 'Abdur-Rahman bin Az-Zabir, and what he has is like this fringe.' The Messenger of Allah said: 'Perhaps you want to go back to Rifa'ah? No, not until he ('Abdur-Rahman) tastes your sweetness and you taste his sweetness
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی اور ان کے پاس تو اس کپڑے کی جھالر جیسے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لگتا ہے تم دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو، اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ وہ ( دوسرا شوہر ) تمہارا اور تم اس کا مزہ نہ چکھ لو“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الإِنَاءِ الْوَاحِدِ .
It was narrated from 'Aishah that she used to perform Ghusl with the Messenger of Allah (ﷺ) from a single vessel
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھیں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ ابْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه قَالَ أُهْدِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَغْلَةٌ فَرَكِبَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ لَكَانَتْ لَنَا مِثْلَ هَذِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ " .
It was narrated that Ali bin Abi Talib, may Allah be pleased with him, said:"A mule was given as a gift to the Messenger of Allah and he rode it." 'Ali said: "If we mate a donkey with a horse, we will have one like this." The Messenger of Allah said: "That is only done by those who do not know
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ میں خچر دیا گیا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کی۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھا ( کر جفتی کرا ) دیں تو ہمارے پاس اس جیسے ( بہت سے خچر ) ہو جائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو نادان و ناسمجھ ہوتے ہیں“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اشْتَكَى بِمَكَّةَ فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ بَكَى وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمُوتُ بِالأَرْضِ الَّتِي هَاجَرْتَ مِنْهَا قَالَ " لاَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ". وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ " لاَ ". قَالَ يَعْنِي بِثُلُثَيْهِ قَالَ " لاَ ". قَالَ فَنِصْفَهُ قَالَ " لاَ ". قَالَ فَثُلُثَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ بَنِيكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ".
Amir bin Sa'd (narrated) from his father that he fell sick in Makkah and the Messenger of Allah came to him. When Sa'd saw him, he wept and said:"O Messenger of Allah, am I to die in the land from which I emigrated?" He said: "No, if Allah wills." He said: "O Messenger of Allah, shall I bequeath all of my wealth in the cause of Allah?" He said: "No." He said: "Two-thirds?" He said: "No." He said: "Half of it?" He said: "No." He said: "One-third of it?" The Messenger of Allah said: "One-third, and one-third is a lot. If you leave your sons independent of means that is better than if you leave them poor, holding out their hands to people
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں بیمار پڑے تو ( ان کی بیمار پرسی کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ آپ کو دیکھ کر رو پڑے، کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی سر زمین میں مر رہا ہوں جہاں سے ہجرت کر کے جا چکا ہوں، آپ نے فرمایا: ”نہیں، ان شاءاللہ ( تم یہاں نہیں مرو گے ) “۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: دو تہائی کی دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: آدھا دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ انہوں نے کہا: تو تہائی کی وصیت کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا ایک تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ كُنَّا لاَ نَعُدُّ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا .
It was narrated that Muhammad said:"Umm 'Atiyah said: 'We used not to regard yellowish and brownish discharge as anything important
ام عطیہ رضی اللہ عنہا (نسیبہ) کہتی ہیں کہ ہم لوگ زردی اور مٹیالا پن کو کچھ نہیں شمار کرتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الرُّقْبَى لِمَنْ أُرْقِبَهَا " .
Khalid narrated from Dawud bin Abi Hind, from Abu Az-Zubair, from Jabir, who said:"The Messenger of Allah said: 'Ruqba belongs to the one to whom it is given
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رقبیٰ اس کا ہے جس کے لیے رقبیٰ کیا گیا“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ " وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ " . ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ فَأُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثِ ذَوْدٍ فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لاَ يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا . قَالَ أَبُو مُوسَى فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ إِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .
