أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ فَاتَهُ حِزْبُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَهُ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ إِلَى صَلاَةِ الظُّهْرِ فَإِنَّهُ لَمْ يَفُتْهُ أَوْ كَأَنَّهُ أَدْرَكَهُ . رَوَاهُ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مَوْقُوفًا .
It was narrated from Abdur-Rahman bin Abdul-Qari that Umar bin Al-Khattab said:"Whoever misses his nightly portion and recites it from the time when the sun passes its zenith until Zuhr prayer, then he did not miss it, or it is as if he caught up with it
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس کا رات کا وظیفہ چھوٹ جائے، اور وہ سورج ڈھلنے سے لے کر نماز ظہر تک کسی بھی وقت اسے پڑھ لے، تو اس کا وظیفہ نہیں چھوٹا، یا گویا اس نے اپنا وظیفہ پا لیا۔ اسے حمید بن عبدالرحمٰن نے موقوفاً ( یعنی: مقطوعا ) روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَائِدَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنْتُ رَجُلاً مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْىَ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ " .
It was narrated that 'Ali said:"I was one who had a lot of prostatic discharge, so I asked the Prophet (ﷺ) and he said: 'If you see Madhi (prostatic fluid) then perform Wudu' and wash your penis, but if you see semen ejaculated, then perform Ghusl
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے ۱؎، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مذی دیکھو تو وضو کر لو، اور اپنا ذکر دھو لو، اور جب پانی ( منی ) کو کودتے دیکھو، تو غسل کرو ۲؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : جُعِلَ تَحْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ دُفِنَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"When the Messenger of Allah was buried, a red velvet cloak was placed beneath him
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت دفنائے گئے آپ کے نیچے ایک سرخ چادر رکھی گئی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ يُقَالُ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ كَالإِفْطَارِ فِي الْحَضَرِ .
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin 'Awf said:"It is said that fasting while traveling is like not fasting while a resident." (Daif)
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہا جاتا ہے سفر میں روزہ رکھنا ایسا ہے جیسے حضر میں افطار کرنا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ وُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ، فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الأَرْضِ وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرَ وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الْوَبَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ - أَوْ قَالَ دَخَلَ صَفَرْ - فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ فَقَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الْحِلِّ قَالَ " الْحِلُّ كُلُّهُ " .
It was narrated that Ibn Abbas said:"They used to think that performing 'Umrah during the months of Hajj was one of the worst of evil actions on Earth, and they used to call Muharram 'Safar,' and say: 'When the sore on the backs of the camels have healed and when their hair grows back and when Safar is over' - or he said: 'When Safar beings - then 'Umrah becomes permissible for whoever wants to do it.' Then the Prophet and his companions came on the morning of the fourth of Dhul-Hijjah, reciting the Talbiyah for Hajj, He told them to make it 'Umrah, and they found it too difficult to do that. They said: 'O Messenger of Allah, to what degree should we exit Ihram?' He said: 'Completely
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ۔ ( زمانہ جاہلیت میں ) لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کر لینے کو زمین میں ایک بہت بڑا گناہ تصور کرتے تھے، اور محرم ( کے مہینے ) کو صفر کا ( مہینہ ) بنا لیتے تھے، اور کہتے تھے: جب اونٹ کی پیٹھ کا زخم اچھا ہو جائے، اور اس کے بال بڑھ جائیں اور صفر کا مہینہ گزر جائے یا کہا صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ حلال ہو گیا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ذی الحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو ( مکہ میں ) حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ اسے عمرہ بنا لیں، تو انہیں یہ بات بڑی گراں لگی ۱؎، چنانچہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون کون سی چیزیں حلال ہوں گی؟ تو آپ نے فرمایا: ”احرام سے جتنی بھی چیزیں حرام ہوئی تھیں وہ ساری چیزیں حلال ہو جائیں گی“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ، بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ وَأَنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلاَءَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " . وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ فَقِيلَ هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " . وَخُيِّرَتْ .
It was narrated from Aishah that:she wanted to buy Barirah to set her free, but they stipulated that her loyalty (should be to them. She mentioned that to the Messenger of Allah and the Messenger of Allah said: "Buy her, and wet her free and loyalty (Wala) belongs to the one who sets the slave free." Some meat was brought to the Messenger of and it was said that this had been given in charity to Bariirah. He said: "It is charity for her, and a gift for us." And she was given the choice
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى نِصْفِ أُذُنَيْهِ .
It was narrated from Anas that:The hair of the Prophet [SAW] came halfway down his ears
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي الْعَصِيرِ قَالَ اشْرَبْهُ حَتَّى يَغْلِيَ .
It was narrated from 'Ata' that :He said, concerning juice: "Drink it unless it is bubbling