It was narrated that Abu Musa Al-Ash'ari said:"I came to the Messenger of Allah with a group of the Ash'ari people and asked him to give us animals to ride. He said: 'By Allah, I cannot give you anything to ride and I have nothing to give you to ride.' We stayed as long as Allah willed, then some camels were brought to him. He ordered that we be given three fine-looking camels. When we left, we said to one another: 'We came to the Messenger of Allah to ask him for animals to ride, and he swore by Allah that he would not give us anything to ride, then he gave us something.'" Abu Musa said: "We came to the Prophet and told him about that. He said: 'I did not give you animals to ride, rather Allah gave you them to ride. By Allah, I do not swear an oath and then see something better than it, but I offer expiation for my oath and do that which is better
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم آپ سے سواریاں مانگ رہے تھے۱؎، آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں تمہیں سواریاں نہیں دے سکتا، میرے پاس کوئی سواری ہے بھی نہیں جو میں تمہیں دوں ، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، اتنے میں کچھ اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے تین اونٹوں کا حکم دیا، تو جب ہم چلنے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ تعالیٰ ہمیں برکت نہیں دے گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں طلب کرنے آئے تو آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے۔ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں: تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں سواریاں نہیں دی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دی ہیں، قسم اللہ کی! میں کسی بات کی قسم کھاتا ہوں، پھر میں اس کے علاوہ کو بہتر سمجھتا ہوں تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور جو بہتر ہوتا ہے کرتا ہوں ۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " لاَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَتْ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ { وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا } لِقَوْلِهِ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً " .
Aishah said that the Messenger of Allah used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet entered upon either of us, she would say:"I perceive the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?" He came in to one of them, and she said that to him. He said: "No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again." Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you)' about 'Aishah and Hafsah, 'And (remember) when the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his wives' refers to him saying: "No, rather I drank honey
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے، میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو آ رہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا، آپ نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیوں گا“۔ تو عائشہ اور حفصہ ( رضی اللہ عنہما ) کی وجہ سے یہ آیت «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“۔ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی کی دونوں بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) “۔ ( التحریم: ۴ ) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ”اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی“ ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلاَّ كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا وَذَلِكَ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ " .
It was narrated from 'Abdullah that:The Prophet [SAW] said: "No person is killed wrongfully, but a share of responsibility for his blood will be upon the first son of Adam, because he was the first one to set the precedence, of killing
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ يَغْتَسِلُ قَدْ سَتَرَتْهُ بِثَوْبٍ دُونَهُ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ . قَالَتْ فَصَلَّى الضُّحَى فَمَا أَدْرِي كَمْ صَلَّى حِينَ قَضَى غُسْلَهُ .
Umm Hani' narrated that she entered upon the Prophet (ﷺ) on the day of the Conquest of Makkah, when he was performing Ghusl - while a garment was screening him - from a vessel in which were traces of dough. She said:He prayed Ad-Duha - but I do not know how many Rak'ahs he prayed - after he finished Ghusl
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ ایک ٹب سے غسل کر رہے تھے جس میں گندھا ہوا آٹا لگا تھا، اور آپ کو ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ۱؎ ) کپڑا سے پردہ کیے ہوئے تھیں، تو جب آپ غسل کر چکے، تو آپ نے چاشت کی نماز پڑھی، اور میں نہیں جان سکی کہ آپ نے کتنی رکعت پڑھی۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى قَالَ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَبِي يَوْمَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ " .
It was narrated from 'Amr bin 'Abdur-Rahman bin Umayyah that his father told him that Ya'la said:"I came to the Messenger of Allah with my father on the day of the Conquest (of Makkah) and said: 'O Messenger of Allah, accept my father's pledge to emigrate.' The Messenger of Allah said: 'I will accept his pledge for Jihad, for the emigration (Hijrah) has ceased
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'Any skin that is tanned has been purified
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ " .
It was narrated that Abu Talhah said:"The Messenger of Allah said: '; The angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، - وَهُوَ الْقَنَّادُ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَصَارَتْ لِي جَذَعَةٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ . فَقَالَ " ضَحِّ بِهَا " .
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir that:the Messenger of Allah divided some sacrificial animals among his Companions, and I got a Jadh'ah sheep. I said: 'O Messenger of Allah, I got a Jadh'ah sheep.' He said: 'Sacrifice it
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَمْلَى عَلَىَّ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا تَبَايَعَ الْبَيِّعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِنْ كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .
It was narrated from Ibn Juraij:"Nafi dictated to me, from Ibn 'Umar who said: The Messenger of Allah said: 'the two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated, unless they have both chosen to conclude the transaction. If they have both chosen to conclude the transaction, then the transactions binding." (Sahih)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلاَتُهُ فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا وَإِلاَّ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَإِنْ وُجِدَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ أَكْمِلُوا بِهِ الْفَرِيضَةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The first thing for which a person will be brought to account will be his Salah. If it is complete (all well and good), otherwise Allah will say: 'Look and see if My slave did any voluntary prayer.' If he is found to have done voluntary prayers, his obligatory prayers will be completed therewith
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے بندہ سے نماز کی بازپرس ہو گی، اگر اس نے اسے پورا کیا ہے ( تو ٹھیک ہے ) ورنہ اللہ عزوجل فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ اگر اس کے پاس کوئی نفل ملا تو فرمائے گا: اس کے ذریعہ فرض پورا کر دو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ الْحَبَطِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ . قَالَ يَحْيَى وَهُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ .
A similar report was narrated from 'Alqamah bin Wa'il from his father, from the Prophet. Yahya (one of the narrators) said:"He is better than him
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْجَنْبِيُّ أَبُو مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ امْرَأَةً، كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْحُلِيَّ لِلنَّاسِ ثُمَّ تُمْسِكُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِتَتُبْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتَرُدَّ مَا تَأْخُذُ عَلَى الْقَوْمِ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُمْ يَا بِلاَلُ فَخُذْ بِيَدِهَا فَاقْطَعْهَا " .
It was narrated from Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, that:a woman used, to borrow jewelry from people then keep it. The Messenger of Allah said: "Let this woman repent to Allah and His Messenger and give back to people what she has taken." Then the Messenge of Allah said "Get up, O Bilal, take her hand and cut it off
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet (ﷺ) said: "Faith has seventy odd branches and modesty (Al-Haya') is a branch of faith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ التَّيَامُنَ يَأْخُذُ بِيَمِينِهِ وَيُعْطِي بِيَمِينِهِ وَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah [SAW] used to like to start in the right. He would accept with his right hand and give with his right hand, and he liked to start on the right in all his affairs
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ وَاضِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا قُدَامَةُ، - يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ - عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ جِبْرِيلَ، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُهُ مَوَاقِيتَ الصَّلاَةِ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَأَتَاهُ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَ شَخْصِهِ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى الْغَدَاةَ ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِيَ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَ شَخْصِهِ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ بِالأَمْسِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَ شَخْصَيْهِ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالأَمْسِ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالأَمْسِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ فَنِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا ثُمَّ نِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا فَأَتَاهُ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالأَمْسِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ امْتَدَّ الْفَجْرُ وَأَصْبَحَ وَالنُّجُومُ بَادِيَةٌ مُشْتَبِكَةٌ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالأَمْسِ فَصَلَّى الْغَدَاةَ ثُمَّ قَالَ " مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلاَتَيْنِ وَقْتٌ " .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that Jibril came to the Prophet (ﷺ) to teach him the times of prayer. Jibril went forward, with the Messenger of Allah (ﷺ) behind him and the people behind the Messenger of Allah (ﷺ), and he prayed Zurh when the sun had passed its zenith. Then he came to him when the shadow of a person was equal to his height, and did as he had done before; Jibril went forward, with the Messenger of Allah (ﷺ) behind him and the people behind the Messenger of Allah (ﷺ), and he prayed 'Asr. Then Jibril came to him when the sun had set; Jibril went forward, with the Messenger of Allah (ﷺ) behind him and the people behind the Messenger of Allah (ﷺ), and he prayed Al-Ghadah. [1] Then he came to him on the second day when a man's shadow was equal to his height, and did as he had done the day before, he prayed Zuhr. Then he came to him when the shadow of a man was twice his height, and did what he had done the day before, and prayed 'Asr. Then he came to him when the sun had set and did what he had done the day before, and prayed Maghrib. Then we slept and got up, and slept and got up again. Then he came to him and did what he had done the day before and prayed 'Isha.' The he came to him when the (the light of) dawn was spread (on the horizon) [2] and the starts were still clear in the sky, and he did the same as he had done the day before, and prayed Al-Ghadah. Then he said:' The time between these two is the time for prayer.'" [1] Meaning Fajr, the morning prayer. [2] The Fajr prayer was elongated because the Prophet recited at length during the prayer, so that it ended just before sunrise. That defined the end of the time for Fajr, as the beginning of the time was defined by the moment when he started the first Rak'ah
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات سکھا رہے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سایہ قد کے برابر ہو گیا، اور جس طرح انہوں نے پہلے کیا تھا ویسے ہی پھر کیا، جبرائیل آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے عصر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو جبرائیل آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب شفق غائب ہو گئی، تو وہ آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، تو انہوں نے عشاء پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر کی پو پھٹی، تو وہ آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، انہوں نے فجر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام دوسرے دن آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا، چنانچہ انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو ظہر پڑھائی، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے عصر پڑھائی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر ہم سو گئے، پھر اٹھے، پھر سو گئے پھر اٹھے، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور اسی طرح کیا جس طرح کل انہوں نے کیا تھا، پھر عشاء پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر ( کی روشنی ) پھیل گئی، صبح ہو گئی، اور ستارے نمودار ہو گئے، اور انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے فجر پڑھائی، پھر کہا: ان دونوں نمازوں کے درمیان میں ہی نماز کے اوقات ہیں ۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ أَتَى عَلَيْنَا حِينٌ وَلَسْنَا نَقْضِي وَلَسْنَا هُنَالِكَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدَّرَ أَنْ بَلَغْنَا مَا تَرَوْنَ فَمَنْ عَرَضَ لَهُ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ نَبِيُّهُ صلى الله عليه وسلم فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ وَلاَ يَقُولُ أَحَدُكُمْ إِنِّي أَخَافُ وَإِنِّي أَخَافُ فَإِنَّ الْحَلاَلَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لاَ يَرِيبُكَ.
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said:"There was a time when we did not pass so many judgments, but now that time is over. Now Allah, the Mighty and Sublime, has decreed that we reach a time when, as you see, (we are asked to pass many judgments). Whoever among you is asked to pass a judgment after this day, let him pass judgment according to what is in the Book of Allah. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah, let him pass judgment according to the way His Prophet [SAW] passed judgment. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah, and concerning which His Prophet did not pass judgment, then let him pass judgment according to the way the righteous passed judgment. And let him not say 'I am afraid, I am afraid.' For that which is lawful is clear and that which is unlawful is clear, and between them are matters which are not as clear. Leave that which makes you doubt for that which does not make you doubt
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ، قَالَ كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُعَلِّمُ الْغِلْمَانَ وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ دُبُرَ الصَّلاَةِ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " . فَحَدَّثْتُ بِهَا مُصْعَبًا فَصَدَّقَهُ .
It was narrated that 'Amr bin Maimun Al-Awdi said:"Sa'd used to teach his children these words as a teacher teaches his students, and he said that the Messenger of Allah [SAW] used to seek refuge by means of them at the end of every prayer: 'Allahumma inni a'udhu bika minal-bukhli, wa a'udhu bika minal-jubni, wa a'udhu bika an uradda ila ardhalil-'umuri, wa a'udhu bika min fitnatid-dunya, wa a'udhu bika min 'adhabil-qabr (O Allah, I seek refuge with You from miserliness, and I seek refuge in You from cowardice, and I seek refuge in You from reaching the age of senility, and I seek refuge in You from the trials of this world, and I seek refuge in You from the torment of the grave.) So I narrated that to Mus'ab and he said that he told the truth
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، وَعَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ خَلِيطِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَعَنِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ.
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade mixing dried dates and raisins, and dried dates and Al-Busr
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَمِعَهُ مِنْ، فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ بِمَدِّ صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ " .
It was narrated from Abu Hurairah, who heard it from the mouth of the Messenger of Allah (S.A.W):"The Mu'adhdhin will be forgiven as far as his voice reaches, and every wet and dry thing will bear witness for him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کو یہ کہتے سنا ہے: مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کر دی جائے گی، اور تمام خشک وتر اس کی گواہی دیں گے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ " . قَالَ أَوَّلَ يَوْمٍ " الثُّومِ " . ثُمَّ قَالَ " الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَلاَ يَقْرَبْنَا فِي مَسَاجِدِنَا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الإِنْسُ " .
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever eats of this plant' - the first time he said 'garlic' then he said, 'garlic, onions and leeks' [1] - 'let him not approach us in our Masjids, for the angels are offended by that which offends mankinds.'" [1] In Fath, Al-Bari, Ibn Hajar is of the opinion that it was Ibn Juraij who was talking, explaining that 'Ata' - who reported it from Jabir - narrated it both ways
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اس درخت میں سے کھائے، پہلے دن آپ نے فرمایا لہسن میں سے، پھر فرمایا: لہسن، پیاز اور گندنا میں سے، تو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتے بھی ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے انسان اذیت و تکلیف محسوس کرتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ فِي بَيْتِي ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ فَجَعَلْتُهُ إِلَى سَهْوَةٍ فِي الْبَيْتِ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " يَا عَائِشَةُ أَخِّرِيهِ عَنِّي " . فَنَزَعْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ .
It was narrated that Aisha said:"In my house there was a cloth on which there were images, which I covered a closet which is in the house, and the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray toward it. Then he said: '0 Aisha, take it away from me.' So I removed it and made pillows out of it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں، میں نے اسے گھر کے ایک روشندان پر لٹکا دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرح ( رخ کر کے ) نماز پڑھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اسے میرے پاس سے ہٹا دو ، تو میں نے اسے اتار لیا، اور اس کے تکیے بنا ڈالے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، نَحْوَهُ .
(Another chain) from Abu Nadrah (from Abu Sa'eed) with similar narration
اس سند سے بھی ابونضرہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ سَكَتَ هُنَيْهَةً فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ قَالَ " أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَاىَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَاىَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray he would pause briefly. I said: 'May my father and mother be ransomed for you, O Messenger of Allah, what do you say when you pause briefly between the takbir and reciation?' He said: 'I say: Allahuma ba'id bayni wa bayna khatayaya kama ba'adta bayna al-mashriqi wal-maghrib; Allahumma naqqini min khatayaya kama yunaqqa ath-thawb al-abyad min ad-danas; Allahumma ighsilni min khatayaya bil ma'i wa ath-thalji wal-barad. (O Allah, put a great distance between me and my sins, as great as the distance You have made between the East and the West; O Allah, cleanse me of my sins as a white garment is cleansed from filth; O Allah, wash away my sins with water and snow and hail)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے، تو میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنی خاموشی میں کیا پڑھتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہتا ہوں: «اللہم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللہم اغسلني من خطاياى بالماء والثلج والبرد» اے اللہ! تو میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی تو نے مشرق و مغرب کے درمیان کر رکھی ہے، اے اللہ! تو مجھے میرے گناہوں سے پاک صاف کر دے جس طرح میل کچیل سے سفید کپڑا صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! تو میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے ۔